Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1998

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ نَسْأَلُهَا عَنِ الْمُبَاشَرَةِ. فَاسْتَحْيَيْنَا، قَالَ: قُلْتُ: جِئْنَا نَسْأَلُ حَاجَةً فَاسْتَحْيَيْنَا. فَقَالَتْ: مَا هِيَ؟ سَلَا عَمَّا بَدَا لَكُمَا. قَالَ: قُلْنَا: كَانَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ قَالَتْ: "قَدْ كَانَ يَفْعَلُ، وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَ لِإِرْبِهِ مِنْكُمْ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّمَا خَاطَبَ اللَّه جَلَّ ثَنَاؤُهُ نَبِيّهُ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُمَّتَهُ بِلُغَةِ الْعَرَبِ أَوْسَعِ اللُّغَاتِ كُلِّهَا، الَّتِي لَا يُحِيطُ بِعِلْمِ جَمِيعِهَا أَحَدٌ غَيْر نَبِيّ، وَالْعَرَبُ فِي لُغَاتِهَا تُوقِعُ اسْمَ الْوَاحِدِ عَلَى شَيْئَيْنِ، وَعَلَى أَشْيَاءَ ذَوَاتِ عَدَدٍ، وَقَدْ يُسَمَّى الشَّيْءُ تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ، ايتُوهَا تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ". فَاسْمُ السَّعْيِ يَقَعُ عَلَى الْهَرْوَلَةِ، وَشِدَّةِ الْمَشْيِ، وَالْمُضِيِّ إِلَى الْمَوْضِعِ. فَالسَّعْيُ الَّذِي أَمَرَ اللَّه بِهِ أَنْ يُسْعَى إِلَى الْجُمُعَةِ، هُوَ الْمُضِيُّ إِلَيْهَا، وَالسَّعْيُ الَّذِي زَجَرَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُ إِتْيَانَ الصَّلَاةِ هُوَ الْهَرْوَلَةُ وَسُرْعَةُ الْمَشْيِ. فَاسْمُ السَّعْيِ وَاقِعٌ عَلَى فِعْلَيْنِ، أَحَدُهُمَا مَأْمُورٌ، وَالْآخَرُ مَنْهِيٌّ عَنْهُ. وَسَأُبَيِّنُ إِنْ شَاءَ اللَّه تَعَالَى هَذَا الْجِنْسَ فِي كِتَابِ "مَعَانِي الْقُرْآنِ"، إِنْ وَفَّقَ اللَّه لِذَلِكَ.

''جناب اسود بیان کرتے ہیں کہ میں اور مسروق ام المومنین (عائشہ رضی اللہ عنہ) کی خدمت میں مباشرت کی متعلق سوال کرنے کےلیے حاضر ہوئے تو ہمیں شرم آگئی ، میں نے عرض کیا: ہم ایک سوال پوچھنے کےلیے حاضر ہوئے تھے مگر ہم شرما گئے ہیں ۔'' تو انہوں نے کہا: وہ سوال کیا ہے؟ جو پوچھنا چاہتے ہو پوچھ لو۔ ہم نے عرض کی: کیا نبی کریم ﷺ روزے کی حالت میں مباشرت کر لیتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا : آپ کبھی کبھار ایسا کر لیتے تھے، لیکن اپنی خواہش او ر نفس پر تم سے کہیں زیادہ قابو رکھنے والے تھے۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں :''اللہ تعالی نے اپنے نبی کریم ﷺ کو ان کی امت کو عربی زبان میں خطاب کیا ہے جو تمام زبانوں سے زیاوہ وسیع ہے۔ جس کے تمام علوم و فنون کا احاطہ نبی ﷺ کے سوا کوئی نہیں کر سکتا ۔ اور عرب اپنی اپنی لغت میں ایک ہی اسم کا دو چیزوں پر اطلاق کرتےہیں اور کئی چیزوں پر بھی کر دیتے ہیں اور کبھی ایک ہی چیز کو کئی کئی نام دے دیتے ہیں۔ کبھی اللہ تعالی ایک چیز سے منع کر دیتے ہیں اور ایک دوسری چیز کو مباح قرار دے دیتے ہیں حالانکہ ان مباح اور ممنوع دونوں چیزوں پر یاک ہی نام کا اطلاق کرتے ہیں۔ اسی طرح کبھی ممنوع چیز کو مباح قرار دے دیتے ہیں اور دونوں پر ایک ہی نام کا اطلاق کیا گیا ہوتا ہے۔ اس طرح ایک ہی نام دو مختلف چیزوں پر واقع ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک مباح اور دوسرا ممنوع ہوتا ہے جبکہ دونوں کا نام ایک ہی ہوتا ہے ، عربی زبان سے ناواقف شخص یہ بات سمجھ نہیں سکتا اور وہ ایک ہی چیز پر دونوں معافی محمول کر دیتا ہے۔ یہ وہ وہم دیتاہے کہ دونوں چیزیں متضاد ہیں کیونکہ ایک کام ایک نام سے جائز قرار دیا گیا ہے تو دوسرا فعل اسی نام سےممنوۡع کیا گیا ہے ۔جس شخص کا کلی علم اتنا ہی ہو تو اس کےلیے فقہی مسائل بیان کرنا اور فتوے جاری کرنا جائز نہیں ہے۔ اس پر واجب ہے کہ علم حاصل کر لے یا خاموش بیٹھ جائے ۔ یہاں تک کہ وہ اتنا علم حاصل کر لے جس کے ساتھ فتوے دیان اور علمی مسائل حل کرنا جائز ہو۔ اور جو شخص یہ فن سمجھ لےوہ جان لیتا ہے کہ جو چیز جائز قرار دی گئی ہے وہ ممنوع چیز کے علاوہ ہے اگرچہ دونوں پر ایک ہی اسم کا اطلاق ہوا ہو۔ اسی قسم سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے کہ روزے دالے دن عورتوں سے مباشرت کرنا جائز نہیں ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے (فَا لَاٰنَ بَاشِرُوْھُنَّ وَابْتَغُوْا مَا کَتَبَاللہُ لَکُمْ وَکُلُوْاوُاشَرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْظُ اْلاَّ بْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ اْلأَ سْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوْاالصِّیَامَ إِلَی الَّیْلِ)''اس لیے اب تم ان سے ہم بستی کر سکتے ہو اور اللہ نے تمہارے لیے صبح کی سفیدی دھاری ، کالی دھاری سے واضح ہو جائے پھر تم روزے کو رات تک پورا کر۔'' لہٰذا اللہ تعالی نے رات کے عورتوں سے مباشرت اور کھانا پینا جائز قرار دیا ہے۔ پھر ہمیں رات تک روزہ مکمل کرنے کا حکم دیا ہے اس شرط کے ساتھ کہ رات کو مباشرت کرنا اور کھانا پینا جائز تھا اب وہ مباشرت جو جماع ہے وہ روزے دار کا روزہ توڑ دے گی اوراللہ تعالی نے اپنے نبی کریم ﷺ کے فعل سے روزے کی حالت میں جماع سے کم مباشرت (بوس و کنار اور پیار و محبت ) کو جائز قرار دیا ہے۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ روزے کی حالت میں مباشرت کر لیتے تھے۔ وہ مباشرت جو اللہ تعالی نے اپنی کتا ب میں ذکر کی ہے وہ روزہ توڑ دیتی ہے وہ اس مباشرت سے مختلف ہے جو نبی کریم ﷺ روزے کی حالت میں کیا کرتے تھے۔''چنانچہ مباشرت ایک ہی اسم ہے جو دو فعلوں پر واقع ہوا ہے۔ ان میں سے ایک روزے کی حالت میں دن کے وقت جائز ہے جبکہ دوسرا روزے کی حالت میں منع ہے اورروزہ کو توڑ دیتا ہے۔ اسی قسم سے اللہ تعالی کا یہ ارشاد ہے(یَا أَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاإذَنُوْدِیَ لِلصَّلَاۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْاإِلٰی ذِکْرِ اللہِ وَذَرُوْاالْبَیْعَ)''اے ایما ن والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دے دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ و اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔''پس اللہ تعالی نے جمعہ کےلیے سعی (دوڑنے) کا حکم دیا ہے ۔ جبکہ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں : جب تم نماز کےلیے آؤ تو تم دوڑتے ہوئے مت آؤ بلکہ آرام و سکون کے ساتھ چلتے ہوئے آؤ۔''لہٰذا سعی ایک ایسا اسم ہے جو دوڑنے اور تیز چلنے پر واقع ہوتا ہے اور کسی جگہ کی طرف جانے پر بھی واقع ہوتا ہے۔ لہٰذا جس سعی کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اس سے مراد جمعہ کےلیے مسجد میں جانا ہے۔ اور جس سعی سے نبی کریم ﷺ نے منع کیا ہے اس سے مراد دوڑنا اور تیز رفتاری ہے ۔ اس طرح سعی کا اسم دو فعلوں پر واقع ہو ا ہے۔ ایک جائز ہے جس کا حکم دیا گیا ہے اور دوسرا ممنوع ہے۔ میں عنقریب یہ قسم ، کتاب''معانی القرآن'' میں بیان کروں گا۔ اگر اللہ تعالی نے اس کام کی توفیق عطا کی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

"قَدْ كَانَ يَفْعَلُ، وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَ لِإِرْبِهِ مِنْكُمْ. ← قُلْنَا: كَانَ النَبِيّ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ ← مَا هِيَ؟ سَلَا عَمَّا بَدَا لَكُمَا. ← قُلْتُ: جِئْنَا نَسْأَلُ حَاجَةً فَاسْتَحْيَيْنَا. ← الْمُبَاشَرَةِ. فَاسْتَحْيَيْنَا، ← وَمَسْرُوقٌ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ نَسْأَلُهَا ← انْطَلَقْتُ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1998

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1999

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ -وَهُوَ ابْنُ عَبْد اللَّه بْنِ الْأَشَجِّ-، عَنْ عَبْد الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْد اللَّه، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ؛ أَنَّهُ قَالَ: هَشَشْتُ يَوْمًا، فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا. قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَرَأَيْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِمَاءِ وَأَنْتَ صَائِمٌ؟ " قَالَ: فَقُلْتُ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ الرَّبِيعُ: أَظُنُّهُ قَالَ-: "فَفِيمَ؟ ". حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْوَلِيدِ يَقُولُ: جَاءَنِي هِلَالٌ الرَّازِيُّ. فَسَأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: عَبْد الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ سُوَيْدٍ.

''حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز میں (اپنی بیوی کو دیکھ کر) خوش ہوا تو میں نے اس کا بوسہ لے لیا، حالانکہ میں روزے دار تھا ، تو میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : الے اللہ کے رسول ! میں نے آج بہت بڑا(خطرناک) کام کر لیا ہے۔ میں نے روز ے کی حالت میں بوسہ لے لیا ہے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: بتاؤاگر تم روزے کی حالت میں پانی کے ساتھ کلی کر لیتے تو کیا ہوتا ؟ کہتے ہیں: میں نے عرض کی : اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(جناب ربیع کرتے ہیں ) میرے خیال میں آپ نے فرمایا: ''پھر پریشانی کس بات کی ہے؟ (پھر اس میں حرج کیا ہے) ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں :''عبدالملک بن سعید سے مراد ابن سوید ہے۔''

هَذَا الْحَدِيثَ ← جَاءَنِي هِلَالٌ الرَّازِيُّ. فَسَأَلَنِي ← أَبَا الْوَلِيدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← فَفِيمَ ← الربيع أظنه ← رَسُولِ اللَّهِ ← فَقُلْتُ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ. ← رَسُولُ اللَّه "أَرَأَيْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِمَاءِ وَأَنْتَ صَائِمٌ؟ ← صَائِمٌ» ← صَائِمٌ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّه فَقُلْتُ: صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا. قَبَّلْتُ ← هَشَشْتُ يَوْمًا، فَقَبَّلْتُ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ← بُكَيْرٍ -وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ-، ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1999

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2000

حَدَّثَنَا عَبْد الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَان قَالَ: سَأَلْتُ عَبْد الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ: أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَة؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ؟ فَسَكَتَ عَنِّي سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَرَّجْتُ هَذَا الْبَاب بِتَمَامِهِ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ".

''امام سفیان ؒ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمنٰ بن قاسم سے پوچھا : کیا تم نے اپنے والد گرامی کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے، کہ رسول اللہ ﷺ روزے کی حالت میں عائشہ رضی اللہ عنہ کا بوسہ لے لیتے تھے؟ تو وہ کچھ دیر خاموش رہے ، پھر فرمایا : ہاں امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : ''میں نے یہ مکمل باب کتاب الکبیر میں بیان کر دیا ہے۔''

عَائِشَةَ ← سَأَلْتُ عَبْد الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ: أَسَمِعْتَ أَبَاكَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2000

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2001

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ. ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ؛ وَحَدَّثَنَا عَلِي بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَة قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَظَلُّ صَائِمًا لَا يُبَالِي مَا قَبَّلَ مِنْ وَجْهِي حَتَّى يُفْطِرَ. وَقَالَ يُوسُفُ: فَقَبَّلَ مَا شَاءَ مِنْ وَجْهِي. وَقَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: فَقَبَّلَ أَيَّ مَكَانٍ شَاءَ مِنْ وَجْهِي.

''حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روز ے کی حالت میں ہوتے اور افطاری تک میرے چہرے کا بوسہ لینے میں کوئی پروا نہ کرتے۔''جناب یوسف کی روایت میں ہے : ''آپ جتنی بار چاہتے میرے چہرے کا بوسہ لے لیتے ۔''جناب زعفرانی کی روایت میں ہے:'' تو آپ میرے چہرے کا جہاں سے چاہتے بوسہ لے لیتے۔''

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← عَامِرٍ، ← مُطَرِّفٍ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مُطَرِّفٍ ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← مُطَرِّفٍ ← عُبَيْدَةُ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2001

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2002

وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَر عَبْد اللَّه بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ [207 - أ] النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصِيبُ مِنَ الرُّؤُوسِ وَهُوَ صَائِمٌ.

''امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں :''جناب عبداللہ بن شفیق کی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:''نبی کریم ﷺ روزے کی حالت میں (اپنی بیویوں کے ) سروں کا بوسہ لے لیتے تھے۔''

كَانَ أ] النَبِيّ يُصِيبُ مِنَ الرُّؤُوسِ وَهُوَ صَائِمٌ. ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَر عَبْد اللَّه بْنِ شَقِيقٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2002

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2003

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ الطَّاحِيُّ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ، عَنْ مِصْدَعٍ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَائِشَة: أَنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ وَيَمُصُّ لِسَانَهَا.

''حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ روزے کی حالت میں ان کا بوسہ لے لیتے تھے اور ان کی زبان چوس لیا کرتےتھے۔''

عَائِشَةَ ← مِصْدَعٍ أَبِي يَحْيَى، ← سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ الطَّاحِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2003

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2004

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ؛ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْد اللَّه، عَنْ عَائِشَة قَالَتْ: أَهْوَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيُقَبِّلَنِي، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمَةٌ. قَالَ: "وَأَنَا صَائِمٌ"، فَقَبَّلَنِي. قَالَ بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ: عَنْ طَلْحَةَ رَجُل مِنْ قَوْمِهِ.

''حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرا بوسہ لینے کےلیے میری طرف بڑھے تو میں نے عرض کی بے شک میں روزے سے ہوں ۔''آپ نے فرمایا : میرا بھی روزہ ہے۔'' تو آپ نے میرا بوسہ لے لیا ۔''جناب بشر بن معاذ اپنی قوم کے طلحہ نامی ایک شخص سے روایت کرتے ہیں۔''

طَلْحَةَ رَجُل مِنْ قَوْمِهِ. ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، ← "وَأَنَا صَائِمٌ"، فَقَبَّلَنِي. ← أَهْوَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّه لِيُقَبِّلَنِي، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمَةٌ. ← عَائِشَةَ ← طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمِ، ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2004

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2005

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِي، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَخَّصَ فِي الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ.

"حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے روزے دار کو بوسہ لینے کی رخصت دی ہے ۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، ← حُمَيْدًا، ← الْمُعْتَمِرُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2005

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2006

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَخْبَارُ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ". وَلَمْ يَسْتَثْنِ مُفْطِرًا دُونَ صَائِمٍ. فَفِيهَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ السِّوَاكَ لِلصَّائِمِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ فَضِيلَةٌ كَهُوَ لِلْمُفْطِرِ.

" امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں "نبی کریمﷺ کی درج ذیل روایات میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ روزے دار کا ہر نماز کے وقت مسواک کرنا باعث فضیلت واجر ہے ۔ جیسا کہ بے روزہ دار شخص کے لیے فضیلت کا باعث ہے ۔ آپ کا ارشاد ہے: " اگر مجھے اپنی امت کو مشقت میں ڈال دینے کا ڈر نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔" آپ نے اس فرمان عالی میں روزے دار کو بے روزہ داروں سے مستثنیٰ نہیں کیا ( بلکہ دونوں کےلیے یہی حکم دینے کی خواہش کی)۔ "

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2006

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2007

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ رَوَى عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّه، عَنْ عَبْد اللَّه بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيه قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا سُفْيَان -يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ- عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّه؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَأَبُو مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ بُنْدَارٌ: قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَان، وَقَالَ أَبُو مُوسَى، عَنْ سُفْيَان؛ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْد الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَان؛ ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّعْلَبِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَان، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّه، غَيْر أَنَّ أَبَا مُوسَى قَالَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى، و [قَالَ] جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ فِي حَدِيثِهِ: مَا لَا أُحْصِي، أَوْ مَا لَا أَعُدُّهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَأَنَا بَرِيءٌ مِنْ عُهْدَةِ عَاصِمٍ. سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَقُولُ: عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّه لَيْسَ عَلَيْهِ قِيَاسٌ (2). وَسَمِعْتُ مُسْلِمَ بْنَ حَجَّاجٍ يَقُولُ: سَأَلْنَا يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، فَقُلْنَا: عَبْد اللَّه بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّه؟ قَالَ: لَسْتُ أُحِبُّ وَاحِدًا مِنْهُمَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: كُنْتُ لَا أُخَرِّجُ حَدِيثَ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّه فِي هَذَا الْكِتَابِ، ثُمَّ نَظَرْتُ فَإِذَا شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ قَدْ رَوَيَا عَنْهُ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْد الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَهُمَا إِمَامَا أَهْلِ زَمَانِهِمَا قَدْ رَوَيَا عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْهُ. وَقَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكٌ خَبَرًا فِي غَيْر "الْمُوَطَّأِ".

"حضرت عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ کو روزے کی حالت میں مسواک کرتے ہوئے بے شمار مرتبہ دیکھا ہے ۔" جناب جعفر بن محمد نے اپنی روایت میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں : " (اتنی بار دیکھا ہے ) جسے میں شما ر نہیں کر سکتا یا میں اسے گن نہیں سکتا ۔"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں: " میں عاصم کے معاملے سے بریٔ الذمہ ہوں۔ میں نے محمد بن یحییٰ کو فرماتے ہوئے سنا :"عاصم بن عبید اللہ پر قیاص کرنا درست نہیں ہے ۔" اور میں نے امام مسلم بن حجاج ؒ کو فرماتے ہوئے سنا: "ہم نے یحییٰ بن معین سے سوال کیا تو ہم نے عرض کی : آپ کے نزدیک عبداللہ بن محمد بن عقیل پسندیدہ راوی ہے یا عاصم بن عبید اللہ ؟ انہوں نے فرمایا:"میں ان دونوں میں سے کسی کو بھی پسند نہیں کرتا ۔"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں: "میں عاصم بن عبید اللہ کی روایات اس کتاب میں بیان نہیں کر رہا تھا ، پھر میں نے دیکھا کہ امام شعبہ اور امام ثوری نے اس سے روایات لی ہیں ۔ اور امام یحییٰ بن سعید اور امام عبدالرحمٰن بن مہدی نے امام سفیان ثوری کے واسطے سے عاصم سے روایات بیان کی ہیں جبکہ یہ دونوں اپنے وقت کے جلیل القدر ائمہ ہیں ۔ اور امام مالک ؒ نے بھی " المؤطا"( اس لیے میں نے بھی اس سے روایت لے لی ہے )۔"

عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّه، غَيْر ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّعْلَبِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو مُوسَى، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو مُوسَى، ← سُفْيَانَ، ← بُنْدَارٌ ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو مُوسَى، ← عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ← سفيان -يعني ابن عيينة- ← أَبُو مُوسَى، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ← أَبُو بَكْرٍ: قَدْ رَوَى عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّه،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2007

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2008

حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ مَعْبَدٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّه بْنِ أَبِي رَافِعٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيه عُبَيْدِ اللَّه، عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ، وَنَزَلْتُ مَعَهُ، فَدَعَانِي بِكُحْلِ إِثْمِدٍ، فَاكْتَحَلَ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ صَائِمٌ -إِثْمِدَ غَيْر مُمَسَّكٍ-. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا أَبْرَأُ مِنْ عُهْدَةِ هَذَا الْإِسْنَادِ لِمَعْمَرٍ.

"حضرت ابو رافع ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ خبیر میں تشریف فرما ہوئے تو میں نے بھی آپ کے ساتھ پڑاؤ کیا ۔ " تو آپ نے مجھے بلایا جبکہ آپ اثمد سرمہ لگا رہے تھے ۔ چنانچہ سرمہ لگایا جس میں خوشبو نہیں تھی ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : " میں معمر کی وجہ سے اس سند سے بری الزمہ ہوں۔"

أَبِي رَافِعٍ ← أَبِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← أَبِي ← مَعْمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2008

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2009

حَدَّثَنَا عَبْد الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَان، حَدَّثَنِي سُمَيٌّ [208 - ب] وَسَمِعْتُهُ مِنْ سُمَيٍّ، وَحَدَّثَنِي سُمَيٌّ، سَمِعَهُ مِنْ أَبِي بَكْرٍ؛ أَنَّ مُعَاوِيَةَ أَرْسَلَ إِلَى عَائِشَة، عَبْد الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَذَهَبْتُ مَعَ أَبِي، فَسَمِعْتُ عَائِشَة [تَقُولُ]: إِنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُدْرِكُهُ الصُّبْحُ وَهُوَ جُنُبٌ فَيَصُومُ.

" جناب ابوبکر سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ ؓ نے عبدالرحمان بن حارث کو حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں بھیجا ۔ جناب ابوبکر کہتے ہیں : میں بھی اپنے والد کے ساتھ گیا ۔ تو میں نے حضرت عائشہ ؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ : "رسول اللہﷺ جنابت کی حالت میں صبح کر لیتے تھے پھر ( اسی حالت میں ) روزہ رکھ لیتے تھے ۔"

سُمَيٌّ، سَمِعَهُ مِنْ أَبِي بَكْرٍ؛ ← من سمى ← سُمَيٍّ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2009

chevron_left Previous
1…101112…31
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals