Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2533

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ- عَنْ عَاصِمٍ -وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلُ- عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَافَرَ قَالَ: "اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا، وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَمِنَ الْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْنِ، وَمِنْ دَعْوَةِ الْمَظْلُومِ، وَمِنْ سُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ". ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمٍ بِمِثْلِهِ. وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا عَبَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبَّادٍ- عَنْ عَاصِمٍ بِمِثْلِهِ، وَزَادَا: قِيلَ لِعَاصِمٍ: مَا الْحَوْرُ؟ قَالَ: أَمَا سَمِعْتَهُ يَقُولُ: حَارَ بَعْدَمَا كَانَ.

حضرت عبد اللہ بن سر جس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب سفر پر روانہ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے :(اَللہُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِی الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَتُہ فِی الْاَھْلِ اَ للہُمَّ اصْحَبْناَ فِیْ سَفَرِنَا وَاخْلَفْنَا فِیْ أَھْلِنَا اَللہُمَّ اِنِّئ أَعُوذُبِکَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَکَاٰ بَتہِ الْمُنْقَلَبِ، وَمِنَ الْحَورِ بَعْدَالکَورِوَمِنْ دَعْوَۃِ الْمَظْلُومِ وَمِنْ سُوْءِ الْمَنْظَرِفِی الْا ھْلِ وَالْمَالِ) "اے اللہ تو ہی سفر میں ہمارے ساتھی اور ہمارا گھر والوں میں خلیفہ ہے ۔اے اللہ !تو ہمارے سفر میں ہمارا ساتھی بن جا اور ہمارے گھر والوں میں ہمارا خلیفہ ہوجا ۔اے اللہ!میں سفر کی مشکلات اور دشواریوں سے واپسی پر رنج وغم کی مصیبت سے ، نعمتو ں کے حصول کے بعد نعمتوں کی محرومی سے ، مظلوم کی بددعا سے اور اہل وعیال اور مال ودولت کے برے منظر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔" جناب احمد بن مقدام اور احمد بن عبدہ کی روایات میں ہے کہ جناب عاصم سے الحورکا معنی پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا :کیاتم نے یہ مثا ل نہیں سنی :حَارَبَعدَ مَاکانَ: وہ مالدار تھا پھر مفلس ومحتاج ہوگیا ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ← عَاصِمٍ -وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلُ- ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ،

Hadith 2533

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2534

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ [255 - ب] ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقَامَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ، ثُمَّ أَذَّنَ بِالْحَجِّ، فَقِيلَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَاجٌّ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ كُلُّهُمْ يُحِبُّ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، وَقَالَ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -يَعْنِي مِنَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ- فَرَكِبَ، وَمَعَهُ بَشَرٌ كَثِيرٌ، رُكْبَانٌ وَمُشَاةٌ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ.

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں نو سال قیام کیامگر اس دوران میں حج نہیں کیا پھر آپ نے حج کرنے کا اعلان کردیا یہ سن کر کہ رسول اللہ ﷺ (اس سال ) حج ادا فرمائیں گے بے شمار لوگ مدینہ منورہ آگئے ہر کسی کی خواہش تھی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی اقتدا میں حج کرے ۔پھر کچھ حدیث بیان کی اور فرمایا :پھر رسول اللہ ﷺ ( احرام باندھ کر ) مسجد ذوالحلیفہ سے روانہ ہوئے تو سواری پر سوار ہوگئے جبکہ آپ کے ساتھ بے شمار لوگ سواریوں پرسوار اور بہت سارے پیدل چل رہے تھے پھر بقیہ حدیث بیان کی ۔

جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ب] ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ

Hadith 2534

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2535

ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ وابْنِ مَيْمُونٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: حَجَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ مُشَاةً مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، وَقَالَ: "ارْبُطُوا أَوْسَاطَكُمْ بِأُزُرِكُمْ". وَمَشَى خِلْطَ الْهَرْوَلَةِ.

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام نے حج کیاتو مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تک پیدل سفر طے کیا آ پ نے فرمایا : "ٍ اپنے تہ بنداپنی کمروں کے ساتھ باندلو ۔"اور آپ ایسی تیز چال چلے جس میں دوڑ بھی شامل تھی ۔

"ارْبُطُوا أَوْسَاطَكُمْ بِأُزُرِكُمْ". وَمَشَى خِلْطَ الْهَرْوَلَةِ. ← حَجَّ النَّبِيُّ وَأَصْحَابُهُ مُشَاةً مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ، ← حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، ← يحيى بن اليمان ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ وابْنِ مَيْمُونٍ،

Hadith 2535

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2536

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ، ثُمَّ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ الْمُشَاةُ مِنْ أَصْحَابِهِ وَصَفُّوا لَهُ، وَقَالُوا: نَتَعَرَّضُ لِدَعَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: اشْتَدَّ عَلَيْنَا السَّفَرُ، وَطَالَتِ الشُّقَّةُ. فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "اسْتَعِينُوا"، قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ -أَظُنُّهُ- قَالَ: "بِالنَّسْلِ فَإِنَّهُ يَقْطَعُ عَنْكُمُ الْأَرْضَ، وَتَخِفُّونَ لَهُ" فَفَعَلْنَا ذَلِكَ وَخِفْنَا لَهُ وَذَهَبَ مَا كُنَّا نَجِدُ.

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺفتح مکہ والے سال (مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کےلیے ) روانہ ہوئے کچھ سفر کرنے کے بعد آپ کے پیدل چلنے والے صحابہ کرام آپ کے پاس جمع ہوگئے اور انہوں نے صضیں بنا لیں وہ آپس میں کہنے لگے کہ ہم (سفر کی مشقت سے بچنے کےلیے )رسول اللہ ﷺ سے دعائے خیر کرالیتے ہیں ۔ لہذا انہوں نے عرض کی : ہمارے لیے سفر کرنا دشوار ہوگیا ہے اور مسافت طویل ہوگئی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :"تیز چلنے سے مدد لے لو کیونکہ تیز چلنے سے مسافت جلد ہوگی اور تم خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرو گے ۔"ٍصحابہ کرام فرماتے ہیں : تو ہم نے ایسے ہی کیا ہمارے لیے سفر کرنا آسان ہوگیا اور تھکاوٹ کا احساس بھی ختم ہوگیا۔ٍ

جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Hadith 2536

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2537

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَني جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: شَكَا نَاسٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَشْيَ، فَدَعَا بِهِمْ، وَقَالَ: "عَلَيْكُمْ بِالنَّسْلَانُ". فَنَسَلْنَا فَوَجَدْنَاهُ أَخَفَّ عَلَيْنَا.

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کےکچھ صحابہ کرام نے پیدل چلنے میں مشقت کا شکوہ کیا تو آپ نے انھیں بلایا اور حکم دیا : "تم تیز رفتاری سے چلو ۔"ٍصحابہ کرام فرماتے ہیں :ہم تیز چلے تو ہم نے اس میں آسانی اور سہولت پائی ۔

"عَلَيْكُمْ بِالنَّسْلَانُ". فَنَسَلْنَا فَوَجَدْنَاهُ أَخَفَّ عَلَيْنَا. ← شَكَا نَاسٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ الْمَشْيَ، فَدَعَا بِهِمْ، ← جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ

Hadith 2537

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2538

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ وَعَمِّي إِسْمَاعِيلُ بْنُ خُزَيْمَةَ، قَالُوا: ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثَنَا أَبِي. قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "خَيْرُ الصَّحَابَةِ أَرْبَعَةٌ، وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُمِائَةٍ، وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ، وَلَنْ يُغْلَبَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ".

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "(سفر میں ) بہترین ساتھی چار ہیں ۔اور بہترین جنگی دستہ چار سو مجاہدین پر مشتمل ہوتا ہے اور بہترین فوج وہ ہے جس کی تعداد چار ہزار ہو اور بارہ ہزار فوجیوں پر مشتمل لشکر قلت افراد کی وجہ سے شکست نہیں کھائے گا۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ وَعَمِّي إِسْمَاعِيلُ بْنُ خُزَيْمَةَ،

Hadith 2538

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2539

ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "خَيْرُ الْأَصْحَابِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ، وَخَيْرُ الْجِيرَانِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ".

حضرت عبداللہ بن عمروؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : "اللہ کے نزدیک بہتر ین ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھی کے لیے بہترین ہو ۔اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین ہمسایہ وہ ہے جو اپنے ہمسائے کے حق میں بہتر ین ہو۔"

"خَيْرُ الْأَصْحَابِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ، وَخَيْرُ الْجِيرَانِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ". ← النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← شُرَحْبِيلَ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْحَسَنِ،

Hadith 2539

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2540

ثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْثًا، وَهُمْ نَفَرٌ، فَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: "مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟ " فَاسْتَقْرَأَهُمْ، كَذَلِكَ حَتَّى مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ هُوَ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا، قَالَ: "مَاذَا مَعَكَ يَا فُلَانُ؟ " قَالَ: مَعِيَ كَذَا وَكَذَا وَسُورَةُ الْبَقَرَةِ. قَالَ: "اذْهَبْ فَأَنْتَ أَمِيرُهُمْ".

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا جو کچھ افراد پر مشتمل تھا ۔تو رسو ل اللہ ﷺ نے انہیں بلایا اور پو چھا : "ٍتمہیں کتنا قرآن مجید یاد ہے؟ تو آپ نے ان سے باری باری قرآن پڑھا کرسنا ۔حتی ٰ کہ ان سے ایک نوجوان کی باری آئی تو آ پ نے پوچھا: "اے نوجوان تمہیں قرآن مجید حفظ ہے ؟ اس نے جواب دیا :مجھے اتنا اتنا قرآن یاد ہے اور سورہ بقر ہ بھی یاد ہے ۔ آپ نے فرمایا : "جاؤ تم ان کے امیر ہو،"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ

Hadith 2540

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2541

حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: إِذَا كَانَ نَفَرٌ ثَلَاثٌ فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ، ذَاكَ أَمِيرٌ أَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں: جب تین افراد پرمشتمل جماعت ہوتو انہیں چاہیے کہ وہ کسی ایک کو اپنا امیر بنا لیں ۔رسول اللہ ﷺ اسی طرح لوگوں کو امیر بناتے تھے ۔

عُمَرُ: إِذَا كَانَ نَفَرٌ ثَلَاثٌ فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ، ذَاكَ أَمِيرٌ أَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← الْقَاسِمُ بْنُ مَالِکٍ الْمُزَنِيُّ ← عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ،

Hadith 2541

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2542

ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ أَخْبَرَهُ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ [256 - أ] إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ، كَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: (سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ (13) وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ) [الزخرف: 13 - 14]، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ". فَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ، وَزَادَ فِيهِنَّ: "آيِبُونَ، تَائِبُونَ، عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ". حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثَنَا ابْنُ جُرَيْجِ، ثَنَا أَبُو الزُّبَيْرٍ؛ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

جناب علی الا زدی بیان کرے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ نے انہیں تعلیم دی کہ رسول اللہ ﷺ جب سواری پر سیدھے ہوکر بیٹھ جاتے اور سفر پر روانہ ہونے لگتے تو آپ تین با ر"اَللہُ اَکْبَرُ"پڑھتے پھر یہ دعا پڑھتے ((سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا ۔۔۔۔وَسُوْءِ الْمَنْظَرِ فِی الْأَھْلِ وَالْمَالِ))" پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے لیے فرماں بردار بنا دیا اور ہم میں اسے مطیع بنانے کی طاقت نہیں تھی اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔اے اللہ! ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کاسوال کرتے ہیں ۔ اور ایسے عمل کی تو فیق مانگتے ہیں جو تجھے پسند ہو۔ اے اللہ ! ہمارے لیے ہمارے سفر کو آسان بنادے اور اس کی طوالت کو لپیٹ دے ۔ اے اللہ تو ہی اس سفر میں ہمارا ساتھی ہے اور ہمارے گھر والوں میں ہمارا خلیفہ ہے ۔ اے اللہ! میں سفر کی مشکلات اور مصائب سے ، واپسی پر رنج و غم میں مبتلا ہونے سے اور اپنے گھر والوں اور مال و دولت میں برے منظر دیکھنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔"پھر جب آ پ واپس تشریف لاتے تو یہی دعا پڑھتے اور اس میں ان الفاظ کا اضافہ فرماتے: "اٰ یِبُوْن تَائبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَا مِدُوْنَ ۔""ہم واپس آنے والے ہیں ، اپنے گناہوں کی توجہ کرنے والے ہیں ،اپنے رب کے عبادت گزار اور اس کی حمدو ثنا بیان کرنے والے ہیں۔"

أَنَّ ابْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُمْ ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ،

Hadith 2542

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2543

ثَنَا الْحَسَنُ الزَّعْفَرَانِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ الْوَاسِطِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، وَرَجَاءُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُذْرِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي لَاسٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: حَمَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى إِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ خِفَافٍ (1) لِلْحَجِّ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا نَرَى أَنْ تَحْمِلَنَا هَذِهِ. فَقَالَ: "مَا مِنْ بَعِيرٍ إِلَّا وَعَلَى ذُرْوَتِهِ شَيْطَانٌ، فَاذْكُرُوا اللَّهَ إِذَا رَكِبْتُمُوهَا كَمَا أَمَرَكُمْ، ثُمَّ امْتَهِنُوهَا لِأَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّمَا يَحْمِلُ اللَّهُ".

حضرت ابو الاس خزاعی ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سفر حج کے لیے زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے کمزور اونٹوں پرسوار کیا۔تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! ہمارے خیال میں یہ اونٹ ہمیں سواری کا کام نہیں دے سکیں گے ۔تو آپ نے فرمایا :"ہر اونٹ کی کوہان پر ایک شیطا ن ہوتا ہے تو تم جب ان پر سوار ہونے لگو تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس کا نا م لے کر(بسم اللہ پڑھ کر ) ان پر سوار ہو جاؤپھر ان سے خوب اپنی خدمت لو ، بے شک (اصل میں ) سوار تو اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے ( انسان میں اتنی طاقت کہاں کہ وہ ان طاقتور جانوروں کو اپنے تابع کر سکے ) "

أَبِي لَاسٍ الْخُزَاعِيِّ ← عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ← رجاء بن محمد العذري، ← عبد الله بن الحكم بن أبي زياد ← إِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ الْوَاسِطِيُّ، ← الْحَسَنُ الزَّعْفَرَانِيُّ،

Hadith 2543

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2544

ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثَنَا عَاصِمُ -يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ- ثَنَا لَيْثٌ -وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ-؛ وَثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ أَيْضًا، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ [ابْنِ] مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ (2)، عَنْ أَبِيهِ، فِي خَبَرِ شَبَابَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًاح أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "ارْكَبُوا هَذِهِ الدَّوَابَّ سَالِمَةً، وَابْتَدِعُوهَا سَالِمَةً، وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ".

نبی کریم ﷺ کے صحابی حضرت شبانہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : "ان جانوروں پر اچھے طریقے سے سواری کرو اور انہیں صحیح سالم حالت میں چھوڑدو ،اور انہیں کرسیاں نہ بناؤ۔"

أَبِيهِ، فِي خَبَرِ شَبَابَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًاح ← [ابْنِ] مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثٌ، ← شَبَابَةُ ← لَيْثٌ -وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ-؛ وَثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ أَيْضًا، ← عَاصِمُ -يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ- ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ

Hadith 2544

chevron_left Previous
1234…48
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals