Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2953

ثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا عِكْرِمَةُ -وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ- ثَنَا الْهِرْمَاسُ بْنُ زِيَادٍ الْبَاهِلِيُّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِنًى يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي.

حضرت ہرماس بن زیاد باہلی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منیٰ میں لوگوں کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے دیکھا جبکہ آپ اپنی عضباء اونٹنی پر تشریف فرما تھے ۔ اور اس وقت میں اپنے والد گرامی کے پیچھے سوار تھ۔"

رَدِيفُ أَبِي. ← رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بِمِنًى يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ ← الْهِرْمَاسُ بْنُ زِيَادٍ الْبَاهِلِيُّ ← عِكْرِمَةُ -وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ-، ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2953

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2504

أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ (1)، حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَاجَّيْنِ أَوْ مُعْتَمِرَيْنِ، فَقُلْنَا: لَوْ أَتَيْنَا رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَلَقِينَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ ذَاتُ يَوْمٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ، شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعَرِ، وَلَا نَعْرِفُهُ، فَدَنَا حَتَّى وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ، وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: "أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتِ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا. قَالَ: صَدَقْتَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوِهِ.

جناب یحییٰ بن یعمر بیان کرتے ہیں کہ میں اور حمید بن عبدالرحمان حج اور عمرے کی ادائیگی کے لیے چلے تو ہم نے کہا :اگر ہم رسول اللہ کے کسی صحابہ کی ملاقات کریں تو کتنا اچھا ہو گا۔ لہذا ہم نے حضرت عبداللہ بن عمر سےملاقات کی تو انھوں نے فرمایا: مجھے حضرت عمر نے حدیث بیان کی وہ فرماتے ہیں : اس دوران میں کہ ایک دن ہم رسول اللہ کی خدمت میں حاضر تھے جب ایک شخص اچانک نمودار ہوا اس کے کپڑے نہایت سفید اور صاف تھے جبکہ بال بالکل سیاہ اور صاف تھے جبکہ ہم اسے جانتے نہیں یعنی اجنبی تھا مگر سفر کے آثار اس پر موجود تھے وہ قریب ہو کر دوزانوں بیٹھ گیااور اپنے دونوں ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ کر بولا: اے محمد مجھے اسلام کے بارے میں بتائیں کہ اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا:"اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور بے شک محمد اللہ کے رسول ہیں اور تم نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو، اور رمضان المبارک کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو اگر تم اس تک سفر کی استطاعت رکھتے ہو ۔ "اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا ہے۔ پھر مکمل حدیث بیان کی۔

یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← کهمس بن الحسن ← حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الصَّابُونِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2504

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2505

حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْعَثَ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ -وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ- قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ الْإِسْلَامَ بُنِيَ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ (1)، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ".

حضرت ابن عمر ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: "بے شک اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ ایک اللہ کے سوا کوئ معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں ،نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔"

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِي ← عَاصِمٌ -وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ-، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← أبو الأشعث أحمد بن المقدام العجلي

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2505

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2954

ثَنَا الرَّبِيعُ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ قَالَتْ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَرَادَ مِنْ صَفِيَّةَ مَا يُرِيدُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ، فَقِيلَ: إِنَّهَا حَائِضٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟ " فَقَالُوا: إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ، فَنَفَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے طواف افاضہ کیا پھر حضرت صفیہ ؓ سے اپنی مردانہ خواہش پوری کرنے کا ارادہ کیا تو آپ سے عرض کی گئی : وہ تو حائضہ ہو چکی ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: " کیا وہ ہمیں روانگی سے روک دے گی ؟ "آپ کو بتایا گیا کہ وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں چنانچہ رسول اللہ ﷺ انھیں ساتھ لے کر مدینہ منورہ) روانہ ہو گئے۔

أبو سلمة حدثتني عائشة ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← الرَّبِيعِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2954

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2955

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، ثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ -وَهُوَ عِمْرَانُ بْنُ داور الْقَطَّانُ- حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ [290 - ب] بْنِ شَرِيكٍ قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ -وَهُوَ يَخْطُبُ، جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ نَسِيَ أَنْ يَرْمِيَ، قَالَ: "ارْمِ، وَلَا حَرَجَ". ثُمَّ أَتَاهُ آخَرُ، فَقَالَ: إِنَّهُ نَسِيَ أَنْ يَطُوفَ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "طُفْ، وَلَا حَرَجَ". ثُمَّ أَتَاهُ آخَرُ، فَقَالَ: نَسِيتُ أَنْ أَذْبَحَ. قَالَ: "اذْبَحْ، وَلَا حَرَجَ" فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ يَوْمَئِذٍ إِلَّا قَالَ: لَا حَرَجَ. وَقَالَ: "لَقَدْ أَذْهَبَ اللَّهُ الْحَرَجَ إِلَّا امْرَأ اقْتَرَضَ مِنْ مُسْلِمٍ فَذَاكَ حَرَجٌ".

حضرت اسامہ بن شریک ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں حجتہ الوداع میں نبی اکرم ﷺ کے پاس حاضر تھا جبکہ آپ خطبہ ارشاد فرمارہے تھے، آپ کے پاس ایک شخص آیا تو اس نے عرض کیا: وہ کنکریاں مارنا بھول گیا ہے ۔ آپ نے فرمایا: " کوئی حرج نہیں اب مار لو۔" پھر ایک اور شخص آپ کے پاس حاضر ہوا اس نے عرض کی : وہ طواف کرنا بھول گیا ہے ۔ نبی اکرم نے فرمایا: " اب طواف کر لو ، کوئی حرج نہیں ۔" پھر ایک اور شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا : میں قربانی کرنا بھول گیا ہوں ۔ آپ نے فرمایا: "اب قربانی کرلو اور کوئی گناہ نہیں ہے ۔" آپ سے اس دن جس چیز کے بارے میں بھی پوچھا گیا، آپ نے فرمایا : کوئی گناہ نہیں اور آپ نے فرمایا: " یقیناً اللہ تعالیٰ نے (ان کاموں کی ترتیب میں غلطی کے ) گناہ کو معاف کر دیا ہے ، سوائے اس شخص کے جو مسلمان شخص کی غیبت کرتا ہے تو یہ گناہ ہے۔"

لَا حَرَجَ ← شَيْءٍ يَوْمَئِذٍ إِلَّا ← "اذْبَحْ، وَلَا حَرَجَ" فَمَا سُئِلَ ← نَسِيتُ أَنْ أَذْبَحَ. ← النَّبِيُّ "طُفْ، وَلَا حَرَجَ". ثُمَّ أَتَاهُ آخَرُ، ← إِنَّهُ نَسِيَ أَنْ يَطُوفَ. ← "ارْمِ، وَلَا حَرَجَ". ثُمَّ أَتَاهُ آخَرُ، ← إِنَّهُ نَسِيَ أَنْ يَرْمِيَ، ← شَهِدْتُ النَّبِيَّ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ -وَهُوَ يَخْطُبُ، جَاءَهُ رَجُلٌ، ← أُسَامَةَ ب] بْنِ شَرِيكٍ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← أَبُو الْعَوَّامِ -وَهُوَ عِمْرَانُ بْنُ داور الْقَطَّانُ- ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2955

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2956

ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثَنَا أَبُو خَالِدٍ -يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَسَّانَ- عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ رَجَعَ فَمَكَثَ بِمِنًى لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، كُلَّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى وَعِنْدَ الثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ، ثُمَّ يَرْمِي الثَّالِثَةَ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ: حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ، ظَاهِرُهَا خِلَافُ خَبَرِ ابْنِ عُمَرَ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ قَبْلُ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى، وَأَحْسَبُ أَنَّ مَعْنَى هَذِهِ اللَّفْظَةِ لَا تُضَادُّ خَبَرَ ابْنِ عُمَرَ، لَعَلَّ عَائِشَةَ أَرَادَتْ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ بَعْدَ رُجُوعِهِ إِلَى مِنًى، فَإِذَا حُمِلَ خَبَرُ عَائِشَةَ عَلَى هَذَا الْمَعْنَى لَمْ يَكُنْ مُخَالِفًا لِخَبَرِ ابْنِ عُمَرَ، وَخَبَرُ ابْنِ عُمَرَ أَثْبَتُ إِسْنَادًا مِنْ هَذَا الْخَبَرِ. وَخَبَرُ عَائِشَةَ مَا تَأَوَّلْتُ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ: إِنَّ الْكَلَامَ مُقَدَّمٌ وَمُؤَخَّرٌ، كَقَوْلِهِ: (الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ عِوَجَا) [الكهف: 1] وَمَثَلُ هَذَا فِي الْقُرْآنِ كَثِيرٌ، قَدْ بَيَّنْتُ بَعْضَهُ فِي كِتَابِ "مَعَانِي الْقُرْآنِ"، وَسَأُبَيِّنُ بَاقِيَهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَهَذَا كَقَوْلِهِ: (وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ) [الأعراف: 11] فَمَعْنَى قَوْلِ عَائِشَةَ عَلَى هَذَا التَّأْوِيلِ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ثُمَّ رَجَعَ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ فَقَدَّمَ: حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ قَبْلَ قَوْلِهِ ثُمَّ رَجَعَ، كَمَا قَدَّمَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: "خَلَقْنَاكُمْ" قَبْلَ قَوْلِهِ: "ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ"، وَالْمَعْنَى صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ خَلَقْنَاكُمْ.

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی والے دن دوسرے پہر میں طواف افاضہ کیا جب آپ نے ظہر کی نماز پڑھی ۔ پھر آپ واپس منیٰ آگئے اور ایام تشریق کی راتیں منیٰ میں گزاریں ۔ آپ جمرات پر رمی کرتے جبکہ سورج ڈھل جاتا ہر جمرے پر سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر پڑھتے ۔ آپ پہلے اور دوسرے جمرے پاس بڑا طویل قیام کرتے اور گڑ گڑا کر دعائیں مانگتے ،پھر تیسرے جمرے کو کنکریاں مارنے کے بعد اس کے پاس نہ ٹھہرتے ۔ اما ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : یہ الفاظ : " جب آپ نے ٖظہر کی نماز پڑھی "ان کا ظاہری مفہوم حضرت ابن عمرؓ کی حدیث کے خلاف ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے قربانی والے دن طواف افاضہ کیا پھر آپ نے منیٰ واپس آکر ظہر کی نماز پڑھی ۔ میرے خیال میں یہ الفاظ حضرت ابن عمر کی روایت کے متضاد نہیں ہیں شاید کہ حضرت عائشہ ؓکا مطلب یہ ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن دوسرے پہر طواف کیا جب ظہر کی نماز پڑھی منیٰ لوٹنے کے بعد۔جب حضرت عائشہ ؓ کی روایت کا یہ معنی کیا جائے تو پھر یہ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت کے مخالف نہیں رہتی۔ لیکن حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سند کے اعتبار سے زیادہ مضبوط ہے۔حضرت عائشہ ؓ کی روایت کے بارے میں میرا خیال یہ ہے کہ اس میں تقدیم وتاخیر ہوتی ہے ۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے :(أَلْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ أَنْزَلَ عَیٰ( عَدِنمہِ الْکِتٰبَ وَلَمْ یَجْعَلْ لَّہُ عِوَجًا)(الکھف:۱)"سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی اور اس میں قسم کی کجی نہیں رکھی۔"اس قسم کی بے شمار مثالیں موجود ہیں ، میں نے کچھ مثالیں کتاب معافی القرآن میں بیان کی ہیں اور عنقریب اس طرح مثالیں بھی بیان کر وں گا۔ ان شاءاللہ۔ اور یہ اس فرمان جیسا ہے: "اور ہم نے ہی تمھیں پیدا کیا پھر تمھاری شکلیں بنائیں پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو۔" اس تاویل کے مطابق حضرت عائشہ ؓ کی روایت کا معنی یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی دن آخری پہر طواف افاضۃ کیا آپ واپس آئے جب ظہر کی نماز پڑھی اس طرح یہ الفاظ پہلے آگئے : جب ظہر کی نماز پڑھی اور یہ مؤخر ہو گئے ، پھر واپس آئے ۔ جب کہ اللہ تعالی نے یہ الفاظ مقدم کیے ہیں ہم نے تمہیں پیدا کیا اور یہ مؤخر کیے ہیں :پھر ہم نے تمھاری شکلیں بنائیں حالانکہ اصل ترتیب یہ ہے: ہم نے تمھاری شکلیں بنائیں پھر ہم نے تمھیں پیدا کیا۔

عَائِشَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو خَالِدٍ -يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَسَّانَ- ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2956

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2957

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَذِنَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، اسْتَأْذَنَ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ.

حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عباس بن عبدالمطلب کو اجازت دے تھی جب انھوں نے نبی ﷺ سے منیٰ کی راتیں مکہ مکرمہ میں گزارنے کی اجازت مانگی تھی ، کیونکہ وہ حاجیوں کو زمزم کا پانی پلاتے تھے ، تو آپ نے انھیں اجازت دے دی۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2957

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2958

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أُمِّهِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ يُحَدِّثَانِهِ ذَلِكَ جَمِيعًا عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي يَصِيرُ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهَا مَسَاءَ يَوْمِ النَّحْرِ، فَصَارَ إِلَيَّ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهْبٌ وَمَعَهُ رِجَالٌ مِنْ آلِ أَبِي أُمَيَّةَ، مُتَقَمِّصِينَ، فَقَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِوَهْبٍ: "هَلْ أَفَضْتَ بَعْدُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟ " قَالَ: لَا وَاللَّهِ، يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: "فَانْزِعِ الْقَمِيصَ"، فَنَزَعَهُ مِنْ رَأْسِهِ. قَالَ: وَنَزَعَ صَاحِبُهُ قَمِيصَهُ مِنْ رَأْسِهِ. قَالُوا: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "إن هَذَا يَوْمٌ رُخِّصَ لَكُمْ إِذَا أَنْتُمْ رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ أَنْ تَحِلُّوا مِنْ كُلِّ مَا حُرِمْتُمْ [291 - أ] مِنْهُ إِلَّا مِنَ النِّسَاءِ، فَإِذَا أَمْسَيْتُمْ قَبْلَ أَنْ تَطُوفُوا بِهَذَا الْبَيْتِ صِرْتُمْ كَهَيْئَتِكُمْ قَبْلَ أَنْ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ".

حضرت ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ جب میری رات کی باری آئی جس میں رسول اللہ ﷺ نے میرے پاس تشریف لانا تھا تو وہ قر بانی والے دن کی شام تھی چنانچہ آپ میرے پاس وہب تشریف لائے ، آپ فرماتی ہیں : اتنے میں میرے پاس وہب اور ابو امیہ کے گھرانے کے کچھ افراد بھی قمیصیں پہنے ہوئے آگئے ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے وہب سے کہا : کیا تم نے طواف افاضہ کر لیا ہے اے ابو عبداللہ ؟ اس نے عرض کیا : نہیں اللہ کی قسم ! اے اللہ کے رسول ! نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا: "تو پھر یہ قمیص اتار دو " تو اس نے اسے سر کی جانب سے اتار دیا اور ان کے ساتھی نے بھی اپنی قمیص سر سے اتار دی انھوں نے عرض کی اے اللہ نے رسول ! قمیص کیوں اتاردیں ؟ آپ نے فرمایا: اس دن تمھیں رخصت دی گئی ہے ک جب تم جمرہ عقبہ پر رمی کر لو تو تمھارے لیے احرام کی وجہ سے ممنوع ہونے والی پر چیز حلال ہو جاتی ہے سوائے بیوی کے ۔ پھر اگر تم نے طواف زیارت کرنے سے پہلے ہی شام کر لی تو تم پھر اسی طرح احرام والے ہو جاؤ گے جیسے جمرہ عقبہ کی رمی سے پہلے تھے۔"

أُمِّ سَلَمَةَ يُحَدِّثَانِهِ ذَلِكَ جَمِيعًا عَنْهَا ← أُمِّهِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ← أَبِيهِ ← أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2958

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2959

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ: مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ، أَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَفِطْرُكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَأَمَّا يَوْمُ الْأَضْحَى، فَتَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ لحم نُسُكِكُمْ. خَرَّجْتُ هَذَا الْبَابَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ الصِّيَامِ - كِتَابِي "الْكَبِيرِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبُو عُبَيْدٍ هَذَا، اخْتَلَفَ الرُّوَاةُ فِي ذِكْرِ وَلَائِهِ، فَقَالَ بَعْضُ الرُّوَاةِ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَمِثْلُ هَذَا لَا يَكُونُ عِنْدِي مُتَضَادًّا، قَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ أَزْهَرَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ اشْتَرَكَا فِي عِتْقِهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرِ لِأَنَّ وَلَاءَهُ لِمُعْتِقَيْهِ جَمِيعًا.

جناب ابو عبید مولیٰ ابن ازہر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کے ساتھ عید میں شرکت کی۔ انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ان دو (عیدین کے ) دنوں کے روزے سے منع کیا ہے، رہی عید الفطر تو وہ اس لیے کہ وہ تمھارے روزے ختم کرنے کا دن ہے اور عید الاضحیٰ (کو روزہ اس لیے منع ہے ) کہ تم اس دن اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو ۔ میں نے یہ مکمل باب کتاب الکبیر میں کتاب الصیام کے تحت بیان کر دیا ہے ۔ اما م ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : ابو عبید کی ولاء میں راویوں کا اختلاف ہے ، کچھ راوی اسے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کا قرار دیتے ہیں (اور کچھ ابن ازہر کا ) لیکن میرے نزدیک اس میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے کہ یہ عبدالرحمٰن بن عوف اور ابن ازہر کے مشترکہ غلام ہوں اور ان دونوں نے ہی انہیں آزاد کر دیا ہو لہٰذا بعض راویوں نے انہیں حضرت عبدالرحمٰن کا آزاد کردہ غلام قرار دے دیا اور بعض نے اسے ابن ازہر کا غلا م کہ دیا کیونکہ اس کی نسبت ولاء دونوں آزاد کرنے والے حضرات کی طرف ہے۔

شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: ← أَبِي عُبَيْدٍ، وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ: مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2959

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2960

ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو؛ ح وَثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ -وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ: بَعَثَهُ أَيَّامَ مِنًى أَنْ يُنَادِيَ- "لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ، وَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ". قَدْ خَرَّجْتُ هَذَا الْبَابَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابَ الصَّوْمِ.

حضرت بشر بن گیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انھیں ایام تشریق میں اعلان کرنے کاحکم دیا۔ جناب مخرمی کی روایت میں ہے : آپ نے انھیں منیٰ کے دنوں میں اعلان کرنے کے لیے بھیجا: جنت میں صرف مومن داخل ہوں گے اور بے شک منیٰ کے دن کھانے پینے کے دن ہیں ۔" میں نے یہ مکمل باب کتاب الصوم میں بیان کی دیا ہے۔

بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ: ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← وَثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2960

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2961

ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ؛ أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَلَى أَبِيهِ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، فَإِذَا هُوَ يَتَغَذَّى، فَدَعَانَا إِلَى طَعَامِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو: أَمَّا عَلِمْتَ أَنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ الَّتِي نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ صَوْمِهِنَّ وَأَمَرَ بِفِطْرِهِنَّ، فَأَمَرَهُمْ فَأَفْطَرُوا. أَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى الْآخَرِ.

حضرت عقیل بن ابی طالب ؓ کے آزاد کردہ غلام جناب ابو مرہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کے ساتھ ایام تشریق میں ان کے والد گرامی حضرت عمرو بن عاص ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو وہ کھانا کھا رہے تھے ، انھوں نے ہمیں کھانے کی دعوت دی ۔ تو حضرت عبداللہ بن عمروؓ نے انھیں کہا: بے شک میں تو روزے سے ہوں ۔ تو حضرت عمرو بن عاص ؓ نے فرمایا : کیا تمھیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان دنوں کے روزے رکھنے سے منع کیا ہے اور ان دنوں میں روزہ کھولنے کا حکم دیا تو انھوں نے توزہ کھول دیا۔ ایک راوی نے دوسرے سے کچھ زیادہ الفاظ بیان کیے ہیں۔

أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ← ابْنِ الْھَادِ ← ابن لهيعة، ومالك بن أنس، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2961

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2506

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزْعَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، ثَنَا حُمَيْدُ الطَّوِيلُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذَا الْبَيْتِ فَإِنَّهُ قَدْ هُدِمَ مَرَّتَيْنِ وَيُرْفَعُ فِي الثَّالِثِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ، قَوْلُهُ: "وَيُرْفَعُ فِي الثَّالِثِ" يُرِيدُ بَعْدَ الثَّالِثَةِ، إِذْ رَفْعُ مَا قَدْ هُدِمَ مُحَالٌ، لِأَنَّ الْبَيْتَ إِذَا هُدِمَ لَا يَقَعُ عَلَيْهِ اسْمُ بَيْتٍ إِذَا لَمْ يَكُنْ هُنَاكَ بِنَاءٌ.

حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا:"بیت اللہ سے فائدہ اٹھا لو کیونکہ یہ دوبارہ منہدم ہو گا اور تیسری بار اٹھا لیا جائے گا۔" امام ابو بکر فرماتے ہیں آپ کا یہ فرمان کہ "تیسری بار اس کی عمارت اٹھا لی جائے گی" کا مطلب یہ ہے کہ تیسری بار منہدم ہونے کے بعد اٹھا لیا جائے گا کیونکہ منہدم شدہ کو اٹھانا محال ہے کیونکہ جب گھر گر جائے اور وہاں کوئی عمارت باقی نہ رہے تو اسے"بیت"گھر کا نام انہیں دیا جاتا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ قَزْعَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2506

chevron_left Previous
1…373839…48
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals