صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1986
نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَا: ثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، نَا ابْنُ جَابِرٍ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ أَبِي يَحْيَى الْكَلَاعِي (1)، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أَتَانِي رَجُلانِ، فَأَخَذَا بِضَبْعَيَّ، فَأَتَيَا بِي جَبَلًا وَعْرًا، فَقَالَا: اصْعَدْ. فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أُطِيقُهُ. فَقَالَا: إِنَّا سَنُسَهِّلُهُ لَكَ. فَصَعِدْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي سَوَاءِ الْجَبَلِ إِذَا بِأَصْوَاتٍ شَدِيدَةٍ، قُلْتُ: مَا هَذِهِ الْأَصْوَاتُ؟ قَالُوا: هَذَا عُوَاءُ أَهْلِ النَّارِ. ثُمَّ انْطُلِقَ بِي فَإِذَا أَنَا بِقَوْمٍ مُعَلَّقِينَ بِعَرَاقِيبِهِمْ، مُشَقَّقَةٍ أَشْدَاقُهُمْ تَسِيلُ أَشْدَاقُهُمْ دَمًا، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُفْطِرُونَ قَبْلَ تَحِلَّةِ صَوْمِهِمْ. فَقَالَ: خَابَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى! " -فَقَالَ سُلَيْمَانُ: مَا أَدْرِي أَسَمِعَهُ أَبُو أُمَامَةَ مِنْ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، أَمْ شَيْءٌ مِنْ رَأْيِهِ،- "ثُمَّ انْطَلَقَ فَإِذَا بِقَوْمٍ أَشَدَّ شَيْءٍ انْتِفَاخًا، وَأَنْتَنِهِ رِيحًا، وَأَسْوأِهِ مَنْظَرًا، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَقَالَ: هَؤُلَاءِ قَتْلَى الْكُفَّارِ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي فَإِذَا بِقَوْمٍ أَشَدَّ انْتِفَاخًا وَأَنْتَنِهِ رِيحًا كَأَنَّ رِيحَهُمُ الْمَرَاحِيضُ. قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الزَّانُونَ وَالزَّوَانِي. ثُمَّ انْطَلَقَ بِي، فَإِذَا أَنَا بِنِسَاءٍ تَنْهَشُ ثُدِيَّهُنَّ الْحَيَّاتُ. قُلْتُ: مَا بَالُ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ يَمْنَعْنَ أَوْلَادَهُنَّ أَلْبَانَهُنَّ. ثُمَّ انْطَلَقَ بِي فَإِذَا أَنَا بِغِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ بَيْنَ نَهْرَيْنِ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ ذَرَارِي الْمُؤْمِنِينَ، ثُمَّ شَرَفَ شَرَفًا فَإِذَا أَنَا بِنَفَرٍ ثَلَاثَةٍ يَشْرَبُونَ مِنْ خَمْرٍ لَهُمْ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ جَعْفَرٌ، وَزِيدٌ، وَابْنُ رَوَاحَةَ. ثُمَّ شَرَفَنِي شَرَفًا آخَرَ، فَإِذَا أَنَا بِنَفَرٍ ثَلَاثَةٍ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ: قَالَ: هَذَا إِبْرَاهِيمُ، وَمُوسَى، وَعِيسَى، وَهُمْ يَنْظُرُونِي". هَذَا حَدِيثُ الرَّبِيعِ.
''حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا ،آپ فرمارہے تھے:''اس دوران میں کہ میں سویا ہوا تھا جب میرے پاس دو آنے والے آئے ، انہوں نے مجھے میرے بازوؤں سے پکڑا اورمجھے ایک دشوار گزار مشکل چڑھائی والے پہاڑ پر لے آئے ۔ دونوں نے مجھے کہا: چڑھیے''تو میں نے کہا: میں اس پر چڑھ نہیں سکتا۔ وہ کہنے لگے:ہم آپ کےلیے اسے آسان بنائیں گے تو میں چڑھ گیا حتی کہ جب میں پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا تو بڑی دردناک آوازیں آئیں، میں نے پوچھا :''یہ آوازیں کیسی ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : یہ جہنمیوں کی چیخ و پکار ہے ۔ پھر وہ مجھے لے کر (آگے) چلے تو اچانک میں نےایسے لوگ دیکھے جنہیں ان کی کونچوں سے لٹکایا گیا تھا ۔ ان کے جبڑے چیرے ہوئے تھےاوران سے ۔خون نکل رہا تھا ۔ میں نے پوچھا :''یہ کون لوگ ہیں ؟ جواب دیا :''یہ وہ لوگ ہیں جو افطاری کے وقت سے پہلے روزہ کھول لیتے تھے تو آپ نے فرمایا:''یہودونصاریٰ تباہ و برباد ہو گئے۔''جناب سلیمان بن عامر کہتے ہیں : مجھے معلوم نہیں کہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ رسول اللہ ﷺ سے سنے ہیں یا یہ ان کی اپنی رائے ہے۔''پھر آپ چلے تو ایسے لوگوں کے پاس پہنچے جو بہت زیادپھولے ہوئے تھے، ان کی بد بو بڑی غلیظ اور ان کا منظر بڑا دردناک تھا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا :یہ کفا کے مقتولین ہیں ۔ پھر مجھے ایک ایسی قوم کے پاس لے گئے جن کے جسم شدید پھولے ہوئے تھے اور ان کی بد بو پاخانے جیسی غلیظ اور گندی تھی۔ میں نے پوچھا ! یہ کون ہیں؟ انہوں نےجواب دیا کہ یہ زنا کار مرد اور زنا کار عورتیں ہیں ۔ پھر مجھے لے جایا گیا تو اچانک کچھ عورتیں تھیں جن کے پستان سانپ نوچ رہے تھے ۔ میں نے پوچھا: ان کو کیا ہوا ہے؟ (کس جرم کی سزا پارہی ہیں ؟) جواب دیا کہ یہ وہ عورتیں ہیں جو اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاتی تھیں ۔ پھر مجھے لے جایا گیا تو ناگہاں میں نے کطھ بچے دیکھے کو دو نہروں کے درمیان کھیل رہے تھے۔ میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ اس نے جواب دیا : یہ مومنوں کے بچے ہیں ۔ پھر میں کچھ بلندی پر گیا تو میں نے تین شخص یکھے جو اپنی شراب پی رہے تھے ، میں نے پوچھا : یہ کون لوگ ہیں ؟ اس نے بتایا کہ یہ حضرت جعفر ، زید اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ پھر میں ایک اور بلند جگہ پر چڑھا تو وہاں بھی میں نےتین افراد دیکھے ۔ میں نے کہا : یہ کون ہیں؟ اس نے جواب دیا : یہ ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ ؑ ہیں جبکہ وہ مجھے دیکھ رہے تھے یہ جناب ربیع کی روایت ہے۔
نَائِمٌ ← بَيْنَا ← أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ ← سليم بن عامر أبي يحيى الكلاعي ← ابْنِ جَابِرٍ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ،
Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1986
