Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3069

ثناه يوسف بن موسى ثنا جرير عن منصور عن أبي وائل قال قال الضبي بن معبد : كنت رجلا أعرابيا نصرانيا فأسلمت فكنت حريصا على الجهاد و إني وجدت الحج و العمرة مكتوبتين علي فأتيت رجلا من عشيرتي يقال له هديم بن عبد الله فقلت : يا هناه إني حريص على الجهاد و إني وجدت الحج و العمرة مكتوبتين علي فكيف لي أن أجمعهما ؟ فقال : اجمعهما ثم اذبح ما استيسر من الهدى قال : فأهللت بهما معا فلما أتيت العذيب لقيني سليمان بن ربيعة و زيد بن صوحان و أنا أهل بهما معا فقال أحدهما للآخر ما هذا بأفقه من بعيره فكأنما ألقى علي جبل حتى أتيت عمر فقلت له : يا أمير المؤمنين إني كنت رجلا أعرابيا نصرانيا و إني أسلمت و أنا حريص على الجهاد و إني وجدت الحج و العمرة مكتوبتين علي فأتيت رجلا من عشيرتي يقال له هديم بن عبد الله فقلت : يا هنتاه إني حريص على الجهاد و إني وجدت الحج و العمرة مكتوبتين علي فكيف أجمعهما ؟ فقال : اجمعهما ثم اذبح ما استيسر من الهدي وإني أهللت بهما جميعا فلما أتيت العذيب لقيني سليمان بن ربيعة و زيد بن صوحان و أنا أهل بهما معا فقال أحدهما للآخر ما هذا بأفقه من بعيره قال فقال لي عمر : هديت لسنة نبيك قال أبو بكر : في ترك عمر بن الخطاب النكير على الضبي بن معبد قوله : و إني وجدت الحج و العمرة مكتوبتين علي أبين الدلالة على أن العمرة عند عمر بن الخطاب كانت واجبة كالحج إذ لو كانت العمرة عنده تطوعا لا واجبة لأشبه أن ينكر عليه قوله و لقال له : لم نجد ذلك مكتوبتين عليك بل إنما وجدت الحج مكتوبا دون العمرة و في تركه الإنكار عليه ما أفتاه هديم بن عبد الله دلالة بينة بأن القرآن عنده جائز من غير سوق بدنة و لا بقرة من الميقات الذي يحرم منه بالحج و العمرة و فيه دلالة على أن ما استيسر من الهدي جائز عن القارن كهو عن المتمتع لا كما قال بعض العلماء أن القرآن لا يكون إلا بسوق بدنة أو بقرة يسوقه من حيث يحرم

جناب ضبی بن معبد بیان کرتے ہیں کہ میں ایک اعرابی عیسائی تھا ۔ پھر میں مسلمان ہوگیا تو مجھے جہاد کا بڑا شدید شوق تھا ۔ اور مجھے معلوم ہوا کہ مجھ پر حج اور عمرہ بھی فرض ہیں ۔ لہٰذا میں اپنے خاندان کے ایک شخص ہدیم بن عبداللہ کے پاس آیا تو اسے کہا: اے محترم ! مجھے جہاد کرنے کا بڑا شوق ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ مجھ پر حج اور عمرہ بھی فرض ہو چکے ہیں ۔ میں ان دونوں کو کیسے جمع کر سکتا ہوں ؟ انھوں نے جواب دیا : تم انھیں اکٹھا اد اکر لو اور پھر تمھیں جو جانور میسر ہو اس کی قربانی کر دو۔ لہٰذا میں دونوں کا اکٹھا احرام باندھ کر تلبیہ پکارا ۔ پھر جب میں عذیب مقام پر پہنچا تو مجھے سلیمان بن ربیعہ او ر زید بن صوحان ملے اور میں ( حج اور عمرہ ) دونوں کا تلبیہ پکار رہا تھا ، ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: یہ شخص تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ سمجھ دار نہیں ہے ۔ ان کی یہ بات مجھ پر ایسی شق گزری گویا کہ مجھ پر پہاڑ گرا دیا گیا ہو حتی کہ میں حضرت عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کی: اے امیر المومنین ! میں ایک بدو عیسائی آدمی تھا اور اب میں مسلمان ہوں اور مجھے جہاد کا بے حد شوق ہے اور میں نے پایا ہے کہ مجھ پر حج اور عمرہ واجب ہیں ۔ لہٰذا میں اپنے خاندان کے ایک شخص ہدیم بن عبداللہ کے پاس گیا اور اس سے عرض کی: اے محترم ! مجھے جہاد کرنے کا بہت شوق ہے اور مجھ پر حج اور عمرہ بھی واجب ہو چکے ہیں ۔ میں ان دونوں عبادتوں کو اکٹھا کیسے ادا کروں؟ اس نے جواب دیا : دونوں کا اکٹھا اد اکرلو ، اگر پھر تمھیں جانور میسر ہو اس کی قربانی کر دو۔ لہٰذا میں نے حج اور عمرے دونوں کا احرام باندھا ہے ، پھر جب میں عذیت مقام پر پہنچا تو مجھے سلیمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان ملے جبکہ میں دونوں کا احرام باندھے ان کا تلبیہ پکار رہا تھا ۔ میرا تلبیہ سن کر ان میں سے ایک دوسرے سے کہنے لگا: یہ شخص تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ بے وقوف ہے ۔ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا : تمھیں اپنے نبی کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق ملی ہے ۔( حج قران تو سنت نبوی ہے اس لیے ان کی غلط بات کا برا نہ مناؤ اور اپنا عمل جاری رکھو ) ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : حضرت عمرؓ نے ضبی بن معبد کے اس قول کی تردید نہیں کی کہ : مجھ پر حج اور عمرہ واجب ہیں ۔"یہ واضح ترین دلیل ہے کہ حضرت عمرؓ کے نزدیک عمرہ واجب ہے اور اس کا حکم حج کی طرح ہے ۔ کیونکہ اگر عمر ان کے نزدیک نفلی ہوتا تو وہ ضبی بن معبد کے اس قول کی تردید کر دیتے ۔ اور فرماتے کہ ہم تم پر عمرہ واجب نہیں سمجھتے ۔ بلکہ میرے نزدیک تم پر صرف حج فرض ہے ۔ جناب ہدیم بن عبداللہ کے فتوے پر حضرت عمر ؓ کا انکار نہ کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حضرت عمر ؓ کے نزدیک جس میقات سے احرام باندھا جائے وہاں سے قربانی کا جانور ساتھ لے جائے بغیر بھی حج قران کرنا جائز ہے ۔ اور اس میں یہ بھی دلیل ہے کہ حج قران کرنے والا بھی میسر قربانی ذبح کر سکتا ہے جیسا کہ حج تمتع کرنے والا کرتا ہے ۔ ان علماء کا موقف درست نہیں جو کہتے ہیں کہ حج قران کےلیے احرام باندھنے والے کےلیے میقات سے قربانی کا اونٹ یا گائے ساتھ لے کر جانا ضروری ہے ۔

أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← ثَنَاهُ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3069

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3070

ثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ جَالِسٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ، قَالَ: وَإِذَا النَّاسُ فِي الْمَسْجِدِ يُصَلُّونَ صَلَاةَ الضُّحَى، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ صَلَاتِهِمْ، فَقَالَ: بِدْعَةٌ. ثُمَّ قَالَ: كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: أَرْبَعٌ.

امام مجاہد بیان کرتےہیں کہ میں اور حضرت عروہ بن زبیر ؒ مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو ہم نے دیکھا کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ام المومنین عائشہ ؓ کے حجرے کے ساتھ ٹیک لگا کر تشریف فرما ہیں ۔ جبکہ لوگ مسجد میں نماز چاشت ادا کر رہے تھے ۔ ہم نے ابن عمر ؓ سے ان لوگوں کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: یہ بدعت ہے ۔ پھر سوال کیا ۔ رسول اللہﷺ نے کتنے عمرے کیے ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا : چار کیے ہیں ۔

أَرْبَعٌ. ← كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ← بِدْعَۃٌ ثُمَّ ← صلاتهم، ← وَإِذَا النَّاسُ فِي الْمَسْجِدِ يُصَلُّونَ صَلَاةَ الضُّحَى، فَسَأَلْنَاهُ ← وَعُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ الْمَسْجِدَ فَاِذَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ جَالِسٌ اِلٰی حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ ← دَخَلْتُ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3070

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3071

ثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: أَرْبَعَ عُمَرٍ، وَحَجَّ حَجَّةً وَاحِدَةً. وَعُمْرَتُهُ مَعَ حَجَّتِهِ.

حضرت قتادہ ؒ بیان کرتےہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے پوچھا : رسول اللہﷺنے کتنے عمرےکیے ہیں انھوں نے فرمایا: آپ نے چار عمرے کیے ہیں اور صرف ایک حج کیا ہے ، آپ کا ایک عمرہ آپ کے حج کے ساتھ تھا ۔

أَرْبَعَ عُمَرٍ، وَحَجَّ حَجَّةً وَاحِدَةً. وَعُمْرَتُهُ مَعَ حَجَّتِهِ. ← قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3071

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3072

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ".

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: "عمرہ ان تمام گناہوں کا کفارہ بنتا ہے جو موجود ہ عمرے اور گزشتہ عمرے کے دوران سرزد ہوئے ہوں اور حج مبرور کا بدلہ تو صرف جنت ہی ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3072

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3073

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: حَدَّثَنِيهِ سُمَيٌّ، ح وَثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ تُكَفِّرُ مَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ". غَيْرَ أَنَّ عَبْدَ الْجَبَّارِ قَالَ: يَبْلُغُ بِهِ.

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ فرمایا:"ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے درمیانی گناہوں کا کفارہ بنتا ہے اور حج مبرور کی جزا جنت ہی ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← سُفْيَانَ، ← وَثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← سُمَيٍّ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3073

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3074

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، ثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ عَلَى النِّسَاءِ مِنْ جِهَادٍ؟ قَالَ: "عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لَا قِتَالَ فِيهِ، الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لَا قِتَالَ فِيهِ"، وَإِعْلَامُهُ أَنَّ الْجِهَادَ الَّذِي عَلَيْهِنَّ الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ بَيَانُ أَنَّ الْعُمْرَةَ وَاجِبَةٌ كَالْحَجِّ، إِذْ ظَاهِرُ قَوْلِهِ "عَلَيْهِنَّ" أَنَّهُ وَاجِبٌ. إِذْ غَيْرُ جَائِزٍ أَنْ يُقَالَ: "عَلَى الْمَرْءِ" مَا هُوَ تَطَوُّعٌ غَيْرُ وَاجِبٍ.

ام ّ المومنین عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! کیا عورتوں پر بھی جہاد فرض ہے ؟ آپ نے فرمایا: ان پر ایسا جہاد فرض ہے جس میں لڑائی نہیں ہے ، وہ حج اور عمرہ ہے ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : آپ کے اس فرمان : ان پر ایسا جہاد فرض ہے جس میں لڑائی بھڑائی نہیں ہے اور آپ نے انھیں بتایا کہ ان پر واجب جہاد حج اور عمرہ کرنا ہے ، اس میں یہ دلیل ہے کہ عمرہ حج کی طرح واجب ہے ۔ کیونکہ آپ کا فرمان "عَلَیْھِنَّ"( ان پر ہے ) کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ ان پر واجب ہے کیونکہ کسی نفلی عبادت کےلیے یہ کہنا درست نہیں کہ وہ علی المرء(آدمی پر ہے ) ۔ ( یہ اسی وقت کہا جاتا ہے جب کسی چیز کا وجوب بتانا مقصود ہو )۔

قُلْتُ ← عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3074

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3075

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: أَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى أُمِّ مَعْقِلٍ [مَنْ] يَسْأَلُهَا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَتْ أَنَّ زَوْجَهَا جَعَلَ بَكْرًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَنَّهَا أَرَادَتِ الْعُمْرَةَ، فَسَأَلَتْ زَوْجَهَا الْبَكْرَ، فَأَبَى عَلَيْهَا، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُعْطِيَهَا. وَقَالَ: "إِنَّ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ مِنْ سُبُلِ اللَّهِ، وَأَنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً أَوْ تُجْزِئُ حَجَّةً". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ عِنْدِي دَالٌ عَلَى ضِدِّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ مَنْ حَبَسَ شَيْئًا فِي سَبِيلٍ مِنْ سُبُلِ الْخَيْرِ فَلَمْ يُخْرِجْهُ مِنْ يَدِهِ أَنَّ الْحَبْسَ غَيْرُ جَائِزٍ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَجَازَ لِأَبِي مَعْقِلٍ تَسْبِيلَ الْبَكْرِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُخْرِجَهُ مِنْ يَدِهِ. وَهَذَا الْخَبَرُ يَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ قَوْلِ الْمُطَّلِبِيِّ: إِنَّ الْحَبْسَ يَتِمُّ بِالْكَلَامِ، وَإِنْ لَمْ يُخْرِجْهُ الْمُحْبِسُ مِنْ يَدِهِ.

جناب ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بیان کرتےہیں کہ مروان نے حضرت ام معقل ؓ کی خدمت میں ایک شخص کو یہ حدیث پوچھنے کےلیے بھیجا تو انھوں نے بیان کیا کہ ان کے خاوند نے ایک اونٹ جہاد فی سبیل اللہ کےلیے وقف کر دیا اور ام معقل نے عمرہ کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے خاوند سے وہ اونٹ سفر کےلیے مانگا ۔ خاوند نے انھیں اونٹ دینے سے انکار کر دیا ۔ چنانچہ ام معقل ؓ رسول اللہﷺ کے پاس آئیں اور آپ کو یہ بات بتائی ۔ نبی کریمﷺ نے ان کے خاوند کو اونٹ دینے کا حکم دیا او ر فرمایا:"حج اور عمرہ بھی فی سبیل اللہ میں شامل ہے اور بے شک رمضان المبارک میں کیا ہوا عمرہ حج کے برابر ہے یا حج سے کافی ہے ۔ " امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : میرے نزدیک یہ روایت اس شخص کے موقف کے خلاف دلیل ہے جو کہتا ہے کہ جس نے کوئی چیز اللہ کی راہ میں وقف کی اور پھر اسے اپنے قبضے اور استعمال میں رکھا تو یہ وقف جائز نہیں ہے ۔ حالانکہ نبی کریمﷺ نے حضرت ابومعقل ؓ کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنے اونٹ کو فی سبیل اللہ وقف کر دیں اور اپنے ذاتی تصرف سے بھی نکلالیں۔ اور یہ روایت امام شافعی ؒ کے مذہب کے صحیح ہونے کی دلیل ہے کہ وقف زبان کے اقرار سے مکمل ہوجاتا ہے اگرچہ وقف کرنے والا ا س چیز کو اپنے قبضے اور تصرف سے بھی نکالے ۔

هَذَا الْحَدِيثَ ← أَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى أُمِّ مَعْقِلٍ يَسْأَلُهَا ← أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3075

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3076

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ. ثَنَا أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي الْحَنَفِيَّ- ثَنَا أَفْلَحُ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَبْكِي. فَقَالَ: "مَا شَأْنُكِ؟ " قَالَتْ: لَا أُصَلِّي. قَالَ: "فَلَا يَضُرُّكِ إِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ، كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكِ مَا كَتَبَ عَلَيْهِنَّ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَ: حَتَّى نَزَلَ الْمُحَصَّبَ وَنَزَلْنَا مَعَهُ، فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: "اخْرُجْ بِأُخْتِكَ فَلْتُهِلَّهُ (1) بِعُمْرَةٍ".

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں ۔ ( مقام سرف پر) رسول اللہﷺ میرے پاس تشریف لائےتو میں رو رہی تھی ۔ آپ نے فرمایا :"تمھیں کیا ہوا ہے ؟ "اماں جی نے عرض کی: مجھے نماز نہیں پڑھنی ( ایام ماہواری شروع ہوگئے ہیں) آپ نے فرمایا: "یہ حیض تمھارے لیے نقصان کا باعث نہیں ہے ۔ یقیناً تو بھی آدم ؑ کے بیٹیوں میں سے ایک بیٹی ہے ، اللہ تعالیٰ نے جو چیز تم پر لازم کی ہے وہ سب عورتوں پر کی ہے ۔ " پھر مکمل حدیث بیان کی ، اور فرمایا: حتی کہ آپ وادی محصب میں ٹھہرے توہم بھی آپ کے ساتھ وہاں ٹھہرے ۔ پھر آپ نے حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ کو بلایا تو انھیں حکم دیا: "اپنی بہن کو لے کر حدود حرم سے باہر چلے جاؤ تاکہ وہ عمرے کا احرام باندھ لیں ( اور عمرہ اد اکر لے )۔"

"اخْرُجْ بِأُخْتِكَ فَلْتُهِلَّهُ بِعُمْرَةٍ". ← حَتَّى نَزَلَ الْمُحَصَّبَ وَنَزَلْنَا مَعَهُ، فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحَدِيثَ. ← عَلَيْهِنَّ"، ← اللَّهُ عَلَيْكِ مَا ← "فَلَا يَضُرُّكِ إِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ، ← لَا أُصَلِّي. ← «مَا شَأْنُكَ؟» ← أَبْكِي، ← فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَفْلَحُ ← أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي الْحَنَفِيَّ- ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3076

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3077

ثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، ثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ الْعَنْبَرِيُّ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَجَّ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ لِزَوْجِهَا: حُجَّنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ: مَا عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ. قَالَتْ: فَحُجَّنِي عَلَى نَاضِحِكَ. قَالَ: ذَاكَ يَعْتَقِبُهُ أَنَا وَوَلَدُكِ. قَالَتْ: حُجَّنِي عَلَى جَمَلِكَ فُلَانٍ. قَالَ: ذَلِكَ حَبِيسُ سَبِيلِ اللَّهِ. قَالَتْ: فَبِعْ تَمْرَتَكَ. قَالَ: ذَاكَ قُوتِي وَقُوتُكِ. فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَكَّةَ، أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ زَوْجَهَا، فَقَالَتْ: أَقْرِئْ (1) رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنِّي السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ، وَسَلْهُ: مَا تَعْدِلُ حَجَّةً مَعَكَ؟ فَأَتَى زَوْجُهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ امْرَأَتِي تُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ، وَإِنَّهَا كَانَتْ سَأَلَتْنِي أَنْ أَحُجَّ بِهَا مَعَكَ. فَقُلْتُ لَهَا: لَيْسَ عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ. فَقَالَتْ: حُجَّنِي عَلَى جَمَلِكَ فُلَانٍ. فَقُلْتُ لَهَا: ذَلِكَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. فَقَالَ: "أَمَا إِنَّكَ لَوْ كُنْتَ حَجَجْتَهَا فَكَانَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" فَقَالَتْ: حُجَّنِي عَلَى نَاضِحِكَ. فَقُلْتُ: ذَاكَ يَعْتَقِبُهُ أَنَا وَوَلَدُكُ. قَالَتْ: فَبِعْ تَمْرَتَكَ، فَقُلْتُ: ذَاكَ قُوتِي وَقُوتُكِ، -قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَعَجُّبًا مِنْ حِرْصِهَا عَلَى الْحَجِّ- وَإِنَّهَا أَمَرَتْنِي أَنْ أَسْأَلَكَ مَا يَعْدِلُ حَجَّةً مَعَكَ. قَالَ: "أَقْرِئْهَا مِنِّي السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ، وَأَخْبِرْهَا أَنَّهَا تَعْدِلُ حَجَّةً مَعِي عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ".

حضرت ابن عباسؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے حج کرنے کا ارادہ کیا تو ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا : مجھے رسول اللہﷺ کے ساتھ حج کرا دو ۔ اس نے جواب دیا کہ میرے پاس سواری نہیں ہے جس پر بٹھا کر میں تمھیں حج کر ا دوں ۔ عورت نےکہا: مجھے اپنے پانی لانے والے اونٹ پر سوار کرکے حج کرا دیں ۔ اس نے کہا : اس پر تو میں اور تیرا بیٹا بیٹھیں گے ۔ عورت کہنے لگی : مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کر ادو ۔ شوہر نے جواب دیا : وہ اونٹ تو اللہ کی راہ ( جہاد ) میں وقف ہے ۔ بیوی کہتی ہے : اپنی کھجوریں بیچ کر مجھے حج کرادو ۔ خاوند کہتا ہے : وہ تو میر ی تمھاری خوراک ہے ۔ پھر جب رسول اللہﷺ مکہ مکرمہ سے حج کر کے واپس تشریف لے آئے تو اس عورت نے اپنے شوہر کو آپ کی خدمت میں بھیجا اور کہا: رسول اللہﷺ کو میرا سلام کہنا اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آپ پر ہوں اور آپ سے یہ سوال کرو کہ کونسا عمل آپ کے ساتھ حج کرنے کے برابر ہوسکتا ہے؟ چناچنہ اس کا شوہر نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسولﷺ! میر ی بیوی آپ کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہتی ہے ۔ اور اس نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ میں اسے آپ کے ساتھ حج کر اد وں لیکن میں نے اسے کہا: میرے پاس تمھیں سوار کرنے کےلیے سواری نہیں ہے ۔ اس نے کہا: مجھے فلاں اونٹ پر سوار کر کے حج کر اد و ۔ میں نے جواب دیا کہ وہ اونٹ اللہ کی راہ جہاد میں وقف ہے ۔ آپ نے فرمایا:"خبردار ! اگر تم اسے اسی اونٹ پر حج کر اد یتے تو یہ عمل بھی فی سبیل اللہ شمار ہوتا ۔ "اس عورت نے کہا: مجھے اپنے پانی پلانے والے اونٹ پر حج کرا دو تو میں نے کہا: اس پر میں اور تمھارا بیٹا بھیٹھے گا ۔ اس نے پھر کہا: اپنی کھجوریں بیچ دو ( اور مجھے حج کرا دو ) میں نے کہا: وہ میری اور تمھاری خوراک ہے تو اس پر رسول اللہﷺ اس عور تکی حج کرنے کی حرص پر ہنس دیے ۔ اور اس نے مجھے کہا ہے کہ میں آپ سے یہ سوال پوچھوں کہ کونسا عمل آپ کے ساتھ حج کرنے کے برابر ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: "اسے میری طرف سے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہنا اور اسے بتانا کہ رمضان المبارک میں عمرہ میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے ۔

ذَاكَ قُوتِي وَقُوتُكِ. فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ مِنْ مَكَّةَ، أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ زَوْجَهَا، ← فَبِعْ تَمْرَتَكَ. ← ذَلِكَ حَبِيسُ سَبِيلِ اللَّهِ. ← حُجَّنِي عَلَى جَمَلِكَ فُلَانٍ. ← وَوَلَدُكِ. ← ذَاكَ يَعْتَقِبُهُ ← فَحُجَّنِي عَلَى نَاضِحِكَ. ← مَا عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ. ← امْرَأَةٌ لِزَوْجِهَا: حُجَّنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ الْحَجَّ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ← عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، ← عبد الوارث بن سعيد العنبري ← بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3077

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3078

ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ (2)، أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي قَوْلِهِ: (بَرَاءَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ) [التوبة: 1] قَالَ: لَمَّا قَفَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ حُنَيْنٍ اعْتَمَرَ مِنَ الْجِعْرَانَةَ ثُمَّ أَمَّرَ أَبَا بَكْرٍ عَلَى تِلْكَ الْحَجَّةِ.

جناب سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (بَرَآءَ ۃ مِنَ اللہِ وَرَسُوْلِہِ)کی تفسیر بیان کرتےہوئے کہتے ہیں : حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا:جب رسول اللہﷺحنین سے روانہ ہوئے تو آپ نے جعرانہ سے عمرہ کیا پھر آپ ﷺ نے ابوبکرؒ کو اس حج کا امیر بنا کر بھیجا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ فِي قَوْلِهِ: {بَرَاءَةٌ مِنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ} [التوبة: ← ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3078

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3079

ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَا: ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَلْقَمَةَ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ- عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ النَّاسَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: "مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَرْجِعَ بِعُمْرَةٍ قَبْلَ الْحَجِّ فَلْيَفْعَلْ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ يُصَرِّحُ بِصِحَّةِ قَوْلِ الْمُطَّلِبِيِّ أَنَّ فَرْضَ الْحَجِّ مَمْدُودٌ مِنْ حِينِ يَجِبُ عَلَى الْمَرْءِ إِلَى أَنْ تَحْدُثَ بِهِ الْمَنِيَّةُ، إِذْ لَوْ كَانَ فَرْضُ الْحَجِّ عَلَى مَا تَوَهَّمَهُ بَعْضُ مَنْ لَا يَفْهَمُ الْعِلْمَ وَزَعَمَ أَنَّ مَنْ ... (1) الْحَجِّ عَنْ أَوَّلِ سَنَةٍ يَجِبُ عَلَيْهِ الْحَجُّ كَانَ فِيهَا عَاصِيًا لِلَّهِ لَمَا أَبَاحَ الْمُصْطَفَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمَنْ كَانَ مَعَهُ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَنْ يَرْجِعَ بِعُمْرَةٍ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ، وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْحَجِّ أَيَّامٌ قَلَائِلُ، لِأَنَّ الْمُصْطَفَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ مَكَّةَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَرَفَةَ خَمْسَةُ أَيَّامٍ، فَأَبَاحَ لِمَنْ أَحَبَّ الرُّجُوعَ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الْعُمْرَةِ أَنْ يَرْجِعَ قَبْلَ [أَنْ] يَحُجَّ.

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺنے حجۃ الوداع والے سال لوگوں کوحکم دیا تو فرمایا: "جو شخص حج سے پہلے صرف عمرہ کر کے واپس جانا چاہتا ہو وہ جاسکتا ہے ۔ "امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : یہ روایت امام شافعی کے قول کے درست ہونے کی دلیل ہے کہ حج کا وقت وسیع ہے ۔ کوئی شخص حج واجب ہونے کے بعد اپنی موت سے پہلے پہلے کر سکتا ہے ۔ کیونکہ اگر حج اس سال ادا کرنا ضروری ہوتا جس سال حج کسی شخص پر واجب ہوا ہے جیسا کہ بعض کم علم حضرات کا خیال ہے تو پھر حج کو مؤخر کرنے والا شخص اللہ تعالیٰ کا نافرمان شما رہوتا حالانکہ نبی کریمﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنے صحابہ کرام کو اجازت دے دی تھی کہ جو شخص حج سے پہلے صرف عمرہ کر کے اپنے وطن لوٹنا چاہے توہ جاسکتا ہے اور اس وقت حج میں صرف چند دن باقی تھے کیونکہ نبی کریمﷺ حجۃ الوداع کےلیے مکہ مکرمہ میں ۴ ذوالحجہ کو داخل ہوئے تھے اور حج میں صرف پانچ دن باقی تھے ۔ لیکن اس کے باوجود آپ نےعمرہ کر کے واپس جانے والوں کو اجازت دے دی کہ جو شخص حج سے پہلے عمرہ ادا کر کے واپس جانا پسند کرتا ہے وہ چلا جائے ۔

عَائِشَةَ ← أُمِّهِ2، ← عَلْقَمَةَ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ- ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3079

chevron_left Previous
1…45464748
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals