Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2189

حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْد اللَّه بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَان قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ". فِي خَبَر أَبِي بَكْرَةَ: أَوْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ.

''حضرت معاویہ بن ابی سفیان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''شب قدر کو (رمضان المبارک کی)آخری رات میں تلاش کرو۔''اور حضرت ابو بکرہ کی روایت میں ہے : ''یا آخری رات میں ''(تلاش کرو)۔ ''

مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← عَلِي بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَسَنِ،

Hadith 2189

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2190

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّه الزِّيَادِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ (1) بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْد اللَّه بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْد اللَّه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنِّي كُنْتُ أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ نُسِّيتُهَا وَهِيَ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ لَيْلَتِهَا، وَهِيَ لَيْلَةٌ طَلْقَةٌ، بَلْجَةٌ، لَا حَارَّةٌ، وَلَا بَارِدَةٌ". وَزَادَ الزِّيَادِيُّ: كَأَنَّ فِيهَا قَمَرًا يَفْضَحُ كَوَاكِبَهَا وَقَالَا: لَا (2) يَخْرُجُ شَيْطَانُهَا حَتَّى يُضِيءَ فَجْرُهَا.

''حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :''بے شک مجھے شب قدر دکھای گئی تھی پھر مجھے بھلا دی گئی اور وہ آخری عشرے کی ایک رات ہے، وہ رات خوب روشن ، پر سکون، نہ گرم اور نہ سرد ہوتی ہے۔''جناب الزیادی نے یہ اضافہ بیان کیا ہے: ''گویا کہ اس رات چاند اپنے ستاروں کی روشنی کا ماند کر رہا ہوگا۔''دونوں راویوں نے یہ الفاظ بیان کیے : ''فجر روشن ہونے تک اس رات شیاطین باہر نہیں نکلتے۔''

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← الْفُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّه الزِّيَادِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ،

Hadith 2190

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2191

حَدَّثَنَا عَبْد الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَان، عَنْ عَبْدةَ بْنِ أَبِي لُبَابةَ [224 - أ] وَعَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيٍّ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ؛ ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَان، عَنْ عَبْدةَ بْنِ أَبِي لُبَابةَ، أَنَّهُ سَمِعَ زِرًّا يَقُولُ: سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، [فَقُلْتُ: إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ] (3)، فَقَالَ: يَرْحَمُهُ اللَّه لَقَدْ أَرَادَ أَنْ لَا يَتَّكِلُوا، وَلَقَدْ عَلِمَ [أَنَّهَا] فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، وَأَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ. قَالَ، قُلْنَا: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ! بِأَيِّ شَيْءٍ يُعْرَفُ ذَلِكَ؟ قَالَ: بِالْعَلَامَةِ أَوْ بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنا رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ لَا شُعَاعَ لَهَا. لَمْ يَقُلِ الدَّوْرَقِيُّ: لَقَدْ أَرَادَ أَنْ لَا يَتَّكِلُوا. حَدَّثَنَا الدَّوْرَقِيُّ فِي عَقِبِ خَبَرهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَان بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ: نَحْوَهُ. وَحَدَّثَنَا الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَان، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ زِرٍّ نَحْوَهُ.

''حضرت زر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت أبی بن کعب ؓ سے سوال کیا، تو عرض کی: آپ کا بھائی ابن مسعود کہتا ہے: جو شخص سال بھر قیام کرے وہ شب قدر کو پالے گا۔''تو انہوں نے فرمایا: ''اللہ تعالی ان پر رحم فرمائے ، یقیناً ان کا ارادہ یہ ہے کہ لوگ (صرف آخری عشرے پر) بھروسہ کر کےبیٹھ نہ جائیں۔یقیناً انہیں معلوم ہے کہ شب قدر رمضان المبارک میں ہے اور وہ اس کے آخری عشرےمیں ہے اور وہ ستائیسویں رات ہے۔''کہتے ہیں ، ہم نے عرض کی:اے ابو منذر! یہ رات کیسے پہچانی جائے گی؟ انہوں نے فرمایا: اس علامت اور نشانی کے ذریعے سے جو ہمیں رسول اللہ ﷺنے بتائی ہے کہ اس روز سورج اس حال میں طلوع ہوگا کہ اس کی شعاعیں نہیں ہوں گی۔''جناب دورقی کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں: ''یقیناًان کا رادہ یہ ہے کہ لوگ اعتماد وبھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائیں۔''

عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، ← سُفْيَانَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← قُلْتُ لِأُبَيٍّ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، ← زِرٍّ ← عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، وَعَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Hadith 2191

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2192

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ، عَنْ سَلَمَةَ -هُوَ ابْنُ وَهْرَامَ- عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ: "لَيْلَةٌ طَلْقَةٌ لَا حَارَّةٌ، وَلَا بَارِدَةٌ، تُصْبِحُ الشَّمْسُ يَوْمَهَا حَمْرَاءَ ضَعِيفَةً".

''حضرت ابن عباس ؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے شب قدر کے بارےمیں فرمایا :''یہ ایک خوشگوار رات ہے ، نہ گرم ،نہ سرد، اس کی صبح سورج سرخ اور کمزور ہوتا ہے۔''

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سَلَمَةَ -هُوَ ابْنُ وَهْرَامَ- ← زَمْعَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ ← بُنْدَارٌ

Hadith 2192

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2193

حَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ عَبْدةَ، أَخْبَرَنا حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْد- عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَإِنَّ صَاحِبَنَا -يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ- سُئِلَ عَنْهَا؛ فَقَالَ: مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْهَا. قَالَ: رَحِمَ اللَّه أَبَا عَبْد الرَّحْمَن، لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ، وَلَكِنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَتَّكِلُوا، أَوْ أَحَبَّ أَنْ لَا يَتَّكِلُوا. وَاللَّه إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، لَا يَسْتَثْنِي. قَالَ: قُلْتُ: أَبَا الْمُنْذِرِ أَنَّى عَلِمْتُ ذَلِكَ؟ قَالَ: بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنا رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: قُلْتُ لِزِرٍّ: [مَا] الْآيَةُ؟ قَالَ: تَطْلُعُ الشَّمْسُ صَبِيحَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةِ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ مِثْلَ الطَّسْتِ حَتَّى تَرْتَفِعَ.

''حضرت زر کہتے ہیں: میں نےحضرت ابی بن کعب ؓ سے عرض کی :م مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیں ، کیونکہ ہمارے ساتھی ابن مسعود ؓ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نےفرمایا:''جو شخص سارا سال قیام کرے وہ شب قدر پالے گا۔ تو حضرت ابی نے فرمایا: ''اللہ تعالی ابو عبدالرحمان پر رحم فرمائے !یقیناً انہیں علم ہے کہ شب قدر رمضان المبارک میں ہے۔لیکن انہوں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ لوگ بھروسہ کرلیں (اور عبادت میں محنت چھوڑ دیں) یا انہوں نے پسند کیاہے کہ لوگ بھروسہ نہ کریں۔ اللہ کی قسم شب قدر رمضان المبارک میں ستائیسویں رات ہے انہوں نے اس میں استثناء نہیں کیا (بلکہ قسم کے ساتھ ستائیسویں رات قرار دی) کہتے ہیں : میں نے عرض کی : ابو منذر !یہ بات آپ کو کیسے معلوم ہوئی ؟ انہوں نے جواب دیا : اس نشانی سے معلوم ہوئی جو نشانی رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتائی تھی۔ جناب عاصم کہتے ہیں میں نے زرّؒ سے کہا: وہ نشانی کیا ہےَ انہوں نے فرمایا : ''شب قدر کی صبح سورج تھال کی مانند طلوع ہاگا ، بلند ہونے تک اسکی شعاعیں نہیں ہوں گی۔''

رَحِمَ اللَّه أَبَا عَبْد الرَّحْمَن، لَقَدْ عَلِمَ ← مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْهَا. ← لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَإِنَّ صَاحِبَنَا -يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ- سُئِلَ عَنْهَا؛ ← قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،

Hadith 2193

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2194

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِي، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ السَّابِعَةِ أَوِ التَّاسِعَةِ وَعِشْرِينَ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ أَكْثَرُ فِي الْأَرْضِ مِنْ عَدَدِ الْحَصَى".

''حضرت ابو ہریرہ ؓ بیا ن کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:''شب قدر ستائیسویں یا انتیسویں رات ہے اور اس رات میں فرشتے کنکریوں کی تعدا سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔''

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي مَيْمُونَةَ2 ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← أَبِي دَاوُدَ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ،

Hadith 2194

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2195

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّه بْنُ عَبْد الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا فَرْقَدٌ -وَهُوَ ابْنُ الْحَجَّاجِ- قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي الْحَسْنَاءِ الْيَمَامِيَّ- قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فِي جَمَاعَةٍ فِي رَمَضَانَ فَقَدْ أَدْرَكَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ".

''حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''جس شخص نے عشاء کی نماز رمضان المبارک میں باجماعت ادا کی تو اس نے شب قدر کو پالیا۔''

أَبَا هُرَيْرَةَ ← عُقْبَةَ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي الْحَسْنَاءِ الْيَمَامِيَّ- ← فَرْقَدٌ -وَهُوَ ابْنُ الْحَجَّاجِ- ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الحنفي ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ،

Hadith 2195

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2196

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَر أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ: "إِنِّي كُنْتُ أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا".

اللہ تعالی کا اپنے نبی ﷺ کو شب قدر دکھانے کے بعد آپ کو شب قدر بھلا دینے کا بیان

أَبِي سَعِيدٍ: "إِنِّي كُنْتُ أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا". ← أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَر أَبِي سَلَمَةَ،

Hadith 2196

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2197

أَخْبَرَني مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد اللَّه بْنِ عَبْد الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَني يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ (1)، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أَيْقَظَنِي أَهْلِي؛ فَنَسِيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ".

''حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''مجھے سب قدر(خواب میں ) دکھائی گی پھر مجھے میرے گھر والوں نے بیدار کر دیا تو میں وہ بھول گیا۔ لہٰذا تم اسے آخری عشرے میں تلاش کرو۔''

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد اللَّه بْنِ عَبْد الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ

Hadith 2197

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2198

حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَخْبَرَني عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ: أَنَّ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ يُخْبِرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَتَلَاحَى رَجُلانِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ. فَقَالَ: "إِنِّي خَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَتَلَاحَى فُلَانٌ وَفُلَانٌ، فَرُفِعَتْ، وَعَسَى أَنْ يَكُونَ خَيْرًا لَكُمْ، فَالْتَمِسُوهَا فِي التِّسْعِ، وَالسَّبْعِ، وَالْخَمْسِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: "فَرُفِعَتْ" يَعْنِي: مَعْرِفَتِي بِتِلْكَ اللَّيْلَةِ.

''حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ شب قدر کی خبر دینے کےلیے گھر سے نکلے تو دو مسلمان شخص جھگڑرہے تھے۔ تو آپ نے فرمایا:''بے شک میں تمہیں شب قدر کی خبر دینے گھرسے نکلا تھا فلاں فلاں شخص جھگڑ رہے تھے تو شب قدر کی معرفت اٹھا لی گئی اور امید ہے کہ یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا۔ لہذا تم اسے نویں،ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کرو۔''امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : ''(فَرُفِعَتْ) کا معنی ہے : یعنی میری اس رات کی معرفت و شناخت اٹھا لی گئی ہے۔''

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ

Hadith 2198

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2199

حَدَّثَنَا عَبْد الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ. حَدَّثَنَا سُفْيَان، قَالَ: حَفِظْتُهُ عَنِ الزُّهْرِي؛ ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الْمَخْزُومِيُّ وَعَمْرُو بْنُ عَلِي قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَان، عَنِ الزُّهْرِي، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة، رِوَايَةً، قَالَ: "مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".

''حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ : جس شخص نے ایمان اور ثواب کی نیت سےماہ رمضان کے روزے رکھے تو اسکے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔''

"مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ". ← أَبِي هُرَيْرَة، رِوَايَةً، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الْمَخْزُومِيُّ وَعَمْرُو بْنُ عَلِي ← الزُّهْرِيِّ، ← حَفِظْتُهُ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Hadith 2199

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2200

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ الْيَشْكُرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عَبْد اللَّه بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيه، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّه! إِنِّي أَكُونُ بِالْبَادِيَةِ (1) وَأَنَا بِحَمْدِ اللَّه أُصَلِّي بِهَا، فَمُرْنِي بِلَيْلَةٍ أَنْزِلْهَا لِهَذَا الْمَسْجِدِ، أُصَلِّيهَا فِيهِ. قَالَ: "انْزِلْ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ". قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبْد اللَّه: فَكَيْفَ كَانَ أَبُوكَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: يَدْخُلُ صَلَاةَ الْعَصْرِ، ثُمَّ لَا يَخْرُجُ حَتَّى يُصَلِّيَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ يَخْرُجُ وَدَابَّتُهُ -يَعْنِي عَلَى بَاب الْمَسْجِدِ، فَيَرْكَبُهَا فَيَأْتِي أَهْلَهُ. جُمَّاعُ أَبْوَابِ ذِكْر أَبْوَابِ قِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ

''حضرت عبداللہ بن انیس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! میں گاؤں میں رہتا ہوں اور اللہ کا شکر ہے وہاں نماز بھی ادا کرتا ہوں ، تو آپ مجھے کسی رات کے بارے میں حکم دیں جس رات میں اس مسجد میں آکر نمازادا کروں(یعنی مسجد نیوی میں)۔ آپ نے فرمایا : تئیسویں رات کو آجانا ۔ جناب محمد بن ابراہیم کہتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ کے بیٹے سو پوچھا : آپ کے والد گرامی کیسے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا :''وہ عصر کی نماز پڑھ کر مسجد نبوی میں داخل ہو جاتے پھر صبح کی نماز ادا کرنے تک نہیں نکلتےتھے پھر وہ مسجد سے نکلتے تو ا ن کی سواری مسجد کے دروازے پر ہوتی تھی تو وہ اس پر سوار ہو کر اپنے گھر والوں کے پاس چلےجاتے ۔''

قُلْتُ ← أَبِيهِ ← ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ ← مؤمل بن هشام اليشكري

Hadith 2200

chevron_left Previous
1…262728…31
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals