Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2973

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ زِيَادِ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارُ -وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ- ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حِصْنٍ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي سَرَّاءُ بِنْتُ نَبْهَانَ -وَكَانَتْ رَبَّةَ بَيْتٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ- قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الرُّؤُوسِ فَقَالَ: "أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ " قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "أَلَيْسَ الْمَشْعَر الْحَرَام؟ " قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: "فَأَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ " قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "أَلَيْسَ أَوْسَط أَيَّامِ التَّشْرِيقِ؟ " قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: "فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ -زَادَ إِسْحَاقُ:- وَأَعْرَاضَكُمْ، -وَقَالَا:- وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا". زَادَ إِسْحَاقُ: "فَلْيُبَلِّغْ أَدْنَاكُمْ أَقْصَاكُمْ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ".

حضرت سراء بنت نبہان بیان کرتی ہیں ، یہ زمانہ جاہلیت میں ایک بت کدے کی نگران تھیں وہ فرماتی ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ہوم الرؤوس (سری کھانے کے دن ۱۲ذوالحجہ) کو خطبہ ارشاد فرمایا تو کہا:"یہ کونسا شہر ہے؟ "ہم نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ہی بخوبی جانتے ہیں ۔آپ نے فرمایا : "کیا یہ مشعر حرام نہیں ہے؟ "ہم نے جواب دیا: کیوں نہیں ۔آپ نے پوچھا :"آج کونسا دن ہے؟ "ہم نے کہا :اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتا ہے۔ آپ نے فرمایا:"کیا یہ ایام تشریق کا درمیانی دن نہیں ہے؟" ہم نے جواب دیا: کیوں نہیں، آ پ نے فرمایا: "پس بے شک تمھارے خون ،اسحاق کی روایت میں اضافہ ہے: اور تمھاری عزتیں اور تمھارے مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمھارآ ج کا دن ، تمھارے اس مہینے اور تمھارے اس شہر میں حرمت والا ہے۔" جناب اسحاق نے یہ اضافہ بیان کیا ہے:لہٰذا چاہیے کہ تم میں سے نزدیک والا شخص دور والے کو یہ احکام پہنچا دے ۔ے اللہ!کای میں نے تیرے احکام پہنچا دیے ، اے اللہ کیا میں نے تیرا دین پہنچا دیا۔ اے اللہ کیا میں نے تیری شریعت اور سالت ان تک پہنچا دی۔"

أَبُو عَاصِمٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ زِيَادِ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارُ -وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ- ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2973

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2974

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بِحَدِيثٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي قُرَّةَ مُوسَى بْنِ طَارِقٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ رَجَعَ مِنْ عُمْرَةِ الْجِعْرَانَةِ بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ عَلَى الْحَجِّ فَأَقْبَلْنَا مَعَهُ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ ثَوَّبَ بِالصُّبْحِ، فَلَمَّا اسْتَوَى لِيُكَبِّرَ، سَمِعَ الرَّغْوَةَ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَوَقَفَ عَنِ التَّكْبِيرِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. وَقَالَ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّفْرِ الْأَوَّلِ قَامَ أَبُو بَكْرٍ، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَدَّثَهُمْ كَيْفَ يَنْفِرُونَ، وَكَيْفَ يَرْمُونَ، فَعَلَّمَهُمْ مَنَاسِكَهُمْ، فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ بَرَاءَةَ عَلَى النَّاسِ حَتَّى خَتَمَهَا.

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب جعرانہ مقام سے احرام باندھ کر عمرہ کر کے واپس تشریف لائے تو حضرت ابوبکر ؓ کو امیر حج بنا کر روانہ کیا، لہٰذا ہم ان کی قیادت میں روانہ ہوئے حتی کہ جب ہم عرج مقام ہپر پہنچے تو صبح کی اذان ہوئی ، پھر جب وہ تکبیر کہنے کےلیے سیدھے کھڑےہوئے تو انھوں نے اپنے پیچھے اونٹ کی بلبلا ہٹ سنی ، لہٰذا وہ تکبیر کہنے سے رک گئے۔ پھر مکمل حدیث بیان کی اور فرمایا: پھر جب روانگی کا پہلا دن آیا توحضرت ابوبکرؓ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور انھیں روانگی اورمی کے مسائل بتائے اور انھیں ان کے مناسک حج سکھائے، جب وہ خطبہ دے کر فارغ ہوئے تو حضرت علی ؓ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو پوری سورۂ براءت سنائی (جس میں مشرکین سے اعلان لا تعلقی اور ان کے حج کرنے پر پابندی وغیرہ کے احکامات تھے)۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَلَى أَبِي قُرَّةَ مُوسَى بْنِ طَارِقٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بِحَدِيثٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2974

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2975

ثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي بَدَّاحٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَخَّصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا بِاللَّيْلِ، وَأَنْ يَجْمَعُوا الرَّمْيَ.

جناب ابوالبداح بن عاصم بن عدی اپنے واد گرامی حضرت عاصإ بن عدی ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چواہوں کو رات کو وقت رمی اور (دو دنوں کی ) اکٹھی رمی کرنے کی اجازت دی ہے۔"

أَبِيهِ ← أَبِي بَدَّاحٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← مالک بن أنس ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2975

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2976

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا سفيان، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَخَّصَ لِلرُّعَاةِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا وَيَدَعُوا يَوْمًا.

حضرت عاصم بن عدی ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے چواہوں کو رخصت دی ہے کہ وہ ایک دن رمی کر لیں اور ایک دن نہ کریں۔

أَبِيهِ ← أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2976

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2977

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ، عَنْ أَبِيهِ: بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ.

حضرت ابوالبداح اپنے والد گرامی حضرت عاصم ؓ سے مذکو رہ بالا کی مثل روایت کرتے ہیں

أَبِيهِ: بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ. ← أَبِي الْبَدَّاحِ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2977

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2978

ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَخَّصَ لِلرُّعَاةِ أَنْ يَرْمُوا الْجِمَارَ يَوْمًا وَيَدعوا يَوْمًا.

حضرت عاصم بن عدی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چرواہوں کو اجازت دی کہ وہ (دو دن کی اکٹھی ) کنکریاں ایک دن مارلیں اور ایک دن ترک کردیں اور اپنے اونٹ چرائیں ۔

أَبِيهِ ← أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2978

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2979

ثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَخَّصَ لِرُعَاةِ الْإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ يَرْمُونَ الْغَدَ أَوْ مِنْ بَعْدِ الْغَدِ لِيَوْمَيْنِ، ثُمَّ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّفَرَةِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبُو الْبَدَّاحِ هُوَ ابْنُ عَاصِمِ بْنُ عَدِيٍّ. وَمَنْ قَالَ: عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ نَسَبَهُ إِلَى جَدِّهِ، وَعَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ هَذَا هُوَ الْعَجْلَانِيُّ صَاحِبُ قِصَّةِ اللِّعَانِ الْمَذْكُورُ فِي خَبَرِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ.

حضرت عاصم بن عدی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹوں کے چرواہوں کی منیٰ سے باہر راتیں گزارنےکی اجاازت دی تھی ، وہ قربانی والے دن کنکریاں ماریں گے ، پھر وہ عید کے دوسرے یا تیسرے دن (دو دن کی اکٹھی ) کنکریاں مار لیں گے ، پھر روانگی کے دن جمرات پرکنکریاں ماریں گے۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : ابوالبداح عاصم بن عدی ؓ کے بیٹے ہیں اور جس راوی نے ابو البداح بن عدی سے بیان کیا ہے تو اس نے ان کی نسبت ان کے دادا کی طرف کردی ہے۔ حضرت عاصم بن عدی عجلانی ؓ ہیں جن کا لعان کا قصہ حضرت سہل بن سعد کی روایت میں مذکور ہے۔

أَبِيهِ ← أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2979

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2980

أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، وَرَقَدَ رَقْدَةً بِالْمُحَصَّبِ، ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ بَصْرِيٌ، لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَرَأَ عَلَيَّ أَبُو مُوسَى هَذَا، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ظہر مغرب اور عشاء کی نمازیں وادی محصب میں پڑھیں پھر آپ کچھ دیر سوگئے پھر آپ سوا ر ہو کر بیت اللہ شریف پہنچے اور طواف وداع کیا۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے ، اسے صرف عمروبن حارث نے بیان کیا ہے امام ابوبکر فرماتے ہیں : جناب ابوموسی نے اس حدیث کی قراءت مجھے سنائی ۔ وہ فرماتے ہیں : احمد بن صالح نے یہ روایت ابن وہب کی سند سے مجھے لکھ کر ارسال کی۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2980

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2981

ثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ (1)، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ بِمِنًى: "نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ. -قَالَ لَنَا بُنْدَارٌ: حِينَ تَقَاسَمُوا، وَإِنَّمَا هُوَ- حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ". وَذَلِكَ أَنَّ قُرَيْشًا وَكِنَانَةَ تَحَالَفُوا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ وَلَا يُبَايِعُوهُمْ حَتَّى يُسَلِّمُوا إِلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -يَعْنِي بِذَلِكَ الْمُحَصَّبَ-.

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں فرمایا، جبکہ ہم ابھی منیٰ میں تھے : ہم کل خیف بنی کنانہ میں پڑاؤ ڈالیں گے ۔ ان شاء اللہ ۔ جناب بندار کی روایت میں ہے : جب انھوں نے قسمیں اٹھائی تھیں بلکہ صحیح لفظ یہ ہیں: جہاں پر انھوں نے کفر پر اتحاد کی قسمیں اٹھائی تھیں۔ اور یہ واقعہ اس طرح ہے کہ قریش اور کنانہ نے خیف یعنی وادی محصب میں بنی ہاشم اور بنی مطلب کے خلاف آپس میں قسمیں اٹھائی تھیں کہ وہ ان سے شادی بیاہ نہیں کریں گے اور ان کے خاندان سے خریدوفروخت نہیں کریں گے حتی کہ وہ رسول اللہﷺ کو ان کے حوالے کر دیں ۔

لَنَا رَسُولُ اللَّهِ وَنَحْنُ بِمِنًى: "نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ. ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2981

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2982

ثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ (1)، قَالَا: ثَنَا [293 - أ] بِشْرُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ؛ بِمِثْلِهِ. ثَنَا الرَّبِيعُ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ: بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُمْ قَالُوا: أَنْ لَا تُنَاكِحُوهُمْ، وَلَا يَكُونُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُمْ شَيْءٌ حَتَّى يُسْلِمُوا إِلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ الرَّبِيعُ وَيُونُسُ: حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ. وَقَالَ بَحْرٌ: حِينَ أَقْسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ.

حضرت ابوہریرہؓ نبی کریمﷺسے مذکورہ بالا روایت کی مثل بیان کرتے ہیں ۔ اس میں یہ الفاظ ہیں : انھوں نے آپس میں قسمیں اٹھائیں کہ وہ بنی ہاشم اور نبی مطلب سے رشتہ داریاں نہیں کریں گے اور نہ ان کے ساتھ کوئی اور معاملہ کریں گے حتی کہ وہ رسول اللہﷺکو ان کے دشمنوں کے حوالے کر دیں ۔ جناب ربیع اور یونس کی روایت میں ہے : انھوں نے آپس میں کفر پر قسمیں کھائیں ،جناب بحر کی روایت میں ہے : جب انھوں نے کفر پر قسمیں اٹھائیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أ] بِشْرُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2982

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2983

وَأَنَّ أَبَا رَافِعٍ أَرَادَ بِقَوْلِهِ: أَنَا ضَرَبْتُ قُبَّةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَأْمُرْنِي، فَجَاءَ فَنَزَلَ، أَيْ وَلَمْ يَأْمُرْنِي بِضَرْبِ الْقُبَّةِ فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ، لَا أَنَّهُ أَرَادَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَزَلَ الْأَبْطَحَ لِعِلَّةِ ضَرْبِ الْقُبَّةِ.

میں نے رسول اللہﷺ کا خیمہ وادی ابطح میں لگایا تھا اور آپ نے مجھے خیمہ لگانے کا حکم نہیں دیا تھا ۔ بس آپ تشریف لائے اور خیمے میں فروکش ہوگئے ۔ یعنی آپ نے مجھے اس جگہ خیمہ لگانے کا حکم نہیں دیا تھا ۔ یعنی آپ نے مجھے اس جگہ خیمہ لگانے کا حکم نہیں دیا تھا ۔ حضرت ابورافع کا یہ مطلب نہیں کہ نبی کریمﷺ وادی ابطح میں خیمہ لگا ہونے کہ وجہ سے اترے تھے ۔"

وَأَنَّ أَبَا رَافِعٍ أَرَادَ بِقَوْلِهِ:

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2983

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2984

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْزٍ الْأَيْلِيُّ، أَنَّ سَلَامَةَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ -حِينَ أَرَادَ أَنْ يَنْفِرَ مِنْ مِنًى-: "نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے منیٰ سے روانگی کا ارادہ کرتے وقت فرمایا:"ہم کل، ان شاء اللہ ،خیف کنانہ میں اتریں گے جہاں انھوں نے کفر پر اتحاد کی باہمی قسمیں اٹھائی تھیں۔ "آپ کی مراد وادی محصب تھی ۔ پھر بقیہ روایت اوپر والی روایت کی مثل بیان کی ہے۔امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : نبی کریمﷺسے یہ سوال کہ آپ اپنے حج میں کل ( مکہ مکرمہ میں ) کہاں اتریں گے ۔ یہ روایت امام زہری نے ابو سلمہ کے واسطے سے حضرت ابوہریرہؓ سے بیان کی ہے ۔ جبکہ اس روایت کے آخر میں مذکورہ یہ قصہ : کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں ہوگا اور نہ کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث بنےگا ، یہ علی بن حسین کی عمرو بن عثمان کے واسطے سے حضرت اسامہ ؓ کی روایت میں مروی ہے ۔ میرے خیال میں معمر راوی کو وہم ہوا ہے اور اس نے ان دو واقعات کو اس سند کے ساتھ یکجا کر دیا ہے ۔ میں نے اس روایت کی علت کتاب الکبیر میں بیان کر دی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْزٍ الْأَيْلِيُّ، أَنَّ سَلَامَةَ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2984

chevron_left Previous
1…394041…48
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals