Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2797

ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، قَالُوا: ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ قَالَ: لَقِيتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَلَى حِمَارٍ مُتَوَجِّهًا إِلَى مِنًى يَوْمَ التَّرْوِيَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي هَذَا الْيَوْمِ الظُّهْرَ؟ قَالَ: صَلَّى حَيْثُ يُصَلِّي أُمَرَاؤُكَ. وَقَالَ ابْنُ هِشَامٍ: عَبْد الْعَزِيزِ بْن رُفَيْعٍ.

جناب عبدالعزیز بن رفیع بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت انس بن مالک ؓ سے ملا جبکہ وہ گدھے پر بیٹھ کر منیٰ کی طرف جارہے تھے۔ میں نے ان سے عرض کی : رسول اللہ ﷺ نے آج کے دن(۸ ذوالحجہ کو) نماز ظہر کہاں ادا کی تھی ؟ انہوں نے فرمایا: تم وہیں نماز پڑھو جہاں تمہارے حکمران پڑھیں۔

عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2797

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2798

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ: مِنْ سُنَّةِ الْحَجِّ -وَقَالَ مَرَّةً: مِنْ سُنَّةِ الْإِمَامِ- أَنْ يُصَلِّيَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ بِمِنًى.

حضرت ابن زبیرؓ بیان کرتے ہیں کہ حج کا سنت طریقہ، اور ایک بار فرمایا : امام کے لیے سنت طریقہ یہ ہے کہ وہی منیٰ میں ظہر ، عصر، مغرب، عشا ءاور صبح کی نمازیں ادا کرے۔

مِنْ سُنَّةِ الْحَجِّ ← ابْنُ الزُّبَيْرِ ← الْقَاسِمِ، ← يَحْيَى ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2798

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2799

ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ الْبَجَلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى خَمْسَ صَلَوَاتٍ بِمِنًى.

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے منیٰ میں پانچ نمازیں ادا کی تھیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو كُرَيْبٍ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ الْبَجَلِيُّ، ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2799

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2800

ثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: مِنْ سُنَّةِ الْحَجِّ أَنْ يُصَلِّيَ الْإِمَامُ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ وَالصُّبْحَ بِمِنًى، ثُمَّ يَغْدُو إِلَى عَرَفَةَ، فَيَقِيلُ حَيْثُ قَضَى لَهُ، حَتَّى إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ خَطَبَ النَّاسَ، ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ وَقَفَ بِعَرَفَاتٍ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ، ثُمَّ يُفِيضُ فَيُصَلِّي بِالْمُزْدَلِفَةِ أَوْ حَيْثُ قَضَى اللَّهُ، ثُمَّ يَقِفُ بِجَمْعٍ، حَتَّى إِذَا أَسْفَرَ دَفَعَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، فَإِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الْكُبْرَى حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ حُرِّمَ عَلَيْهِ إِلَّا النِّسَاءَ وَالطِّيبَ، حَتَّى يَزُورَ الْبَيْتَ.

حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ بیان کرتے ہیں کہ حج کے طریقوں میں سے ایک یہ کہ امام منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب ، عشاء اور فجر کی نمازوں پڑھائے پھر صبح کے وقت عرفات روانہ ہو جائے اور جو جگہ میسر آئے وہاں دوپہر کو آرام کرے ۔ حتی کہ جب سورج ڈھل جائے تو لوگوں کو خطبہ دے۔ پھر نماز ظہر اور عصر جمع کر کے ادا کرے ۔ پھر سورج غروب ہونے تک عرفات میں کھڑے ہو کر دعا وگر یہ زاری کرے ۔ پھر وہاں سے چلے اور مزدلفہ میں آکر نماز پڑھے یا جہاں اللہ تعالیٰ کو منظور ہو پڑھ لے پھر مزدلفہ میں ٹھرارہے حتی کہ جب صبح روشن ہو جائے تو سورج طلوع ہونے سے پہلے روانہ ہو جائے۔ پھر جب (منیٰ پہنچ کر) جمرہ کبر یٰ کو رمی کر لے گا تو اس کے لیے عورتوں سے ہمبستری اور خوشبو کے علاوہ ہر چیز حلال ہو جائے گی جو(احرام کی وجہ سے ) اس پر حرام تھیں ۔ حتی کہ جب بیت اللہ کا طواف کر لے گا۔ (تو وہ پابندی بھی ختم ہو جائے گی ۔)

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَى ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2800

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2801

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ- أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ: مِنْ سُنَّةِ .... ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَرُبَّمَا اخْتَلَفَا فِي الْحَرْفِ وَالسِّنِّ (1). وَقَالَ: فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حُرِّمَ عَلَيْهِ إِلَّا النِّسَاءَ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ خَلَا النِّسَاءَ، لِأَنَّ عَائِشَةَ خَبَّرَتْ أَنَّهَا طَيَّبَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ نُزُولِ الْبَيْتِ.

حضرت ابن زبیر ؓ بیان کرتے ہیں کہ حج کا طریقہ یہ ہے ۔ پھر مکمل حدیث بیان کی۔ راویوں کا کچھ الفاظ میں اختلاف ہے۔ اور فرمایا: تو اس پر عورت کے سوا ہر چیز حلال ہو جائے کی جو اس پر (احرام کی وجہ سے) حرام تھی ۔ حتی کہ بیت اللہ شریف کا طواف کر لے ( تو پھر وہ بھی حلال ہو جائے کی )۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : صحیح اور درست بات یہی ہے کہ جمرہ پر رمی کرنے کے بعد اس کے لیے بیوی سے ہمبستری کے سوا ہر چیز حلال ہو جائے کی کیونکہ حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ کو طواف افاضہ کرنے سے پہلے خوشبو لگائی تھی۔

فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حُرِّمَ عَلَيْهِ إِلَّا النِّسَاءَ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ. ← الْحَدِيثَ، وَرُبَّمَا اخْتَلَفَا فِي الْحَرْفِ وَالسِّنِّ ← مِنْ سُنَّةِ ← ابْنُ الزُّبَيْرِ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2801

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2802

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى بِمِنًى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ، ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلًا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ [وَ] أَمَرَ بِقُبَّةٍ (2) لَهُ مِنْ شَعْرٍ فَضُرِبَتْ بِنَمِرَةَ، فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ فَنَزَلَ بِهَا.

جناب محمد بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ پھر مکمل حدیث بیان کی۔ اور فرمایا: پھر جب یوم الترویہ آیا تو رسول اللہ ﷺ سوار ہو کر منیٰ پہنچ گئے۔ آپ نے منیٰ میں ہمیں ، ظہر، عصر ، مغرب ، عشاء اور صبح کی نماز پڑھائیں۔ پھر آپ کچھ دیر ٹھر گئے حتی کہ جب سورج طلوع ہوگیا (تو عرفات روانہ ہو گئے) آپ نے اپنے لیے بالوں سے بنے ہوئے ایک خیمے کو نصب کرنے کا حکم دیا۔ جو وادی نمرہ میں لگا دیا گیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ چل کر عرفات پہنچے تو آپ نے دیکھا کہ آپ کے لیے وادی نمرہ میں خیمہ لگا دیا گیا ہے۔ لہٰذا آپ اس تشریف فرما ہو گئے۔"

الحديث بطوله ← دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرٌ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2802

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2803

ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ثَنَا حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ- عَنْ أَيُّوبَ؛ ح وَثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ أَبُو هَاشِمٍ وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالُوا: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: إِنِّي مُصَفِّفٌ مِنَ الْأَهْلِ وَالْحُمُولَةِ، إِنَّمَا حُمُولَتُنَا هَذِهِ الْحُمُرُ الدَّيَّانَةُ، أَفَأَفِيضُ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ؟ فَقَالَ: أَمَّا إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّهُ بَاتَ بِمِنًى حَتَّى [277 - ب] أَصْبَحَ، وَطَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ سَارَ إِلَى عَرَفَةَ، حَتَّى نَزَلَ مَنْزِلَهُ مِنْهَا، وَقَالَ مُؤَمَّلٌ: مَنْزِلَهُ مِنْ عَرَفَةَ. وَقَالُوا: ثُمَّ رَاحَ فَوَقَفَ مَوْقِفَهُ مِنْهُ. وَقَالَ مُؤَمَّلٌ: مِنْهَا. وَقَالُوا: حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ أَفَاضَ فَأَتَى جَمْعًا. قَالَ زِيَادٌ: فَنَزَلَ مَنْزِلَهُ مِنْهُ. وَقَالَ مُؤَمَّلٌ: مِنْهَا. وَقَالُوا: ثُمَّ بَاتَ بِهِ، حَتَّى إِذَا كَانَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ الْمُعَجَّلَةِ وَقَفَ، حَتَّى إِذَا كَانَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ الْمُسْفِرَةِ أَفَاضَ، فَتِلْكَ مِلَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ. وَقَدْ أُمِرَ نَبِيُّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَتَّبِعَهُ. هَذَا حَدِيثُ ابْنِ عُلَيَّةَ.

جناب ابن ابی ملیکہ ؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک قریشی آدمی نے حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے گزارش کی: میں اپنے گھر والوں اور سامان والے اونٹوں کے ساتھ ہوں ۔ ااور ہمارا سامان ان گدھوں پر ہے، کیا میں رات کے وقت ہی مزدلفہ سے روانہ ہو جاؤں ؟ انہوں نے فرمایا: ابراہیم نے تو رات منیٰ میں گزاری تھی، حتی کہ جب صبح ہو گئی اور سورج طلوع ہو گیا تو ہ میدان عرفات کی طرف چل پڑے تھے۔ حتی کہ عرفات میں اپنے مقام پر تشریف فرما ہو گئے۔ جناب مؤمل کی روایت میں ہے :حتی کہ عرفات میں اپنی منزلپر تشریف فرما ہو گئے۔ پھر زوال شمس کے بعد عرفات میں وقوف کیا (دعائیں مانگیں) پھر جب سورج غروب ہو گیا تو مزدلفہ آگئے اور اپنے مقام پر فروکش ہوگئے۔ پھر رات مزدلفہ ہی میں گزاری پھر اگر صبح کی نماز جلدی (اندھیرے میں ) پڑھتے تو ٹھہر جاتے (اور دعائیں مانگتے) اور اگر فجر کی نماز صبح روشن کر کے ادا کرتے تو منیٰ روانہ ہو جاتے۔ یہ ہے تمہارے نبی کو ان کی اتباع کا حکم دیا ہے ۔ یہ جناب ابن علیہ کی حدیث ہے۔

ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ ← مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ أَبُو هَاشِمٍ، ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2803

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2804

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، ثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَتَى جِبْرِيلُ إِبْرَاهِيمَ يُرِيهِ الْمَنَاسِكَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ: ثُمَّ دَفَعَ بِهِ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ، فَقَالَ لَهُ: أَعْرِفِ الْآنَ، وَأَرَاهُ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا، وَفَعَلَ ذَلِكَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

حضرت عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت جبرائیل ؑحضرت ابراہیمؑ کو مناسک حج دکھانے کے لیے آئے ۔ پھر مکمل حدیث بیان کی۔ اور فرمایا: پھر وہ حضرت ابراہیمؑ کو لے کر منیٰ گئے حتی کہ جب انہوں نے جمرے کو رمی کر لی تو انہیں فرمایا: "اب ان مناسک کو اچھی طرح پہچان لیں ۔ اور حضرت ابراہیم کو تمام مناسک دکھائے ۔ اسی طرح انہوں نے نبی کریم ﷺ کو بھی تمام مناسک دکھائے اور سکھائے۔

ثُمَّ دَفَعَ بِهِ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ، ← الحديث بطوله ← أَتَى جِبْرِيلُ إِبْرَاهِيمَ يُرِيهِ الْمَنَاسِكَ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2804

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2805

ثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ، مِنَّا الْمُلَبِّي وَمِنَّا الْمُكَبِّرُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِمَّنْ رَوَى هَذَا الْخَبَرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ تَابَعَ ابْنَ نُمَيْرٍ فِي إِدْخَالِهِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَدْ خَرَّجْتُ طُرُقَ هَذَا الْخَبَرِ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ".

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ منیٰ سے عرفات کو صبح کے وقت روانہ ہوئے تو ہم میں سے کچھ لوگ تلبیہ پکار رہےتھے اور کچھ تکبیریں پڑھ رہے تھے۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: میرے علم کے مطابق یحیٰ بن سعید سے اس روایت کو بیان کرنے والے کسی راوی نے اس سند میں عبداللہ بن عبداللہ بن عمر کو ذکرکرنے پر امام ابن نمیر کی متابعت نہیں کی ۔ میں نے اس روایت کے تمام طرق کتاب الکبیر میں بیان کئے ہیں۔

أَبُو بَكْرٍ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِمَّنْ رَوَى هَذَا الْخَبَرَ ← غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ مِنْ مِنًی إِلَی عَرَفَاتٍ مِنَّا الْمُلَبِّي وَمِنَّا الْمُکَبِّرُ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2805

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2806

ثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ سَخْبَرَةَ قَالَ: غَدَوْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَجُلًا (1) آدَمَ لَهُ ضَفِيرَتَانِ، عَلَيْهِ مَسْحَةُ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، وَكَانَ يُلَبِّي فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ غَوْغَاءٌ مِنْ غَوْغَاءِ النَّاسِ: يَا أَعْرَابِيُّ! إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِيَوْمِ تَلْبِيَةٍ إِنَّمَا هُوَ تَكْبِيرٌ. قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ الْتَفَتَ إِلَيَّ وَقَالَ: أَجَهِلَ النَّاسُ أَمْ نَسُوا، وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ فَمَا تَرَكَ التَّلْبِيَةَ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ إِلَّا أَنْ يَخْلِطَهَا بِتَهْلِيلٍ أَوْ تَكْبِيرٍ.

جناب ابن سخبرہ بیان ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے ساتھ صبحکے وقت منیٰ سے عرفات کی طرف روانہ ہوا۔ حضرت عبداللہ ؓ گندمی رنگ کے شخص تھے ان کے بالوں کی دو لٹیں تھیں اور ان پر دیہاتی لوگوں کا ایک نشان تھا۔ وہ تلبیہ پڑھ رہے تھے تو ان کے گرد کم علم نادان لوگ جمع ہو گئے ، وہ کہنے لگے: اے دیہاتی ! آج کے دن تلبیہ نہیں پکارتے ، آج تو تکبیریں پڑھنے کا دن ہے اس وقت حضرت عبداللہ ؓ نے میری طر ف دیکھا اور فرمایا: کیا یہ لوگ جاہل ہیں یا بھول گئے ہیں ، اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ جو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ! بے شک میں رسولاللہﷺ کے ساتھ منیٰ سے عرفات کی طرف نکلا تھا تو آپ نے جمرہ عقبہ پر رمی کرنے تک تلبیہ ختم نہیں کیا تھا ، البتہ آپ تلبیہ کے ساتھ "اَللہُ اَکْبَر"اور"لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ"پڑھ لیتے تھے۔

ابْنِ سَخْبَرَةَ ← مُجَاهِدٍ ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2806

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2807

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ ابْنِ الزُّبَيْرِ: حَتَّى إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ خَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا.

امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں: حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کی روایت میں ہے : جب سورج ڈھل گیا تو نبی اکرم ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا ، پھر ظہر اورعصر کی نماز جمع کر کے ادا فرمائی۔

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2807

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2808

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ مُوسَى بْنِ زِيَادِ بْنِ حِذْيَمٍ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ حِذْيَمِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي خِطْبَتِهِ يَوْمَ عَرَفَةَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: "اعْلَمُوا أَنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا وَكَحُرْمَةِ شَهْرِكُمْ هَذَا، وَكَحُرْمَةِ بَلَدِكُمْ هَذَا".

حضرت عمروؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجتہ الوداع کے موقع پر عرفات کے دن خطبہ کے دوران میں سنا: خوب جان لو: بے شک تمہارے خون ، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت ہے، جیسے تمہارا یہ مہینہ محترم ہے، جیسے تمہارا یہ شہر حرمت والا ہے۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← جَدِّهِ حِذْيَمِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ زِيَادِ بْنِ حِذْيَمٍ السَّعْدِيِّ، ← الْمُغِيرَةِ، ← جَرِيرٌ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2808

chevron_left Previous
1…242526…48
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals