صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2166
حَدَّثَنَا عَبْدةُ بْنُ عَبْد اللَّه الْخُزَاعِيُّ، أَخْبَرَنا زَيْد -يَعْنِي ابْنَ الْحُبَاب- حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ -وَهُوَ ابْنُ لُدَيْنٍ (2) - أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَة يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "الْجُمُعَةُ عِيدٌ فَلَا تَجْعَلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ صِيَامًا إِلَّا أَنْ يُصَامَ قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَقَدْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي صَوْمِ يَوْمِ السَّبْتِ إِذَا صَامَ صَائِمٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَهُ.
''حضرت ابو ہریرہ ؓبیان کرتے ہیں کہ میں نےرسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :''جمعہ کا دن عید ہے لہذا تم جمعہ کے دن روزہ مت رکھو الاّیہ کہ اس سے پہلےیا ایک دن بعد بھی روز رکھو۔''امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : ''اس طرح نبی کریم ﷺ نے ہفتہ کے دن روزہ رکھنے کی رخصت دی ہے جبکہ روزہ دا راس سے پہلے جمعہ کے دن بھی روزہ رکھے۔''
أَبَا هُرَيْرَةَ ← عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ -وَهُوَ ابْنُ لُدَيْنٍ أَنَّهُ ← أَبِي بِشْرٍ، ← مُعَاوِيَةَ، ← زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ
Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2166
