صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1879
أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ، أَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا أَبُو عَامِرٍ، ثَنَا قُرَّةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ لِي جَرَّةً أَنْتَبِذُ لِي فِيهَا، فَأَشْرَبُ مِنْهُ، فَإِذَا أَطَلْتُ الْجُلُوسَ مَعَ الْقَوْمِ خَشِيتُ أَنْ أُفْتَضَحَ مِنْ حَلَاوَتِهِ. فَقَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: "مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَى". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ، فَحَدِّثْنَا عَمَلًا مِنَ الْأَمْرِ إِذَا أَخَذْنَا بِهِ دَخَلْنَا بِهِ الْجَنَّةَ، وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا (1). قَالَ: "آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ؟ " قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَتُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغَانِمِ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ النَّبِيذِ فِي الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ".
"جناب ابوحمزہ ضبعی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباسؓ سے عرض کی : میرا ایک مٹکا ہے جس میں میں نبیذ تیا کرتا ہوں پھر میں اس سے پی لیتا ہوں ۔پھر جب میں لوگوں کے ساتھ بیٹھتا ہوں تو میں ڈرتا ہوں کہ اس کے نشے اور حلاوت کی وجہ سے رسوا نہ ہوجاؤں۔ تو انہو ں نے فرمایا: عبدالقیس کا وفد رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: وفد کو خوش آمدید تم بغیر رسوا ہوئے اور شرمسار ہوئے بہت اچھے آئے ہو ۔ "انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! بے شک ہمارے اور آپ کے درمیان مضر قبیلے کے مشرکین حائل ہیں اور ہم آپ کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینوں ہی میں حاضر ہوسکتے ہیں ۔ لہٰذا آپ ہمیں ایسے اسلامی اعمال بتائیں جب پر عمل کر کے ہم جنت میں داخل ہو جائیں اور اپنے پیچھے رہ جانے والے افراد کو اس کی دعوت دیں۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں چار کاموں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کر تا ہوں ۔( جن کاموں کا حکم دیتا ہوں وہ یہ ہیں) اللہ پر ایمان لانا۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی خوب جانتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور نماز قائم کرنا ار زکوٰۃادا کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا اور غنمیتوں میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا اور میں تمہیں کد و کے برتن ، کریدی ہوئی لکڑی کے برتن ، سبز لاکھی مٹکے اور روغنی برتن میں نبیذ بنانے سے منع کرتا ہوں ۔"
أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ ← قُرَّۃَ ← أَبُو عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الصَّابُونِيُّ،
Hadith 1879
