Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2809

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثَنَا يَزِيدُ؛ وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: فَأَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ، حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ فَرُحِلَتْ لَهُ، فَرَكِبَ حَتَّى أَتَى بَطْنَ الْوَادِي فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: "إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ [278 - أ] كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا. أَلَا وَإِنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ، وَدِمَاءَ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ، وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُهُ، دِمَاؤُنَا دَمُ ابْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِث، كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي سَعْدٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ. وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، وَأَوَّلُ رِبًّا أَضَعُهُ رِبَانَا، رِبَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ. اتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللَّهِ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ، وَإِنَّ لَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِينَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ، فَإِنْ فَعَلْنَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَإِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ، كِتَابَ اللَّهِ، وَأَنْتُمْ مَسْؤولُونَ عَنِّي مَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟ " فَقَالُوا: نَشْهَدُ إِنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالَاتِ رَبِّكَ، وَنَصَحْتَ لِأُمَّتِكَ، وَقَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ، فَقَالَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيُنَكِّسُهَا إِلَى النَّاسِ: "اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ بَيَّنْتُ فِي كِتَابِ النِّكَاحِ، أَنَّ قَوْلَهُ: لَا يُوطِينَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ، إِنَّمَا أَرَادَ وَطْءَ الْفِرَاشِ بِالْأَقْدَامِ، كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "ولَا تَجْلِسْ عَلَى تَكْرُمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَفِرَاشُ الرَّجُلِ تَكْرِمَتُهُ"، وَلَمْ يَرِدْ مَا يَتَوَهَّمُهُ الْجُهَّالُ إِنَّمَا أَرَادَ وَطْءَ الْفُرُوجِ.

جناب جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ہم حضرت جابر بن عبداللہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، پھر مکمل حدیث بیان کی اور فرمایا: پھر رسول اللہ ﷺ (مزدلفہ اور وادی عرفہ وغیرہ میں رکے بغیر) عرفات پہنچ گئے، جب سورج ڈھل گیا تو آپ نے اپنی اونٹی قصواء پر کجاوہ رکھنے کا حکم دیا تو اس پر کجاوہ رکھ دیا گیا۔ پھر آپ اس پر سوار ہو کر وادی عرفات کے وسط میں تشریف لائے تو لوگوں سے خطاب فرمایا: آپ نے فرمایا: " بے شک تمہارے خون،اور تمکہارے مال تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارے اس شہر میں اس مہینے میں تمہارا آج کا دن حرمت والا ہے۔ خبردار! جاہلیت میں میں کئے گئے قتل بھی رایئگاں ہیں ۔ میںاپنے مقتولوں میں سے سب سے پہلے ابن ربیعہ بن حارث کا قتل معاف کرتا ہوں ، وہ بنی سعد میں دودھ پیتے تھے تو قبیلہ ہذہل کے لوگوں نے اسے قتل کر دیا تھا ۔ جاہلیت کا تمام سود بھی کالعدم ہے میں اپنے خاندان کے سود میں سے سب سے پہلے حضرت عباس بن عبدالمطلب کا سود (جو لوگوں کے ذمے ہے) سب معاف کرتا ہوں ۔ عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرنا کیونکہ تم نے اللہ کی امانت کے ساتھ انہیں حاصل کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے کلمے کے ساتھ ان کی شرمگاہوں کو اپنے لیے حلال کیا ہے ۔ ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر تمہارے ناپسندیدہ شخص کو نہ بیٹھنے دیں، اگر وہ یہ کام کریں تو تم انہیں ہلکی پھلکی سزا دے سکتے ہو، ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہیں دستور کے مطابق کھانا پینا اور لباس مہیا کرو ۔ اوار بے شک میں تمہارے اندرایک ایسی چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ تم جب تک اس پر عمل پیرا رہو گے کبھی گمراہ نہیں ہو گے ۔ وہ اللہ کی کتاب قرآن مجید ہے ۔ اور (قیانت جت روز) تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو تم کیا جواب دو گے؟"صحابہ کرام نے عرض کیا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے رب کے تمام پیغامات پہنچا دیے ہیں ۔ اور اپنی امت کی خیر خواہی کا حق بھی خوب ادا کیا ہے ، اور آپ نے اپنی ذمہ واری احسن طریقے سے پوری کر دی ہے۔ تو آپ نے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف بلند کر کے سامعین پر جھکاتے ہوئے فرمایا: اے اللہ! گواہ ہو جا۔ اے اللہ ! بھی گواہ بن جا۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : میں نے کتاب النکاح میں وضاحت کر دی ہے کہ آپ کا فرمان "وہ تمہارے بستر پر تمہارے ناپسندیدہ شخص کو نہ بیٹھنے دیں "کا مطلبب یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر کو کسی ناپسندیدہ اشخاص کے قدموں تلے نہ روندیں ۔ کدی کو اس پر نہ بیٹھنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :" تم کسی شخص کی خصوصی نشست پر اس کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھو۔" آدمی کا بستر بھی اس کی خصوصی نشست گاہ ہوتا ہے ۔ آپ کے اس فرمان کا یہ مطلب نہیں کہ وہ تمہارے کسی ناپسندیدہ شخص سے ہم بستری نہ کریں ۔ جیسا کہ بعض جہلاء جو وہم ہوا ہے۔

الْحَدِيثَ. ← دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← يَزِيدُ: ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2809

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2810

ثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ جَاءَ لِلْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ يَوْمَ عَرَفَةَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَأَنَا مَعَهُ، فَقَالَ: الرَّوَاحُ، إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ. فَقَالَ: هَذِهِ السَّاعَةُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ سَالِمٌ: فَقُلْتُ لِلْحَجَّاجِ: إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تُصِيبَ الْيَوْمَ السُّنَّةَ فَاقْصِرِ الْخُطْبَةَ، وَعَجِّلِ الصَّلَاةَ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: صَدَقَ.

حضرت سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ عرفات والے دن سورج ڈھلنے کے بعد حجاج بن یوسف کے پاس آئے ، میں بھی ان کے ساتھ تھا ۔ انھوں نے فرمایا: اگر سنت نبی پر عمل کرنا چاہتے ہو تو چلو( اور خطبہ دو) اس نے عرض کیا :ابی چلوں ؟ انھوں نے فرمایا: ہاں ابھی چلو۔ حضرت سالم بیان کرتے ہیں :میں نے حجاج سے کہا: اگرتم آج سنت نبی پر عمل پیرا ہونا چاہتے ہو تو خطبہ مختصر دینا اورنماز جلدی پڑھنا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں:سالم نے سچ کہا ہے۔

سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2810

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2811

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِعَرَفَاتٍ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَيْنِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَيْنِ.

حضرت جابرؓ جے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے میدان عرفات میں ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ادان اور دو اقامتوں کے ساتھ جمع کر کے ادا کیں ۔ اور مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں بھی ایک ادان اور دو اقامتوں کے ساتھ پڑھیں۔

جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2811

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2812

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: فَخَطَبَ، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، لَمْ يُصَلَّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى الْمَوْقِفَ.

جناب جعفر بن محمد اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : ہم حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے فرمایا: پھر نبی کریمﷺ نے خطبہ ارشا د فرمایا۔ پھر حضرت بلال ؓ نے ادان پڑھی ، پھر اقامت کہی توآپ نے ظہر کی نماز پڑھائی ، پھر انھوں نےعصر کی اقامت کہی تو آپ نے عصر کی نماز پڑھائی ، آپ نے ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی (نفل) نماز نہیں پڑھی ۔ پھر آپ اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہو کر موقف ( کھڑے ہو کر دعائیں مانگنے کے مقام ) پر تشریف لائے۔

الْحَدِيثَ. ← دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرٌ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2812

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2813

ثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُصَلِّي بِأَهْلِ مَكَّةَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يُسَلِّمُ، ثُمَّ يَقُومُونَ فَيُتِمُّونَ صَلَاتَهُمْ، وَإِنَّ سَالِمًا قَالَ لِلْحَجَّاجِ عَامَ نَزَلَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ الْحَجَّاجُ، فَكَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَنْ يُرِيَهُ كَيْفَ يَصْنَعُ فِي الْمَوْقِفِ. قَالَ سَالِمٌ: فَقُلْتُ لِلْحَجَّاجِ: إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ فَهَجِّرْ بِالصَّلَاةِ يَوْم عَرَفَةَ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: صَدَقَ. وَإِنَّهُمْ كَانُوا يَجْمَعُونَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي السُّنَّةِ يَوْمَ عَرَفَةَ. فَقُلْتُ لِسَالِمٍ: أَفَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالَ: نعم، إِنَّمَا يَتَّبِعُونَ سُنَّتَهُ.

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ مکہ والوں کو دو رکعات پڑھا کر سلام پھیر دیتے تھے پھر وہ کھڑے ہو کر اپنی بقیہ نماز مکمل کر لیتے تھے۔ حجاج بن یوسف جس سال حض؎رت عبداللہ بن زبیرؓ کے ساتھ جنگ کے لیے مکہ مکرمہ آیا، حضرت سالم نے حجاج کو کچھ مسائل بتائے۔ اس نے حضرت عبداللہ ؓ سے عرض کی کہ وہ انھیں بتائیں کہ عرفات میں کیسے اعمال حک اداکرنے ہیں ۔ حضرت سالم فرماتے ہیں : میں نے حجاج سے کہا: اگر تم سنت نبوی پر عمل کرنا چاہتے ہو تو عرفات کے دن نماز کو پہلے وقت میں ادا کرو ، حضرت عبداللہ نے فرمایا : سالم نے سچ کہا ہے۔ صحابہ کرام عرفات کے دن نماز ظہر اور عصر جمع کر کے سنت کے مطابق ادا کرتے تھے۔ میں نے سا لم سے عرض کیا: کیا یہ کام رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا: بلاشبہ صحابہ کرام صرف رسول اللہ ﷺ کی سنت ہی کی پیروی کرتے تھے۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2813

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2814

ثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا أَشْهَبُ، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَتَبَ عَبْدُ الْمَلَكِ بْنُ مَرْوَانَ إِلَى الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ يَأْمُرُهُ أَنْ لَا يُخَالِفَ ابْنَ عُمَرَ فِي أَمْرِ الْحَجِّ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ جَاءَهُ ابْنُ عُمَرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَأَنَا مَعَهُ، فَصَاحَ عِنْدَ سراقه [278 - ب] أَيْنَ هَذَا؟ فَخَرَجَ إِلَيْهِ الْحَجَّاجُ وَعَلَيْهِ مِلْفَحَةٌ معصفرة، فَقَالَ لَهُ: مَا لَكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: الرَّوَاحَ، إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ. فَقَالَ: نَعَمْ: أُفِيضُ عَلَيَّ مَاءً، ثُمَّ أَخْرُجُ إِلَيْكَ، فَانْتَظَرَهُ حَتَّى خَرَجَ فَسَارَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي. فَقُلْتُ لَهُ: إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تُصِيبَ السُّنَّةَ فَاقْصُرِ الْخُطْبَةَ وَعَجِّلِ الْوُقُوفَ، فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ كَيْمَا يَسْمَعَ ذَلِكَ مِنْهُ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ، قَالَ: صَدَقَ.

حضرت سالم بن عبداللہ ؒ بیان کرتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو خط لکھ کر حکم دیا کہ وہ اعمال حج کی ادائیگی میں حضرت ابن عمرؓ کی مخالفت نہ کرے ۔ لہٰذا جب عرفات کا دن آیا تو حضرت ابن عمر ؓ حجاج بن یوسف کے پاس سورج ڈھلتے ہی آئے ، میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ انھوں نے حجاج کے خیمے کے پاس آکر اسے آواز دی ، یہ حجاج کہاں ہے؟ تو حجا ج ایک چادر اوڑھے ان کے پاس حاضر ہو گیا۔ اس نے عرض کیا: اے عبدالرحمان فرمائیے کیا حکم ہے؟ انھوں نے فرمایا: اگر سنت نبوی پر عمل کرنا چاہتے ہو تو اب چلو۔ اس نے عرض کیا : میں اپنے بدن پر پانی بہا کر ابھی آپ کے ساتھ چلتا ہوں ۔ لہٰذا انھوں نے اس کا انتظار کیا، حتی کہ جب وہ باہر آیا تو میرے اور میرے والد محترم کے درمیان چلنے لگا۔ میں نے اسے کہا: اگر تم سنت نبوی کو پانا چاہتے ہو تو خطبہ مختصر دینا اور اوقوف کے لیے جلدی کرنا۔تو اس نے حضرت ابن عمرؓ کی طرف دیکھنا شروع کر دیا تاکہ وہ یہی بات ان سے سن سکے ۔ حضرت ابن عمرؓ نے جب اس کی یہ چاہت محسوس کی تو فرمایا: سالم نے سچ کہا ہے۔

مَالِكٍ، ← أَشْهَبُ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2814

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2815

أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا جَعْفَرٌ، ثَنَا أَبِي قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَرَفَةَ، فَقَالَ: "وَقَفْتُ هَاهُنَا، وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ".

جناب جعفر بن محمد اپنے والد محترم سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا: ہم حضرت جابر بن عبداللہؓ کے پاس آئے تو ہم نے ان سے نبی کریمﷺکے حج کے بارے میں سوال کیا۔ انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے عرفات میں وقوف کیا اور فرمایا:" میں اس جگہ ٹھرا ہوں اور سارا میدان عرفات ٹھرنے کی جگہ ہے۔"

"وَقَفْتُ هَاهُنَا، وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ". ← وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ بِعَرَفَةَ، ← حَجَّةِ النَّبِيِّ ← أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ ← أَبِي ← جَعْفَرٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2815

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2816

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادٍ -وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ- عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "ارْفَعُوا عَنْ بَطْنِ عُرَنَةَ، وَارْفَعُوا عَنْ بَطْنِ مُحَسِّرٍ".

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "( عرفات جاتے ہوئے ) وادی عر نہ سے آگے نکل جاؤ اور ( مزدلفہ آتے وقت ) وادی محسر سے جلدی آگے نکل جاؤ۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي مَعْبَدٍ، ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← زِيَادٍ -وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ- ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2816

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2817

فَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ يُقَالُ: ارْتَفَعُوا عَنْ مُحَسِّرٍ، وَارْتَفِعُوا عَنْ عُرَنَاتٍ. أَمَّا قَوْلُهُ: الْعُرَنَاتُ فَالْوُقُوفُ بِعُرَنَةَ أَلَّا يَقِفُوا بِعُرَنَةَ، وَأَمَّا قَوْلُهُ: عَنْ مُحَسِّرٍ، فَالنُّزُولُ بِجَمْعٍ، أَيْ: لَا تَنْزِلُوا مُحَسِّرًا.

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ کہا جاتا تھا: وادی محسر اور وادی عرنات سے آگے نکل جاؤ ۔ عرنات کا مطلب یہ ہے کہ وادی عرنہ میں مت ٹھرو اور وادی محسر کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ مزدلفہ میں ٹھرتے وقت وادی محسر میں مت اترو بلکہ اے چھوڑکر آگے جا کر ٹھہرو۔

مُحَسِّرٍ، فَالنُّزُولُ بِجَمْعٍ، أَيْ: لَا تَنْزِلُوا مُحَسِّرًا. ← عُرَنَاتٍ. أَمَّا قَوْلُهُ: الْعُرَنَاتُ فَالْوُقُوفُ بِعُرَنَةَ أَلَّا يَقِفُوا بِعُرَنَةَ، وَأَمَّا قَوْلُهُ: ← مُحَسِّرٍ، وَارْتَفِعُوا ← كَانَ يُقَالُ: ارْتَفَعُوا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← فَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2817

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2818

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَفِظْتُهُ عَنْ عَمْرٍو، عَنْ [عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ] (1) صَفْوَانَ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ شَيْبَانَ -وَهُوَ أَخْوَالُهُ- (2) قَالَ: أَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ وَنَحْنُ وُقُوفٌ بِعَرَفَةَ خَلْفَ الْمَوْقِفِ -مَوْضِعٍ يَبْعُدُهُ عَمْرٌو عَنِ الْمَوْقِفِ- فَقَالَ: إِنِّي رَسُولُ [رَسُولِ] اللَّهِ إِلَيْكُمْ.

جناب یزید بن شیبان بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن مربع انصاری ؓ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم وادی عرفات میں موقف سے پیچھے ٹھہرے ہوئے تھے ۔ جناب عمر واس جگہ کو امام کے موقف سے دور قرار دیتے تھے۔ تو انھوں نے فرمایا: میں تمھاری طرف رسول اللہ ﷺ کا قاصد ہوں۔"

الْمَوْقِفِ- فَقَالَ: إِنِّي رَسُولُ [رَسُولِ] اللَّهِ إِلَيْكُمْ. ← أَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ وَنَحْنُ وُقُوفٌ بِعَرَفَةَ خَلْفَ الْمَوْقِفِ -مَوْضِعٍ يَبْعُدُهُ عَمْرٌو ← يَزِيدُ بْنُ شَيْبَانَ -وَهُوَ أَخْوَالُهُ- ← [عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ] صَفْوَانَ، ← عَمْرٍو، ← حَفِظْتُهُ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2818

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2819

وَثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو -وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ- عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ خَالِد بن يَزِيدَ بْنِ شِهَابٍ. وَقَالَ أَبُو عَمَّارٍ: قَالَ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ شَيْبَانَ، قَالَ: كُنَّا وُقُوفًا مِنْ وَرَاءِ الْمَوْقِفِ مَوْقِفًا يَتَبَاعَدُهُ عَمْرٌو مِنَ الْإِمَامِ، فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: إِنِّي [رَسُولُ] رَسُولِ اللَّهِ إِلَيْكُمْ، يَقُولُ لَكُمْ: "كُونُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ هَذِهِ، فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ إِبْرَاهِيمَ". غَيْرَ أَنَّ أَبَا عَمَّارٍ قَالَ: كُنَّا وُقُوفًا مَكَانًا بَعِيدًا خَلْفَ الْمَوْقِفِ فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ.

جناب یزید بن شیبان بیان کرتے ہیں کہ ہم موقف کے پیچھے کھڑے تھے، جناب عمرو کے نزدیک یہ جگہ امام کے موقف سے بہت دور تھی۔ تو ہمارے پاس ابن مربع انصاری ؓ تشریف لا ئے، تو انھوں نے فرمایا: بے شک میں تمہاری طرف رسول اللہ ﷺ کا قاصد ہوں ، نبی ﷺ تمھیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی انھیں نشانیوں کی جگہوں پر ٹھہرے رہو کیونکہ تم ابراہیم علیہ السلام کی میراث میں سے ایک میراث پر ہو۔ ایک روایت میں جناب ابو عمار بیان کرتے ہیں: ہم موقف سے دور ایک جگہ ٹھہرے ہوئے تھے تو ہمارے پاس حضرت ابن مربعؓ تشریف لائے۔

خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ شِهَابٍ، ← [عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ] صَفْوَانَ، ← عَمْرٍو -وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ- ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2819

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2820

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ وَزَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ؛ ح وَثَنَا عَلِيٌّ أَيْضًا، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَسَعْدَانُ -يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى- عَنْ إِسْمَاعِيلَ؛ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ يَحْيَى: ثَنَا. وَقَالَ يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ؛ ح وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ؛ ح وَثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، قَالَا: ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، -وَهَذَا حَدِيثُ هُشَيْمٍ- عَنِ الشَّعْبِيِّ [2 - أ] قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ الطَّائِيُّ -قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِجَمْعٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَتَيْتُكَ مِنْ جَبَلِ طي، أَنْصَبْتُ رَاحِلَتِي، وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي، وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُ مِنْ حَبلٍ (1) إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ، فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ صَلَّى مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ، وَوَقَفَ مَعَنَا هَذَا الْمَوْقِفَ، فَأَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ تَمَّ حَجَّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ".

حضرت عروہ بن مضرس بن اوس بن حارثہ بن کام طائی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاسا حاضر ہوا جبکہ آپ مزدلفہ میں تشریف فاما تھے ۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! میں طے قبیلے کے پہاڑوں سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں ، میں نے اپنی سواری کو تھکا دیا ہے اور میں خود بھی تھکاوٹ سے چور ہوں۔ اللہ کی قسم میں نے کوئی ٹیلہ نہیں چھوڑا مگر اس پر ٹھہرا ہوں تو کیا میرا حج ہو گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: "جس شخص نے ہمارے ساتھ یہ (فجر کی ) نماز پڑھ لی اور ہمارے ساتھ اس موقف (مزدلفہ ) میں ٹھہرا رہا، جبکہ اس سے پہلے وہ عرفات سے دن یا رات کے وقت واپس لوٹا ہو تو اس کا حج مکمل ہو گیا اور اس نے اپنے مناسک پورے کر لیے۔ (اور اپنی میل کچیل دور کر لی)۔"

أَتَيْتُ النَّبِيَّ وَهُوَ بِجَمْعٍ فَقُلْتُ: ← عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ الطَّائِيُّ ← الشَّعْبِيِّ أ] ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، -وَهَذَا حَدِيثُ هُشَيْمٍ- ← وَكِيعٌ، ← وَثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← إِسْمَاعِيلُ ← وَقَالَ يَزِيدُ، ← يَحْيَى ← يَحْيَى، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ← وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ← إِسْمَاعِيلُ ← الْمُعْتَمِرُ، ← إِسْمَاعِيلَ؛ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَسَعْدَانُ -يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى- ← وَثَنَا عَلِيٌّ أَيْضًا، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ وَزَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ؛ ← هُشَيْمٌ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2820

chevron_left Previous
1…252627…48
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals