Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2761

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ جَابِرٍ الَّذِي ذَكَرْتُهُ قَبْلُ: حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي سَعَى حَتَّى إِذَا صَعِدَ مَشَى.

امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں :حضرت جابر ؓ کی روایت میں ہے،جسے میں اس سے پہلے بیان کر چکا ہوں :حتی کہ جب آپ کےقد م وادی کےنشیب میں پڑے تو آپ نے دوڑ لگائی پھر جب آپ چڑھائی چڑھنےلگے تو عام رفتا رسے چلے ۔

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2761

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2762

وَثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، ثَنَا أَيُّوبُ -يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ-، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْعَى بِبَطْنِ الْمَسِيلِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.

حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صفا اور مروہ کےدرمیان نالے کے نشیب میں دوڑ لگاتے تھے ۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَسْعَى بِبَطْنِ الْمَسِيلِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ. ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← أَيُّوبُ -يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ-، ← وَثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2762

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2763

قَرَأْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيِّ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُجَمِّعٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ فِي حَجَّه أَوْ عُمره أَهَلَّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: ثُمَّ أَتَى الصَّفَا فَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، فَإِذَا مَرَّ بِالْمَسْعَى سَعَى.

حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے حج یا عمرے کے سفر میں جب آپ کی سواری آپ کو لے کر ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس سیدھی ہو جاتی تو آپ تلبیہ پکاتے پھر بقیہ حدیث بیانکی اور فرمایا :پھر آپ صفا پہاڑی کی طرف آئے اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی جب آپ دوڑنے کی جگہ سے گزرے تو آپ نےدوڑ لگائی ۔

عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيِّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2763

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2764

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَطَاءِ بْنِ مَقَدَّمٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ نُبَيْهٍ عَنْ جَدَّتِهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ جَدَّتِهَا بِنْتِ أَبِي تَجْرَاةَ قَالَتْ: كَانَتْ لَنَا خِلْفَةٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَتِ: اطَّلَعْتُ مِنْ كَوَّةٍ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَشْرَفْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَإِذَا هُوَ يَسْعَى، وَإِذَا هُوَ يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ: "اسْعَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ"، فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ مِنْ شِدَّةِ السَّعْيِ يَدُورُ الْإِزَارُ حَوْلَ بَطْنِهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ بَطْنِهِ وَفَخِذَيْهِ.

۔۔"حضرت حبیبہ بنت ابو تجراۃ بیان کرتی ہیں کہ جاہلیت میں ہمارا ایک دریچہ ہوتا تھا (جو صفا مروہ کی طرف کھلتا تھا )وہ فرماتی ہیں :میں نے روشندان سے صفاو مروہ کے درمیں جھانکا تو میری نظر نبی اکرم ﷺ پر پڑی جبکہ آپ دوڑ رہے تھے اور آپ اپنے صحابہ کرام سےکہہ رہے تھے : "دوڑ و کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تم پر (اس جگہ ) دوڑنا فرض کیا ہے۔"بے شک میں نے دیکھا کہ تیز رفتاری کی وجہ سے آپ کا تہ بند آپکے پیٹ مبارک کے گرد گھوم رہا تھا حتی کہ میں نے آپ کے پیٹ اور ران کی سفید ی دیکھی ۔"

لِأَصْحَابِهِ اسْعَوْا فَإِنَّ اللَّهَ ← اطَّلَعْتُ مِنْ كَوَّةٍ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَشْرَفْتُ عَلَى النَّبِيِّ وَإِذَا هُوَ يَسْعَى، وَإِذَا هُوَ ← كَانَتْ لَنَا خِلْفَةٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ← جَدَّتِهَا بِنْتِ أَبِي تَجْرَاةَ ← جَدَّتِهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ← عَبْدِ الله بْنِ نَبِيهٍ ← الْخَلِيلُ بْنُ عُثْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَطَاءِ بْنِ مَقْدَمٍ الْمُقَدَّمِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2764

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2765

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدٍ (2)، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، أَخْبَرَتْهَا: أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ يَقُولُ: "كُتِبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيُ، فَاسْعَوْا". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ الْمَرْأَةُ الَّتِي لَمْ تُسَمَّ فِي هَذَا الْخَبَرِ: حَبِيبَةُ بِنْتُ أَبِي تَجْرَاةَ.

حضرت صفیہ بنت شیبہ بیان کرتی ہیں کہ انہیں ایک عورت نے بتایا کہ اس نے نبی کریم ﷺ کوصفا مروہ کے درمیان فرماتے ہوئے سنا : "(مومنو !)تم پر دوڑنا فرض کیا گیا ہے ،لہذا تم دوڑو ۔"امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں :اس روایت میں جس عورت کا نام مذ کور نہیں ہے ۔وہ حبیبہ بنت ابی تجراۃ ہے ۔

عَلَيْكُمُ السَّعْيَ فَاسْعَوْا» ← النَّبِيَّ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ← صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ أَنَّ امْرَأَةً أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا ← مُوسَى بْنِ عُبَيْدٍ ← وَاصِلٌ مَوْلٰی اَبِیْ عُیَیْنَۃَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2765

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2766

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قَرَأْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ: (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ) الْآيَةَ. قُلْتُ: مَا أَرَى [274 - ب] عَلَى مَنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا. قَالَتْ: بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي! إِنَّمَا كَانَ مَنْ أَهَلَّ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي بِالْمُشَلَّلِ يَطُوفُونَ بَيْنِ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ طَوَافَنَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَجَرَيْنِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ. قَالَتْ: فَنَزَلَتْ (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ) الْآيَةَ. قَالَتْ: فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَتْ سُنَّةً. وَقَالَ غَيْرُهَا، قَالَ اللَّهُ: فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَتَطَوَّعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَطَافَ. قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا العِلْم. وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ: سَأَلَ النَّاسُ الَّذِينَ كَانُوا يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا أُمِرْنَا أَنْ نَطُوفَ (2)

حضرت عروہ ؒ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ﷺ کے پاس یہ آیت پڑھی :(اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَمِنْ شَعَائِرِاللہِ) "بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔"میں نےکہا :جو شخص ان دونو ں کے درمیں ن سعی نہ کرے ،میرے خیا ل میں اسے کوئی گنا ہ نہیں ہے ۔حضرت عائشہ ؓ نے فرما یا :میرے بھانجے ! تم نے بہت غلط بات کی ہے ۔اصل صورت حال یہ ہے کہ (جاہلیت میں ) جو لوگ مشلل جگہ پرن واقع مناۃ بت کے نام پر احرام باندھتے تھے وہ صفا اور مروہ کے درمیان دسعی کرتے تھے ۔پھر جب اسلا م کا دردآیا تو صحابہ کرام نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول! ان دو پتھروں کے درمیان سعی کرنا تو جاہلیت کے کاموں میں سے ہے ۔تویہ آیت نازل ہوئی ہے: "بےشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ،(سورہ بقرہ :158)حضر ت عائشہ ؓ فرماتی ہیں :لہذا رسول اللہ ﷺنے صفا اور مروہ کی سعی کی ،اس طرح یہ عمل سنت بن گیا ۔"ایک اور صحابی کی روایت میں یت :اللہ تعالیٰ نے فرمایا :تو جو شخص خوشی سے نیکی کرے ۔"تو رسول اللہ ﷺ نےخوشی سے یہ نیک عمل کیا اور سعی کی ۔"امام زہری فرماتے ہیں :میں نے یہ حدیث ابوبکر بن عبدالرحمان کو بیان کی تو وہ فرمانے لگے : "علم تو بس یہی ہے ۔"میں نے کئی اہل علم کو سنا وہ فرماتے تھے :جولوگ صفا اور مروہ کی سعی کرتے تھے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا:اے اللہ کے رسول !ہمیں بیت اللہ شریف کا طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور صفا اور مروہ کی سعی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ۔تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی "بےشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔۔۔""اس لیے میرے خیال میں یہ آیت دونوں گروہوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔"

عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2766

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2767

ثنا عيسى بن إبراهيم ثنا ابن وهب عن يونس عن ابن شهاب عن عروة بن الزبير أن عائشة أخبرته : أن الأنصار كانوا قبل أن يسلموا هم و غسان يهلون لمناة فتحرجوا أن يطوفوا بين الصفا و المروة و كان ذلك سنة في أيامهم من أحرم لمناة لم يطف بين الصفا و المروة و أنهم حين أسلموا سألوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فأنزل الله عز و جل { إن الصفا و المروة من شعائر الله } إلى قوله شاكر عليم قال عروة قالت عائشة : هي سنة سنها رسول الله صلى الله عليه وسلم قال أبو بكر : الصحيح ما رواه يونس عن الزهري أن من كان يهل لمناة و كانوا يتحرجون من الطواف بينهما لا أنهم كانوا يطوفون بينهما كخبر ابن عيينه و الدليل على صحة رواية يونس و متابعة هشام بن عروة أياه على هذا المعنى سأخرج خبر هشام بن عروة في الباب الذي يلي هذا الباب إن شاء الله و خبر عاصم عن أنس دال أيضا أن الأنصار كانوا هم الذين يتحرجون من الطواف بينهما قبل نزول هذه الآية

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ انصاری لوگ اور غسان قبیلے کے افراد اسلام لانے سے پہلے مناۃبت کے نام کا احرام باندھتے تھے ۔اس لیے انہوں نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے میں حرج محسوس کیا ۔اور یہ ان کے دور کا دستور بھی تھا کہ جو شخص مناۃ کے نا م کا احرام باندھتا تھا وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہیں کرتا تھا ۔اور جب وہ مسلمان ہوگئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی : "بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔۔۔۔حضرت عروہ کہتے ہیں: حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں :یہ سنت ہے جسے رسو ل اللہ ﷺ نے رائج اور جاری کیا ہے ۔امام ابو بکر ؒفرماتے ہیں : صحیح بات وہی ہے جسے امام یونس نے امام زہری سے روایت کیا ہے کہ جولوگ مناۃ بن کے نام کا احرام باندھتے تھے وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے میں حرج محسو س کرتے تھے، یہ نہیں کہ وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کیا کرتے تھے جیسا کہ امام ابن عینیہ کی روایت میں ہے ۔جناب یونس کی روایت کے درست ہونے کی دلیل جناب ہشام بن عروہ کی اس معنی میں روایت ہے جس میں انہوں نے یونس کی متابعت کی ہے ۔ہشام بن عروہ کی روایت میں اگلے باب میں بیان کروں گا ۔ان شاءاللہ ۔حضرت انس ؓ کی روایت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اس آیت کے نزول سے پہلے انصاری ہی تھےجو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے میں حرج محسوس کرتے تھے۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2767

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2768

ثنا بخبر عاصم عن أنس بن مالك قال : كانت الأنصار يكرهون أن يطوفوا بين الصفا و المروة حتى نزلت : إن الصفا و المروة من شعائر الله زاد سلم بن جنادة : فطافوا

۔۔حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ انصاری صحابہ کرام صفا اور مروہ کے درمیا ن سعی کرنا ناپسند کرتے تھے حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی : (اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَمِنْ شَعَائِرِاللہِ) "بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔"جناب سلم بن جنادہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے : "پھر انہوں نے سعی کرنا شروع کر دی ۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بخبر عاصم

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2768

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2769

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَا بْنِ كُرَيْبٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ -يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ- عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: مَا أَرَى عَلَيَّ جُنَاحا أَنْ لَا أَتَطَوَّفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ. قَالَتْ: وَلِمَ؟ قُلْتُ: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: (فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا) [البقرة: 158] فَقَالَتْ: لَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ: فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا. إِنَّمَا أَنْزَلَ اللَّهُ هَذَا فِي أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانُوا إِذَا أَهَلُّوا أَهَلُّوا لِمَنَاةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَا يَحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا قَدِمُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْحَجِّ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الْآيَةَ. فَلَعَمْرِي مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ مَنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ). فَهُمَا مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهَا فَلَا يَحِلُّ لَهُمْ: تُرِيدُ عِنْدَ أَنْفُسِهِمْ فِي دِينِهِمْ.

حضرت عروہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے عرض کیا :میری رائے یہ ہے کہ اگر میں صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کروں تو مجھ پرکوئی گناہ نہیں ہوگا ۔انہوں نے پوچھا وہ کیسے ؟میں نےعرض کیا: اللہ فرماتے ہیں :(فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَ وا عْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا) "پس جو شخص بیت اللہ شریف کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کو ئی گنا ہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف (سعی )کرے ۔"انہوں نے فرمایا :اگر بات ویسے ہی ہو تی جیسے تو کہہ رہا ہے تو پھر آیت اس طرح ہوئی چاہیے تھی : " فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا) "تو اس پر کوئی گنا ہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف نہ کرے ۔"بلا شبہ یہ آیت تو انصار کےکچھ لوگوں کے بارےمیں نازل ہوئی تھی ۔وہ جاہلیت میں مناۃ بن کےنام پر احرام باندھتے تھے تو وہ اپنے لیے صفا مروہ کی سعی حلا ل نہیں سمجھتے تھے ۔پھر جب وہ (مسلمان ہونے کے بعد )رسول اللہ ﷺ کےساتھ حج کےلیے مکہ مکرمہ آئے تو انہوں نے یہ بات آپ کو بتائی ،اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی ۔میری عمر کی قسم !جو شخص صفا اور مروہ کی سعی نہیں کرے گا اللہ تعالیٰ اس کاحج مکمل نہیں کرے گا۔کیونکہ اللہ تعالی ٰ فرماتے ہیں : (اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَمِنْ شَعَائِرِاللہِ) "بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔"امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : حضرت عائشہ ؓ کا یہ فرمان : "ان کےلیے سعی کرنا حلا ل نہ تھا"اس کا مطلب ہے کہ ان کے جاہلی عقیدے کے مطابق ان کےلیے صفا مروہ کی سعی کرنا حلا ل نہ تھا ۔

عُرْوَةَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ الرَّحِيمِ -يَعْنِي ابن سُلَيْمَانَ- ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَا بْنِ كُرَيْبٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2769

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2770

ثنا علي بن المنذر ثنا ابن فضيل ثنا عطاء بن السائب عن كثير بن جمهان السلمي قال : رأيت ابن عمر يمشي في المسعى فقلت له : تمشي في المسعى بين الصفا و المروة ؟ فقال : لئن سعيت لقد رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يسعى و لئن مشيت لقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي و أنا شيخ كبير

جناب کثیر بن جہمان سلمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ کو دوڑنے کی جگہ ( صفا مروہ کے نشیبی علاقے ) میں عام رفتار سے چلتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان سے عرض کیا :آپ صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنے کی جگہ پر عام چال ( کیوں ) چل رہے ہیں ؟تو انہوں نے فرمایا : "اگر میں دوڑ لگاؤں تو میں نے نبی کریم ﷺ کو دوڑتے ہوئے دیکھا ہے۔ اور اگر میں عام چال چلوں تو بےشک میں نے رسول اللہ ﷺ کو عام چال چلتے ہوئے بھی دیکھا ہے ،اور میں ایک بوڑھا شخص ہوں (اس لیے عام رفتار سے چل رہا ہوں ) ۔

كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ السُّلَمِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2770

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2771

ثنا أبو موسى ثنا الضحاك بن مخلد عن سفيان عن عطاء بن السائب عن كثير بن جبهان قال : رأيت ابن عمر يمشي بين الصفا و المروة فقلت له : فقال : إن أمشي فقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي و إن أسعى فقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يسعى

۔۔جناب کثیر بن جہمان بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر ؓکو صفا اور مروہ کے درمیان عام رفتار سے چلتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان سے عرض کیا (کہ آپ اس دوڑنے کے مقام پر عام چال چل رہے ہیں ) تو انہوں نے فرمایا:اگر میں عام چال چلوں تو میں نے رسول اللہ ﷺ کوعام چال چلتے ہوئے دیکھا ہے۔،اور اگرمیں دوڑ لگاؤں تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دوڑلگاتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔"

رأيت ابن عمر يمشي بين الصفا و المروة فقلت له ← كثير بن جبهان ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← الضحاك بن مخلد ← أَبُو مُوسَى،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2771

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2772

وَثَنَا أَبُو مُوسَى فِي عَقِبِهِ، ثَنَا الضَّحَّاكُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: نَحْوَهُ.

۔۔حضرت ابن عمر ؓ سے مذکورہ بالا کی طرح مروی ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ: نَحْوَهُ. ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← سُفْيَانَ، ← الضَّحَّاكُ، ← وَثَنَا أَبُو مُوسَى فِي عَقِبِهِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2772

chevron_left Previous
1…212223…48
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals