Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2941

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى، قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُفِيضُ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي الظُّهْرَ -يَعْنِي بِمِنًى- وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَلَهُ.

حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم النحر کو طواف افاضہ کیا پھر واپس آکر ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کی ۔ امام نافع فرماتے ہیں : پھر واپس آکر منیٰ میں ظہر کی نماز پڑھتے تھے، اور آپ بتاتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ نے بھی اسی طرح کیا تھا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2941

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2942

قَرَأْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيِّ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُجَمِّعٍ الْكِنْدِيَّ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَزُورُ الْبَيْتَ فَيَطُوفُ بِهِ أُسْبُوعًا، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَتَحِلُّ لَهُ النِّسَاءُ.

حضرت عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیت اللہ شریف کی زیارت کرتے ، طواف کے سات چکر لگاتے اور دورکعات ادا کرتے اور پھر آپ کے لیے آپ کی ازواج مطہرات حلال ہو جاتیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيِّ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُجَمِّعٍ الْكِنْدِيَّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2942

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2943

ثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَرْمُلْ فِي السَّبْعِ الَّذِي أَفَاضَ فِيهِ. وَقَالَ عَطَاءٌ: لَا رَمَلَ فِيهِ.

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے طواف افاضہ کے سات چکروں میں رمل نہیں کیا تھا، امام عطا کہتے ہیں : اس طواف میں رمل نہیں ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2943

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2944

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَذَكَرَ [289 - ب] الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ: ثُمَّ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْبَيْتِ -يَعْنِي يَوْمَ النَّحْرِ- فَأَتَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ -وَهُمْ يَسْقُونَ عَلَى زَمْزَمَ- فَقَالَ: "انْزِعُوا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمُ النَّاسُ عَلَى سِقَايَتِكُمْ لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ"، فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْهُ.

جناب جعفر بن محمد اپنے والد گرمی محمد سے روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں: ہم حضرت جابر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، پھر طویل حدیث بیان کی اور فرمایا: پھر قربانی والے دن رسول اللہ ﷺ نے طواف افاضہ کیا ۔ پھر آپ بنی عبدالمطلب کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ زمزم کے کنویں سے پانی پلا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: "اے بنی عبدالمطلب !پانی نکالو، اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ لوگ تمھارے پانی پلانے پر تم پر غالب آجائیں گے تو میں بھی تمھارے ساتھ کنویں سے پانی نکالتا۔" چنانچہ انھوں نے پانی کا ایک ڈول آپ کو پیش کیا تو آپ نے اس میں سے پیا۔

الحديث بطوله ← دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرٌ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2944

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2945

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، ثَنَا عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَرِبَ دَلْوًا مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ قَائِمًا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَرَادَ شَرِبَ مِنْ دَلْوٍ، لَا أَنَّهُ شَرِبَ الدَّلْوَ كُلَّهُ، وَهَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي قَدْ أَعْلَمْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا أَنَّ اسْمَ الشَّيْءِ قَدْ يَقَعُ عَلَى بَعْضِ أَجْزَائِهِ، كَقَوْلِهِ: (وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ) [الإسراء: 110] فَأَوْقَعَ اسْمَ الصَّلَاةِ عَلَى الْقِرَاءَةِ خَاصَّةً. وَكَقَوْلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "قَالَ اللَّهُ: "قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ"، ثُمَّ ذَكَرَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ خَاصَّةً، فَأَوْقَعَ اسْمَ الصَّلَاةِ عَلَى قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي الصَّلَاةِ خَاصَّةً.

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے کھڑے ہو کر ایک ڈول سے آب زمزم پیا۔ اما م ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : حضرت ابن عباس ؓکا مطلب یہ ہے کہ آپ نے ایک ڈول سے آب زمزم پیا ، یہ مطلب نہیں کہ پورا ڈول ہی پی لیا۔ اور یہ بات اسی جنس سے ہے جسے میں اپنی کتابوں میں کئی جگہ بیان کر چکا ہوٖں کہ بعض دفعہ کسی چیز کا نام لے کر اس کے کسی حصے کو مراد لیا جاتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے (وَلَا تَجْھَرْ بِصَلَا تِکَ ) (الا سراء۱۱۰)"اور اپنی نماز زیادہ بلند آواز سے نہ پڑھیں" اس طرح نماز کا لفظ صرف قراءت پر بولا گیا ہے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان "اللہ تعالیٰ فرماتےہیں : میں نے اپنے اور اپنے بندے کے درمیان نماز آدھی تقسیم کر لی ہے : پھر سورۂ فاتحہ کا تزکرہ کیا ۔ اس طرح لفظ نماز سے نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھنا مراد لیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2945

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2946

ثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ إِلَى السِّقَايَةِ، فَاسْتَسْقَى. فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا فَضْلُ! اذْهَبْ إِلَى أُمِّكَ فَأْتِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَرَابٍ مِنْ عِنْدِهَا. فَقَالَ: "اسْقِنِي". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ أَيْدِيَهُمْ فِيهِ. فَقَالَ: "اسْقِنِي". فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ وَهُمْ يَسْقُونَ وَيَعْمَلُونَ فِيهَا، فَقَالَ: "اعْمَلُوا فَإِنَّكُمْ عَلَى عَمَلٍ صَالِحٍ"، ثُمَّ قَالَ: "لَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا لَنَزَعْتُ حَتَّى أَضَعَ الْحَبْلَ عَلَى هَذِهِ" -يَعْنِي عَاتِقَهُ- وَأَشَارَ إِلَى عَاتِقِهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ إِنَّ الْإِشَارَةَ تَقُومُ مَقَامَ النُّطْقِ.

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پانی کے حوض کے پاس آئے اور پانی طلب کیا۔ حضرت عباس ؓ نے کہا اے ٖفضل ! اپنی والدہ کے پاس جاؤ اور اس سے رسول اللہ ﷺ کے لیے مشروب لے آؤ ، آپ نے فرمایا: "مجھے یہی پانی پلادو۔" حضرت عباس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! لوگ اپنے ہاتھ اس پانی میں ڈالتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : مجھے یہی پانی پلادو۔"آپ نے اس سے پانی پیا پھر آپ ﷺ زمزم کے کنویں پر آئے تو (بنی عبدالمطلب) کے لوگ پانی نکال کر لوگوں کو پلا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: " اسی طرح پانی نکال کر پلاتے رہو کیونکہ تم ایک نیک عمل کر رہے ہو۔" پھر فرمایا: " مجھے اگر یہ ڈرنہ ہوتا کہ تم مغلوب ہو جاؤ گے تو میں بھی اپنے اس کندھے پر رسی رکھ کر ڈول کھینچتا"، اور آپ نے اپنے کندھے کی طرف اشارہ کیا۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں : یہ بات اسی قسم سے ہے جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ اشارہ بھی کلام کے قائم مقام ہوتا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٌ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2946

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2947

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ؛ ح وَثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرٍ -وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ-: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى السِّقَايَةِ فَشَرِبَ نَبِيذًا، فَقَالَ: مَا بَالُ أَهْلِ هَذَا الْبَيْتِ يَسْقُونَ النَّبِيذَ وَبَنُو عَمِّهِمْ يَسْقُونَ اللَّبَنَ وَالْعَسَلَ، أَمِنْ بُخْلٍ أَمْ مِنْ حَاجَةٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَذَاكَ بَعْدَمَا ذَهَبَ بَصَرُهُ: عَلَيَّ بِالرَّجُلِ. فأتي بِهِ. فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَتْ بِنَا حَاجَةٌ، وَلَا بُخْلٌ، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَخَلْفَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَاسْتَسْقَى، فَسَقَيْنَاهُ نَبِيذًا، فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَ فَضْلَهُ أُسَامَةَ، فَقَالَ: "قَدْ أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ، وَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا". فَنَحْنُ لَا نُرِيدُ أَنْ نُغَيِّرَ ذَلِكَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهَذَا الْخَبَرُ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ فِي كُتُبِنَا: إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُبِيحُ الشَّيْءَ بِذِكْرٍ مُجْمَلٍ وَيُبَيِّنُ فِي آيَةٍ أُخْرَى عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ مَا أَبَاحَهُ بِذِكْرٍ مُجْمَلٍ أَرَادَ بِهِ بَعْضَ ذَلِكَ الشَّيْءِ الَّذِي ذَكَرَهُ مُجْمَلًا، لَا جَمِيعَهُ. وَكَذَلِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُبِيحُ الشَّيْءَ بِذِكْرٍ مُجْمَلٍ وَيُبَيِّنُهُ فِي وَقْتٍ تَالٍ أَنَّ مَا أَجْمَلَ ذِكْرَهُ أَرَادَ بِهِ بَعْضَ ذَلِكَ الشَّيْءِ لَا جَمِيعَهُ كَقَوْلِهِ: (وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ) [البقرة: 187]. فَأَجْمَلَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ ذِكْرَ الْمَأْكُولِ وَالْمَشْرُوبِ وَبَيَّنَ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ أَنَّهُ إِنَّمَا أَبَاحَ بَعْضَ الْمَأْكُولِ وَبَعْضَ الْمَشْرُوبِ لَا جَمِيعَهُ، وَهَذَا بَابٌ طَوِيلٌ قَدْ بَيَّنْتُهُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا، فَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّمَا أَبَاحَ الشُّرْبَ مِنْ نَبِيذِ السِّقَايَةِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مُسْكِرًا لِأَنَّهُ أَعْلَمَ أَنَّ الْمُسْكِرَ حَرَامٌ.

جناب بکر بن عبداللہ ؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی شخص سبیل پر آیا اور اس نے نبیذ پی۔ تو وہ کہنے لگا:اس گھر والوں کو کیا ہوا ہے کہ یہ لوگوں کو نبیذ پلارہے ہیں حالانکہ ان کے چچا زاد تو دودھ اور شہد پلارہے ہیں کیا یہ بخل کی وجہ سے کر رہے ہیں یا خود ضرورت مند ہیں؟ تو حضرت ابن عباس ؓ کہا: اس شخص کو میرے پاس لاؤ ، اس وقت ان کی بینائی ختم ہو چکی تھی اس شخص کو آپ کے پاس لایا گیا تو فرمایا: ہم محتاج نہیں ہیں اور نہ بخیل ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد حرام میں داخل ہوئے جبکہ آپ اونٹ پر سوار تھے اور آپ کے پیچھے حضرت اسامہ بن زید ؓ سوار تھے۔ آپ نے پانی مانگا تو ہم نے آپ کو نبیذ پلائی، آپ نے اسے پی لیا اور باقی نبیذ حضرت اسمامہ کو دے دی پھر فرمایا: " تم نے بہت اچھا اور خوبصورت کام کیا ہے ۔ اسی طرح کیا کرو"، لہٰذا ہم اس کام کو تبدیل کرنا نہیں چاہتے ۔ اما م ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : یہ روایت اسی قسم سے ہے جس کے بارے میں ہم اپنی کتب میں بیان کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو مجمل طور پر جائز قرار دیتے ہیں پھر دوسری آیت کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کی زبانی وضاحت فرمادیتے ہیں کہ اجمالی طور پر جائز قرار دی جانے والی چیز مکمل طور پر جائز نہیں بلکہ اس کا کچھ حصہ جائز ہے اسی طرح نبی اکرم ﷺ کسی چیز کو اجمالاً جائز قرار دیتے ہیں پھر اس کے بعد وضاحت کر دیتے ہیں کہ اجمالاً جائز قرار پانے والی چیز سے آپ کی مراد اس چیز کا کچھ حصہ ہے ، ساری چیز جائز نہیں ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : (وَکُوْر وَ شْرَ بُوْ احَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ)( البقرۃ:۱۸۷) کھاؤ اور پیو حتی کہ صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے واضح ہو جائے ۔ " اس آیت میں اجمالاً کھانے پینے کا ذکر ہے لیکن دوسرے مقام پر بیان فرما دیا کہ کچھ کھانے اور کچھ مشرابات حلال کیے ہیں تمام مشرابات اور ماکولات جائز نہیں ۔ یہ ایک طویل باب ہے جسے ہم اپنی کتب میں کئی جگہ ذکر کر چکے ہیں ۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے سبیل کی وہ نبیذپینا حلال کیا ہے جو نشہ آور نہ ہو کیونکہ آپ نے بتایا ہے کہ نشہ آور چیز حرام ہے۔

ابْنُ عَبَّاسٍ، وَذَاكَ بَعْدَمَا ذَهَبَ بَصَرُهُ: عَلَيَّ بِالرَّجُلِ. فأتي بِهِ. ← الْعَسَلَ، أَمِنْ بُخْلٍ أَمْ مِنْ حَاجَةٍ؟ ← مَا بَالُ أَهْلِ هَذَا الْبَيْتِ يَسْقُونَ النَّبِيذَ وَبَنُو عَمِّهِمْ يَسْقُونَ اللَّ بَنَ ← بَكْرٍ -وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ-: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى السِّقَايَةِ فَشَرِبَ نَبِيذًا، ← حُمَيْدٍ ← خَالِدٌ، ← أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2947

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2948

ثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ [290 - أ] أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ؛ ح وَثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- غُنْدَرٌ، ثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ؛ أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ.

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجتہ الوداع میں حج کے لیے نکلے ۔ اماں جی فرماتی ہیں : جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا انھوں نے بیت الہ شریف کا طواف کیا ، صفا اور مروہ کی سعی کی پھر احرام کھول دیا، پھر انھوں نے (۱۰ ذوالحجہ کو ) منیٰ سے واپس آکر اپنے لیے دیا ، پھر انھوں نے (۱۰ ذولحجہ کو) منیٰ سے واپس آ کر اپنے لیے ایک اور طواف (زیارت )کیا( اور صفا روہ کی سعی کی)۔"

خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← مُحَمدٌ، يَعْنِي ابنَ جَعفَرٍ، غُنْدَر، ← الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ، ← ابْنُ وَهْبٍ أ] أَنَّ مَالِكًا ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2948

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2949

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ (2): جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ. قَالَ: "اذْبَحْ، وَلَا حَرَجَ". قَالَ: وَذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. قَالَ: "ارْمِ، وَلَا حَرَجَ". وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ. فَقَالَ أَيْضًا، ثُمَّ سَأَلَهُ آخَرُ فَقَالَ: نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ.

حضرت عبداللہ بن عمرہ ؓ بیان کرتے ہی کہ یوم النحر کو ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا: میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر کے بال منڈوا لیے ہیں ۔ آپ نے فرمایا: " قربانی کر لو ، کوئی حرج نہیں ہے" ایک اور شخص نے عرض کیا: میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کر لی ہے۔ آپ نے فرمایا: "کوئی حرج نہیں اب رمی کرلو۔" جناب مخزومی کی روایت میں ہے : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا تو عرض کی : میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوالیا ہے ۔ اور یہ الفاظ بھی بیان کیے کہ پھر ایک اور شخص نے آپ سے سوال کیا تو کہنے لگا : میں نے رمی کرنے سے پہلے اونٹ نحر کر لیا ہے۔

نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. ← أَيْضًا، ثُمَّ سَأَلَهُ آخَرُ ← حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ← الْمَخْزُومِيُّ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ ← ارْمِ وَلَا حَرَجَ ← وَذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. ← «اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ» ← حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ يَوْمَ النَّحْرِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2949

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2950

ثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ وَالصَّنْعَانِيُّ، قَالَا: ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُسْأَلُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى (1) فَيَقُولُ: "لَا حَرَجَ، لَا حَرَجَ"، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ. فَقَالَ: "لَا حَرَجَ" قَالَ: رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ، قَالَ: "لَا حَرَجَ". ثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ: بِمِثْلِهِ. وَقَالَ: "اذْبَحْ، وَلَا حَرَجَ".

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ قربانی والے دن منیٰ میں رسول اللہﷺ سے لوگ سوال پرچھتے تو آپ فرماتے : "کوئی حرج نہیں (ترتیب میں غلطی پر ) کوئی حرج نہیں۔ ایک شخص نے آپ سے سوال کیا تو عرض کی : میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوالیا ہے ۔ آپ نے فرمایا: " کوئی حرج نہیں "اور ایک شخص نے کہا : میں نے شام کے بعد کنکریاں ماری ہیں ۔ آپ نے فرمایا : "کوئی حرج نہیں ۔" جناب یزید بن زریع کی روایت میں یہ الفاظ ہیں :"اب ذبح کر لو اور کوئی حرج نہیں ہے ۔"

«اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ» ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ: بِمِثْلِهِ. ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← لَا حَرَجَ ← رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ، ← لَا حَرَجَ ← حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ← "لَا حَرَجَ، لَا حَرَجَ"، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ، ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُسْأَلُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ وَالصَّنْعَانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2950

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2951

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى -يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ- عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ؛ ح، وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا كُنْتُ أَحْسَبُ أَنَّ كَذَا وَكَذَا قَبْلَ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا كُنْتُ أَحْسَبُ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا لِهَؤُلَاءِ الثَّلَاثة، فَقَالَ: "افْعَلْ، وَلَا حَرَجَ". هَذَا حَدِيثُ عِيسَى. زَادَ ابْنُ مَعْمَرٍ فِي حَدِيثِهِ: فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ: "افْعَلْ وَلَا حَرَجَ".

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ اس دوران میں کہ نبی اکر م ﷺ قربانی والے دن خطبہ ارشاد فرمارہے تھے تو ایک شخص آپ کے سامنے کھڑے ہو کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ! مجھے معلوم نہ تھا کہ فلاں فلاں کام فلاں فلاں کام سے پہلے ہیں ۔ پھر ایک اور شخص کہنے لگا :اے اللہ کے رسول ! مجھے علم نہ تھا ان تین کاموں (رمی سر منڈوانا اور قربانی کرنا) میں فلاں کام پہلے تھا اور فلاں بعد میں ۔ آپ نے فرمایا:" جو رہ گیا ہے اسے کر لو اور کوئی حرج نہیں ہے ۔ " یہ روایت جناب عیسی کی ہے اور ابن معمر کی روایت میں یہ اضافہ ہے: اس دن آپ سے جس چیز کے بارے میں پوچھا گیا(کہ یہ عمل اس ترتیب سے ہو گیا ہے) تو آپ نے فرمایا " کوئی حرج نہیں اب کر لو (جو رہ گیا ہے)۔"

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عِيسَى -يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ- ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2951

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2952

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ النَّحْرِ. الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. حَدَّثَنَاهُ بُنْدَارٌ، ثَنَا أَبُو عَامِرٍ، ثَنَا قُرَّةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ؛ وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ.

اما م صاحب نے حضرت ابوبکرہ کی روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی والے دن خطبہ ارشاد فرمایا پھر مکمل حدیث بیان کی۔

أَبِي بَكْرَةَ ← أَبِيهِ؛ وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← قُرَّۃَ ← أَبُو عَامِرٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبِي بَكْرَةَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمَ النَّحْرِ. الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. ← أَبِيهِ؛ وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ ابْنِ سِيرِينَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2952

chevron_left Previous
1…363738…48
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals