Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1986

نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَا: ثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، نَا ابْنُ جَابِرٍ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ أَبِي يَحْيَى الْكَلَاعِي (1)، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أَتَانِي رَجُلانِ، فَأَخَذَا بِضَبْعَيَّ، فَأَتَيَا بِي جَبَلًا وَعْرًا، فَقَالَا: اصْعَدْ. فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أُطِيقُهُ. فَقَالَا: إِنَّا سَنُسَهِّلُهُ لَكَ. فَصَعِدْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي سَوَاءِ الْجَبَلِ إِذَا بِأَصْوَاتٍ شَدِيدَةٍ، قُلْتُ: مَا هَذِهِ الْأَصْوَاتُ؟ قَالُوا: هَذَا عُوَاءُ أَهْلِ النَّارِ. ثُمَّ انْطُلِقَ بِي فَإِذَا أَنَا بِقَوْمٍ مُعَلَّقِينَ بِعَرَاقِيبِهِمْ، مُشَقَّقَةٍ أَشْدَاقُهُمْ تَسِيلُ أَشْدَاقُهُمْ دَمًا، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُفْطِرُونَ قَبْلَ تَحِلَّةِ صَوْمِهِمْ. فَقَالَ: خَابَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى! " -فَقَالَ سُلَيْمَانُ: مَا أَدْرِي أَسَمِعَهُ أَبُو أُمَامَةَ مِنْ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، أَمْ شَيْءٌ مِنْ رَأْيِهِ،- "ثُمَّ انْطَلَقَ فَإِذَا بِقَوْمٍ أَشَدَّ شَيْءٍ انْتِفَاخًا، وَأَنْتَنِهِ رِيحًا، وَأَسْوأِهِ مَنْظَرًا، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَقَالَ: هَؤُلَاءِ قَتْلَى الْكُفَّارِ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي فَإِذَا بِقَوْمٍ أَشَدَّ انْتِفَاخًا وَأَنْتَنِهِ رِيحًا كَأَنَّ رِيحَهُمُ الْمَرَاحِيضُ. قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الزَّانُونَ وَالزَّوَانِي. ثُمَّ انْطَلَقَ بِي، فَإِذَا أَنَا بِنِسَاءٍ تَنْهَشُ ثُدِيَّهُنَّ الْحَيَّاتُ. قُلْتُ: مَا بَالُ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ يَمْنَعْنَ أَوْلَادَهُنَّ أَلْبَانَهُنَّ. ثُمَّ انْطَلَقَ بِي فَإِذَا أَنَا بِغِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ بَيْنَ نَهْرَيْنِ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ ذَرَارِي الْمُؤْمِنِينَ، ثُمَّ شَرَفَ شَرَفًا فَإِذَا أَنَا بِنَفَرٍ ثَلَاثَةٍ يَشْرَبُونَ مِنْ خَمْرٍ لَهُمْ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ جَعْفَرٌ، وَزِيدٌ، وَابْنُ رَوَاحَةَ. ثُمَّ شَرَفَنِي شَرَفًا آخَرَ، فَإِذَا أَنَا بِنَفَرٍ ثَلَاثَةٍ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ: قَالَ: هَذَا إِبْرَاهِيمُ، وَمُوسَى، وَعِيسَى، وَهُمْ يَنْظُرُونِي". هَذَا حَدِيثُ الرَّبِيعِ.

''حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا ،آپ فرمارہے تھے:''اس دوران میں کہ میں سویا ہوا تھا جب میرے پاس دو آنے والے آئے ، انہوں نے مجھے میرے بازوؤں سے پکڑا اورمجھے ایک دشوار گزار مشکل چڑھائی والے پہاڑ پر لے آئے ۔ دونوں نے مجھے کہا: چڑھیے''تو میں نے کہا: میں اس پر چڑھ نہیں سکتا۔ وہ کہنے لگے:ہم آپ کےلیے اسے آسان بنائیں گے تو میں چڑھ گیا حتی کہ جب میں پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا تو بڑی دردناک آوازیں آئیں، میں نے پوچھا :''یہ آوازیں کیسی ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : یہ جہنمیوں کی چیخ و پکار ہے ۔ پھر وہ مجھے لے کر (آگے) چلے تو اچانک میں نےایسے لوگ دیکھے جنہیں ان کی کونچوں سے لٹکایا گیا تھا ۔ ان کے جبڑے چیرے ہوئے تھےاوران سے ۔خون نکل رہا تھا ۔ میں نے پوچھا :''یہ کون لوگ ہیں ؟ جواب دیا :''یہ وہ لوگ ہیں جو افطاری کے وقت سے پہلے روزہ کھول لیتے تھے تو آپ نے فرمایا:''یہودونصاریٰ تباہ و برباد ہو گئے۔''جناب سلیمان بن عامر کہتے ہیں : مجھے معلوم نہیں کہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ رسول اللہ ﷺ سے سنے ہیں یا یہ ان کی اپنی رائے ہے۔''پھر آپ چلے تو ایسے لوگوں کے پاس پہنچے جو بہت زیادپھولے ہوئے تھے، ان کی بد بو بڑی غلیظ اور ان کا منظر بڑا دردناک تھا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا :یہ کفا کے مقتولین ہیں ۔ پھر مجھے ایک ایسی قوم کے پاس لے گئے جن کے جسم شدید پھولے ہوئے تھے اور ان کی بد بو پاخانے جیسی غلیظ اور گندی تھی۔ میں نے پوچھا ! یہ کون ہیں؟ انہوں نےجواب دیا کہ یہ زنا کار مرد اور زنا کار عورتیں ہیں ۔ پھر مجھے لے جایا گیا تو اچانک کچھ عورتیں تھیں جن کے پستان سانپ نوچ رہے تھے ۔ میں نے پوچھا: ان کو کیا ہوا ہے؟ (کس جرم کی سزا پارہی ہیں ؟) جواب دیا کہ یہ وہ عورتیں ہیں جو اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاتی تھیں ۔ پھر مجھے لے جایا گیا تو ناگہاں میں نے کطھ بچے دیکھے کو دو نہروں کے درمیان کھیل رہے تھے۔ میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ اس نے جواب دیا : یہ مومنوں کے بچے ہیں ۔ پھر میں کچھ بلندی پر گیا تو میں نے تین شخص یکھے جو اپنی شراب پی رہے تھے ، میں نے پوچھا : یہ کون لوگ ہیں ؟ اس نے بتایا کہ یہ حضرت جعفر ، زید اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ پھر میں ایک اور بلند جگہ پر چڑھا تو وہاں بھی میں نےتین افراد دیکھے ۔ میں نے کہا : یہ کون ہیں؟ اس نے جواب دیا : یہ ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ ؑ ہیں جبکہ وہ مجھے دیکھ رہے تھے یہ جناب ربیع کی روایت ہے۔

نَائِمٌ ← بَيْنَا ← أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ ← سليم بن عامر أبي يحيى الكلاعي ← ابْنِ جَابِرٍ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1986

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1987

أَخْبَرَنا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، أَخْبَرَنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، نَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ؛ وَحَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ، نَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالُوا: ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ الْمُطَوِّسِ، عَنْ أَبِيه، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ فِي غَيْر رُخْصَةٍ [206 - ب] رَخَّصَهَا اللَّه، لَمْ يَقْضِ عَنْهُ صَوْمُ الدَّهْرِ". زَادَ فِي خَبَر مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ: وَإِنْ صَامَهُ.

''حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :''جس شخص نے اللہ تعالی کی عنایت کی ہوئی رخصت کے بغیر رمضان المبارک کا ایک روزہ چھوڑا دیا تو اس روزے کی قضا عمر بھر کے روزوں سے نہیں دی جا سکتی۔''جناب محمدب ن جعفر کی روایت میں یہ اضافہ ہے:'' اگر چہ وہ (ساری عمر) روزے رکھے (تو بھی قضا ادا نہ ہوگی)۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ الْمُطَوِّسِ، ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ؛ وَحَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ، ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1987

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1988

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَزَادَ: قَالَ شُعْبَةُ: قَالَ حَبِيبٌ: فَلَقِيتُ أَبَا الْمُطَوِّسِ فَحَدَّثَنِي بِهِ.

''امام صاحب نے مذکورہ بالا حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں ہے کہ جناب حبیب کہتے ہیں : میں ابو مطوس کو ملا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی۔'

حَبِيبٌ: فَلَقِيتُ أَبَا الْمُطَوِّسِ فَحَدَّثَنِي بِهِ. ← شُعْبَةُ، ← شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَزَادَ: ← أَبِي دَاوُدَ، ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1988

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1989

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ السُّلَمِيُّ، ثَنَا عَبْد الْأَعْلَى، نَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة، عَنْ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ صَائِمٌ فَأَكَلَ وَشَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّه وَسَقَاهُ".

''حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ''جب تم میں سے کوئی شخص بھول جائے ، جبکہ وہ روزے دار ہو تو وہ کچھ کھا پی لے تو وہ اپنا روزہ مکمل کرے کیونکہ اللہ تعالی نے کھلایا اور پلا یا ہے۔''

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ السُّلَمِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1989

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1990

نَا مُحَمَّدٌ وَإِبْرَاهِيمُ ابْنَا مُحَمَّدِ بْنِ مَرْزُوقٍ الْبَاهِلِيَّانِ الْبَصْرِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد اللَّه الْأَنْصَارِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَنْ أَفْطَرَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ نَاسِيًا لَا قَضَاءَ عَلَيْهِ، وَلَا كَفَّارَةَ". هَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدٍ. وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ فِي حَدِيثِهِ: "مَنْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ فِي رَمَضَانَ نَاسِيًا، فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ وَلَا كَفَّارَةَ".

''حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :''جس شخص نے بھول کر رمضان المبارک میں روزہ کھول لیا تو اس پر نہ قضا ادا کرنا واجب ہے نہ کفارہ ۔''یہ جناب محمد کی روایت ہے۔ جناب ابراہیم اپنی روایت میں یہ الفاظ بیان کرتے ہیں:''جس شخص نے رمضان المبارک میں بھول کر کچھ کھا لیا یا پی لیا تو اس پر قضا ء اور کفارہ نہیں ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← مُحَمَّدٌ وَإِبْرَاهِيمُ ابْنَا مُحَمَّدِ بْنِ مَرْزُوقٍ الْبَاهِلِيَّانِ الْبَصْرِيَّانِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1990

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1991

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، نَا أَبُو أُسَامَةَ، ثَنَا هِشَامٌ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ. ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ: أَفْطَرْنَا فِي رَمَضَانَ فِي يَوْمِ غَيْمٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، قَالَ: قُلْتُ لِهِشَامٍ، وَقَالَ أَبُو عَمَّارٍ: فَقِيلَ لِهِشَامٍ: أُمِرُوا بِالْقَضَاءِ؟ قَالَ: بُدٌّ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَيْسَ فِي هَذَا الْخَبَر أَنَّهُمْ أُمِرُوا بِالْقَضَاءِ. وَهَذَا مِنْ قَوْلِ هِشَامٍ: (بُدٌّ مِنْ ذَلِكَ). لَا فِي الْخَبَر، وَلَا يَبِينُ عِنْدِي أَنَّ عَلَيْهِمُ الْقَضَاءَ (1)، فَإِذَا أَفْطَرُوا وَالشَّمْسُ عِنْدَهُمْ قَدْ غَرَبَتْ، ثُمَّ بَانَ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ غَرَبَتْ كَقَوْلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: وَاللَّه مَا نَقْضِي مَا يُجَانِفُنَا مِنَ [الْإِثْمِ] (2). جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَقْوَالِ وَالْأَفْعَالِ الْمَنْهِيَّةِ عَنْهَا فِي الصَّوْمِ مِنْ غَيْر إِيجَابِ فِطْرٍ

''حضرت اسما ء رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ہم نے ایک بادل والے دن روزہ افطار کر لیا ۔ پھر سورج نکل آیا۔''جناب محمد بن علاء کی روایت میں ہے: میں نے ہشام سے کہا۔''اور ابو عمار کی روایت میں ہے:ہشام سے پوچھا گیا ۔''کیا صحابہ کرام کو قضا ء ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا : اس کےبغیرکوئی چارہ ہے۔''امام ابو بکر ؒ فرماتےہیں: ''اس روایت میں یہ بات مذکورہ نہیں ہے کہ صحابہ کرام کو قضا ادا کرنے کا حکم ملا تھا ۔ یہ تو ہشام ؒ کا قول ہے کہ اس کے بغیر چارہ نہیں ہے۔ یہ روایت کے الفاظ نہیں ہیں ۔ میرے نزدیک ان پر اس وقت قضا ء واجب نہیں جبکہ وہ سورج کو غروب سمجھ کر روزہ افطار کر لیں پھر بعد میں معلوم ہوا کہ سورج ابھی غروب نہیں ہوا تھا۔ جیسا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے:''اللہ کی قسم جب تک ہم گناہ کے ارتکاسے اجتناب کریں گے ہم قضا ء ادا نہیں کریں گے۔(یعنی جب ہم نے جان بوجھ جر ایسا نہیں کیا تو قضا بھی نہیں دیں گے)۔

أَسْمَاءَ ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ← أَسْمَاءَ ← فَاطِمَةَ، ← هِشَامٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1991

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1992

حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنا عِيسَى، عَنِ الْأَعْمَشِ؛ ح وَثَنَا عَبْد اللَّه بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا كَانَ صَوْمُ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ، وَلَا يَجْهَلْ، فَإِنْ جُهِلَ عَلَيْهِ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ". وَقَالَ الْأَشَجُّ: "إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ".

''حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں کہ رسول اللہ ق نے فرمایا : جب تم میں سے کسی شخص کا روزہ ہو تو فحش اور بے ہودہ کلام نہ کرے اور نہ نادانی کے کام کر ے اور اگر جوئی شخص اس پر نادانی کا اظہار کرے تو وہ کہہ دے: بے شک میں روزے دار ہوں ۔جناب اشج کی روایت میں ہے:'' جب تم میں سے کسی شخص کے روزے کا دن ہو۔''

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← وَثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى؛ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1992

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1993

حَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ عَبْدةَ، ثَنَا عَبْد الْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ- عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيه، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة؛ أَنَّ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ، فَإِنْ شَاتَمَهُ، أَوْ سَابَّهُ، وَقَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ".

''حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :''جب تم میں سے کسی شخص کے روزے کا دن ہو تو وہ فحش کلامی نہ کرے ، پھر اگر کوئی اسے گالی دے یا برا بھلا کہے یا اس کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرے تو اسے کہہ دینا چاہیے :''میں روزے دار ہوں۔''

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← عَبْد الْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ- ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1993

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1994

نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَجْلَانَ مَوْلَى [الْمُشْمَعِلِّ] (1) عَنْ أَبِي هُرَيْرَة، عَنِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَا تُسَابَّ وَأَنْتَ صَائِمٌ، فَإِنْ سَابَّكَ أَحَدٌ، فَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ، وَإِنْ كُنْتَ قَائِمًا فَاجْلِسْ".

''حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :''تم روزے کی حالت میں گالی گلوچ مت کرو اور اگر تمہیں کوئی شخص گالی دے تو تم کہو:بے شک میں روز ے دار ہوں۔ اور اگر تم کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ۔''

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَجْلاَنَ مَوْلَى الْمُشْمَعِلَ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1994

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1995

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ؛ نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى؛ نَا عَبْد اللَّه -يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ- عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ؛ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيه، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة [206 - أ]؛ عَنِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ بِأَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ". هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ: وَالْعَمَلَ بِهِ وَالْجَهْلَ.

''حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :''جو شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا تو اللہ تعالی کو اس کے کھانے اور پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت اور پروا نہیں ہے۔ یہ جناب بندار کی روایت ہے۔'' ابن المبارک کی روایت میں ہے: ''جھوٹ پر عمل کرنا اور جاہلانہ حرکات ترک نہیں کر تا تو۔۔۔۔۔''

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ أ]: ← أَبِيهِ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْن الْمُبَارَكِ- ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1995

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1996

أَخْبَرَني مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد اللَّه بْنِ عَبْد الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ. وَأَخْبَرَني أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، [كِلَاهُمَا] عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْد الرَّحْمَن، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَيْسَ الصِّيَامُ مِنَ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ، إِنَّمَا الصِّيَامُ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ، فَإِنْ سَابَّكَ أَحَدٌ أَوْ جَهِلَ عَلَيْكَ، فَلْتَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ، إِنِّي صَائِمٌ".

''حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :''روزہ صرف کھانا پینا تر ک کر دینے کا نام نہیں بلکہ روزہ فضول باتوں اور فحش گوئی سے رکنے کا نام ہے پس اگر کوئی شخص تمہیں گالیاں دے یا تم پر نادانی کا اظہار کرے تو تم کہہ دو:''بے شک میں روزے دار ہوں ، بلا شبہ میں روزے سے ہوں۔''

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمِّہٖ ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← وَأَخْبَرَني أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، [كِلَاهُمَا] ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد اللَّه بْنِ عَبْد الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1996

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1997

حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو -هُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو- عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "رُبَّ صَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ صِيَامِهِ الْجُوعُ وَالْعَطَشُ، وَرُبَّ قَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ قِيَامِهِ السَّهَرُ". جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَفْعَالِ الْمُبَاحَةِ فِي الصِّيَامِ مِمَّا قَدِ اخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِي إِبَاحَتِهَا

''حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :''بہت سار ے روزے دار ایسے ہیں جنہیں ان کے روزوں سے صرف بھوک پیاس ہی حاصل ہوتی ہے۔ اور کتنے ہی قیام کرنے والے ایسے ہیں جنہیں ان کے قیام سے صرف شب بیداری (اور تھکاوٹ ) ہی حاصل ہوتی ہے۔''

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَمْرٌو -هُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو- ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1997

chevron_left Previous
1…91011…31
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals