Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2985

ثنا محمد بن يحيى ثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن الزهري عن علي بن حسين عن عمرو بن عثمان عن أسامة بن زيد قال : قلت يا رسول الله أين تنزل غدا و ذلك في حجته ـ قال : و هل ترك لنا عقيل منزلا ؟ ثم قال : نحن نازلون غدا بخيف بن كنانة حيث قاسمت قريش على الكفر و ذلك أن بني كنانة حالفت قريشا على بني هاشم أن لا يناكحوهم و لا يبايعوهم و لا يؤووهم قال معمر قال الزهري : و الخيف الوادي قال ثم قال : لا يرث الكافر المسلم و لا المسلم الكافر

حضرت اسامہ بن زیدؓ بیان کرتےہیں کہ میں نے حجۃ الوداع میں عرض کی: اے اللہ کے رسول! کل آپ مکہ مکرمہ میں کہاں تشریف فرما ہوں گے ، آپ نے فرمایا:"کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی مکان چھوڑا بھی ہے ؟ "پھر فرمایا:"ہم کل خیف بنی کنانہ میں اتریں گے جہاں قریش نے کفر پر اتحاد کی قسمیں کھائی تھیں ۔ اور وہ اس طرح کہ بنو کنانہ اور قریش نے بنی ہاشم کے خلا ف آپ میں یہ عہد کیا تھا کہ ان کے ساتھ نہ نکاح کریں گے اور نہ خریدوفروخت کریں گے اور نہ انھیں پناہ دیں گے ۔"امام زہری ؒ فرماتے ہیں : خیف ایک وادی ہے ۔ پھر آپ نے فرمایا:"کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہے اور نہ کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث بنے گا۔"

قُلْتُ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2985

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2986

ثنا بخبر ابن رافع الذي ذكرت نصر بن علي الجهضمي و عبد الجبار بن العلاء و علي بن خشرم قال عبد الجبار ثنا سفيان و قال نصر : أخبرنا سفيان بن عيينة و قال ابن خشرم أخبرنا ابن عيينة عن صالح بن كيسان عن سليمان بن يسار عن أبي رافع قال : ضربت قبة رسول الله صلى الله عليه وسلم بالأبطح و لم يأمرني أن أنزل الأبطح فجاء فنزل هذا حديث نصر و قال علي قال أبو رافع : لم يأمرني أن أنزل الأبطح و إنما جئت فضربت قبته فجاء فنزل و قال عبد الجبار : لم يأمرني النبي صلى الله عليه وسلم أن أضرب قبته إنما ضربت قبة النبي صلى الله عليه وسلم بالأبطح فنزل و زاد عبد الجبار قال : و كان أبو رافع عل ثقل و كان النبي صلى الله عليه وسلم منزله حين جاء من المدينة بأعلى مكة قال أبو رافع :

حضرت ابورافع بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کا خیمہ وادی ابطح میں لگا دیا ۔ آپ نے مجھے وادی ابطح میں اترنے کا حکم نہیں دیا تھا پھر آپ تشریف لائے تو آپ اس خیمے میں فروکش ہوئے ہی روایت جناب نصر کی ہے اور جناب علی بن خشرم کی روایت میں ہے : حضرت ابورافع ؓ فرماتے ہیں : آپ نے مجھے وادی ابطح میں اترنے کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ میں خود ہی آیا تو میں آپ کا خیمہ لگا دیا ۔ پھر آپ بھی تشریف لے آئے اور خیمے میں فروکش ہوگئے ۔ جناب عبدالجبار کی روایت میں ہے : نبی کریمﷺنے مجھے خیمہ نصب کرنے کا حکم نہیں دیا تھا ۔ بلکہ میں نے خود ہی وادی ابطح میں نبی کریمﷺکا خیمہ لگا دیا تو آپ اس میں تشریف فرما ہوگئے ۔ جناب عبدالجبار نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زیادہ کیے ہیں : اور حضرت ابورافع ؓ آپ کے سامان کے نگران تھے اور نبی اکرمﷺ جب مدینہ منورہ سے تشریف لائے تھے تو آپ نے مکہ مکرمہ کی بالائی جانب قیام کیا تھا ۔ حضرت ابورافع ؓ بیان کرتےہیں : پس میں وادی ابطح میں آیا تو میں نے آپ کا خیمہ لگا دیا ۔ پھر آپ بھی آگئے اور اس میں تشریف فرما ہوگئے ۔

أَبِي رَافِعٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← ابْنُ خَشْرَمٍ ← سفيان بن عيينة و ← نَصْرٌ ← سفيان و ← عَبْدُ الْجَبَّارِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2986

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2987

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى، ثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّمَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُحَصَّبَ لِيَكُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ، فَمَنْ شَاءَ نَزَلَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ.

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺوادی ابطح میں صرف اس لیے اترے تھے کیونکہ یہاں سے ( مدینہ منورہ ) روانہ ہونا آسان تھا لہٰذا جو شخص چاہے اس وادی میں اترے اور جو چاہے نہ اترے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِي ← هِشَامٍ ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2987

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2988

ثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ [293 - ب]: نُزُولُ الْمُحَصَّبِ لَيْسَ مِنَ السُّنَّةِ، إِنَّمَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيَكُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهَا: (لَيْسَ مِنَ السُّنَّةِ) تُرِيدُ لَيْسَ مِنَ السُّنَّةِ الَّتِي يَجِبُ عَلَى النَّاسِ الِائْتِمَامُ بِفِعْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ كُلُّ مَا فَعَلَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنْ كَانَ مِنْ فِعْلِ الْمُبَاحِ- فَقَدْ يَقَعُ عَلَيْهِ اسْمُ السُّنَّةِ، أَيْ أَنَّ لِلنَّاسِ الِاسْتِنَانَ بِهِ إِذْ هُوَ مُبَاحٌ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِمْ أَنْ يَفْعَلُوا ذَلِكَ الْفِعْلَ.

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں ۔ وادی محصب میں قیام کرنا سنت نہیں ہے ، رسول اللہﷺنے اس وادی میں صرف اس لیے قیام کیا تھا کہ یہ آپ کی روانگی کےلیے آسان جگہ تھی ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : عائشہ ؓ کا یہ فرمان وادی محصب میں قیام کرناسنت نہیں ہے ۔ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ ایسا قیام کرنا سنت نہیں ہے ۔ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ ایسا فعل نہیں ہے کہ جس کی اقتداء کرنا لوگوں کےلیے واجب ہو ۔ کیونکہ نبی اکرمﷺ کے تمام افعال اگرچہ وہ مباح ہی ہوں ان پرسنت کا لفظ تو بولا جاتا ہے ۔ یعنی لوگ اس سنت کی پیروی کر سکتے ہیں کیونکہ یہ مباح ہے لیکن ان پر یہ فعل واجب نہیں ہے ( کہ اس کا م کو نہ کرنے والا گناہ گار ہو جائے یا اس پر کفارہ واجب ہو جائے ) ۔"

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2988

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2989

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ عَلِيٌّ: أَخْبَرَنَا. وَقَالَ الْآخَرُونَ، ثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: لَيْسَ الْمُحَصَّبُ بِشَيْءٍ، إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ: لَيْسَ الْمُحَصَّبُ بِشَيْءٍ، أَرَادَ لَيْسَ بِشَيْءٍ يَجِبُ عَلَى النَّاسِ نُزُولُهُ، فَنَفَى اسْمَ الشَّيْءِ عَنْهُ عَلَى الْمَعْنَى الَّذِي تَرْجَمْتُ الْبَابَ، إِذِ الْعِلْمُ مُحِيطٌ أَنَّ نُزُولَ الْمُحَصَّبِ فِعْلٌ وَاسْمُ الشَّيْءِ وَاقِعٌ عَلَى الْفِعْلِ، وَإِنْ كَانَ الْفِعْلُ مُبَاحًا، لَا وَاجِبًا.

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ وادی محصب میں اترنا کوئی ضروری چیز نہیں ہے ۔ بلکہ یہ تو ایک اتفاقی منزل ہے جہاں رسول اللہﷺ تشریف فرما ہوئے تھے ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : حضرت ابن عباسؓ کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ وادی محصب میں اترنا لوگوں پر واجب نہیں ہے ۔ اس طرح انھوں نے ایک چیز کی نفی کی ہے ( اگرچہ وہ مباح ہے ) جیسا کہ میں نے اس باب کے عنوان میں ذکر کیا ہے کیونکہ یہ یقینی بات ہے کہ وادی محصب میں ٹھہرنا ایک فعل ہے اور اس فعل پر وادی کا نام محصب واقع ہوا ہے ( جس کی نفی کی گئی ہے کہ محصب کوئی چیز نہیں۔) اگرچہ یہ فعل مباح ہے واجب نہیں ہے

ابْنِ عَبَّاسٍ: لَيْسَ الْمُحَصَّبُ بِشَيْءٍ، إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ ← عَطَاءٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْآخَرُونَ ← عَلِيٍّ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2989

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2990

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ، قَالُوا: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ يَنْزِلُونَ الْأَبْطَحَ.

حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ، حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان ؓ یہ سب حضرت وادی ابطح میں اترتے تھے ۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ يَنْزِلُونَ الْأَبْطَحَ. ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2990

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2991

وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ، قَالُوا: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَهُ.

حضرت ابن عمرؓ سے مذکورہ روایت کی طرح مروی ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ مِثْلَہُ۔ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2991

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2992

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَنَسٍ، مِنْ هَذَا الْبَابِ قَدْ أَمْلَيْتُهُ قَبْلُ.

امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : حضرت انس کی روایت اسی باب کے متعلق ہے ، میں اسے اس سے پہلے لکھوا چکا ہوں ( کہ نبی اکرمﷺ نے ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کی نمازیں وادی محصب میں اد ا کیں اور پھر کچھ دیر سو گئے ۔)

أَنَسٍ، مِنْ هَذَا الْبَابِ قَدْ أَمْلَيْتُهُ قَبْلُ. ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ الثَّوْرِيِّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2992

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2993

وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ (1) بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَزَلَ الْبَطْحَاءَ عَشِيَّةَ النَّفَرِ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانَا يَفْعَلَانِهِ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ حَتَّى هَلَكَ، فَصَلَّى بِهَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ. ثَنَا الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ.

حضر ت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ ( منیٰ سے ) روانگی والے دن دوپہر کے بعد وادی بطحا میں اترے ۔ حضرت ابوبکر اور عمرؓ بھی اسی طرح کرتے تھے ۔ حضرت ابن عمرؓ تاحیات اسی طرح کیا کرتے تھے ۔ آپ نے وادی بطحا میں ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں۔"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2993

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2994

ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِالْأَبْطَحِ صَلَاةَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ. وَخَبَرُ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ مِنْ هَذَا الْبَابِ.

حضرت ابوجحفیہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکو دیکھا کہ آپ نے وادی ابطح میں نماز عصر کی دو رکعات اد اکیں ۔ حضرت انس ؓ کی حدیث بھی اسی باب کے متعلق ہے ۔

أَنَسٍ مِنْ هَذَا الْبَابِ. ← قَتَادَةَ ← رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى بِالْأَبْطَحِ صَلَاةَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ. وَخَبَرُ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٍ ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2994

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2995

ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا وَكِيعٌ، ثَنَا سُفْيَانُ، ثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْأَبْطَحِ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَاءَ، قَالَ: فَخَرَجَ بِلَالٌ بِفَضْلِ وَضُوئِهِ فَبَيْنَ نَاضِحٍ وَنَائِلٍ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ، فَكُنْتُ أَتَتَبَّعُ فَاهُ، هَكَذَا وَهَكَذَا، يَعْنِي يَمِينًا وَشِمَالًا قَالَ: ثُمَّ رُكِزَتْ لَهُ عَنَزَةٌ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ لَهُ حَمْرَاءُ أَوْ حُلَّةٌ لَهُ حَمْرَاءُ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَرِيقِ سَاقَيْهِ فَصَلَّى إِلَى الْعَنَزَةِ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ، رَكْعَتَيْنِ تَمُرُّ الْمَرْأَةُ، وَالْحِمَارُ، وَالْكَلْبُ، وَرَاهَا لَا يَمْنَعُ. ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَرَّجْتُ طُرُقَ خَبَرِ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَنَسٍ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ.

حضرت ابوجحیفہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریمﷺکی خدمت میں وادی ابطح میں حاضر ہوا جبکہ آپ اپنے سرخ خیمے میں تشریف فرما تھے حضرت ابوجحیفہ ؓ کہتے ہیں : پھر حضرت بلال ؓ آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی لے کر آئے ( او راسے تقسیم کرنا شروع کیا) پس کچھ صحابہ کو پانی مل گیا اور کچھ کو صرف چند قطرے ہی نصیف ہوئے ۔ پھر حضرت بلال ؓ نے اذان پڑھی ، میں نے ان کو دیکھا کہ وہ اپنے چہرے کو دائیں اور بائیں جانب گھماتے تھے ۔ پھر آپ کے لیے ایک چھوٹا نیزہ گاڑ دیا گیا پھر رسول اللہﷺ باہر تشریف لائے تو آپ نے ایک خوبصورت سرخ چوغہ یا خوبصورت سرخ جوڑا پہن رکھا تھا ۔ گویا کہ میں آپ کی پنڈلی کی چمک کو دیکھ رہا ہوں ، پھر آپ نے اس چھوٹے نیزے کو سترہ بنا کر ظہر اور عصر کی دو دو رکعت ادا کیں ۔ عورتیں ، گدھے اور کتے سترے کے پیچھے سے گزرتے رہے ( اور آپ نے نماز مکمل کر لی ) ۔ پھر آپ مسلسل مدینہ منوہر پہنچنے تک دو رکعات نماز ہی پڑھتے رہے ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : میں نے یحییٰ بن اسحاق کی حضرت انس ؓ سے روایت کے تمام طرق ایک دوسرے مقام پر بیان کر دیے ہیں۔

أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2995

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2996

ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ يَحْيَى -وَهُوَ ابْنُ أَبِي إِسْحَاقَ- عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، وَكَانَ يُصَلِّي بِنَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ. قَالَ: قُلْتُ لَهُ: هَلْ أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ شَيْئًا؟ قَالَ: أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا [294 - أ].

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتےہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی طرف سفر پر نکلے آپ ہمیں مدینہ منورہ واپس آنے تک دو دو رکعات پی پڑھاتے رہے ۔ جناب یحییٰ بن ابی اسحاق کہتےہ یں : میں نے حضرت انس سےپوچھا : کیا تم مکہ مکرمہ میں کچھ دن ٹھہرے تھے؟ انھوں نےفرمایا: ہم مکہ مکرمہ میں دس دن ٹھہرے تھے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَحيَى، وَهُوَ ابنُ أَبي إِسحَاقَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2996

chevron_left Previous
1…404142…48
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals