Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2833

حَدَّثَنَاهُ نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثَنَا أَسَدٌ، ثَنَا سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَصْرِيُّ.

امام صاحب نے سکین بن عبدالعزیز کی حدیث کی سند بیان کی ہے۔

سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَصْرِيُّ. ← أسد ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2833

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2834

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ أَبُو حَبِيبٍ، ثَنَا سُكَيْنٌ الْقَطَّانُ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ عَرَفَةَ، فَجَعَلَ الْفَتَى يُلَاحِظُ النِّسَاءَ، بِمِثْلِهِ. غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: يَصْرِفُ وَجْهَهُ، وَلَمْ يَقُلْ: يَا ابْنَ أَخِي.

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت فضل بن عباس ؓ عرفات والے دن رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوارتھے تو اس نوجوان نے عورتوں کو دیکھنا شروع کر دیا۔"پھر اوپر والی روایت کی مثل بیان کیا صرف یہ فرق ہے: "آپ نےاسکا چہرہ دوسری طرف کر دیا ۔ "لیکن" اے میرے بھتیجے" کے الفاظ بیان نہیں کیے

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي ← سُكَيْنٌ الْقَطَّانُ، ← حَبَّانُ بْنُ هِلَالِ أَبُو حَبِيبٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2834

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2835

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يحيى، ثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ -وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ- عَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَجَّتِهِ مُنَادِيًا، فَنَادَى عِنْدَ الزَّوَالِ أَنِ اغْتَسِلُوا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى أَنْ أَهِلُّوا بِالْحَجِّ، وَأَمَرَ بِالْبُدْنِ أَنْ تُوقَفَ بِعَرَفَةَ، وَفِي الْمَنَاسِكِ كُلِّهَا.

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حج میں ایک اعلان کرنے والے کو حکم دیا تو اس نے زوال کے وقت اعلان کیا کہ غسل کر لو۔ پھر بقیہ حدیث بیان کی اور فرمایا: پھر جب یوم الترویہ (۸ ذوالحجہ کا دن ) آیا آپ نے اپنے منادی کو حکم دیا تو اس نے یہ اعلان کیا:" حج کا احرام باندھ کر تلبیہ پکارو، اور آپ نے حکم دیا کہ اونٹوں کو عرفات اورحج کے تمام مناسک کی ادائیگی کے دوران اپنے ساتھ رکھا جائے۔

الحديث بطوله ← أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ فِي حَجَّتِهِ مُنَادِيًا، فَنَادَى عِنْدَ الزَّوَالِ أَنِ اغْتَسِلُوا، ← جَابِرٍ ← ابى جعفر وهو محمد بن على بن الحسين ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2835

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2836

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَكِيمٍ الْكِنَانِيُّ -مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ مَوَالِيهِمْ- عَنْ بِشْرِ بْنِ قُدَامَةَ الضِّبَابِيِّ قَالَ: أَبْصَرَتْ عَيْنَايَ حِبِّي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَاقِفًا بِعَرَفَاتٍ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ حَمْرَاءُ قَصْوَاءُ وَتَحْتَهُ قَطِيفَةٌ قَوْلَانِيَّةٌ، وَهُوَ يَقُولُ: "اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ حَجًّا غَيْرَ رِيَاءٍ وَلَا، هِيَاءٍ وَلَا سُمْعَةٍ".

حضرت بشر بن قدامہ الضبابی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میری ان دو آنکھوں نے میرے محبوب رسول اللہ ﷺ کو میدان عرفات میں اپنی اونٹنی قصواءپر سوار دیکھا آپ کے نیچے بالکل معمولی سی چادر تھی اور آپ دعا مانگ رہے تھے: "اے اللہ ! اس حج کو ریا کاری ، نمودونمائش اور شہرت سے محفوظ بنا دے۔ "

بِشْرِ بْنِ قُدَامَةَ الضِّبَابِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَكِيمٍ الْكِنَانِيُّ -مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ مَوَالِيهِمْ- ← سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ الْقُرَشِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2836

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2837

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَرَفَةَ، ثُمَّ أَفَاضَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: خَبَرُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، مِنْ هَذَا الْبَابِ أَيْضًا.

حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عرفات میں ٹھہرے رہے پھر غروب آفتاب کے بعد آپ واپس (مزدلفہ ) لوٹے آپ نے حضرت اسامہ ؓ کو اپنے پیچھے سوار کیا ۔ جناب محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : جناب جعفر بن محمد کی اپنے والد سے حضرت جابر ؓ کی روایت بھی اس باب کے متعلق ہے۔

عَلِيٍّ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2837

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2838

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا أَبُو عَامِرٍ، ثَنَا زَمْعَةُ، عَنْ سَلَمَةَ -وَهُوَ ابْنُ وَهْرَامَ- عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ عَلَى رُؤوسِ الْجِبَالِ كَأَنَّهَا الْعَمَائِمُ عَلَى رُؤوسِ الرِّجَالِ دَفَعُوا، ويَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، حَتَّى إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَكَانَتْ عَلَى رُؤوسِ الْجِبَالِ كَأَنَّهَا الْعَمَائِمُ عَلَى رُؤوسِ الرِّجَالِ، دَفَعُوا، فَأَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الدَّفْعَةَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ بِالْمُزْدَلِفَةِ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ دَفَعَ حِينَ أَسْفَرَ كُلُّ شَيْءٍ فِي الْوَقْتِ الْآخِرِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا أَبْرَأُ مِنْ عُهْدَةِ زَمْعَةَ بْنِ صَالِحٍ.

حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ زمانہ میں لوگ عرفات میں ٹھہرے رہتے حتی کہ جب سورج پہاڑوں کی چوٹیوں پر اس طرح ہو جاتا جیسے آدمیوں کے سروں پر پگڑیاں ہوتی ہیں تو وہ مزدلفہ لوٹ آتے ۔ پھر مزدلفہ میں ٹھہرتے حتی کہ جب سورج طلوع ہو جاتا اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر مردوں کے سروں پر پگڑیوں کی طرح ہو جاتا تو (منیٰ) لوٹ آتے اس لیے رسول اللہ ﷺنے عرفات سے روانگی کو غروب آفتاب تک مؤخر کر دیا، پھر صبح کی نماز سے پہلے آخری گھڑی میں منی روانہ ہوئے جبکہ ہر چیز روشن ہو چکی تھی ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : میں زمعہ بن صالح راوی کی ذمہ داری سے براءت کا اظہار کرتا ہوں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سَلَمَةَ -وَهُوَ ابْنُ وَهْرَامَ- ← زَمْعَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2838

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2839

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ اللَّهَ يُبَاهِي بِأَهْلِ عَرَفَاتٍ أَهْلَ السَّمَاءِ، فَيَقُولُ لَهُمْ: انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي جَاءُونِي شُعْثًا غُبْرًا".

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :" بے شک اللہ تعالیٰ کے حاجیوں کی وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر ومباہات کا اظہار فرماتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ انھیں فرماتے ہیں : میرے بندوں کو دیکھو کیسے غبارآلودپراگندہ حال میں میرے دربار میں حاضر ہیں۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُجَاهِدٍ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2839

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2840

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَرَوَى مَرْزُوقٌ -هُوَ أَبُو بَكْرٍ- عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ إِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ إِلَى السَّمَاءِ فَيُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ، فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي أَتَوْنِي شُعْثًا غُبْرًا، ضَاحِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ. فَتَقُولُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ: أَيْ رَبِّ فِيهِمْ فُلَانٌ يَزْهُو وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ، قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ: قَدْ غَفَرْتُ [280 - ب] لَهُمْ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَمَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرُ عَتِيقًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ". حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا مَرْزُوقُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا أَبْرَأُ مِنْ عُهْدَةِ مَرْزُوقٍ.

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:" جب عرفات کا دن ہو تا ہے تواللہ تعالی آسمان دنیا پر تشریف لاتے ہیں اور عرفات کے حاجیوں کی وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندوں کی طرف دیکھو ، وہ میری بارگاہ میں کس قدر غبار آلود پراگندہ حالت میں حاضر ہیں ، ہر دوردراز علاقے سے حاضر ہوئے ہیں ۔ میں فرشتے عرض کرتے ہیں : اے پروردگار ! ان میں فلاں متکبر بھی ہے اور ان میں فلاں فلاں گناہ گار بھی ہیں !اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: میں نے ان سب کو بخش دیا ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : عرفہ والے دن جس کثرت سے لوگوں کو جہنم سے آزادی ملتی ہے وہ کسی اور دن میں نہیں ملتی۔" امام ابو بکر فرماتے ہیں : میں مرزوق (راوی) کی ذمہ داری سے بری ہوں ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَبُو بَكْرٍ: وَرَوَى مَرْزُوقٌ -هُوَ أَبُو بَكْرٍ-

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2840

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2841

رَوَى قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْأَغَرِّ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حَصِينٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَشِيَّةِ عَرَفَةَ: "اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كَالَّذِي تَقُولُ وَخَيْرًا مِمَّا نَقُولُ، اللَّهُمَّ لَكَ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي وَإِلَيْكَ مَآبِي وَلَكَ رَبِّي تَرَائِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَوَسْوَسَةِ الصَّدْرِ، وَشَتَاتِ الْأَمْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَجِيءُ بِهِ الرِّيحُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَجِيءُ بِهِ الرِّيحُ". ثَنَاهُ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا عبيدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ.

حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفات کی شام کو یہ دعا بکثرت پڑھی تھی: " اے اللہ !تمام تعریفیں ہم بیان کرتے ہیں ، اس سے بہتر واعلی تیری تعریفیں ہیں! اے اللہ! میری نماز تیرے ہی لیے ہے ۔ میری قربانی میرا جینا ، میرا مرنا تیرے لیے ہے۔ تیری ہی طرف میرا لوٹنا ہے، میں قبر کے عذاب ، سینے کے وسوسوں اور معاملات کے بگاڑو فساد سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس خیرو بھلائی کا سوال کرتا ہوں جو پوا ؛ئ لر آتی ہے اور اس شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو ہوا لے کر آتی ہے۔"

عَلِيٍّ، ← خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْأَغَرِّ ← رَوَى قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2841

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2842

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، ثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَتَى جِبْرِيلُ إِبْرَاهِيمَ يُرِيهِ الْمَنَاسِكَ فَصَلَّى بِهِ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ بِمِنًى. ثُمَّ ذَهَبَ مَعَهُ إِلَى عَرَفَةَ فَصَلَّى بِهِ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِعَرَفَةَ، وَوَقَّفَهُ فِي الْمَوْقِفِ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ دَفَعَ بِهِ، فَصَلَّى بِهِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ بِالمُزْدَلِفَةِ، ثُمَّ أَبَاتَه لَيْلَتَهُ، ثُمَّ دَفَعَ بِهِ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ، فَقَالَ لَهُ: اعْرف الْآنَ، فَأَرَاهُ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا، وفَعَلَ ذَلِكَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت جبرائیل حضرت ابراھیم ؑ کو مناسک حج سکھانے اور دکھانے کے نمازیں پڑھائیں ، پھر وہ ان کے ساتھ عرفات گئے اور عرفات میں انھیں ظہر اور عصر کی نمازیں پڑھائیں اورانھیں سورج غروب ہونے تک موقف میں ٹھہرایا، پھر انھیں لے کر روانہ ہو گئے ، پھر انھیں مغرب ، عشاء اور صبح کی نمازیں مزدلفہ میں پڑھائیں ، رات مزدلفہ میں ہی بسر کرائی ، پھر ( صبح کو منی جا کر ) جمرے پہر کنکریاں ماریں ۔ پھر تمام مناسک دکھانے کے بعد فرمایا:اِعْرَافِ الْاٰنَ(اب اچھی طرح پہچان لو) اسی طرح حضرت جبرائیل ؑ نے نبی کریم ﷺ کو بھی تمام مناسک سکھائے ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2842

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2843

ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ-؛ ح وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى -يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ- جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ (1)، أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَشِيَّةَ عَرَفَةَ، وَغَدَاةَ جَمْعٍ، حِينَ دَفَعُوا النَّاسُ: "عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ" وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ.

حضرت فضل ؓ بیان کرتے ہیں کہ عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح کو جب لوگ روانہ ہونے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " لوگو! آرا م وسکون سے چلو۔" جبکہ آپ نے اپنی اونٹنی کو روکا ہوا تھا۔

الْفَضْلُ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو مَعْبَدٍ، ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عِيسَى -يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ- جَمِيعًا ← وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ← يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2843

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2844

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحسينِ (2) بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الحر، ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْدَفَهُ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ، فَأَفَاضَ بِالسَّكِينَةِ. وَقَالَ: "أَيُّهَا النَّاسُ! عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ، فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ" قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ نَاقَتَهُ رَافِعَةً يَدَهَا، حَتَّى أَتَى جَمْعًا، ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ فَأَمَرَ النَّاسَ بِالسَّكِينَةِ، وَأَفَاضَ، وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ، وَقَالَ: "لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ" فَمَا رَأَيْتُ نَاقَتَهُ رَافِعَةً يَدَهَا حَتَّى أَتَى مِنًى.

حضرت اسامہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عرفات سے واپسی پر انھیں اپنے پیچھے اونٹنی پر سوار کر لیا ۔ آپ بڑے آرام وسکون سے چلے اور فرمایا:" اے لوگو!سکون سے چلو، یقیناً گھوڑوں اور اونٹوں کو تیز بھگانا نیکی نہیں ہے۔" حضرت اسامہ ؓ فرماتے ہیں : پھر میں نے آپ کی اونٹنی کو تیز دوڑنے کے لیے اپنا اگلا قدم اٹھاتے ہوئے نہیں دیکھا حتی کہ آپ مزدلفہ پہنچ گئے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے پیچھے فضل بن عباس ؓ کو بٹھا لیا اور لوگوں کو آرام وسکون کے ساتھ چلنے کا حکم دیا۔ پھر آپ خود بھی سکون کے ساتھ چلے ۔ آپ نےفرمایا: گھوڑے اور اونٹ تیز دوڑانا نیکی نہیں ہے۔" پھر میں نے آپ کی اونٹنی کو اگلا اپنا قدم اٹھاتے ہوئے نہیں دیکھا حتی کہ آپ منیٰ پہنچ گئے۔

أُسَامَةُ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحسينِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الحر،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2844

chevron_left Previous
1…272829…48
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals