Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ أَبوَابُ الصَّلَاۃِ قَبلَ الجُمُعَۃِ · حديث 1834

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ: وَأَمَرَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ. قَدْ أَمْلَيْتُ الْخَبَرَ بِتَمَامِهِ قَبْلُ

اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرمﷺ نے اپنا خطبہ منقطع نہیں کیا تھا تاکہ یہ داخل ہونے والا شخص دو رکعات سے فارغ ہو جائے جیسا کہ احادیث نبوی کی گہری مہارت سے محرومی بعض لوگوں کا خیال ہے ۔ امام ابوبرکرؒ فرماتے ہیں : ابن عجلان کی عیاض کے واسطے سے حضرت ابوسعید ؓ کی حدیث میں ہے : اور آپ نے اسے دو رکعات ادا کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ رسول اللہﷺ خطبہ ارشاد فرماتے رہے ۔"میں یہ مکمل روایت اس سے پہلے لکھوا چکا ہوں ۔

عِيَاضٍ، ← أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ ابْنِ عَجْلَانَ،

Hadith 1834

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ أَبوَابُ الصَّلَاۃِ قَبلَ الجُمُعَۃِ · حديث 1835

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى -يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ- عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ، فَجَلَسَ، فَقَالَ لَهُ: "يَا سُلَيْكُ! قُمْ فَارْكَعْ رَكْعَتَيْنِ، وَتَجَوَّزْ فِيهِمَا". ثُمَّ قَالَ: "إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ وَلْيَتَجَوَّزْ فِيهِمَا". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَمَرَ بَعْدَ فَرَاغِ سُلَيْكٍ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ: مَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، بِهَذَا الْأَمْرِ كُلَّ مُسْلِمٍ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ. وَكَيْفَ يَجُوزُ أَنْ يَتَأَوَّلَ عَالِمٌ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّمَا خَصَّ بِهَذَا الْأَمْرِ سُلَيْكًا الْغَطَفَانِيَّ إِذْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ رَثَّ الْهَيْئَةِ وَقْتَ خُطْبَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُ بِلَفْظٍ عَامٍّ: "مَنْ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ"، بَعْدَ فَرَاغِ سُلَيْكٍ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ. وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَاوِي الْخَبَرِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَحْلِفُ أَنْ لَا يَتْرُكَهُمَا بَعْدَ أَمْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهِمَا، فَمَنِ ادَّعَى أَنَّ هَذَا كَانَ خَاصًّا لِسُلَيْكٍ، أَوْ لِلدَّاخِلِ وَهُوَ رَثُّ الْهَيْئَةِ وَقْتَ خُطْبَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدْ خَالَفَ أَخْبَارَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَنْصُوصَةَ، لِأَنَّ قَوْلَهُ: "إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ" مُحَالٌ أَنْ يُرِيدَ بِهِ دَاخِلًا وَاحِدًا دُونَ غَيْرِهِ، لِأَنَّ هَذِهِ اللَّفْظَةَ: "إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ" عِنْدَ الْعَرَبِ يَسْتَحِيلُ أَنْ تَقَعَ عَلَى وَاحِدٍ دُونَ الْجَمْعِ، وَقَدْ خَرَّجْتُ طُرُقَ هَذِهِ الْأَخْبَارِ فِي كِتَابِ الْجُمُعَةِ".

"حضرت جابر ؓ بیان کرتےہیں کہ سلیک غطفانی جمعہ کے دن آئے ۔ جبکہ رسول اللہﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تووہ بیٹھ گئے ، تو آپ نے انہیں فرمایا: اے سلیک کھڑے ہو کر دو رکعات پڑھو اور ان کو مختصر اور ہلکی پڑھنا ۔ پھر آ پ نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی شخص اس حال میں مسجد میں جمعہ کے دن آئے کہ امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے دو رکعات پڑھ لینی چاہیں اور انہیں مختصر اور ہلکی ادا کرے ۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں: "اس طرح نبی کریمﷺ نے حضرت سلیک کے دو رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد حکم دیا ہے کہ جو شخص جمعہ کےلیے آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے دو رکعات پڑھنی چاہئیں ۔ آپ نے یہ حکم قیامت تک کےلیے ہر مسلمان شخص کو دیا ہے جو اس حال میں مسجد میں داخل ہوتا ہے کہ امام خطبہ دے رہا ہو ۔ لہٰذا یہ کیسے درست ہوسکتا ہے کہ کوئی عالم دین اس حدیث کی یہ تأویل کرے کہ نبی کریمﷺ نے یہ حکم خصوصاً حضرت سلیک کو دیا تھا جبکہ وہ پھٹے پرانے کپڑوں میں مسجد میں داخل ہوئے تھے اور نبی کریمﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ حالانکہ نبی کریمﷺ نے یہ حکم عام الفاظ کے ساتھ دیا ہے : جو شخص بھی مسجد میں داخل ہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے دو رکعات اد ا کرنی چاہئیں ۔ آپ نے یہ حکم حضرت سلیک ؓکے دو رکعات سے فارغ ہونے پر دیا تھا ۔ا ور حضرت ابو سعید خدریؓ اس حدیث کے راوی قسم اٹھاتے تھے کہ وہ نبی کریمﷺ کے حکم کے بعد یہ دو رکعات کبھی ترک نہیں کریں گے ۔ لہٰذا جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ حکم حضرت سلیک ؓ کے ساتھ خاص تھا یا اس شخص کےلیے تھا جو نبی کریمﷺ کے خطبہ کے دوران شکستہ حالت میں مسجد میں داخل ہوا تھا تو اس شخص نے نبی کریمﷺ کے مخصوص فرامین کی خلاف ورزی کی ہے ۔ کیونکہ آپ کے فرمان "جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن اس وقت آئے جب امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے دو رکعت نماز پڑھنی چاہیے "سے صرف ایک مخصوص شخص مسجد میں داخل ہونے والا مراد لینا محال وناممکن ہے کیونکہ یہ الفاظ "جب تم میں سے کوئی شخص آئے "عر ب لوگوں کے ہاں صرف ایک شخص کےلیے استعمال ہونا مستحیل و ناممکن ہے بلکہ یہ جمع کےلیے آتا ہے ۔ میں نے اس حدیث کے طرق کتا ب الجمعہ میں بیان کر دیئے ہیں ۔"

"إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ وَلْيَتَجَوَّزْ فِيهِمَا". ← لَهُ: «يَا سُلَيْكُ، قُمْ فَارْكَعْ رَكْعَتَيْنِ، وَتَجَوَّزْ فِيهِمَا» ثُمَّ ← جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ يَخْطُبُ فَجَلَسَ، ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى -يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ- ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1835

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ أَبوَابُ الصَّلَاۃِ قَبلَ الجُمُعَۃِ · حديث 1835

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "وَصَلَّى مَا كُتِبَ لَهُ". وَفِي خَبَرِ سَلْمَانَ: "مَا قُدِّرَ لَهُ"، وَفِي خَبَرِ أَبِي أَيُّوبَ: "فَيَرْكَعُ إِنْ بَدَا لَهُ".

اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ جمعہ سے پہلے وہ جتنی نماز پڑھے گا وہ نفل ہوگی ، اس میں سے فرض کوئی نہیں ہوگی ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : حضرت ابوسعید اور ابوہریرہؓ کی روایات میں یہ الفاظ آئے ہیں: "اس نے جتنی اس کا مقدر میں لکھی تھی نماز پڑھی ۔"اور حضرت سلمان ؓ کی روایت میں ہے : ""جو اس کے مقدر میں تھی ( ا س نے پڑھی) "اور حضرت ابوایوب ؓ کی روایت میں ہے : "تو اس نے نماز پڑھی اگر اس نے چاہا ۔"

النَّبِيِّ "وَصَلَّى مَا ← أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،

Hadith 1835

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ أَبوَابُ الصَّلَاۃِ قَبلَ الجُمُعَۃِ · حديث 1836

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ زِيَادٌ: أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ. وَقَالَ الْآخَرَانِ: عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: قُلْتُ لِنَافِعٍ: أَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي قَبْلَ الْجُمُعَةِ؟ فَقَالَ: قَدْ كَانَ يُطِيلُ الصَّلَاةَ قَبْلَهَا، وَيُصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ، وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.

"جناب ایوب بیان کرتےہیں کہ میں نے حضرت نافع سے پوچھا :"کیا حضرت ابن عمر ؓ جمعہ سے پہلے نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: وہ جمعہ سے پہلے بڑی طویل نماز پڑھتے تھے اور جمعہ کے بعد اپنے گھر میں دو رکعات ادا کرتے تھے ۔"اور بیان کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ بھی اسی طرح عمل کرتے تھے ۔"

قُلْتُ لِنَافِعٍ: أَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي قَبْلَ الْجُمُعَةِ؟ ← أَيُّوبَ، ← الْآخَرَانِ ← أَيُّوبَ، ← زِيَادٍ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1836

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ أَبوَابُ الصَّلَاۃِ قَبلَ الجُمُعَۃِ · حديث 1837

نَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: مَا كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[193 - أ] إِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ إِذَا خَرَجَ أَذَّنَ، وَإِذَا نَزَلَ أَقَامَ، وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ كَذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ وَكَثُرَ النَّاسُ، أَمَرَ بِالنِّدَاءِ الثَّالِثِ عَلَى دَارٍ فِي السُّوقِ يُقَالُ لَهَا: الزَّوْرَاءُ، فَإِذَا خَرَجَ أَذَّنَ وَإِذَا نَزَلَ، أَقَامَ.

"حضرت سائب بن یزید ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے ( جمعہ کے ) لیے صرف ایک ہی موذن تھا ۔ جب آپ تشریف لے آتے تو وہ اذان کہتا اور جب آپ منبر سے اترتے تو وہ اقامت کہتا ۔ حضرت ابوبکر اور عمر ؓ کے دور میں بھی اسی طرح رہا۔ پھر جب حضرت عثمان ؓ کا دور آیا اور لوگ زیادہ ہوگئے تو انہوں نے بازار میں ایک گھر ( کی چھت ) پر جسے الزورا ء کہا جاتا تھا ، تیسری اذان کہنے کا حکم دیا ۔ لہٰذا جب آپ گھر سے خطبہ کےلیے تشریف لاتے تو وہ موذن اذان کہتا اور جب آپ منبر سے اترتے تو وہ اقامت کہہ دیتا ۔"

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1837

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ أَبوَابُ الصَّلَاۃِ قَبلَ الجُمُعَۃِ · حديث 1838

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَنْزِلُ مِنَ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَيُكَلِّمُ الرَّجُلَ وَيُكَلِّمُهُ، ثُمَّ يَنْتَهِي إِلَى مُصَلَّاهُ فَيُصَلِّي.

"حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ جمعہ کے دن منبر سےنیچے اترتے تو کوئی شخص آپ سے بات چیت کر لیتا اور آپ اس سے گفتگو کر لیتے ، پھر آپ اپنی جائے نماز پر کھڑے ہو کر نماز پڑھاتے ۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1838

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ أَبوَابُ الصَّلَاۃِ قَبلَ الجُمُعَۃِ · حديث 1839

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيِّ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ:

"حضرت سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز جمعہ سورج ڈھلنے کے بعد ادا کرتے تھے پھر ہم گھروں کو واپس جاتے ہوئے سایہ تلاش کرتے تھے ۔"

أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1839

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ أَبوَابُ الصَّلَاۃِ قَبلَ الجُمُعَۃِ · حديث 1840

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الْجُمُعَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَبْتَدِرُ الْفَيْءَ، فَمَا يَكُونُ إِلَّا قَدْرَ قَدَمٍ أَوْ قَدَمَيْنِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مُسْلِمٌ هَذَا لَا أَدْرِي أَسَمِعَ مِنَ الزُّبَيْرِ أَمْ لَا؟.

"حضرت زبیر بن عوام ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ جمعہ ادا کرتے تھے تو ( واپسی پر ) سایہ حاصل کرنے میں جلدی کرتے مگر وہ ایک یا دو قدم ہی ہوتا تھا ۔ "امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : "مجھے معلوم نہیں کہ مسلم بن جندب راوی نے حضرت زبیر سے سماع کیا ہے یا نہیں ؟"

الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، ← مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1840

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ أَبوَابُ الصَّلَاۃِ قَبلَ الجُمُعَۃِ · حديث 1841

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا نُبَكِّرُ -يَعْنِي بِالْجُمُعَةِ- ثُمَّ نَقِيلُ.

"حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نماز جمعہ جلدی ادا کرتے تھے پھر قیلولہ کرتے تھے ۔"

كُنَّا نُبَكِّرُ -يَعْنِي بِالْجُمُعَةِ- ثُمَّ نَقِيلُ. ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1841

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals