صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3069
ثناه يوسف بن موسى ثنا جرير عن منصور عن أبي وائل قال قال الضبي بن معبد : كنت رجلا أعرابيا نصرانيا فأسلمت فكنت حريصا على الجهاد و إني وجدت الحج و العمرة مكتوبتين علي فأتيت رجلا من عشيرتي يقال له هديم بن عبد الله فقلت : يا هناه إني حريص على الجهاد و إني وجدت الحج و العمرة مكتوبتين علي فكيف لي أن أجمعهما ؟ فقال : اجمعهما ثم اذبح ما استيسر من الهدى قال : فأهللت بهما معا فلما أتيت العذيب لقيني سليمان بن ربيعة و زيد بن صوحان و أنا أهل بهما معا فقال أحدهما للآخر ما هذا بأفقه من بعيره فكأنما ألقى علي جبل حتى أتيت عمر فقلت له : يا أمير المؤمنين إني كنت رجلا أعرابيا نصرانيا و إني أسلمت و أنا حريص على الجهاد و إني وجدت الحج و العمرة مكتوبتين علي فأتيت رجلا من عشيرتي يقال له هديم بن عبد الله فقلت : يا هنتاه إني حريص على الجهاد و إني وجدت الحج و العمرة مكتوبتين علي فكيف أجمعهما ؟ فقال : اجمعهما ثم اذبح ما استيسر من الهدي وإني أهللت بهما جميعا فلما أتيت العذيب لقيني سليمان بن ربيعة و زيد بن صوحان و أنا أهل بهما معا فقال أحدهما للآخر ما هذا بأفقه من بعيره قال فقال لي عمر : هديت لسنة نبيك قال أبو بكر : في ترك عمر بن الخطاب النكير على الضبي بن معبد قوله : و إني وجدت الحج و العمرة مكتوبتين علي أبين الدلالة على أن العمرة عند عمر بن الخطاب كانت واجبة كالحج إذ لو كانت العمرة عنده تطوعا لا واجبة لأشبه أن ينكر عليه قوله و لقال له : لم نجد ذلك مكتوبتين عليك بل إنما وجدت الحج مكتوبا دون العمرة و في تركه الإنكار عليه ما أفتاه هديم بن عبد الله دلالة بينة بأن القرآن عنده جائز من غير سوق بدنة و لا بقرة من الميقات الذي يحرم منه بالحج و العمرة و فيه دلالة على أن ما استيسر من الهدي جائز عن القارن كهو عن المتمتع لا كما قال بعض العلماء أن القرآن لا يكون إلا بسوق بدنة أو بقرة يسوقه من حيث يحرم
جناب ضبی بن معبد بیان کرتے ہیں کہ میں ایک اعرابی عیسائی تھا ۔ پھر میں مسلمان ہوگیا تو مجھے جہاد کا بڑا شدید شوق تھا ۔ اور مجھے معلوم ہوا کہ مجھ پر حج اور عمرہ بھی فرض ہیں ۔ لہٰذا میں اپنے خاندان کے ایک شخص ہدیم بن عبداللہ کے پاس آیا تو اسے کہا: اے محترم ! مجھے جہاد کرنے کا بڑا شوق ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ مجھ پر حج اور عمرہ بھی فرض ہو چکے ہیں ۔ میں ان دونوں کو کیسے جمع کر سکتا ہوں ؟ انھوں نے جواب دیا : تم انھیں اکٹھا اد اکر لو اور پھر تمھیں جو جانور میسر ہو اس کی قربانی کر دو۔ لہٰذا میں دونوں کا اکٹھا احرام باندھ کر تلبیہ پکارا ۔ پھر جب میں عذیب مقام پر پہنچا تو مجھے سلیمان بن ربیعہ او ر زید بن صوحان ملے اور میں ( حج اور عمرہ ) دونوں کا تلبیہ پکار رہا تھا ، ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: یہ شخص تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ سمجھ دار نہیں ہے ۔ ان کی یہ بات مجھ پر ایسی شق گزری گویا کہ مجھ پر پہاڑ گرا دیا گیا ہو حتی کہ میں حضرت عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کی: اے امیر المومنین ! میں ایک بدو عیسائی آدمی تھا اور اب میں مسلمان ہوں اور مجھے جہاد کا بے حد شوق ہے اور میں نے پایا ہے کہ مجھ پر حج اور عمرہ واجب ہیں ۔ لہٰذا میں اپنے خاندان کے ایک شخص ہدیم بن عبداللہ کے پاس گیا اور اس سے عرض کی: اے محترم ! مجھے جہاد کرنے کا بہت شوق ہے اور مجھ پر حج اور عمرہ بھی واجب ہو چکے ہیں ۔ میں ان دونوں عبادتوں کو اکٹھا کیسے ادا کروں؟ اس نے جواب دیا : دونوں کا اکٹھا اد اکرلو ، اگر پھر تمھیں جانور میسر ہو اس کی قربانی کر دو۔ لہٰذا میں نے حج اور عمرے دونوں کا احرام باندھا ہے ، پھر جب میں عذیت مقام پر پہنچا تو مجھے سلیمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان ملے جبکہ میں دونوں کا احرام باندھے ان کا تلبیہ پکار رہا تھا ۔ میرا تلبیہ سن کر ان میں سے ایک دوسرے سے کہنے لگا: یہ شخص تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ بے وقوف ہے ۔ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا : تمھیں اپنے نبی کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق ملی ہے ۔( حج قران تو سنت نبوی ہے اس لیے ان کی غلط بات کا برا نہ مناؤ اور اپنا عمل جاری رکھو ) ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : حضرت عمرؓ نے ضبی بن معبد کے اس قول کی تردید نہیں کی کہ : مجھ پر حج اور عمرہ واجب ہیں ۔"یہ واضح ترین دلیل ہے کہ حضرت عمرؓ کے نزدیک عمرہ واجب ہے اور اس کا حکم حج کی طرح ہے ۔ کیونکہ اگر عمر ان کے نزدیک نفلی ہوتا تو وہ ضبی بن معبد کے اس قول کی تردید کر دیتے ۔ اور فرماتے کہ ہم تم پر عمرہ واجب نہیں سمجھتے ۔ بلکہ میرے نزدیک تم پر صرف حج فرض ہے ۔ جناب ہدیم بن عبداللہ کے فتوے پر حضرت عمر ؓ کا انکار نہ کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حضرت عمر ؓ کے نزدیک جس میقات سے احرام باندھا جائے وہاں سے قربانی کا جانور ساتھ لے جائے بغیر بھی حج قران کرنا جائز ہے ۔ اور اس میں یہ بھی دلیل ہے کہ حج قران کرنے والا بھی میسر قربانی ذبح کر سکتا ہے جیسا کہ حج تمتع کرنے والا کرتا ہے ۔ ان علماء کا موقف درست نہیں جو کہتے ہیں کہ حج قران کےلیے احرام باندھنے والے کےلیے میقات سے قربانی کا اونٹ یا گائے ساتھ لے کر جانا ضروری ہے ۔
أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← ثَنَاهُ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى
Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3069
