Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2094

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "الْيَوْمُ عَاشُورَاءُ فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ". خَبَر عَائِشَة وَمُعَاوِيَةَ مِنْ هَذَا الْبَاب.

''حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''آج عاشورا کا دن ہے تو جو شخص چاہے وہ اس دن کا روزہ رکھ لے اورجو شخص چاہے وہ روزہ نہ رکھے۔''حضرت عائشہ اور معاویہ ؓ کی روایات اسی مسئلہ کے متعلق ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ، ← أَبُو مُوسَى،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2094

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2095

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِي، عَنْ أَبِيه، عَنْ جَدِّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "صُومُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَخَالِفُوا الْيَهُودَ، صُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا، أَوْ بَعْدَهُ يَوْمًا".

''حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ''عاشوراء کے دن کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو، اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھو۔''

جَدِّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِيهِ ← دَاوُدَ بْنِ عَلِي، ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← هُشَيْمٌ ← مُسَدَّدٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2095

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2096

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ [215 - ب] فَسَأَلْتُهُ عَنْ صِيَامِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: اعْدُدْ، فَإِذَا أَصْبَحْتَ يَوْمَ التَّاسِعِ مِنْ المُحَرَّمٍ فَاصْبِحْ صَائِمًا. قَالَ: قُلْتُ: أَكَذَاكَ كَانَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُومُ؟ قَالَ: كَذَاكَ كَانَ يَصُومُ.

''جناب حکم بن اعرج بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے سوال کیا جبکہ وہ مسجد حرام میں اپنی چادر سے ٹیک لگا کر تشریف فرما تھے، تو میں نے ان سے عاشوراءکےروزے کے بارے میں پوچھا: انہوں نے فرمایا: گنتی کرتے رہو پھر جب محرم کی نو تاریخ کو صبح کرو تو روزہ رکھ لو۔ وہ کہتے ہیں:میں نےعرض کی : کیا محمد ﷺ اس طرح روزہ رکھا کرتے تھے؟انہوں نے جواب دیا : اسی طرح آپ روزہ رکھاکرتے تھے۔''

كَذَاكَ كَانَ يَصُومُ. ← قُلْتُ: أَكَذَاكَ كَانَ مُحَمَّدٌ يَصُومُ؟ ← صِيَامِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: اعْدُدْ، فَإِذَا أَصْبَحْتَ يَوْمَ التَّاسِعِ مِنْ المُحَرَّمٍ فَاصْبِحْ صَائِمًا. ← سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ ب] فَسَأَلْتُهُ ← الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2096

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2097

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ: بِمِثْلِهِ، وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي زَمْزَمَ.

''جناب جعفر بن محمد کی سند سے مذکورہ بالا کی مثل مروی ہے،اس میں یہ الفاظ ہیں کہ وہ زمزم کے قریب اپنی چادر کو تکیہ بنائے بیٹھے ہوئے تھے۔''

الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ: بِمِثْلِهِ، وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي زَمْزَمَ. ← حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ، ← وَكِيعٌ، ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2097

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2098

حَدَّثَنَا عَبْدةُ بْنُ عَبْد اللَّه، أَخْبَرَنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ قَالَ: هُوَ يَوْمُ التَّاسِعِ. قُلْتُ: كَذَلِكَ صَامَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟

''حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے عاشوراءکے دن کے بارے میں فرمایا:''وہ نو تاریخ کا دن ہے۔''میں نے عرض کیا: کیا محمد ﷺ اسی طرح (نوتاریخ کا)روزہ رکھتے تھے؟''

هُوَ يَوْمُ التَّاسِعِ. قُلْتُ: كَذَلِكَ صَامَ مُحَمَّدٌ ← ابْنِ عَبَّاسٍ: فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ ← الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ، ← حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ، ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2098

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2099

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَر أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "صَوْمُ عَرَفَةَ يُكَفَّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ، وَالسُّنَّةَ الْمُقْبِلَةَ"، أَمْلَيْتُهُ فِي بَاب صَوْمِ عَاشُورَاءَ.

''امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں :''حضرت ابو قتادوؓ کی نبی کریم ﷺ سے یہ حدیث کہ عرفہ کے دن کا روزہ گزشتہ سال اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔''میں عاشوراءکے باب میں لکھوا چکا ہوں۔''

أَبُو بَكْرٍ: خَبَر أَبِي قَتَادَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2099

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2100

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّعْلَبِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِي، عَنْ أَبِيه، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "يَوْمُ عَرَفَةَ، وَيَوْمُ النَّحْرِ، وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ، عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ". حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِي اللَّخْمِيِّ. بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ.

مجمل غیرمفسر الفاظ کے ساتھ مروی حدیث کا بیان جو نبی اکرم ﷺ سے عرفہ کے دن کے روزے کی ممانعت میں ذکر ہوئی ہے۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ← وَكِيعٌ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّعْلَبِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2100

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2101

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبُو دِحْيَةَ حَوْشَبُ بْنُ عُقَيْلٍ الْجَرْمِيُّ (1)، حَدَّثَنَا الْعَبْديُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ.

گزشتہ دو مجمل روایات کی تفسیر کرنے والی روایت کا بیان

صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ. ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عِكْرِمَةَ، ← الْعَبْديُّ، ← أَبُو دِحْيَةَ حَوْشَبُ بْنُ عُقَيْلٍ الْجَرْمِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2101

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2102

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْد- حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ الْفَضْلِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَفْطَرَ بِعَرَفَةَ، أُتِيَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ.

''حضرت ابن عباس ؓ اپنی والدہ محترمہ حضرت ام الفضل ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفات میں روزہ نہیں رکھا تھا۔ آپ کے پاس دودھ لایا گیا تو آپ نے نوش فرمایا لیا۔''

أُمِّهِ أُمِّ الْفَضْلِ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2102

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2103

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ؛ ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْد الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَان، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَة: أَنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَصُمِ الْعَشْرَ. وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَائِمًا فِي الْعَشْرِ قَطُّ.

''حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے ذوالحجہ کے دس دنوں میں روزہ نہیں رکھا ۔''جناب ابو بکر نے اپنی روایت میں یہ الفاظ بیان کیے : ''حضرت عائشہ ظ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو عشرۂ ذوالحجہ میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔''

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2103

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2104

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِي، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَة قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتْرُكُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَفْعَلَهُ خَشْيَةَ أَنْ يُسْتَنَنَ بِهِ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ. وَكَانَ يُحِبُّ مَا خَفَّ عَلَى النَّاسِ مِنَ الْفَرَائِضِ.

''حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک عمل ترک کر دیتے حالا نکہ آپ اسے کرنا پسند فرماتے تھے، آپ اس ڈر سے ترک کر دیتے تھے کہ لوگ اس پر باقاعدگی سے عمل کرنے لگیں گے تو ان پر فرض کر دیا جائے گا اور آپ کو لوگوں پر خفیف اور آسان فرائض پسندیدہ تھے۔''

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2104

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2105

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْد اللَّه بْنِ عَمْرٍو (1) قَالَ: كُنْتُ رَجُلا مُجْتَهِدًا، فَزَوَّجَنِي أَبِي، ثُمَّ زَارَنِي، فَقَالَ لِلْمَرْأَةِ: كَيْفَ تَجِدِينَ بَعْلَكِ؟ فَقَالَتْ: نِعْمَ الرَجُل مِنْ رَجُل لَا يَنَامُ، وَلَا يُفْطِرُ. قَالَ: فَوَقَعَ بِي أَبِي، ثُمَّ قَالَ: زَوَّجْتُكَ امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَعَضَلْتَهَا، فَلَمْ أُبَالِ مَا قَالَ لِي مِمَّا أَجِدُ مِنَ الْقُوَّةِ وَالِاجْتِهَادِ إِلَى [216 - أ] أَنْ بَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: "لَكِنِّي أَنَامُ وَأُصَلِّي وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ، فَنَمْ وَصَلِّ وَأَفْطِرْ، وَصُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّه! أَنَا أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: "فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ، صُمْ يَوْمًا، وَأَفْطِرْ يَوْمًا، وَاقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّه! أَنَا أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: "اقْرَأْهُ فِي خَمْسَ عَشْرَةَ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّه! أَنَا أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ. قَالَ حُصَيْنٌ: فَذَكَرَ لِي مَنْصُورٌ عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ بَلَغَ سَبْعًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةً، وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ، فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى سُنَّتِي، فَقَدِ اهْتَدَى، وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى غَيْر ذَلِكَ فَقَدْ هَلَكَ". فَقَالَ عَبْد اللَّه: لَأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي مِثْلُ أَهْلِي وَمَالِي، وَأَنَا الْيَوْمَ شَيْخٌ قَدْ كَبِرْتُ وَضَعُفْتُ، وَأَكْرَهُ أَنْ أَتْرُكَ مَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

''حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں عبادت میں سخت محنت کرنے والا شخص تھا۔ تو میرے والد گرامی نے میری شادی کردی۔ پھر وہ مجھے ملنے کےلیے آئے تو میری بیوی سے پوچھا:''تم نے اپنے خاوند کو کیسے پایا؟ اس نےجواب دیا: ''وہ بڑے اچھے نیک مرد ہیں جو نہ رات کو سوتے ہیں، نہ دن کو روزہ چھوڑتے ہیں۔ کہتے ہیں:میرے والد صاحب نے مجھے سخت ڈانٹ پلائی ، پھر کہا :میں تیری شادی ایک مسلمان شریف عور ت کے ساتھ کی ہے اور تم نےاسے حقوق زوجیت سے محروم کر رکھا ہے۔لیکن میں نے اپنی عبادت میں قوت و محنت کی وجہ سے والد صاحب کی باتوں کی پروانہ کی حتی کہ یہ بات رسو ل اللہ ﷺ تک پہنچ گئی ۔ تو آپ نے فرمایا: ''لیکن میں تو سوتا بھی ہوں اور(رات کو)نماز بھی پڑھتا ہوں ۔روزے بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں ۔ اس لیے تم بھی (رات کو )سویا بھی کرو اور نماز بھی پڑھ لیا کرو۔روزے رکھنے میں ناغہ بھی کیا کرو۔ اور ہر مہینے تین دن روزے رکھ لیا کرو۔''تو میں نے عرض کیا: ''اے اللہ کے رسول میں اس سے زیادہ عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہوں ۔آپ نے فرمایا: ''حضرت داؤد ؑ کے روزے رکھ لیا کرو۔ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن چھوڑ دیا کرو اور قرآن مجید ہر مہینے میں ختم کر لیا کرو۔''میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! میں اس سے زیادہ عمل کرنے کی طاقت و ہمت رکھتا ہوں۔آپ نے فرمایا: ''پندرہ دن میں قرآن مجید ختم کر لیا کر۔''میں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسو ل! میں اس سے زیادہ کی قوت رکھتا ہوں ۔جناب مجاہد کہتے ہیں: ''آپ نے سات دن میں قرآن مجید ختم کرنے کا مشورہ و ہدایت کی پھر آپ نے فرمایا: ''بے شک ہر عمل کا شوق اور رغبت ہوتی ہے اور ہر رغبت و شوق کےلیے سستی ہوتی ہے۔ تو جس شخص کی سستی و کمزوری سنت نبوی کے مطابق ہوئی تو وہ ہدایت یافتہ ہوگیا اور جس کی سستی کسی دوسرے سبب سے ہوئی تو وہ ہلاک ہو گیا ''تو حضرت عبداللہ کہتے ہیں''اگر میں رسول اللہ ﷺ کی رخصت قبول کر لیتا تو مجھے یہ بات میرے گھر والوں اور مال و دولت جیسی نعمتوں کے حصول سے زیادہ محبوب ہوتی اور میں آج بوڑھا اور کمزور ہو چکا ہوں۔''اور میں وہ عمل ترک کرنا نا پسند کرتا ہوں جس کا حکم مجھے رسول اللہ ﷺ نے دیا تھا۔''

فَوَقَعَ بِي أَبِي، ثُمَّ ← نِعْمَ الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ لَا يَنَامُ، وَلَا يُفْطِرُ ← لِلْمَرْأَةِ: كَيْفَ تَجِدِينَ بَعْلَكِ؟ ← كُنْتُ رَجُلًا مُجْتَهِدًا، فَزَوَّجَنِي أَبِي، ثُمَّ زَارَنِي، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← مُجَاهِدٍ ← حُصَيْنٍ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2105

chevron_left Previous
1…181920…31
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals