Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2142

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ ذَكَرْنَا أَخْبَارَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي صِيَامِ عَاشُورَاءَ وَأَمْرِهِ بِالصَّوْمِ مَنْ لَمْ يَجْمَعْ صِيَامَهُ مِنَ اللَّيْلِ فِي أَبْوَابِ صَوْمِ عَاشُورَاءَ.

''امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں :ہم نے عاشوراء کے روزے کے ابواب میں عاشوراء کے روزے کے بارے میں نبی اکرمﷺ کی احادیث بیان کردی ہیں۔جن میں آپ کا یہ حکم بھی ہے کہ جس شخص نے رات کو نیت بھی کی وہ بھی عاشوراء کا روزہ رکھے گا۔''

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2142

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2143

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَة بِنْتُ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَة أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ: ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَة بِنْتِ طَلْحَةَ [219 - أ] عَنْ عَائِشَة أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: دَخَلَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: "هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟ " قُلْنَا: لَا [قَالَ]: "فَإِنِّي إِذًا صَائِمٌ". قَالَتْ: ثُمَّ جَاءَ يَوْمًا آخَرَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّه! أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَخَبَّأْنَا لَكَ، فَقَالَ: "أَدْنِيهِ، فَقَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا" فَأَكَلَ. هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ.

''عائشہ بنت طلحہ حضرت عائشہ ام المومنین ؓ سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے فرمایا:''ایک دن نبی کریم ﷺ گھر تشریف لائے تو پوچھا: ''کیا تمہارے پاس کھانے کےلیے کچھ ہے؟ہم نے جواب دیا:جی نہیں۔آپ نے فرمایا : تو پھر میں روزے سےہوں۔''حجرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: ''پھر ایک دن آپ تشریف لائے تم ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہمیں حیس کا تحفہ دیا گیا ہے اور ہم نےآپ کےلیے سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا: ''اسے لے آؤ، میں نے روزے کی حالت میں صبح کی تھی۔''پھر آ پ نے وہ کھا لیا۔''یہ جناب وکیع کی روایت ہے۔

ثُمَّ جَاءَ يَوْمًا آخَرَ، فَقُلْنَا: ← "فَإِنِّي إِذًا صَائِمٌ". ← دَخَلَ النَبِيّ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: "هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟ قُلْنَا: لَا ← عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← عَمَّتِهِ عَائِشَة بِنْتِ طَلْحَةَ أ] ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← وَكِيعٌ، ← وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← حَدَّثَتْنِي عَائِشَة بِنْتُ طَلْحَةَ، ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2143

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2144

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ الْعُمَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيه: أَنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخَى بَيْنَ سَلْمَانَ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، فَجَاءَ سَلْمَانُ يَزُورُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَوَجَدَ أُمَّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً، فَقَالَ لَهَا: مَا شَأْنُكِ؟ فَقَالَتْ: إِنَّ أَخَاكَ لَيْسَتْ لَهُ حَاجَةٌ فِي الدُّنْيَا. زَادَ يُوسُفُ: يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ، قَالَا: فَلَمَّا جَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ، فَرَحَّبَ بِهِ، وَقَرَّبَ إِلَيْهِ طَعَامًا، فَقَالَ لَهُ: كُلْ. فَقَالَ: أَوَلَسْتُ أَطْعَمُ؟ فَقَالَ: مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ. فَأَكَلَ مَعَهُ، وَبَاتَ عِنْدَهُ. فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ذَهَبَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَقُومُ، فَحَبَسَهُ سَلْمَانُ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْفَجْرِ، قَالَ: قُمِ الْآنَ. فَقَامَا فَصَلَّيَا، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ: إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِأَهْلِكَ وَلِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ. فَأَمَّا النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: "صَدَقَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ".

''حضرت ابو جحیفہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت سلما ن اور حضرت داؤد ؑ کے درمیان اخوت کا رشتہ قائم کیاتھا تو حضرت سلما نؓ اور حضرت ابودرداءؓ کی ملاقات کےلیے آئےتو انہوں نے حضرت ام الدرداء ؓ کو میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو انہوں نے اس سے پوچھا: تمہیں کیا ہوا ہے(اس قدر بدحال کیوں ہو؟)اس نے جواب دیا: ''تمہارے بھائی کو دنیا سے کچھ غرض نہیں ہے(اس لیے مجھے بھی بننے سنورنے کی ضرورت نہیں)جناب یوسف کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ''وہ دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو نفل پڑھتا رہتا ہے۔پھرجب ابو الدرداءؓ گھر آئے تو انہوں نے حضرت سلمان کو خوش آمدید کہا اور انہیں کھانا پیش کیا اور کہا : کھائیے۔ تو حضرت سلما ؓ نے کہا : کیا آپ نہیں کھائیں گےاور میں کھا لوں ؟ اس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک آپ نہیں کھائیں گے۔ تو انہوں نے حضرت ابوالدرداء ؓ کے ساتھ کھانا کھایا اور انہیں کے ہاں رات بسر کی۔پھر جب رات کا آخری پہر ہوا تو حضرت ابودرداء نماز پڑھنے کے لیے اٹھنے لگے تو حضرت سلمان نے انہیں روک دیا۔ پھر جب فجر کا وقت قریب ہوا تو فرمایا: اب اٹھو، چنانچہ وہ دونوں اٹھے اور نماز تہجد اد اکی تو حضرت سلمانؓ نے انہیں کہا:بے شک تم پر تمہارے رب کا حق ہے،اور تمہاری جان کا بھی حق ہےاور تمہارے گھر والوں اورتمہارے مہمان کا بھی حق ہے، تو ہر حق والے کو اس کا حق ادا کرو۔ پھر جب نبی کریم ﷺ کو اس بات سے اگاہ کیاگیا تو آپ نے فرمایا: ''سلمان فارسی ؓ نے بالکل سچ فرمایاہے۔''

أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← أَبُو عُمَيْسٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ الْعُمَرِيُّ، ← وحدثنا يوسف بن موسى ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2144

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2145

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَان، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ نُمَيْرِ بْنِ عَرِيبٍ الْعَبْسِيِّ، عَنْ مالك بْنِ مَسْعُودٍ (1) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ الصَّوْمُ فِي الشِّتَاءِ". جُمَّاعُ أَبْوَابِ ذِكْر الْأَيَّامِ

''حضرت عامر بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :''ٹھنڈی غنیمت سردیوں کے روزے ہیں۔''

مالك بْنِ مَسْعُودٍ ← نُمَيْرِ بْنِ عَرِيبٍ الْعَبْسِيِّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2145

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2146

حَدَّثَنَا عَبْد الْوَارِثِ بْنُ عَبْد الصَّمَدِ بْنِ عَبْد الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ، فِيهِمْ عُمَرُ، وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ"، وَنَهَى عَنْ صَوْمِ يَوْمَيْنِ: يَوْمِ الْفِطْرِ، وَيَوْمِ النَّحْرِ. حَدَّثَنَا عَبْد الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: بِمِثْلِهِ.

''حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میر ے پاس چند پسندیدہ لوگوں نے گواہی دی، ان میں حضرت عمر ؓ بھی شامل ہیں، اور میرے نزدیک حضرت عمر ؓ سب سے زیادہ پسندیدہ ہیں، رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا:''صبح کی نماز کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہےاور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے۔اورآپ نے دو دن ، عیدالفطر اور عید الاضحیٰ کے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے۔''حضرت ابن عباس نے یہ روایت حضرت عمر ؓ کے واسطے سے نبی کریم ﷺ سے بیان کی ہے۔''

شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ، فِيهِمْ عُمَرُ، وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2146

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2147

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْد الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ (1)، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أُمَّهِ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ قَالَتْ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى عَلِي عَلَى بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْبَيْضَاءِ فِي شِعْبِ الْأَنْصَارِ وَهُوَ يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِنَّهَا لَيْسَتْ أَيَّامَ صَوْمٍ، إِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ".

''جناب مسعود بن حکم اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں ،وہ کہتی ہیں گویا کہ میں حضرت علی ؓ کو رسول اللہ ﷺ سفید خچر پر سوار انصارکی گھاٹی پر دیکھ رہی ہوں، اور وہ کہہ رہے ہیں:''اے لوگو! بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ''صورت حال یہ ہے کہ روزے رکھنے کے دن نہیں ہیں ، بلا شبہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔''

أُمِّهِ2، ← مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ ← حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2147

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2148

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْد الرَّزَّاق، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: دَعَا أَعْرَابِيًّا إِلَى طَعَامِهِ، وَذَلِكَ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ عَبْد اللَّه بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، يَعْنِي يَنْهَى عَنْ صِيَامِ هَذِهِ الْأَيَّامِ.

ایام تشریق میں روزے رکھنے کی صریح ممانعت کا بیان

صِيَامِ هَذِهِ الْأَيَّامِ. ← رَسُولَ اللَّه يَعْنِي يَنْهَى ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← إِنِّي ← الْأَعْرَابِيُّ: إِنِّي صَائِمٌ. ← دَعَا أَعْرَابِيًّا إِلَى طَعَامِهِ، وَذَلِكَ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ، ← الْمُطَّلِبِ ← عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2148

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2149

أَخْبَرَني ابْنُ عَبْد الْحَكَمِ، أَنَّ أَبَاهُ، وَشُعَيْبًا [219 - ب] أَخْبَرَاهُمْ، قَالَا: أَخْبَرَنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْد اللَّه بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عُقَيْلٍ أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَعَبْد اللَّه عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَذَلِكَ الْغَدَ أَوْ بَعْدَ الْغَدِ مِنْ يَوْمِ الْأَضْحَى، فَقَرَّبَ إِلَيْهِمْ عَمْرٌو طَعَامًا، فَقَالَ عَبْد اللَّه: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو: أَفْطِرْ، فَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُ بِفِطْرِهَا، وَيَنْهَى عَنْ صِيَامِهَا. فَأَفْطَرَ عَبْد اللَّه فَأَكَلَ، وَأَكَلْتُ مَعَهُ.

''حضرت عقیل کے آزاد کردہ غلام ابو مرہ سے روایت ہے کہ وہ اور حضرت عبداللہ ، حجرت عمرو بن العاص ؓ کی خدمت میں عیدا لاضحیٰ کے دوسرے۶ یا تیسرے دن حاضر ہوئے ، تو حضرت عمرو ؓ نے انہیں کھانا پیش کیا تو حضرت عبداللہ نے عرض کی:میں روز ے سے ہوں تو حجرت عمرو نے انہیں کہا: روزہ کھول لو۔ بے شک رسول اللہ ﷺ ان دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔ اس پر حضرت عبداللہ نے روز کھول لیا اور کھانا کھالیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ کھانا کھایا۔''

عَبْدُ اللَّهِ إِنِّي صَائِمٌ ← ذَلِكَ الْغَدَ أَوْ بَعْدَ الْغَدِ مِنْ يَوْمِ الْأَضْحَى فَقَرَّبَ إِلَيْهِمْ عَمْرٌو طَعَامًا ← عَبْد اللَّه عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، ← أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلٍ أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ← اللَّيْثُ ← ابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنَّ أَبَاهُ، وَشُعَيْبًا، أَخْبَرَاهُمْ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2149

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2150

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَأَبُو دَاوُدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيه أَنَّ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَنْ صَامَ الدَّهْرَ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ، أَوْ لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ".

''جناب مطرف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:''جس نے عمر بھر روزے رکھے اس نے نہ روزے رکھے اور نہ چھوڑے۔یا اس نے نہ روزے رکھے اور نہ چھوڑے۔''

أَبِيهِ ← مُطَرِّفٍ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَأَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2150

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2151

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ؛ ح وَحَدَّثَنَا عَلِي بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ- عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْد اللَّه الشِّخِّيرِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّ فُلَانًا لَا يُفْطِرُ نَهَارَ الدَّهْرِ، قَالَ: "لَا صَامَ، وَلَا أَفْطَرَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: النَّهْيُ عَنِ الصَّلَاةِ، قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ مَشْهُورٌ؛ وَأَمَّا فِي الصَّوْمِ فَقَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ فَهُوَ غَرِيبٌ.

''حضرت عمران حصین ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کی گئی:''فلاں شخص ہمیشہ دن کو روزہ رکھتا ہے۔''آپ نے فرمایا: ''اس نے روزے رکھے اور نہ روزے چھوڑے۔''امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: حضرت قتادہ کی سندسے حضرت ابو العالیہ سے نماز کی ممانعت کے بارے میں روایت مشہور ہے لیکن روزوں کے بارے میں ممانعت کی روایت ان کی سند سے غریب ہے۔(مشہور نہیں ہے)۔ ''

أَبِي الْعَالِيَةِ فَهُوَ غَرِيبٌ. ← أَبِي الْعَالِيَةِ مَشْهُورٌ؛ وَأَمَّا فِي الصَّوْمِ فَقَتَادَةُ ← الصَّلَاةِ، قَتَادَةُ، ← أَبُو بَكْرٍ: النَّهْيُ ← "لَا صَامَ، وَلَا أَفْطَرَ". ← قِيلَ لِرَسُولِ اللَّه إِنَّ فُلَانًا لَا يُفْطِرُ نَهَارَ الدَّهْرِ، ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← مُطَرِّفٍ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْد اللَّه الشِّخِّيرِ، ← سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ- ← وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ← أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ؛ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2151

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2152

حَدَّثَنَا عَبْد الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَان، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْد اللَّه بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ؟ " قُلْتُ: إِنِّي لَأَفْعَلُ (1). قَالَ: "وَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ عَيْنُكَ، وَنَفِهَتْ نَفْسُكَ (2)، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ حَقًّا، وَلِأَهْلِكَ حَقًّا، وَلِعَيْنِكَ حَقًّا، فَنَمْ وَقُمْ، وَصُمْ وَأَفْطِرْ"، مَعْنًى وَاحِدًا. هَذَا حَدِيثُ عَبْد الْجَبَّارِ. وَلَمْ يَقُلِ الْمَخْزُومِيُّ: وَلَا تَفْعَلْ.

''حضرت عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''کیا تم مجھے خبر نہیں دی گئی کہ تم ساری راتنفل نماز پڑھتے ہو اور دن کو (روزانہ) روز ہ رکھتے ہو؟میں نے جواب دیا کہ میں ایسے ہی کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا: ''ایسے مت کرو،جب تم ایسے کرو گے تو تمہاری آنکھیں کمزور ہو کر دھنس جائیں گی اور تمہارا نفس تھکاوٹ و اکتاہٹ کا شکار ہو جائے گااور بے شک تمہار ے نفس کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے گھر والوں کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا بھی حق ہے، اس لیے سویا بھی کرو اور نماز بھی پڑھ لیا کرو،روزے بھی رکھو اور ناغہ بھی کرو۔''یہ جناب عبدالجبار کی حدیث ہے اور جناب مخزومی کی ہدایت میں :''ایسے مت کرو''الفاظ نہیں ہیں۔''

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي الْعَبَّاسِ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2152

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2153

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَميِّ قَالَ: كُنْتُ أَسْرُدُ الصَّوْمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّه! إِنِّي أَصُومُ وَلَا أُفْطِرُ، أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ: "إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ" (1). قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَرَّجْتُ طُرُقَ هَذَا الْخَبَر فِي غَيْر هَذَا الْمَوْضِعِ.

''حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے عہدے مبارک میں مسلسل روزتے رکھا کرتا تھا تو میں نے عرض کیا:''اے اللہ کے رسول !بے شک میں بغیر ناٖغہ کیے مسلسل روزےرکھتا ہوں تو کیا میں سفر میں روزہ رکھ لیا کروں؟آپ نے فرمایا: ''اگر تم چاہوں تو روزہ رکھ لو اور اگر چاہو تو روزہ نہ رکھو۔''امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : میں نےاس روایت کے دیگر طریق ایک اور مقام پر بیان کیے ہیں۔''

كُنْتُ أَسْرُدُ الصَّوْمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّه فَقُلْتُ: ← حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَميِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ1 ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدَةُ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2153

chevron_left Previous
1…222324…31
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals