Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2929

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ -يَعْنِي الثَّقَفِيَّ-، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ". قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ. قَالَ: "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ". قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ. قَالَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: "وَالْمُقَصِّرِينَ".

حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:"اے اللہ ! بال منڈوانے والوں کے گناہ معاف فرما۔" صحابہ نے عرض کی : بال کتروانے والوں کے لیے بھی۔ آپ نے فرمایا:" اے اللہ ! بال منڈوانے والوں کی بخشش فرما۔"صحابہ نے عرض کیا : بال کتروانے والوں کے لیے بھی ۔ آپنے تین بار فرمایا: بال منڈوانے والوں کی معاف فرما۔ پھرفرمایا:"اور بال کتروانے والوں کو بھی معاف فرما۔"

"وَالْمُقَصِّرِينَ". ← وَالْمُقَصِّرِينَ. قَالَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ ← "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ". ← "وَالْمُقَصِّرِينَ". ← "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ". ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ -يَعْنِي الثَّقَفِيَّ- ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2929

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2930

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بكر (1)، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَلَقَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَزَعَمُوا أَنَّ الَّذِي حَلَقَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعْمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَضْلَةَ بْنِ عَوْفِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُوَيْجِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قوله إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَلَقَ، مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ إِنَّ الْعَرَبَ تُضِيفُ الْفِعْلَ إِلَى الْآمِرِ كَمَا تُضِيفُهُ إِلَى الْفَاعِلِ، إِذِ الْعِلْمُ مُحِيطٌ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَتَوَلَّ حَلْقَ رَأْسِ نَفْسِهِ بِيَدِهِ بَلْ أَمَرَ غَيْرَهُ، فَحَلَقَ رَأْسَهُ، فَأُضِيفَ الْفِعْلُ إِلَيْهِ إِذْ هُوَ الْآمِرُ بِهِ.

حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجتہ الوداع میں اپنے سر کے بال منڈوائے ۔ صحا بہ کرام کا کہناہے کہ جس شخص نے آپ کے بال مونڈے تھے وہ معمر بن عبداللہ بن نضلہ بن عوف بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب ہے ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے اپنے کال مونڈے تھے ۔ یہ اسی جنس سے ہے جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ عرب لوگ کام کی نسبت اسے سرانجام دینے کا حکم دینے والے کی طرف بھی کرتے ہیں جیسا کہ وہ کام کرنے والے کی طرف اس کی نسبت کرتے ہیں ۔ کیونکہ یہ بات یقینی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے بال خود نہیں مونڈے تھے بلکہ آپ نے ایک دوسرے شخص کو حکم دیا تھا۔ تواس نے آپ کے سر کے بال مونڈے تھے۔ لہٰذا اس کام کی نسبت آپ کی طرف کی گئی کیونکہ آپ نے اس کا حکم دیا تھا۔

ابْنِ عُمَرَ:أَنَّہُ ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2930

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2931

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبَانَ الْعَطَّارِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ؛ وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا أَبَانُ، ثَنَا يَحْيَى، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ أَبَاهُ شَهِدَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ الْمَنْحَرِ هُوَ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَحَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ، فَأَعْطَاهُ فَقَسَمَ مِنْهُ عَلَى رِجَالٍ. وَقَلَّمَ [288 - ب] أَظْفَارَهُ، فَأَعْطَاهُ صَاحِبَهُ، قَالَ: فَإِنَّهُ عِنْدَنَا مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ، أَوْ بِالْكَتَمِ وَالْحِنَّاءِ.

حضرت عبداللہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے ایک انصاری ساتھی کے ہمراہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں قربان گاہ میں حاضر ہوئے ، رسول اللہ ﷺ نے اپنے سر کے بال ایک کپڑے میں منڈوائے ۔ آپ نے وہ بال انھیں دیے تو انھوں نے کچھ صحابہ کرام میں تقسیم کر دیے ۔ آپ نے اپنےناخن ترشوائے تو وہ بھی حضرت عبداللہ کے ساتھی کو دے دیے ۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : آپ کے بال مبارک مہندی یا کتم بوٹی سے رنگے ہوئے ہمارے پاس محفوظ ہیں۔

أن محمد بن عبد الله بن زيد ← يَحْيَی أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ ← أَبَانُ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ الْعَطَّارُ ← بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2931

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2932

ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعيدٍ الدَّارمِيُّ، ثَنَا حَسَّانُ -يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ- ثَنَا أَبَانُ، ثَنَا يَحْيَى، بِهَذَا الْإِسْنَادِ: مِثْلَهُ؛ ح وَثَنَا الدَّارمِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثَنَا أَبَانُ، ثَنَا يَحْيَى، ثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، قَالَ الدَّارمِيُّ: فَذَكَرَ الْقِصَّةَ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَقُلْ أَحَدٌ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ غَيْرُ عَبْدِ الصَّمَدِ.

امام صاحب نے گزشتہ روایت کی ایک اور سند بیان کی ہے

غَيْرُ عَبْدِ الصَّمَدِ. ← الدَّارمِيُّ: فَذَكَرَ الْقِصَّةَ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَقُلْ أَحَدٌ أَنَّ أَبَاهُ ← أَنَّ أَبَاهُ ← أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ← يَحْيَى ← أَبَانُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← وَثَنَا الدَّارمِيُّ، ← يَحْيَى، بِهَذَا الْإِسْنَادِ: مِثْلَهُ؛ ← أَبَانُ، ← حَسَّانُ -يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ- ← أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2932

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2933

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ -وَبَسَطَتْ يَدَهَا-: أَنَا طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِيَّ هَاتَيْنِ، لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ.

حضرت عائشہ ؓ نے اپنے دونوں پاتھ پھیلا کر فرمایا: میں نے اپنے ان ہاتھوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگائی تھی جب آپ نے احرام باندھا اس وقت بھی اور طواف افاضہ کرنے سے پہلے آپ کے احرام کھولنے کے وقت بھی۔

عَائِشَةَ تَقُولُ -وَبَسَطَتْ يَدَهَا-: ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2933

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2934

ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ؛ ح وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِنًى قَبْلَ أَنْ يَزُورَ الْبَيْتَ.

حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو طواف افاضہ سے پہلے منیٰ میں خوشبو لگائی تھی

طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ بِمِنًى قَبْلَ أَنْ يَزُورَ الْبَيْتَ. ← عَائِشَةَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← حَمَّادٌ، ← وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2934

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2935

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ قَدْ أَمْلَيْتُهُ فِي أَوَّلِ الْكِتَابِ: بَابِ الطِّيبِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ.

امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : اس مسئلے کی دلیل منصور بن زاذان کی عبدالرحمٰن بن قاسم سے مروی روایت میں کتاب کے شروع میں باب الطیب عند الاحرام کے تحت بیان کر چکا ہوں۔

أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2935

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2936

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ يُخْبِرُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، قَالَتْ: فَحِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: "مَا لَكِ، أَنَفَسْتِ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ".

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (سفر حج پر ) نکلے۔ تو مجھے حیض آگیا رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں رورہی تھی ۔ آپ نے فرمایا: "تمھیں کیا ہوا ہے کیا تمھیں حیض آگیا ہے؟" میں نے جواب دیا: جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا: " یہ چیز تو اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کی تمام بیٹیوں پر لکھ دی ہے (اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ) تم بیت اللہ شریف کا طواف چھوڑ کر باقی تمام اعمال اسی طرح کرو جیسے حاجی کرتے ہیں۔

"مَا لَكِ، أَنَفَسْتِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. ← أَبْكِي، ← فَحِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ← خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ يُخْبِرُ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2936

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2937

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا رَمَيْتُمْ وَحَلَقْتُمْ فَقَدْ حَلَّ لَكُمُ الطِّيبُ وَالثِّيَابُ إِلَّا النِّكَاحَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهُ: "إِلَّا النِّكَاحَ" يُرِيدُ النِّكَاحَ الَّذِي هُوَ الْوَطْءُ، وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمْتُ فِي كِتَابِ "مَعَانِي الْقُرْآنِ" أَنَّ اسْمَ النِّكَاحِ عِنْدَ الْعَرَبِ يَقَعُ عَلَى الْعَقْدِ وَعَلَى الْوَطْءِ جَمِيعًا.

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: " جب تم رمی کر لو اور سر منڈوالو تو تمھارے لیے خوشبو لگانا ، کپڑے پہننا حلال ہے سوائے عورتوں سے جماع کرنے کے۔" امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں: حدیث کے الفاظ :"سوائے نکاح کے " اس سےآپ کی مراد بیوی سے جماع کرناہے، میں نے کتاب معانی القرآن میں بیان کیا ہے کہ عرب کے ہاں نکاح کا لفٖظ عقد نکاح اور بیوی سے ہم بستری دونوں معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2937

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2938

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: أَنَا طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَقُّ أَنْ تُتَّبَعَ.

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگائی تھی ۔ اور رسول اللہ ﷺ کی سنت ہی اتباع کازیادہ حق رکھتی ہے

طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ وَسُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ تُتَّبَعَ. ← عَائِشَةَ ← سَالِمًا ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2938

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2939

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ قَالَ: إِذَا رَمَى الرَّجُلُ الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، وَذَبَحَ، وَحَلَقَ، فَقَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ وَالطِّيبَ. قَالَ سَالِمٌ: وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ: قَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ، وَقَالَتْ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي أخْبَارِ عَائِشَةَ: (طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ) دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ وَذَبَحَ وَحَلَقَ كَانَ حَلَالًا قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ [289 - أ] خَلَا مَا زُجِرَ عَنْهُ مِنْ وَطْءِ النِّسَاءِ الَّذِي لَمْ يَخْتَلِفِ الْعُلَمَاءُ فِيهِ أَنَّهُ مَمْنُوعٌ مِنْ وَطْءِ النِّسَاءِ حَتَّى يَطُوفَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ.

حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حاجی جمرہ عقبہ پر رمی کر لے ، سر منڈوالے اور قربانی ذبح کر لے تو اس کے لیے خوشبو اور بیوی سے ہمبستری کے سوا ہر چیز حلال ہو جاتی ہے۔ جناب سالم کہتے ہیں: اور حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں : تو اس کے لیے بیوی سے جماع کے علاوہ ہر چیز حلال ہو جاتی ہے ۔ اور فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو (طواف زیارہ سے پہلے )خوشبو لگائی تھی ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں ہے: میں نے رسول اللہﷺ کے احرام کھولنے کے وقت طواف زیارہ سے پہلے آپ کو خوشبو لگائی تھی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب آپ نے جمرہ عقبہ پر رمی کر لی ، قربانی ذبح کر لی اور سر کے بال منڈوالیے تو آپ طواف زیارت کرنے وے پہلے احرام اتار چکے تھے۔ صرف بیوی سے ہمبستری کرنا منع تھا کیونکہ اس میں علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ طواف زیارہ سے پہلے بیوی سے ہم بستری کرنا منع ہے۔

عُمَرَ، ← ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2939

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2940

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، ثَنَا شُعَيْبٌ -يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ- عَنْ هِشَامٍ -وَهُوَ ابْنُ عُرْوَةَ- عَنْ أُمِّ الزُّبَيْرِ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أُخْتِهَا: أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَلَهُمَا جَارِيَةٌ تُمَشِّطُهَا يَوْمَ النَّحْرِ كَانَتْ حَاضَتْ يَوْمَ قَدِمُوا مَكَّةَ، وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ قَبْلَ عَرَفَةَ، وَقَدْ كَانَتْ أَهَلَّتْ بِالْحَجِّ، وَدَفَعَتْ مِنْ عَرَفَاتٍ، وَرَمَتِ الْجَمْرَةَ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا عَبَّادٌ وَهِيَ تُمَشِّطُهَا وَتَمَسُّ الطِّيبَ، فَقَالَ عَبَّادٌ: أَتَمَسّ الطِّيبَ وَلَمْ تَطُفْ (1) بِالْبَيْتِ. قَالَتْ عَائِشَةُ: قَدْ رَمَتِ الْجَمْرَةَ وَقَصَّرَتْ. قَالَ: وَإِنْ، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَهَا، فَأَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى عُرْوَةَ، فَسَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَا يَحِلُّ الطِّيبُ لِأَحَدٍ لَمْ يَطُفْ قَبْلَ عَرَفَاتٍ، وَإِنْ قَصَّرَ وَرَمَى. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ إِنَّمَا يَتَأَوَّلُ بِهَذَا الْفُتْيَا أَنَّ الطِّيبَ إِنَّمَا يَحِلُّ قَبْلَ زِيَارَةِ الْبَيْتِ لِمَنْ قَدْ طَافَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ، وَلَوْ ثَبَتَ خَبَرُ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ مَرْفُوعًا: "إِذَا رَمَيْتُمْ وَحَلَقْتُمْ فَقَدْ حَلَّ لَكُمُ الطِّيبُ وَالثِّيَابُ؛ إِلَّا النِّكَاحَ"، لَكَانَتْ هَذِهِ اللَّفْظَةُ تُبِيحُ الطِّيبَ وَالثِّيَابَ لِجَمِيعِ الْحُجَّاجِ بَعْدَ الرَّمْيِ وَالْحَلْقِ لِمَنْ قَدْ طَافَ مِنْهُمْ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَمَنْ لَمْ يَطُفْ، إِلَّا أَنَّ رِوَايَةَ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَلَسْتُ أَقِفُ عَلَى سَمَاعِ الْحَجَّاجِ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ إِلَّا أَنَّ فِي خَبَرِ أُمِّ سَلَمَةَ وَعُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ: "إِنَّ هَذَا يَوْمٌ رُخِّصَ لَكُمْ إِذَا أَنْتُمْ رَمَيْتُمُ الْجِمَارَ أَنْ تَحِلُّوا مِنْ كُلِّ مَا حُرِمْتُمْ منه إِلَّا النِّسَاءَ، فَإِذَا أَمْسَيْتُمْ قَبْلَ أَنْ تَطُوفُوا بِالْبَيْتِ صِرْتُمْ كَهَيْئَتِكُمْ قَبْلَ أَنْ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ". وَهَذَا لَفْظُ خَبَرِ أُمِّ سَلَمَةَ، وَخَبَرُ عُكَّاشَةَ مِثْلُهُ فِي الْمَعْنَى، فَإِذَا حُكِمَ لِهَذَا الْخَبَرِ عَلَى ظَاهِرِهِ دَلَّ عَلَى خِلَافِ قَوْلِ عُرْوَةَ الَّذِي ذَكَرْتُهُ.

عائشہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ عباد بن عبداللہ ، عائشہ بنت عبدالرحمٰن کے پاس آئے اور ان کی ایک بیٹی تھی جسے وہ یوم النحر کو کنگھی کر رہی تھی جس دن وہ مکہ مکرمہ پہنچے تھے اسے حیض آگیا تھا اس لیے وہ عرفا ت سے پہلے طواف نہیں کر سکی تھی ، اس نے حج کا احرام باندھا تھا، وہ عرفات سے واپس آئی اور جمرہ عقبہ پر رمی کر چکی تھی ۔ حضرت عباد اس کے پاس گئے تو وہ اپنی بیٹی کو کنگھی کر رہی تھیں اور خوشبو لگا رہی تھیں ۔ حضرت عباد نے اسے کہا: کیا تم بیت اللہ شریف کے طواف سے پہلے ہی خوشبو لگا رہی ہو؟ عائشہ فراماتی ہیں: اس نے جمرہ عقبہ پر رمی کر لی ہے اور بال بھی کٹوا چکی ہے ۔ انھوں نے فرمایا: اگر چہ وہ یہ کام کر چکی ہے لیکن اس کے لیے خوشبو لگانا جائز نہیں ہے حضرت عائشہ نے اس کو تسلیم نہ کیا لہٰذا حضرت عروہ ؒ کے پاس کسی کو بھیجا اور یہ مسئلہ پوچھا ۔ انھوں نے فرمایا: جس شخص نے عرفات سے پہلے طواف نہ کیا ہو اس کے لیے خوشبو لگانا درست نہیں اگرچہ اس نے رمی کر لی ہو اور سر منڈوا چکا ہو۔ ( جب تک طوافِ زیارت نہ کرلے )۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : حضرت عروہ بن زبیر ؒ نے اس فتوے سے یہ تاویل کی ہے کہ جو شخص وقوف عرفہ سے پہلے طواف کر چکا ہو وہ طواف زیارت سے پہلے خوشبو لگا سکتا ہے۔ اگرچہ حضرت عمرہ کی عائشہ سے یہ مرفوع روایت ثابت ہو جائے:" جب تم رمی کر لو اور سر کے بال منڈوالو تو تمھارے لیے خوشبو لگانا اور کپڑے پہننا حلال ہے سوائے بیوی سے جماع کے ۔ " تو یہ الفاظ اس بات کی دلیل ہوں گے کہ رمی کرنے اور سر منڈوانے کے بعدتمام حجاج کے لیے خوشبو لگانا اور کپڑے پہننا جائز ہو گا اس نے یوم عرفہ سے پہلے طواف کیا ہو یا نہ کیا ہو لیکن یہ روایت حجا ج بن ارطاۃ ابوبکر بن محمد سے روایت کرتا ہے اور مجھے حجاج کے ابوبکر سے سماع کا علم نہیں ہے لیکن حضرت ام سلمہ ؓ اور عکا شہ بن محصن ؓ کی روایت میں ہے : " اس دن تمھیں رخصت دی گئی ہے کہ جب تم جمرات پر رمی کر لو تو تمھارے لیے احرام کی وجہ سے منع ہونے والی تمام چیزیں حلال ہو جائیں گی سوائے بیوی سے ہمبستری کے ۔ پھر اگر طوافِ زیارت سے پہلے تمھیں شام ہو گئی تو تم جمرات کی رمی سے پہلے والی حالت میں ہو جاؤ گے ۔ (یعنی احرام کی پابندیاں دوبارہ لاگو ہو گائیں گی)" یہ حضرت ام سلمہ کی روایت کے الفاظ ہیں اور عکاشہ کی روایت اس کے ہم معنی ہے اگر اس حدیث کے ظاہری معنی کو لیا جائے تو یہ حضرت عروہ ؓ کے اس فتوے کے خلاف ہے جسے میں نے اوپر کی سطور میں ذکر کیا ہے۔

أُمِّ الزُّبَيْرِ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← هِشَامٌ وَهُوَ ابْنُ عُرْوَةَ ← شُعَيْبٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2940

chevron_left Previous
1…353637…48
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals