صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2821
ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَكَرِيَّا قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ مُضَرِّسٍ يَقُولُ: كُنْتُ أَوَّلَ الْحَاجِّ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ حِينَ بَرَقَ الْفَجْرُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَتَيْتُكَ مِنْ جَبَلِ طي، وَقَدْ أَكْلَلْتُ رَاحِلَتِي، وَأَنْصَبْتُ نَفْسِي، فَمَا تَرَكْتُ مِنْ حَبلٍ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ. فَقَالَ: "مَنْ شَهِدَ الصَّلَاةَ مَعَنَا، ثُمَّ وَقَفَ مَعَنَا حَتَّى نُفِيضَ، وَقَدْ وَقَفَ قَبْلَ ذَلِكَ بِعَرَفَاتٍ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ قَضَى تَفَثَهُ، وَتَمَّ حَجُّهُ". ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ فِي عَقِبِهِ: ثَنَا سُفْيَانُ، ثَنَا دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ؛ أَنَّهُ خَرَجَ حِينَ بَرِقَ الْفَجْرُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: دَاوُدُ هَذَا هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ.
حضرت عروہ بن مضرس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں پہلی مرتبہ حج کر رہا تھا تو میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ مزدلفہ میں تشریف فرما تھے ۔ جب فجر روشن ہوئی تو آپ صبح کی نماز کے لیے نکلے ۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں طی قبیلے کے پہاڑوں سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں ، میں نے اپنی سواری تھکا دی ہے اور خود بھی تھکاوٹ سے چُور چُور ہو چکا ہوں، میں نے کوئی ٹیلہ نہیں چھوڑا مگر اس پر ٹھہرا ہوں (کہ شاید یہی عرفات ہو)۔ آپ نے فرمایا: "جس شخص نے ہمارے ساتھ یہ نماز پڑھ لی پھر یہاں سے ہمارے روانہ تک ہمارے ساتھ ٹھہرا رہا، اور اس سے پہلے وہ عرفات میں دن یا رات کے وقت ٹھہر چکا ہو تو اس نےاپنی میل کچل دور کر لی اور اس کا حج مکمل ہو گیا۔ "جناب داود کی روایت میں ہے : جب فجر طلوع ہوئی تو اس وقت نماز کے لیے نکلے ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : اس داود راوی سے مراد ابن یزید اودی ہے۔
عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِیَّا، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،
Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2821
