Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2106

حَدَّثَنَا عَبْد الْوَارِثِ بْنُ عَبْد الصَّمَدِ، أَمْلَى مِنْ أَصْلِهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ (1)، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْفَيَّاضِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ عَبْد اللَّه بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّوْمِ، فَقَالَ: "صُمْ يَوْمًا مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ". قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ. فَقَالَ: "صُمْ يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ". قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: "صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ (1)، وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ". قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: "صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ". [قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ] فَقَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ أَحَبَّ الصِّيَامِ صَوْمُ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا".

''حضرت عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور روزوں کے متعلق سوال کیا، آپ نے فرمایا :'' ہرمہینے ایک دن روزہ رکھ لیا کرو اور تمہیں باقی دنوں کا اجر بھی ملے گا۔ میں نے عرض کی:میں اس سے زیادہ عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ تو آپ نے فرمایا : ''ہر مہینے دو دن روزی رکھا کرو اور تمہیں باقی دنوں کا اجروثواب بھی ملے گا''میں نے عرض کیا :بلا شبہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : ہر ماہ تین روزے رکھا لیا کرو تمہیں باقی دنوں کا ثواب بھی ملے جائے گا۔ میں نے پھر کہا : میں اس سے زیادہ کی ہمت و طاقت پاتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا: چار روزے رکھ لیا کرو اور تمہیں باقی دنوں کا ثواب بھی ملے گا۔انہوں نے کہا: بے سک میں اس سے زیادہ عمل کی طاقت و قوت پاتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''سب سےپسندیدہ روزے حضرت داؤد ؑ کے روزے ہیں ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔''

الصوم ← أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّه فَسَأَلْتُهُ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عِيَاضٍ، ← زِيَادِ بْنِ الْفَيَّاضِ، ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عَبْد الْوَارِثِ بْنُ عَبْد الصَّمَدِ، أَمْلَى مِنْ أَصْلِهِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2106

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2107

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَر أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْد اللَّه بْنِ عَمْرٍو: "صُمْ صِيَامَ دَاوُدَ فَإِنَّهُ أَعْدَلُ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّه".

''حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کی روایت میں ہے : ''حضرت داؤد ؑ کے روزوں کی طرح روزے رکھا کرو کیونکہ وہ اللہ تعالی کے نزدیک سب سے عمدہ اور معتدل روزے ہیں۔''

عَبْد اللَّه بْنِ عَمْرٍو: "صُمْ صِيَامَ دَاوُدَ فَإِنَّهُ أَعْدَلُ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّه". ← أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَر أَبِي سَلَمَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2107

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2108

وَفِي خَبَر حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْد اللَّه بْنِ عَمْرٍو: "أَفْضَلُ الصِّيَامِ صَوْمُ دَاوُدَ". خَرَّجْتُ طُرُقَ هَذِهِ الْأَخْبَارِ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ".

''افضل ترین روزے حضرت داؤدؑ کے روزے ہیں۔ میں نے ان روایت کے طریق کتاب الکبیر میں بیان کیے ہیں۔''

أَبِي الْعَبَّاسِ، ← وَفِي خَبَر حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2108

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2109

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ، أَخْبَرَنا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ-، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْد الرَّزَّاق، قَالَا: أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يَزْعُمُ أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْد اللَّه بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ: بَلَغَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنِّي أَسْرُدُ وَأُصَلِّي اللَّيْلَ، قَالَ: وَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيْهِ وَإِمَّا لَقِيَهُ، فَقَالَ: "أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلَا تُفْطِرُ، وَتُصَلِّي اللَّيْلَ؟ فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ لِعَيْنَيْكَ حَظًّا، وَلِنَفْسِكَ حَظًّا، وَلِأَهْلِكَ حَظًّا، فَصُمْ، وَأَفْطِرْ، وَصَلِّ، وَنَمْ، وَصُمْ كُلَّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا، وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ". قَالَ: فَإِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى لِذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّه! قَالَ: "فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ". قَالَ: وَكَيْفَ كَانَ دَاوُدُ يَصُومُ يَا رَسُولَ اللَّه؟ قَالَ: "كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ (1) إِذَا لَاقَى". قَالَ: مَنْ لِي بِهَذِهِ يَا نَبِيّ اللَّه؟ قَالَ عَطَاءٌ: فَلَا أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الْأَبَدِ، فَقَالَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَا صَامَ (2) مَنْ صَامَ الْأَبَدَ". هَذَا حَدِيثُ الْبُرْسَانِيِّ. وَفِي حَدِيثِ عَبْد الرَّزَّاق، قَالَ: إِنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ، وَقَالَ: فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ وَقَالَ: إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ.

''حضرت عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو یہ بات پہنچی کہ میں مسلسل روزے رکھتا ہوں اور ساری رات نماز پڑھتا ہوں ۔ وہ کہتے ہیں : یا تو آپ نے مجھے بلانے کےلیے کسی کو بھیجا، یا میں آپ کو ملا تو آپ نےفرمایا:''کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی کہ تم مسلسل روزے رکھتے ہو اور پوری رات نماز پڑھتے ہو؟تو ایسے مت کرو کیونکہ تمہاری آنکھوں کا بھی حق ہے اور تمہاری جان کا بھی حق ہے اور تمہارے گھر والوں کا بھی حق نصیب(حصہ) ہے۔ روزے رکھو اور ناغہ بھی کرو ، رات کو نماز پڑھو اور سویا بھی کرو اور ہر دس دنوں میں ایک دن روزہ رکھا کرو اور تمہیں باقی نو دنوں اجر بھی ملے گا''کہتے ہیں: بےشک میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، الے اللہ کے رسول!ا ٓپ نے فرمایا:تو داؤد ؑ کے روزے رکھ لیا کرو۔''انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول !واؤد ؑ کیسے روزے رکھتے تھے؟آپ نے فرمایا: ''وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔''انہوں نے کہا: ''اے اللہ کے نبی !مجھے یہ شرف کیسے نصیب ہو سکتا ہے؟جناب عطاء کہتے ہیں :مجھے معلوم نہیں کہ ہمیشہ کے روزوں کا ذکر کیسے ہوا۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ''جس نےہمیشہ کے روزے رکھے اس نے کوئی روزہ نہیں رکھا۔''یہ حدیث برسانی کی ہے۔جناب عبدالرزاق کی حدیث میں ہے،انہوں نے کہا : ''بے شک میں پے در پے روزے رکھتا ہوں'' اور کہا : ''یا تو آپ نے مجھے بلانے کےلیے کسی کو بھیجا :اور کہا : ''بے شک میں اس سے زیادہ کی طاقت پاتا ہوں۔''

عَطَاءً، يَزْعُمُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← محمد يعني ابن بكر ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2109

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2110

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى [216 - ب] حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن، حَدَّثَنَا عَبْد اللَّه بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: "أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ، وَتَصُومُ النَّهَارَ". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. وَقَالَ: فَقَالَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ، فَإِنَّهُ كَانَ أَعْبَدَ النَّاسِ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمًا"، ثُمَّ قَالَ: "إِنَّكَ لَا تَدْرِي لَعَلَّهُ أَنْ يَطُولَ بِكَ الْعُمُرُ". فَلَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ قَبِلْتُ الرُّخْصَةَ الَّتِي أَمَرَنِي بِهَا رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ قَالَ (1): سَمِعْتُ عَبْد اللَّه بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

اس بات کی دلیل کا بیان کہ داؤوؑ سب لوگوں سے بڑھ کر عبادت گزار تھے۔ جبکہ ان کے روزوں کا معمول اس طرح تھا جیسا ہم نے بیان کیا ہے

"إِنَّكَ لَا تَدْرِي لَعَلَّهُ ← الحديث بطوله ← "أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ، وَتَصُومُ النَّهَارَ". ← "أرسل إلى رسول الله ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو مُوسَى،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2110

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2111

حَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ عَبْدةَ، أَنَا حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْد- حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا عَبْد اللَّه بْنُ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيُّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا، قَالَ: "وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ؟ " قَالَ: فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا. وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ: "ذَاكَ صَوْمُ دَاوُدَ". قَالَ: فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟ قَالَ: "وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ".

''حضرت ابو قتادہؓ بیان کرتے ہیں ''حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: ''جو شخص دو دن روزہ رکھے اور ایک دن ناغہ کرے اسکا کیا حال ہے؟ آپ نے فرمایا: ''کیا کوئی شخص اس کی طاقت رکھتا ہے؟ انہوں نے عرض کی: ''اس شخص کا کیا حال ہے جو ایک دن روہ رکھتا ہے اور ایک دن روزہ چھوڑ دیتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ''یہ طریقہ حضرت داؤدؑ کے روزوں کا ہے۔''انہوں نے پوچھا : وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن نہ رکھے؟آپ نے فرمایا: میری خواہش اور چاہت ہے کہ مجھے بھی اس کی طاقت نصیب ہو۔''

"وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ". ← فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟ ← "ذَاكَ صَوْمُ دَاوُدَ". ← فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا. وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ ← "وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ؟ ← عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّه فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا، ← أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْد اللَّه بْنُ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيُّ، ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2111

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2112

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْد اللَّه- عَنْ سُهَيْلٍ، وَهُوَ ابْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ، قَالَ: [قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:] (2) "لَا يَصُومُ يَوْمًا عَبْد فِي سَبِيلِ اللَّه إِلَّا بَاعَدَ اللَّه بِذَلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا".

''حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو بندہ بھی اللہ کی راہ میں ایک روزہ ررکھتا ہے تو اللہ تعالی اس دن کی وجہ سے اس کا چہرہ جہنم کی آگ سے ستر سال دور کر دیتا ہے۔''

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← سُهَيْلٍ، وَهُوَ ابْنُ أَبِي صَالِحٍ، ← خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ-، ← أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2112

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2113

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ؛ أَنَّ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَا مِنْ عَبْد يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّه ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّه، إِلَّا بَاعَدَ اللَّه عَنْ وَجْهِهِ وَبَيْنَ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا".

''حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :''جو بندہ بھی اللہ کی رضا کےلیے اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے تو اللہ تعالی اس کے چہرے اور جہنم کی آگ کے درمیان ستر سال کی دوری ڈال دیتا ہے۔''

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← حَمَّادٌ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2113

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2114

حَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ عَبْدةَ، حَدَّثَنَا عَبْد الْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ- عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْم (1)، وَسَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتَّةَ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ، فَكَأَنَّمَا صَامَ الدَّهْرَ".

''حضرت ابو ایوب انصاری ؓبیان کرتے ہیں کہ : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :''جس شخص نے رمضان المبارک کے روزے رکھے پھر اسکے بعد ماہ شوال کے چھ روزے رکھے تو گویا اس نے سارے سال کے روزے رکھے ہیں۔''

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَیْمٍ وَسَعْدُ بْنُ سَعِیْدٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ-، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2114

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2115

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْد اللَّه بْنِ عَبْد الْحَكَمِ وَالْحُسَيْنُ بْنُ نَصْرِ بْنِ الْمُعَارِكِ الْمِصْرِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ. عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ الذِّمَارِيِّ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "صِيَامُ رَمَضَانَ بِعَشَرَةِ أَشْهُرٍ، وَصِيَامُ السِّتَّةِ أَيَّامٍ بِشَهْرَيْنِ، فَذَلِكَ صِيَامُ السَّنَةِ"، يَعْنِي رَمَضَانَ وَسِتَّةَ أَيَّامٍ بَعْدَهُ.

''حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''رمضان المبارک کے روزے دس مہینوں کے روزوں کے برابر ہیں اور چھ دنوں کے روزے دو ماہ کے روزوں کے برابر ہوں گے۔تو یہ رمضان المبارک اور اس کے بعد چھ دن کے روزے سال بھر کے روزے ہوں گے۔''

ثَوْبَانَ، ← أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ← يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ نَصْرِ بْنِ الْمُعَارِكِ الْمِصْرِيَّانِ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْد اللَّه بْنِ عَبْد الْحَكَمِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2115

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2116

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ سُفْيَان، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْمُسَيَّب بْنِ رَافِعٍ، عَنْ سَوَاءٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ عَائِشَة قَالَتْ: كَانَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ.

''حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سوموار اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔''

كَانَ النَبِيّ يَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ. ← عَائِشَةَ ← سَوَاءٍ الْخُزَاعِيِّ، ← الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ؛ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2116

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2117

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَأَبُو مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ؛ ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ أَيْضًا، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْد الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ بن جعفر (1)، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، كُلُّهُمْ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْد اللَّه بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ -يَعْنِي عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ- قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْبَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ فَقَالَ: يَا نَبِيّ اللَّه! صَوْمُ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ؟ قَالَ: "يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ، وَيَوْمٌ أَمُوتُ فِيهِ". هَذَا حَدِيثُ قَتَادَةَ. وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ: سَأَلَ رَجُل رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يُذْكَرْ عُمَرَ. وَقَالَ: "فِيهِ وُلِدْتُ، وَفِيهِ أُوحِيَ إِلَيَّ".

''حضرت ابو قتادہ انصاریؓ بیان کرتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے، حضرت عمر ؓ آپ کی طرف متوجہ ہوئے تو پوچھا:''اے اللہ کے نبی ! سوموار کے دن کا روزہ رکھنا کیسا ہے؟آپ نے فرمایا: ''اس دن میری پیدائش ہوئی اور اسی دن میری وفات ہوگی۔''یہ حدیث قتادہ کی ہے ۔ جناب وکیع کی روایت میں ہے: ''ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے سوال کیا، اس میں حضرت عمر ؓ کا ذکر نہیں ہے: اور اس میں ہے: ''اس دن میں پیداہوا ، اور اس دن میری طرف وحی کی گئی۔''

أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ؛ ← عَبْد اللَّه بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ -يَعْنِي ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، كُلُّهُمْ ← وَكِيعٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بُنْدَارٌ، أَيْضًا ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو مُوسَى،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2117

chevron_left Previous
1…192021…31
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals