Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3045

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أُخْتِهِ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: "إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ نَذْرِ أُخْتِكَ، لِتَرْكَبْ، وَلْتَهْدِ بَدَنَةً".

حضر ت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ انھوں نےرسول اللہﷺ سے اپنی بہن کے بارے میں مسئلہ پوچھا جس نے کعبہ شریف تک پیدل چلنے کی نذر مانی تھی ۔ تو آپ نے فرمایا:"بے شک اللہ تعالیٰ تمھاری بہن کی نذر سے بے نیاز ہے ۔ اسے چاہیے کہ سواری پر بیٹھ جائے او ر ایک اونٹ قربانی کے لیے مکہ مکرمہ لے جائے ۔"

نَذْرِ أُخْتِكَ، لِتَرْكَبْ، وَلْتَهْدِ بَدَنَةً". ← أُخْتِهِ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: "إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ ← عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Hadith 3045

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3046

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ آدَمَ- ثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ فِي الرَّجُلِ يَحْلِفُ بِالْمَشْيِ، فَيَعْجِزُ فَيَرْكَبُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَحُجُّ مِنْ قَابِلٍ فَيَرْكَبُ مَا شَاءَ، وَيَمْشِي مَا شَاءَ وَيَرْكَبُ. قَالَ شَرِيكٌ: وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ -مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ- عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؛ أَنَّهُ قَالَ: "تَرْكَبُ وَتُكَفِّرُ يَمِينَهَا".

جناب ابو اسحاق ؒ اس شخص کے بارے میں فرماتےہیں جس نے پیدل چل کر حج کرنے کی قسم کھائی ، پھر وہ پیدل چلنے سے عاجز آجائے تو وہ سواری پر بیٹھ جائے ، اور فرماتے ہیں : حضر ت ابن عباسؓ نے ایسے شخص کے بارے میں فرمایا: کہ وہ آئندہ سال حج کرے تو جتنا سفر چاہے سواری پر بیٹھ کر کر لے اور جتنا چاہے پیدل کر لے اور سوار ہو کر سفر کر لے ۔ جناب کریب حضرت ابن عباسؓ کی نبی کریمﷺسے مرفوع روایت بیان کرتےہیں کہ آپ نے فرمایا: "وہ عورت سوار ہوجائے اور اپنی قسم کا کفارہ اداکرے ۔"

"تَرْكَبُ وَتُكَفِّرُ يَمِينَهَا". ← ابْنِ عَبَّاسٍ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ أَنَّهُ ← كُرَيْبٍ، ← شَرِيكٌ: وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ -مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ- ← ابْنُ عَبَّاسٍ: يَحُجُّ مِنْ قَابِلٍ فَيَرْكَبُ مَا شَاءَ، وَيَمْشِي مَا شَاءَ وَيَرْكَبُ. ← أَبِي إِسْحَاقَ فِي الرَّجُلِ يَحْلِفُ بِالْمَشْيِ، فَيَعْجِزُ فَيَرْكَبُ، ← شَرِيکٍ ← يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ آدَمَ- ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ،

Hadith 3046

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3047

ثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ -مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ- عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: إِنَّ أُخْتِي جَعَلَتْ عَلَيْهَا الْمَشْيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ. فَقَالَ: "إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكَ شَيْئًا. قُلْ لَهَا فَلْتَحُجَّ رَاكِبَةً. وَلْتُكَفِّرْ يَمِينَهَا".

حضرت ابن عباسؓ بیان کرتےہیں کہ ایک شخص نبی کریمﷺکے پاس حاضر ہوا تو اس نے عرض کی: میری بہن نے بیت اللہ شریف تک ( حج کےلیے ) پیدل چلنے کی قسم کھائی ہے۔ تو آپ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ تمھاری بہن کی مشقت اور بدحالی کا کچھ نہیں کرےگا ( وہ بے نیاز ہے ) تم اپنی بہن سےکہو کہ وہ سواری پر بیٹھ کر حج کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے ۔"

إِنَّ أُخْتِي جَعَلَتْ عَلَيْهَا الْمَشْيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ. ← ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ ← كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدٍ -مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ- ← شَرِيکٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ،

Hadith 3047

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3048

ثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَا: ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِمَجْنُونَةِ بَنِي فُلَانٍ قَدْ زَنَتْ، أَمَرَ عُمَرُ بِرَجْمِهَا، فَرَدَّهَا عَلِيٌّ، وَقَالَ لِعُمَرَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! أَتَرْجِمُ هَذِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: أَمَا تَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ؛ عَنِ الْمَجْنُونِ الْمَغْلُوبِ عَلَى عَقْلِهِ. وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ. وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ". قَالَ: صَدَقْتَ، فَخَلَّى عَنْهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَفِيهِ دَلِيلٌ عِنْدِي عَلَى أَنَّ الْمَجْنُونَ إِذَا حُجَّ بِهِ فِي حَالِ جُنُونِهِ ثُمَّ أَفَاقَ لَمْ يُجْزِهِ كَالصَّبِيِّ.

حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ فلاں قبیلے کی ایک مجنون عورت کے پاس سے گزرے جس نے زنا کر لیا تھا اور حضرت عمرؓ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا تھا حضر تعلی ؓ نے اس عورت کو واپس بھیج دیا اور حضرت عمر سے کہا: اے امیر المومنین !کیا آپ اس عورت کو رجم کرنا چاہتے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا: ہاں۔ حضرت علی نے گزارش کی کیا آپ کو یاد نہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا ہے:"تین قسم کے افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے : مجنون شخص سے جس کی عقل وفہم ختم ہوجائے حتی کہ وہ صحت مند ہو جائے ۔ دوسرا وہ شخص جو سویا ہوا ہو حتی کہ وہ بیدار ہو جائے ، تیسرا وہ چھوٹا بچہ ہے حتی کہ وہ بالغ ہو جائے ۔ "حضرت عمرؓ نے فرمایا:آپ نے سچ کہا۔ پھر اس عورت کو رہا کر دیا ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : اس حدیث میں میرے نزدیک اس بات کی دلیل ہے کہ مجنون شخص جب اپنی حالت جنون میں حج کر لے پھر وہ تندرست ہو جائے تو اس کا یہ حج اسے کافی نہیں ہوگا ۔ جیسا کہ بچے کا بلوغت سے پہلے کیا ہوا حج فرض حج سے کافی نہیں ہوتا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي ظَبْيَانَ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَکَمِ ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Hadith 3048

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3049

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبًا، يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَدَرَ مِنْ مَكَّةَ، فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ اسْتَقْبَلَهُ رَكْبٌ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: "مَنِ الْقَوْمُ؟ " قَالُوا: الْمُسْلِمُونَ. فَمَنْ أَنْتُمْ؟ فَقَالَ: "رَسُولُ اللَّهِ". فَفَزِعَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُمْ، فَرَفَعَتْ صَبِيًّا لَهَا مِنْ مَخَفٍّ، فَأَخَذَتْ بِعَضَلِهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ لِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: "وَلَكِ أَجْرُهُ". قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، فَحَجَّ بِأَهْلِهِ أَجْمَعِينَ. وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، وَلَمْ يَقُلْ: فَفَزِعَتْ، وَقَالَ: فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: "نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ". وَقَالَ فِي كُلِّهَا: عَنْ. ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبًا، يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَدَرَ مِنْ مَكَّةَ، فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ اسْتَقْبَلَهُ رَكْبٌ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: "مَنِ الْقَوْمُ؟ " قَالُوا: الْمُسْلِمُونَ. فَمَنْ أَنْتُمْ؟ فَقَالَ: "رَسُولُ اللَّهِ". فَفَزِعَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُمْ، فَرَفَعَتْ صَبِيًّا لَهَا مِنْ مَخَفٍّ، فَأَخَذَتْ بِعَضَلِهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ لِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: "وَلَكِ أَجْرُهُ". قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، فَحَجَّ بِأَهْلِهِ أَجْمَعِينَ. وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، وَلَمْ يَقُلْ: فَفَزِعَتْ، وَقَالَ: فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: "نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ". وَقَالَ فِي كُلِّهَا: عَنْ.

حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺمکہ مکرمہ واپس روانہ ہوئے تو جب آپ روحاء مقام پر پہنچے تو آپ کی ملاقات ایک قافلے سے ہوئی ، آ پ نے انھیں سلام کیا اور پوچھا :"تم کون لوگ ہو ؟ "انھوں نے جواب دیا : ہم مسلمان ہیں ۔ پھر انھوں نے عرض کی: آپ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا:"میں اللہ کا رسول ہوں ۔" ان میں سے ایک عورت گھبراگئی اور اس نے اپنے بچے کو جھولے سے نکال کر بازو سے پکڑ کرک اوپر اٹھایا اور بولی : اے اللہ کے رسول! کیا اس بچے کا حج ہے ؟ آپ نے فرمایا:"( ہاں ہے ) اور تمھیں اس کا اجر ملے گا ۔"جناب ابراہیم بن عقبہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث ابن منکدر کو سنائی تو انھوں نے اپنے سب گھر والوں سمیت حج کیا۔ جناب سفیان کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں : وہ عورت گھبرا گئی اور وہ بولی : کیا اس کا حج ہے ؟ آپ نے فرمایا:"(ہاں ) اور تمھیں اس کا اجر ملے گا ۔"یہ الفا ظ بیان کیے ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← کُرَیْبًا یُخْبِرُ ← مِنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ عُقْبَۃَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Hadith 3049

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3050

ثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا حَجَّ الصَّبِيُّ فَهِيَ لَهُ حَجَّةٌ حَتَّى يَعْقِلَ، فَإِذَا عَقَلَ فَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى، وَإِذَا حَجَّ الْأَعْرَابِيُّ فَهِيَ لَهُ حَجَّةٌ، فَإِذَا هَاجَرَ فَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى". حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ وَأَبُو مُوسَى، قَالَا: ثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: بِمِثْلِهِ مَوْقُوفًا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا عِلْمِي هُوَ الصَّحِيحُ بِلَا شَكٍّ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ: وَإِذَا حَجَّ الْأَعْرَابِيُّ مِنَ الْجِنْسِ الَّتِي كُنْتُ أَقُولُ إِنَّهُ فِي بَعْضِ الْأَوْقَاتِ دُونَ جَمِيعِ الْأَوْقَاتِ. وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ إِنْ صَحَّتْ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنَّمَا كَانَ هَذَا الْحُكْمُ قَبْلَ فَتْحِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ، فَلَمَّا فَتَحَهَا وَخَبَّرَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ اسْتَوَى الْأَعْرَابِيُّ وَالْمُهَاجِرُ فِي الْحَجِّ، فَجَازَ عَنِ الْأَعْرَابِيِّ إِذَا حَجَّ، كَمَا يَجُوزُ عَنِ الْمُهَاجِرِ لِسُقُوطِ الْهِجْرَةِ وَبُطْلَانِهَا بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ.

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا:"جب بچہ حج کر لے تو بالغ ہونے تک اسی کا یہی حج کا فی ہے ۔ پھر جب بالغ ہو جائے تو اسے ایک اور حج کرنا پڑے گا اور جب بدوی حج کر لے تو وہ اس کا حج ہے ، پھر جب وہ ہجرت کر کے( مدینہ منورہ آجائے ) تو اس پر دوبارہ حج کرنا فرض ہے ۔"جناب ابوظبیان حضرت ابن عباسؓ سے ایسی ہی حدیث موقوف بیان کرتےہیں ۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں : میرے علم کے مطابق یہ موقوف حدیث ( حضرت ابن عباس کا ذاتی قول ) ہی صحیح ہے ، اور اس میں کوئی شک نہیں ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : یہ الفاظ کہ جب بدوی حج کر لے ( تو اس کا حج اسے ہجرت کرنے تک کافی ہوگا اور ہجرت کرنے کے بعد دوبارہ حج کرنا پڑے گا ) یہ مسئلہ اسی جنس سے ہے جس کے بارے میں میں کہتا ہوں کہ یہ حکم بعض اوقات کےلیے ہے ، تمام اوقات کےلیے نہیں ہے ۔ اگر یہ الفاظ نبی کریمﷺ سے ثابت ہوجائیں تو پھر یہ حکم نبی کریمﷺ کا مکہ فتح کرنے سے پہلے کےلیے ہے ۔ پھر جب مکہ مکرمہ کو آپ نے فتح کر لیا اور آپ نے بتا دیا کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت کرنے کی ضرورت نہیں ہے تو پھر حج کے حکم میں بدوی اور مہاجر برابر ہوگئے ۔لہٰذا بدوی جب حج کرے گا تو وہ اسے کافی ہوگا جیسا کہ مہاجر کا حج اسے کافی ہوتا ہے ۔ کیونکہ فتح مکہ کے بعد ہجرت کا حکم ختم ہو گیا ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي ظَبْيَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← بُنْدَارٌ

Hadith 3050

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3051

ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ التَّيْمِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: إِنَّا قَوْمٌ نُكْرِي فِي هَذِهِ الْوَجْهِ، وَإِنَّ قَوْمِي يَزْعُمُونَ أَنَّهُ لَا حَجَّ لَنَا. فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَلَسْتُمْ تَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ؟ أَلَسْتُمْ تَسْعَوْنَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ؟ أَلَسْتُمْ، أَلَسْتُمْ؟ إِنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُ مِثْلَ مَا سَأَلَتْنِي، فَلَمْ يَدْرِ مَا يَرُدُّ عَلَيْهِ، حَتَّى نَزَلَتْ (لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ) [البقرة: 198]. فَدَعَاهُ فَتَلَاهَا عَلَيْهِ، وَقَالَ: "أَنْتُمْ حُجَّاجٌ". ثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: بِهَذَا.

جناب ابوامامہ التیمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضر ت ابن عمرؓ سے عرض کیا: بے شک ہم لوگ سفر حج میں لوگوں کو کرائے پر سواریاں مہیا کرتے ہیں اور میری قوم کے لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا حج ادا نہیں ہوتا ( کیونکہ ہم کرائے پر دیے ہوئے اونٹوں کو چلاتے ہیں ) حضر ت ابن عمرؓ نے فرمایا: کیا تم بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے ہو؟ کیا تم صفا اور مروہ کی سعی نہیں کرتے ہو ؟ کیا تم حج کے فلاں فلاں اعمال ادا نہیں کرتے ہو؟ بے شک ایک شخص نبی کریمﷺ کے پاس آیا تو اس نے آپ سے ایسا ہی سوال پوچھا جیسا تم نے مجھ سے پوچھا ہے ۔ تو آپ ﷺ کو اس کا جواب معلوم نہ تھا حتی کہ یہ آیت نازل ہوگئی :(لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّکُمْ)(البقرہ:۱۹۸)"تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم ( حج کے دوران ) اپنے رب کا فضل تلاش کرو ۔ " چنانچہ آپ نے اس شخص کو بلایا اور اسے یہ آیت تلاوت کر کے سنائی، اور فرمایا:"تم بھی حاجی ہو ۔"

قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ ← أَبِي أُمَامَةَ التَّيْمِيِّ ← الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ

Hadith 3051

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3052

ثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ، ثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيِّ، -وَأَنَا بَرِيءٌ مِنْ عُهْدَتِهِ- عَنْ أَبِي أُمَامَةَ التَّمِيمِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

امام صاحب نے گزشتہ حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے

قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ. ← أَبِي أُمَامَةَ التَّمِيمِيِّ، ← الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيِّ، -وَأَنَا بَرِيءٌ مِنْ عُهْدَتِهِ- ← أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، ← الزَّعْفَرَانِيُّ،

Hadith 3052

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3053

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَجَّرْتُ نَفْسِي مِنْ قَوْمٍ فَتَرَكْتُ لَهُمْ بَعْضَ أُجْرَتِي أَوْ أَجْرِي وَتُخَلُّوا بَيْنِي وَبَيْنَ الْمَنَاسِكِ، فَهَلْ يُجْزِئُ ذَلِكَ عَنِّي؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَعَمْ. هَذَا مِنَ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ: (أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ) [البقرة: 202].

جناب سعید بن جبیر ؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضر ت ابن عباسؓ کے پاس حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: میں نے ایک قوم کی مزدوری کےلیے اپنا آپ کو پیش پھر میں نے اپنی مزدوری یا ساری مزدوری اس شرط پر چھوڑ دی کہ وہ مجھے مناسک حج ادا کرنے کی اجازت دیں گے ، تو کیا میرا یہ حج میرے لیے کافی ہوگا؟ تو حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا: ہاں یہ شخص ان لوگوں میں سے ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(اُوْلٓئِکَ لَھُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا کَسَبُوْا وَاللہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ)(البقرہ :۲۰۲) "انھی لوگوں کے لیے ان کی کمائی کا حصہ ہے اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے ۔""

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Hadith 3053

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3054

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ مَسْعَدَةَ- ثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّاسَ كَانُوا فِي أَوَّلِ الْحَجِّ يَتَبَايَعُونَ بِمِنًى وَعَرَفَةَ وَسُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَمَوَاسِمِ الْحَجِّ، فَخَافُوا الْبَيْعَ وَهُمْ حُرُمٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ (لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ) [البقرة: 198] فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ، فَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُهَا فِي الْمُصْحَفِ.

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ لوگ پہلے حج میں منیٰ عرفہ اور ذی المجاز بازار میں موسم حج میں خریدوفروخت کرتے تھے ، پھر وہ ڈر گئے کہ وہ حالت احرام میں خریدوفروخت کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی :(لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّکُمْ)تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل موسم حج میں تلاش کرو ۔ جناب عبید بن عمیر بیان کرتےہیں کہ حضرت ابن عباسؓ فی مواسم الحج ( حج کے موسم میں) یہ الفاظ آیت کے ساتھ قرآن مجید میں تلاوت کرتے تھے ۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ مَسْعَدَةَ- ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Hadith 3054

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3055

ثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ. ح وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَقْرَأُهَا: (لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ) فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ.

جناب عبید اللہ بن ابی یزید بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن زبیر ؓ کو یہ آیت اس طرح پڑھتے ہوئےسنا: لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبُعغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّکُمْ فِیْ مَوَاسِمِ الْحَجِّ۔تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم موسم حج میں اپنے رب کا فضل تلاش کرو ۔

عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ. ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← بُنْدَارٌ

Hadith 3055

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3056

ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ رَاهِبُ الْكُوفَةِ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ؛ ح وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ، ثَنَا زَيْدٌ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَجَّ ثَلَاثَ حِجَجٍ حَجَّتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ، وَحَجَّةً بَعْدَمَا هَاجَرَ، مَعَهَا عُمْرَةٌ. وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى: وَحَجَّةً قَرَنَ مَعَهَا عُمْرَةً.

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے تین حج ادا کیے ہیں دو حج ہجرت سے پہلے کیے تھے اور ایک حج ہجرت کے بعد کیا تھا اور اس کے ساتھ عمرہ بھی تھا ۔ جناب احمد بن یحییٰ کی روایت میں ہے: اور ایک وہ حج جس کے ساتھ آپ نے عمرہ بھی ملایا تھا ( اور ہجرت مدینہ کے بعد کیا تھا ّ)۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← زيد1 ← وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ رَاهِبُ الْكُوفَةِ،

Hadith 3056

chevron_left Previous
1…45464748
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals