Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3021

حدثناه محمد بن يحيى ثنا موسى بن إسماعيل و رواه يزيد بن هارون ثنا جرير بن حازم ثنا يزيد بن رومان عن عروة عن عائشة : أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لها فذكر الحديث فقال قال يزيد : قد شهدت ابن الزبير حين هدمه حدثناه الزعفراني حدثنا يزيد قال أبو بكر : فرواية يزيد بن هارون دالة على أن يزيد بن رومان قد سمع الخبر منهما جميعا

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریمﷺ نے انھیں فرمایا: پھر مکمل حدیث بیان کی جناب یزید کہتے ہیں : جب حضرت ابن زبیر ؓ نے بیت اللہ شریف کو گرایا تو میں بھی وہاں موجود تھا ۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں : یزید بن ہارون کی روایت اس بات کی دلیل ہے کہ یزید بن رومان نے یہ حدیث حضرت عبداللہ بن زبیر اور عروہ بن زبیر دونوں سے سنی ہے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← موسى بن إسماعيل و رواه يزيد بن هارون ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Hadith 3021

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3022

ثنا محمد بن يحيى ثنا عبد الرازق عن معمر عن ابن خشيم عن أبي الطفيل قال : كانت الكعبة في الجاهلية مبينة بالرضم ليس فيه مدر و كانت قدر ما يقتحمه العناق فذكر الحديث بطوله في قصة بناء الكعبة و قال : فلما كان جيش الحصين بن نمير فذكر حريقها في زمن ابن الزبير فقال ابن الزبير : إن عائشة أخبرتني أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : لولا حداثة قومك بالكفر لهدمت الكعبة فإنهم تركوا منها سبعة أذرع في الحجر ضاقت بهم النفقة و الخشب و قال ابن خثيم و أخبرني ابن أبي ملكية عن عائشة أنها سمعت ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم ذكر قصة طويلة

حضرت ابوطفیل ؓ بیان کرتےہیں کہ جاہلیت میں بیت اللہ شریف خالص پتھروں کے ساتھ تعمیر کیا ہوا تھا اس میں گارا و غیرہ نہیں لگایا گیا تھا ۔ اور اس کی اونچائی صرف اتنی تھی کہ بکری کا بچہ پھلانگ سکتا تھا ۔ پھر انھوں نے کعبہ شریف کی تعمیر کے بارے میں مکمل حدیث بیان کی ۔ اور فرمایا: جب حصین بن نمیر کا لشکر حملہ آور ہوا اور اس نے حضرت ابن زبیر ؓ کے عہد حکومت میں بیت اللہ شریف کو جلا دیا تو حضرت ابن زبیر ؓ نے فرمایا:ف بے شک عائشہ ؓ نے مجھے بتایا ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: " اگر تمھاری قوم نئی نئی کفر سے نہ نکلی ہوتی تو میں کعبہ شریف کو گرا دیتا اور نئی تعمیر میں حطیم کو شامل کر دیتا ) کیونکہ قریش کے پا س خرش اور لکڑی کم ہوگئی تھی تو انھوں نے حطیم کا سات ہاتھ حصہ تعمیر سے نکال دیا تھا ۔ "جناب ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں : حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہﷺسے سنا، پھر طویل قصہ بیان کیا۔

أَبِي الطُّفَيْلِ، ← ابن خشيم ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّازَّقِ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Hadith 3022

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3023

ثنا الفضل بن بن يعقوب الجزري ثنا ابن بكر يعني محمد ـ أخبرني ابن جريح قال سمعت عبد الله بن عبيد بن عمير و الوليد بن عطاء عن الحارث بن عبد الله بن أبي ربيعة قال قال عبد الله بن عبيد بن عمير : وقد الحارث بن عبد الله بن مروان في خلافته فقال عبد الملك : ما أظن أبا خبيب ـ يعني ابن الزبير ـ سمع من عائشة ما كان يذكر أنه سمعه منها قال الحارث : بلى أنا سمعته منها قال : سمعتها تقول ماذا ؟ قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن قومك استقصروا من بنيان البيت و إني لولا حداثة عهدهم بالشرك أعدت ما تركوا منه فإن بدأ لقومك من بعدي أن يبنوه فهلمي فلأريك ما رتكوا منه فأراها قريبا من سبعة أذرع هذا حديث عبد الله بن عبيد و ذكر الحديث بطوله

جناب عبداللہ بن عبید عمیر بیان کرتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان کے عہد حکومت میں حارچ بن عبداللہ ان کے پاس ایک قاصد کی حیثیت سے حاضر ہوئے تو عبدالملک نے کہا: میرا خیال نہیں کہ حضرت ابوخبیب عبداللہ بن زبیر نے حضرت عائشہ ؓ سے وہ حدیث سنی ہوگی جس کا وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے سنی ہے ، حارث کہتے ہیں: کیوں نہیں وہ حدیث تو میں نے بھی اماں جی سے سنی ہے اس نے پوچھا : تم نے عائشہ ؓ کو کیا فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ اماں جی فرماتی ہیں : رسول اللہﷺنے فرمایا:"بے شک تیری قوم نے بیت اللہ بنیادوں کو چھوٹا کر دیا تھا ( کیونکہ ان کے پاس خرچ کرنے کےلیے حلال مال ختم ہوگیا تھا) اور اگر یہ لوگ نئے نئے شرک سے نکل کر مسلمان نہ ہوئے ہوئے تو بے شک میں ان کا چھوڑا ہوا حصہ دوبارہ تعمیر کر ادیتا لہٰذا اگر میرے بعد تیری قوم اس حصے کو بیت اللہ شریف کی بنیادوں میں شامل کرنے کا ارادہ کرے تو آؤ میں تمھیں وہ جگہ دکھا دوں جو انھوں نے بیت اللہ سے نکال دی تھی ۔ تو آپ نے اماں جی کو تقریباً سات ہاتھ جگہ دکھائی ۔ یہ روایت عبداللہ بن عبید کی ہے ۔ انھو ں نے مکمل قصہ بیان کیا تھا ۔

الحارث بن عبد الله بن أبي ربيعة ← عبد الله بن عبيد بن عمير و الوليد بن عطاء ← ابْنُ جَرِیحٍ، ← ابن بكر يعني محمد ← الفضل بن بن يعقوب الجزري

Hadith 3023

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3024

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ؛ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَلَقَ رَأْسَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَ: وَكَانَ النَّاسُ يَحْلِقُونَ فِي الْحَجِّ، ثُمَّ يَعْتَمِرُونَ عِنْدَ النَّفَرِ. فَيَقُولُ: مَا يَحْلِقُ هَذَا؟ فَنَقُولُ لِأَحَدِهِمْ: أَمِرَّ الْمُوسَى عَلَى رَأْسِكَ.

حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺنےحجۃ الوداع میں اپنے سر کے بال منڈوائے تھے ۔ جناب ابن جریج کہتے ہیں : لوگ حج کے موقع پر سر کے بال منڈواتے تھے ، پھر منیٰ سے واپس روانہ ہوتے وقت عمرہ ادا کرتے تھے تو کہتے : اب یہ کیا منڈے گا ؟ تو ہم ایک دوسرے سے کہتے : اپنے سر پر استرا پھیر لو

نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عِيسَى؛ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ

Hadith 3024

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3025

ثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا أَشْهَبُ، أَنَّ اللَّيْثَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْمَرَ عَائِشَةَ مِنَ التَّنْعِيمِ فِي ذِي الْحِجَّةِ.

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے حضرت عائشہؓ کو ذوالحجہ ہی میں مقام تنعیم سےعمرہ کروایا تھا۔

جَابِرٍ ← أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ ← أَشْهَبُ، أَنَّ اللَّيْثَ ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Hadith 3025

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3026

ثَنَا يُونُسُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْمَرَ عَائِشَةَ مِنَ التَّنْعِيمِ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ.

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت عائشہؓ کو وادی محصب میں قیام والی رات تنعیم مقام سے عمرہ کروایا

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← اللَّيْثِ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 3026

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3027

ثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَا: ثَنَا حُسَيْنٌ، قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: ابْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: ثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَالْقَاسِمِ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ؛ ح وَثَنَا الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ؛ وَعَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَفِي حَدِيثِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيَصْدُرُ النَّاسُ بِنُسُكَيْنِ وَأَصْدُرُ بِنُسُكٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ: "انْتَظِرِي، فَإِذَا طَهُرْتِ فَاخْرُجِي إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَهِلِّي مِنْهُ، ثُمَّ الْقِنَا بِجَبَلِ كَذَا وَكَذَا"، قَالَ: أَظُنُّهُ قَالَ: كُدًى، "وَلَكِنَّهَا عَلَى قَدْرِ نَصَبِكِ أَوْ قَدْرِ نَفَقَتِكِ" أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَفِي خَبَرِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ: "وَلَكِنَّهُ [296 - ب] عَلَى قَدْرِ نَفَقَتِكِ وَنَصَبِكِ"، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! لوگ دو دو نیک اعمال( حج اور عمرہ) اد اکر کے جارہے ہیں اور میں ایک ہی عمل ادا کر کے واپس جاؤں گی؟ آپ نے فرمایا: "انتظار کرو جب تم حیض سے پا ک ہو جاؤ تو مقام تنعیم چلی جانا ، وہان سے عمرے کا احرام باندھ کر عمرہ ادا کر لینا پھر فلاں فلاں پہاڑ کے پاس ہمیں مل جانا ۔"جناب قاسم کہتے ہیں : میرے خیال میں کدیٰ پہاڑ کا نام لیا تھا ۔ "لیکن تمھیں اس عمرے کا ثواب تمھاری مشقت اور خرچے کا حساب سے ہوگا ۔"یا جیسا رسول اللہﷺنےفرمایا۔ جناب حسین بن حسن کی روایت میں ہے: "لیکن تمھیں اس عمرے کا ثواب اتنا ہی ملے گا جتنا تم اس سفر میں خرچ کرو گی اور جتنی مشقت برداشت کرو گی ۔ "یا جیسا رسول اللہﷺ نے فرمایا۔

عَائِشَةَ ← أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، ← أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ؛ وَعَنِ الْقَاسِمِ، ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← وَثَنَا الدَّوْرَقِيُّ، ← أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، ← إِبْرَاهِيمَ وَالْقَاسِمِ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← الزَّعْفَرَانِيُّ: ابْنُ الْحَسَنِ، ← حُسَيْنٌ ← أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ،

Hadith 3027

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3028

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى، ثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ؛ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِحَجَّةٍ فَلْيُهِلَّ، فَلَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ". فَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ. فَحِضْتُ قَبْلَ أَنْ أَدْخُلَ مَكَّةَ فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہﷺکے ساتھ ذوالحجہ کے شروع میں ( سفر حج کےلیے ) نکلے ۔ تو رسول اللہﷺنے فرمایا:"جو شخص صرف عمرے کا تلبیہ کہنا چاہے تو وہ صرف عمرے کا تلبیہ پکارے ، اور جو حج کا احرام باندھنا چاہے تو وہ باندھ لے ، اگر میں قربانی کا جانور ساتھ لے کر نہ آتا تو میں بھی عمرے کا تلبیہ پکارتا ۔" لہٰذا کچھ صحابہ کرام نے عمرے کا احرام باندھا اور کچھ نے حج کا احرام باندھا ۔ پھر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی مجھے حیض شروع ہوگیا پھر عرفہ کے دن تک میں حائضہ ہی رہی ۔ میں نے اس کی شکایت رسول اللہﷺ سے کی تو آپ نے فرمایا:"اپنے عمرے کے اعمال چھوڑ دو اور سر کے بال کھول کر کنگھی کر لو اور پھر حج کا احرام باندھ لو ۔ "پھر جب وادی محصب والی رات آئی تو آپ نے میرے ساتھ حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ کو تنعیم بھیجا ۔ انھوں نے مجھے اپنے پیچھے اونٹ پر سوار کر لیا ۔ تو میں نے اپنے عمرے کی جگہ وہاں سے عمرے کا احرام باندھا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اماں جی عائشہ کا حج اور عمرہ دونوں مکمل کر ا دیے لیکن اس میں ( بطور کفارہ ) کوئی قربانی ، روزے یا صدقہ نہیں دینا پڑا ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : نبی کریمﷺکے حج کے بارے میں مختلف روایات کو باہم متفق اور متحد کرتے وقت میں نےیہ مسئلہ بیان کیا تھا کہ حضرت عائشہ ؓ نے اپنے عمرے کے اعمال صرف اس لیے چھوڑ ے تھے کہ وہ حیض کی وجہ سے بیت اللہ شریف کا طواف نہیں کر سکتی تھیں ، اس کا مطلب یہ نہیں کہ انھوں نے عمرہ فسخ کر دیا تھا ۔ میں نے اسی مقام پر یہ بھی بیان کیا تھا کہ نبی کریمﷺ کا یہ فرمان: تمھارا ایک ہی طواف تمھیں تمھارے حج اور عمرے کےلیے کافی ہوگا ۔ یہ اس با ت کی دلیل ہے کہ انھوں نےعمرہ ترک نہیں کیا تھا بلکہ انھوں نے حیض آنے کی وجہ سے عارضی طور پر اس کے اعمال اد اکرنے چھوڑ دیے تھے کیونکہ ان کےلیے حیض کی وجہ سے طواف کرنا ممکن نہیں تھا۔ اور میں نے یہ بھی بیان کر دیا تھا کہ حدیث کے یہ الفاظ :"اس سلسلے میں انھیں کوئی قربانی ، روزے یا صدقہ نہیں دینا پڑا"اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ حج کے بعد جو عمرہ ادا کیا تھا اس میں کوئی قربانی ، روزے یا صدقہ نہیں کیا تھا ۔ اس تاویل کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کے تنعیم سے ادا کرنے والے اس عمرے سے پہلے نبی کریم نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے گائے کی قربانی کی تھی ۔ کیا آپ نے اماں جی کی یہ کلمات نہیں سنے : پھر جب قربانی کا دن آیا تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا ۔ ہم نے پوچھا : یہ کیسا گوشت ہے؟ انھیں بتایا گیا کہ نبی کریمﷺنے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی ہے۔ اس طرح اماں جی نے بتا دیا کہ ان کے عمرہ تنعیمسے پہلے ان کے حج میں قربانی کی گئی تھی ۔ جناب محمد بن عبالرحمٰن بن نوفل کی روایت کے آخر میں ہے : حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں : آپ نے یعنی نبی کریمﷺنے فرمایا:(اپنے بھائی) عبدالرحمٰن کےساتھ تنعیم چلی جاؤ او روہاں سے اپنے عمرے کا احرام باندھ لو ، تو میں نے ایسے ہی کیا پھر کوئی قربانی بھی نہیں کی۔

حَائِضٌ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ ← خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ ← أَبِي أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Hadith 3028

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3029

ثناه محمد بن عمر و بن تمام ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير حدثني ميمون بن مخرمة عن أبيه قال و سمعت محمد بن عبد الرحمن بن نوفل يقول سمعت هشام بن عروة يحدث عن عروة يقول سمعت عائشة : فذكر قصة طويلة و ذكر هذا الكلام الذي ذكرت في آخر الخبر قال و قال سمعت محمد بن عبد الرحمن يحدث عن عروة عن عائشة أنها حدثتهم عن عمرتهم بعد الحج مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت : حضت فاعتمرت بعد الحج ثم لم أصم و لم أهد قال أبو بكر : فهذا الخبر يبين أنها أرادت أنها لم تصم و لم تهد بعد تلك العمرة التي اعتمرت من التنعيم لا قبلها

حضرت عروہ نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عائشہؓ کو فرماتے ہوئ سنا ۔ پھر پورا قصہ بیان کیا ۔ اور پھر قصے کے آخر میں مذکورہ بالا کلام ذکر کی ۔ جناب محمد بن عبدالرحمٰن حضر ت عروہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضر ت عائشہ ؓ نے انھیں اپنے عمرے کے بارے میں بتایا جو انھوں نےرسول اللہﷺکے ساتھ حج ادا کرنے کےبعد ادا کیا تھا ۔ اماں جی فرماتی ہیں : مجھے حیض آگیا تو میں نے حج کے بعد اپنا عمرہ ادا کیا ، پھر میں نے نہ روزے رکھے اور نہ قربانی کی ۔ا مام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : یہ روایت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ اماں جی کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے تنعیم سے عمرہ ادا کرنے کے بعد ( بطور کفارہ ) نہ روزے رکھے تھے اور نہ قربانی کی تھی ، حج سے پہلے والا عمرہ مراد نہیں ہے ۔

حضت فاعتمرت بعد الحج ثم لم أصم و لم أهد ← عمرتهم بعد الحج مع رسول الله ← عائشة أنها حدثتهم ← عُرْوَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← و، ← هذا الكلام الذي ذكرت في آخر الخبر ← قصة طويلة و ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← و، ← أَبِيهِ ← ميمون بن مخرمة ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← ثناه محمد بن عمر و بن تمام

Hadith 3029

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3030

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ، عَلَيْهِ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ، وَهُوَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَحُجِّي عَنْهُ".

حضرت فضل ؓ سے روایت ہے کہ خثعم قبیلے کی ایک عورت نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول میرا والد بوڑھا آدمی ہے اور اس پر اللہ کا فریضہ حج فرض ہے لیکن وہ اونٹ پر بیٹھنے کی طاقت نہیں رکھتا ، تو نبی کریمﷺنے فرمایا:"تم اس کی طرف سے حج کر دو ۔"

الْفَضْلِ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عِيسَى؛ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ

Hadith 3030

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3031

ثنا عيسى بن إبراهيم ثنا ابن وهب أخبرني مالك و يونس و الليث و ابن جريح عن ابن شهاب عن سليمان بن يسار أن عبد الله بن عباس أخبره قال : كان الفضل بن عباس رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتت رسول الله صلى الله عليه وسلم إمرأة من خثعم تستفتيه فجعل الفضل ينظر إليها و تنظر إليه فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يصرف وجه الفضل بيده إلى الشق الآخر قالت : يا رسول الله إن فريضة الله في الحج أدركت أبي شيخا لا يستطيع أن يثبت على الراحلة أفأحج عنه ؟ قال : نعم و ذلك في حجة الوداع بعضهم يزيد على بعض قال الليث : و حدثنيه ابن شهاب عن سليمان أو أبي سلمة أو كليهما عن ابن عباس

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت فضل بن عباسؓ رسول اللہﷺکےپیچھے اونٹ پر سوار تھے اس دوران خثعم قبیلے کی ایک عورت رسول الہﷺ کے پاس مسئلہ پوچھنے کےلیے آئی ، حضرت فضل نے اس عورت کو دیکھنا شروع کر دیا اور وہ عورت بھی حضرت فضل کو دیکھنے لگی اور رسول اللہﷺنے حضرت فضل کا چہرہ اپنے دست مبارک سے دوسری طرف پھیر دیا ، اس عورت نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نےجو اپنے بندوں پر حج فرض کیا ہے تو ایسے وقت میں میرے والد بہت بوڑھے ہوچکے ہیں جبکہ وہ سواری پر بیٹھنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے ۔ تو کیا میں اس کی طرف سے حج ادا کردوں ؟ آپ نےفرمایا: "ہاں۔"یہ واقعہ حجۃ الوداع کا ہے ۔ بعض راوی دوسرے سے کچھ زیادہ الفاظ روایت کرتے ہیں ۔

سليمان بن يسار أن عبد الله بن عباس ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مالك و يونس و الليث و ابن جريح ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Hadith 3031

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3032

ثنا عبد الجبار بن العلاء ثنا سفان قال سمعت الزهري ح و ثنا المخزومي ثنا سفيان ح و ثنا علي بن خشرم أخبرنا ابن عيينة عن الزهري عن سليمان بن يسار عن ابن عباس : أن امرأة من خثعم سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم غداة النحر و الفضل ردفه فقالت : يا رسول الله إن فريضة الله في الحج على عباده أدركت أبي شيخا كبيرا لا يستطيع أن يستمسك على الراحلة هل ترى أن أحج عنه ؟ قال : نعم و قال المخزومي : غداة جمع و قال : أن أحج عنه ؟ و لم يقل : و الفضل ردفه و لفظ ابن خشرم في المتن مثل حديث عبد الجبار غير أنه قال : أفأحج عنه قال : نعم

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ قربانی والے دن کی صبح کو خثعم قبیلے کی ایک عورت نے رسول اللہﷺسے پوچھا ، جبکہ حضرت فضل ؓ آپ کے پیچھے سواری پر سوار تھے اس نےعرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر فریضہ حج میرے بوڑھے والد پر فرض ہو چکا ہے لیکن وہ سواری پر جم کر بیٹھنے کی اسطاعت نہیں رکھتا ، آپ کیا حکم دیتے ہیں ، کیا میں ان کی طرف سے حج اد اکردوں ؟ آپ نے فرمایا: "ہاں ۔"جناب مخزومی کی روایت میں ہے: مزدلفہ کی صبح ۔ اور کہا کہ میں ان کی طرف سے حج ادا کر دوں اور یہ روایت نہیں کیے : حضرت فضل آپ کے پیچھے سوار تھے ۔ جناب علی بن خشرم کی روایت کا متن جناب عبدالجبار کی روایت جیسا ہی ہے صرف یہ فرق ہے: کیا میں اس کی طرف سے حج ادا کر وں ؟ آ پ نے فرمایا:"ہاں۔"

سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← و، ← سُفْيَانَ، ← المخزومي ← و، ← الزُّهْرِيِّ، ← سفان ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Hadith 3032

chevron_left Previous
1…434445…48
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals