Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2845

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، ثَنَا هِشَامٌ؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى، ثَنَا هِشَامٌ؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ -يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ-؛ ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ؛ ح وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ [281 - أ] بْنُ دِينَارٍ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ -وَهَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ وَهُوَ أَحْسَنُهُمْ سِيَاقًا لِلْحَدِيثِ- قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ وَهُوَ إِلَى جَنْبِي، وَكَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ عَرَفَةَ يُسْأَلُ كَيْفَ كان رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسِيرُ حِينَ دَفَعَ مِنْ عَرَفَةَ؟ فَقَالَ: كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ. قَالَ سُفْيَانُ: النَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ. وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي حَدِيثِهِ مُدْرَجًا، وَالنَّصُّ أَرْفَعُ مِنَ الْعَنَقِ. وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ مُدْرَجًا فِي الْحَدِيثِ: يَعْنِي فَوْقَ الْعَنَقِ.

جناب ہشام بن عروہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والدگرامی سے سنا ، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت اسامہ ؓ کو سنا جبکہ وہ میرے پاس تشریف فرما تھے۔ اور حضرت اسامہ ؓ عرفات سے واپسی پر رسول اللہ ﷺکے پیچھے سوار تھے۔ حضرت عروہ نے پوچھا : عرفات سے واپسی آتے وقت رسول اللہ ﷺ کیسی چال چلے تھے؟حضرت اسامہ نے فرمایا: آپ درمیانی چال چلے تھے، لیکن جب جگہ کھلی ملتی تو اونٹنی کو تیز چلاتے ۔امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : ان کی روایت میں یہ الفاظ درج ہیں کہ نص عَنَقِ سے تیز چال کو کہتے ہیں ۔ اور جناب وکیع کی روایت میں درج ہے: یعنی عنق سے تیز چال چلتے۔"

أَبِي ← هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ وَهَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ وَهُوَ أَحْسَنُهُمْ سِيَاقًا لِلْحَدِيثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ جَمِيعًا ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← عَبْدُ الرَّحِيمِ -يَعْنِي ابن سُلَيْمَانَ- ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← هِشَامٍ ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← هِشَامٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2845

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2846

قَرَأْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيِّ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُجَمِّعٍ الْكِنْدِيَّ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ فِي حَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ أَهَلَّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَ: وَوَقَفَ -يَعْنِي بِعَرَفَةَ- حَتَّى إِذَا وَجَبَتِ الشَّمْسُ أَقْبَلَ يَذْكُرُ اللَّهَ وَيُعَظِّمُهُ، وَيُهَلِّلُهُ، وَيُمَجِّدُهُ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ.

حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ حج یا عمرے کی سفر میں جب رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس آپ کو لے کر سیدھی ہوتی تو آپ تلبیہ پکارتے۔ پھر بقیہ حدیث بیان کی ۔ اور فرمایا: آپ میدان عرفات میں ٹھہرے رہے حتی کہ جب سورج غروب ہو گیا تو آپ نے اللہ تعالی کا ذکر شروع کر دیا ۔ آپ اللہ تعالی کی عظمت ، اس کی الوہیت کا اقرار(لَا الٰہَ اِلَّا اللہُ) اور اس کی بڑائی اور بزرگی بیان کرتے رہے حتی کہ آپ مزدلفہ پہنچ گئے۔

عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيِّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2846

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2847

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ دَفَعَ مِنْ عَرَفَةَ أَرْدَفَهُ تِلْكَ الْعَشِيَّةَ فَلَمَّا أَتَى الشِّعْبَ نَزَلَ فَبَالَ -وَلَمْ يَقُلْ أَهْرَاقَ الْمَاءَ- فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنْ إِدَاوَةٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، فَقُلْنَا: الصَّلَاةَ، فَقَالَ: "الصَّلَاةُ أَمَامَكَ". فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمُزْدَلِفَةَ، صَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ حَلُّوا رِحَالَهُمْ (1)، وَأَعَنْتُهُ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَدْخَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ بَيْنَ كُرَيْبٍ وَبَيْنَ أُسَامَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا ابْنَ عُيَيْنَةَ. رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبِ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، وَقَدْ خَرَّجْتُ طُرُقَ هَذَا الْخَبَرِ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ".

حضرت اسامہ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ عرفات سےواپسی ہوئے توآپ نے انھیں اس شام اپنے پیچھے سوار کر لیا ۔ پھر جب گھاٹی کے پاس آئے تو آپ نے سواری سے اتر کر پیشاب کیا اور یہ نہیں کہا کہ پاس کہ پانی بہایا (بلکہ صریح الفاظ بولے کہ آپ نےپیشاب کیا)۔ پھر میں نے آپ کے ایک برتن سے پانی انڈیلا تو آپ نے ہلکا سا وضو کیا۔ ہم نے عرض کی: نماز پڑھنا چاہتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : نماز آگے جا کر (مزدلفہ میں ) پڑھیں گے۔ پھر جب ہم مزدلفہ پہنچے تو آپ نے مغرب کی نماز ادا کی پھر صحابہ کرام نے اپنی سواریوں سے کجاوے اتار لیے اور سوایاں کھول دیں اور آپ کی سواری کو کھولنے اور اتارنےمیں مَیں نے آپ کی مدد کی پھر آپ نے عشاء کی نماز ادا کی ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : میرے علم کے مطابق صرف ابن عیینہ نے اس سند میں حضرت اسامہ ؓ اور جناب کریب کےدرمیان حضرت ابن عباس ؓ کا ذکر کیا ہے جناب یحییٰ بن سعید انصاری نے اپنی سند میں حضرت ابن عباس کا ذکر نہیں کیا میں نے اس حدیث کے تمام طرق کتاب الکبیر میں بیان کر دیے ہیں۔"

أُسَامَةُ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2847

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2848

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا، أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عمر: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا.

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر کے ادا کیں"

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2848

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2849

ثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا سَجْدَةٌ، صَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ. وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي بِجَمْعٍ كَذَلِكَ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ.

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر کے ادا کیں ، ان کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔ آپ نے مغرب کی تین رکعات اور عشاء کی دو رکعت ادا کیں ۔ اور حضرت ابن عمر ؓ مزدلفہ میں ساری عمر اسی طرح نماز (قصر اور جمع کر کے ) ادا کرتے رہے۔"

أَنَّ أَبَاهُ ← ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2849

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2850

ثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: أَفَضْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ عَرَفَاتٍ فَلَمَّا بَلَغَ الشِّعْبَ (1) الَّذِي يَنْزِلُ عِنْدَهُ الْأُمَرَاءُ، بَالَ وَتَوَضَّأَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الصَّلَاةَ. قَالَ: "الصَّلَاةُ أَمَامَكَ". فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى جَمْعِ أَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ آخِرُ النَّاسِ حَتَّى أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ. خَبَرُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْبَابِ.

حضرت اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں عرفات سے رسول اللہﷺ کے ساتھ واپس آیا، جب آپ اس گھاٹی کے پاس پہنچے جہاں امراء اور حکمران اترتے ہیں تو آپ نے وہاں اتر کر پیشاب کیا اور وضو کیا۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! نماز پڑھنا چاہتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : نماز آگے جا کر ادا کریں گے پھر جب آپ مزدلفہ پہنچے تو آپ نے اذان کہلوائی اور اقامت ہوئی تو آپ نے مغرب کی نماز ادا کی، پھر ابھی سب لوگوں نے اپنی سواریوں کو کھولا بھی نہ تھا کہ اوقامت ہو گئی اور آپ نے عشاء کی نماز پڑھائی۔" جناب جعفر بن محمد کی روایت بھی اس مسئلے کے متعلق ہے۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← كُرَيْبٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2850

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2851

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ [281 - ب]- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ عَرَفَةَ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ فَلَمَّا بَلَغَ الشِّعْبَ نَزَلَ، فَبَالَ -وَلَمْ يَقُلْ: إِهْرَاقَ الْمَاءِ- قَالَ أُسَامَةُ: فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْإدَاوَةَ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، قُلْتُ: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: "الصَّلَاةُ أَمَامَكَ". ثُمَّ أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ وَضَعَ رَحْلَهُ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ. قَالَ سُفْيَانُ: انْتَهَى حَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ إِلَى قَوْلِهِ: "الصَّلَاةُ أَمَامَكَ"، وَالزِّيَادَةُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ.

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عرفات سے واپس روانہ ہوئے اور آپ نے حضرت اسامہ ؓ کو اپنے پیچھے سوار کر لیا۔ پھر جب آپ گھاٹی کے پاس پہنچے تو آپ سواری سے اترے اور پیشاب کیا۔ اور یہ الفاظ کہے کہ آپ نے پانی بہا یا۔ حضرت اسامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک برتن سے آپ کے لیے پانی انڈیلا تو آپ نے ہلکا سا وضو کیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ !نماز کا ارادہ ہے ۔ آپ نے فرمایا:" نماز آگے جا کر ادا کریں گے۔" پھر آپ مزدلفہ آئے تو مغرب کی نماز ادا کی ، پھر آپنے اپنی سواری سے کجا وہ وغیرہ اتار کر اسے کھول دیا، پھر عشاء کی نماز ادا کی ۔ امام سفیان کہتے ہیں : ابراہیم کی روایت ان الفاظ پر ختم ہو گئی : نماز آگے جا کر ادا کریں گے ۔ باقی اضافہ جناب ابن ابی حرملہ کی روایت کا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، ← سُفْيَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2851

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2852

ثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: أَفَاضَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مِنْ عَرَفَاتٍ عَلَى هِينَتِهِ لَا يَضْرِبُ بَعِيرَهُ، حَتَّى أَتَى جَمْعًا، فَنَزَلَ فَأَذَّنَ فَأَقَامَ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ تَعَشَّى، ثُمَّ قَامَ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ بَاتَ بِجَمْعٍ، حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ قَامَ فَأَذَّنَ، وَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ، ثُمَّ قَالَ: "إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ يُؤَخَّرَانِ عَنْ وَقْتِهِمَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُصَلِّيهما فِي هَذَا الْيَوْمِ إِلَّا فِي هَذَا الْمَكَانِ ثُمَّ وَقَفَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَرْفَعِ ابْنُ مَسْعُودٍ قِصَّةَ عَشَائه بَيْنَهُمَا، وَإِنَّمَا هَذَا مِنْ فِعْلِهِ، لَا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

جناب عبدالرحمٰن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ عرفات سے واپسی پر بڑے سکون واطمینان سے چلے، انھوں نے اپنے اونٹ کو (تیز چلانے کے لیے) مارا نہیں ۔ حتی کہ وہ مزدلفہ پہنچ گئے، وہ سواری سے اترے ، اذان کہلوائی پھر اقامت ہونے پر مغرب کی نماز ادا کی ، پھر رات کا کھانا کھایا، پھر اٹھ کر اذان کہلوائی اور تکبیر کہی گئی اور عشاء ادا کی پھر رات مزدلفہ میں گزاری ، حتی کہ جب فجر طلوع ہو گئی تو اذان کہلوئی اور اقامت پڑھی گئی پھر صبح کی نماز پڑھائی ۔پھر فرمایا: یہ دو نمازیں اپنے وقت سے مؤخر کر کے ادا کی جاتی ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ اس دن اس جگہ پر یہ دونوں نمازیں اس طرح تاخیر سے ادا کرتے تھے ۔ پھر آپ ٹھہرے گئے ۔ اما م ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : حضرت مسعودؓ نے دونوں نمازیں کے درمیان رات کا کھانا کھانے کا عمل نبی کریم کی طرف منسوب نہیں کیا بلکہ یہ ان کا ذاتی عمل ہے یہ بی کری م ﷺ کا عمل نہیں ہے۔

عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2852

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2853

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَجَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ، وَإِقَامَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ.

جناب جعفر بن محمد اپنے والد بزرگوار سے بیان کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کی خدمت میں حرضر ہوئے تو میں نے انھیں عرض کی: مجھے نبی اکرم ﷺ کے حج کے بارے میں بتائیں ۔ انھوں نے فرمایا: آپ مزدلفہ آئے تو آپ نے مغرب اور عشاء کو ایک اذ ان اوردو اقامتوں کے ساتھ جمع کر کے ادا کیا۔ پھر طلوع فجر تک رسول اللہ ﷺ لیٹے رہے۔

حَجَّةِ النَّبِيِّ ← دَخَلْنَا عَلَی جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرٌ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2853

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2854

ثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى صَلَاةً إِلَّا لِوَقْتِهَا، إِلَّا هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي الْعِشَاءَ وَالْمَغْرِبَ جَمِيعًا بالمُزْدَلِفَة، وَصَلَّى الْفَجْرَ قَبْلَ وَقْتِهَا بِغَلَسٍ.

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو پر نماز اس کے وقت پر ہی ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے سوائے ان دو نمازوں کے میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے مغرب اور عشاء کو جمع کر کے مزدلفہ میں ادا کیا اور فجر کی نماز اس کے وقت سے پہلے اندھیرے میں پڑھی۔

عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2854

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2855

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ: فَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ، يَعْنِي بِالْمُزْدَلِفَةِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ لَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ حَاتِمٍ فِي هَذَا الْخَبَرِ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ: بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ. فِي خَبَرِ جَابِرٍ دَلَالَةٌ وَاضِحَةٌ عَلَى أَنَّ رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الْفَجْرَ بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا بَعْدَمَا بَانَ لَهُ الصُّبْحُ، لَا قَبْلَ تبين لَهُ الصُّبْحُ. وَفِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ أَرَادَ بِقَوْلِهِ: وَصَلَّى الْفَجْرَ قَبْلَ وَقْتِهَا بِغَلَسٍ أَيْ قَبْلَ وَقْتِهَا الَّذِي كَانَ يُصَلِّيهَا بِغَيْرِ الْمُزْدَلِفَةِ، أَيْ أَنَّهُ غَلَّسَ بِالْفَجْرِ أَشَدَّ تَغْلِيسًا مِمَّا كَانَ يُغَلِّسُ بِهَا فِي غَيْرِ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ. وَخَبَرُ ابْنِ عُمَرَ الَّذِي يَلِي هَذَا الْبَابَ دَال عَلَى مِثْلِ مَا دَلَّ عَلَيْهِ خَبَرُ جَابِرٍ، لِأَنَّ فِي خَبَرِ ابْنِ عُمَرَ: يَبِيتُ بِالْمُزْدَلِفَةِ حَتَّى يُصْبِحَ ثُمَّ يُصَلِّيَ الصُّبْحَ.

حضرت جابر ؓ نے نبی اکرم ﷺ کے حج کے بارے میں طویل حدیث بیان کی ہے ۔ اس میں فرمایا: جب صبح نمودار ہو گئی تو آپ نے مزدلفہ میں صبح کی نماز ادا کی ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : جناب محمد بن یحییٰ نے حسن بن بشر کے واسطے سے حاتم سے اس حدیث میں اس جگہ پر یہ الفاظ بیان کیے ہیں: اذان اور اقامت کے ساتھ (نماز پڑھی) حضرت جابرؓ کی روایت میں واضح دلیل موجود ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مزدلفہ میں فجر کی نماز طلوع فجر کے بعد پہلے وقت میں ادا فرمائی ہے ، طلوع فجر کے واضح ہونے سے پہلے اد انہیں کی ۔ اور اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ کے اس فرمان " آپ نے فجر کی نماز اس کے وقت سے پہلے اندھیرے میں پڑھی" سے مراد یہ ہے کہ آپ نے دوسری جگہوں کی نسبت مزدلفہ میں زیادہ سویرے نماز پڑھی تھی ۔ یعنی آپ نے دوسرے مقامات کی نسبت مزدلفہ میں فجر کی نماز زیادہ اندھیرے میں اد اکی تھی ۔ آئندہ باب میں مذکورہ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت میں بھی حضرت جابر کی روایت کی طرح دلیل موجود ہے کیونکہ ابن عمر ؓکی روایت میں ہے: آپ نے رات مزدلفہ میں بسر کی حتی کہ جب صبح ہوئی تو آپ نے صبح کی نماز ادا کی۔

لَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، ← لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← فَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ، يَعْنِي بِالْمُزْدَلِفَةِ. ← الْحَدِيثَ. ← جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2855

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2856

قَرَأْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيِّ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُجَمِّعٍ، أَخْبَرَهُمْ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: يَبِيتُ، يَعْنِي بِالْمُزْدَلِفَةِ حَتَّى يُصْبِحَ، ثُمَّ يُصَلِّيَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ يَقِفَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَيَقِفُ النَّاسُ مَعَهُ، يدْعونَ اللَّهَ وَيَذْكُرُونَهُ وَيُهَلِّلُونَهُ وَيُمَجِّدُونَهُ وَيُعَظِّمُونَهُ حَتَّى يَدْفَعَ إِلَى مِنًى.

حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی آپ کو لے کر مسجد ذوالحلیفہ کے پاس سیدھی ہو جاتی تو آپ تلبیہ پکارتے پھر بقیہ حدیث بیان کی اور فرمایا: آپ رات مزدلفہ میں بسر کرتے حتی کہ صبح ہو جاتی ، پھر آپ صبح کی نماز ادا کرتے ۔ پھر آپ مشعرالحرام کے پاس ٹھہرتے اور لوگ بھی آپ کے پاس ٹھہرتے ، وہ سب اللہ تعالی سے دعائیں مانگتے، اللہ تعالی ٰکا ذکر کرتے، " لَا اِلٰہ اِلَّا اللہُ" کا ورد کرتے ، اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور بزرگی بیان کرتے رہتے حتی کہ منی کی طرف روانہ ہو جاتے

الْحَدِيثَ. ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ، ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيِّ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُجَمِّعٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2856

chevron_left Previous
1…282930…48
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals