Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2749

ثَنَا سَعْدُ (1) بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ -يَعْنِي الْعَدَنِيَّ- ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ [273 - أ]: طَافَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سُبُوعًا، ثُمَّ صَلَّى لِكُلِّ سَبْعٍ رَكْعَتَيْنِ، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ! إِنْ وُلِّيتُمْ هَذَا الْبَيْتَ مِنْ بَعْدِي فَلَا تَمْنَعُوا أَحَدًا مِنَ النَّاسِ أَنْ يَطُوفَ بِهِ أَيَّ سَاعَةٍ مَا كَانَ مِنَ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ".

جناب ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسور بن مخرمہ ؓ نے اٹھا رہ طواف کیے پھر ہر طواف کےلیے دو رکعات ادا کیں ۔اور فرمایا :رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : "اے بنی عبد مناف !اگر تم میرے بعد بھی اس گھر (بیت اللہ شریف ) کے متولی رہے تو تم کسی شخص کو اس گھر کا طواف کرنے سے نہ روکنا ،وہ دن رات کی جس گھڑی میں چاہیے طواف کرلے ۔"

ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عبد الجبار بن الورد ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ -يَعْنِي الْعَدَنِيَّ- ← سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2749

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2750

ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثَنَا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ دِرْهَمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَرِبَ مَاءً فِي الطَّوَافِ.

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے طواف کے دوران میں پانی نوش فرمایا۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ← أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ دِرْهَمٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2750

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2751

ثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، أَنَّ طَاُوسًا أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِرَجُلٍ يَقُودُ رَجُلًا بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ، فَقَطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ، ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ. قَالَ: وَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِرَجُلٍ قَدْ زَنَقَ بِسَيْرٍ (2) يَدَ رَجُلٍ أَوْ بِخَيْطٍ، أَوْ بِشَيْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ -فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَقَالَ: "قُدْهُ بِيَدِكَ".

۔۔جناب طاؤس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کعبہ شریف کا طواف کرتے ہوئے ایک شخص کے پاس سے گزرے جو ایک شخص کی ناک میں لگام ڈال کر اسے طواف کرا رہا تھا ۔رسول اللہ ﷺ نے اسے کاٹ دیا پھر اس شخص کو حکم دیا کہ وہ اسے ہاتھ سے پکڑا کر طواف کرائے ۔وہ بیان کرتے ہیں :رسول اللہ ﷺ کعبہ شریف کا طواف کرتے ہوئےایک شخص کے پاس سے گزرے جس نے ایک شخص کا ہاتھ تسمے ،دھاگے یا کسی چیز سے باندھ رکھا تھا ۔نبی اکرم ﷺ نے اسے کاٹ دیا اور فرمایا: "اسے ہاتھ سے پکڑا کر طواف کراؤ۔"

سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، أَنَّ طَاوُسًا ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2751

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2752

قَالَ: أَخْبَرَنِي هَذَا أَجْمَعَ سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ أَنَّ طَاُووسًا أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي الْخَبَرِ دَلَالَةٌ عَلَى الرُّخْصَةِ فِي الْكَلَامِ فِي الطَّوَافِ بِالْأَمْرِ وَالنَّهْيِ.

جناب طاؤس بیان کرتے ہیں کہ یہ روایت حضرت ابن عباس ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے بیان کی ہے ۔امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : اس حدیث میں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے پر مشتمل کلا م طواف کے دوران میں کرنے کی رخصت کی دلیل ہے ۔

النَّبِيِّ ← ذَلِكَ ← أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ← هَذَا أَجْمَعَ سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ أَنَّ طَاُووسًا

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2752

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2753

ثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنِ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ؛ ح وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، نَا ابْنُ فُضَيْلٍ، ثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: إِنَّكَ لَتُزَاحِمُ عَلَى هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ. قَالَ: إِنْ أَفْعَلْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "مَسْحُهُمَا يَحُطُّ الْخَطَايَا" وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ لَمْ يَرْفَعْ قَدَمًا، وَلَمْ يَضَعْ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ حَسَنَةً وَيَحُطُّ عَنْهُ خَطِيئَةً، وَكَتَبَ لَهُ دَرَجَةً". وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "مَنْ أَحْصَى أُسْبُوعًا كَانَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ". قَالَ يُوسُفُ فِي حَدِيثِهِ: "وَرُفِعَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ".

۔۔جناب عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے عرض کیا :آپ حجر اسود اور رکن یمانی کو چھونےکےلیے لوگوں سے ٹکراتے اور ان کے ہجو م میں گھس جاتے ہیں ۔(اتنی شدید کوشش کرنے کی وجہ کیا ہے ؟) انہوں نے جواب دیا:اگر میں یہ کا م کرتا ہوتو (اس کی وجہ یہ ہے کہ )میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : "ان دونوں کو چھو نے سے گنا ہ معاف ہوتے ہیں ۔"اور میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : "جوشخص بیت اللہ شریف کا طواف کرتا ہے ،اس کے ہر قد م اٹھانے اور رکھنے پر اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتے ہیں اور اس کا گنا ہ معاف کر دیتے ہیں،اور اس کا ایک درجہ بلند لکھ دیا جاتا ہے ۔"اور میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا : "جس شخص نے پورے سات چکر لگائے تو گویا یہ ایک غلا م آزاد کرنے کے ثواب کی طرح ہے ۔"جناب یو سف کی روایت میں ہے : "اور ا س کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے ۔"

يُوسُفُ فِي حَدِيثِهِ: "وَرُفِعَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ". ← "مَنْ أَحْصَى أُسْبُوعًا كَانَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ". ← اللَّهُ لَهُ حَسَنَةً وَيَحُطُّ عَنْهُ خَطِيئَةً، وَكَتَبَ لَهُ دَرَجَةً". وَسَمِعْتُهُ ← "مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ لَمْ يَرْفَعْ قَدَمًا، وَلَمْ يَضَعْ إِلَّا ← "مَسْحُهُمَا يَحُطُّ الْخَطَايَا" وَسَمِعْتُهُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← إِنْ أَفْعَلْ فَإِنِّي ← لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: إِنَّكَ لَتُزَاحِمُ عَلَى هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ. ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2753

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2754

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا جَعْفَرٌ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ: إِذَا فَرَغَ -يُرِيدُ مِنَ الطَّوَافِ- عَمَدَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ، فَصَلَّى خَلْفَهُ رَكْعَتَيْنِ، وَقَرَأَ: (وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى) [البقرة: 125] قَالَ: أَيْ يَقْرَأُ فِيهِمَا بِالتَّوْحِيدِ، وَ (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ).

جناب جعفر بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا :وہ فرماتے ہیں :ہم حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے ان سے نبی اکرم ﷺ کے حج کے بارے میں پوچھا ۔پھر مکمل حدیث بیان کی ۔اور فرمایا : "جب آپ طواف سے فارغ ہوئے تو مقام ابرہیم پر آئے اور اس کے پیچھے دو رکعات ادا کیں ۔اور یہ آیت تلا وت کی :(وَاتَّخِذُوْمِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھِیْمَ مُصَلًّی )(البقرہ:125) "اور تم مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا ؤ۔"آپ نےان دو رکعات میں قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ اور قُلْ یٰاَ یُّھَا الْکٰفِرُوْنَ سورتوں کو پڑھا ۔"

الحديث بطوله ← حَجَّةِ النَّبِيِّ ← أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ ← أَبِي ← جَعْفَرٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2754

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2755

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي حَجَّةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَقَالَ: ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ أَتَى الْمَقَامَ، ثُمَّ قَرَأَ، (وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى) [البقرة: 125] وَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَابِ، فَلَمَّا فَرَغَ أَتَى الْبَيْتَ وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ. فَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے نبی اکرم ﷺ کے حج کے متعلق تفصیلی روایت مروی ہے ۔وہ فرماتے ہیں :پھر آپ نے تین چکروں میں رمل کیا اور چکر وں میں عام چال چلی ۔پھر آپ مقام ابراہیم پر آئے ،پھر یہ آیت پڑھی :(وَاتَّخِذُوْمَنْ مَّقَامِ اِبْرٰھِیْمَ مُصَلًّی )(البقر(:125) "اور تم مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا ؤ ۔"آپ نے (نماز پڑھتے وقت )مقام ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ شریف کے دروازے کے درمیان کر لیا ۔جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو بیت اللہ شریف کے پاس آئے اور حجر اسود کو بوسہ دیا ۔پھر بقیہ حدیث بیان کی ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2755

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2756

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ عَادَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ.

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺنے جب دو رکعت پڑھ لیں تو دوبارہ حجر اسود کے پاس آئے اور اس کا استلا م کیا ۔" 200۔حجر اسو د کے استلام کے بعد صفا پہاڑی کی طرف جانا اور صفا اور مروہ پہاڑی پر اس قدر چڑھنا کہ بیت اللہ دکھائی دینے لگے ۔مروہ سے پہلے صفا پہاڑی پر چڑھنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے (قرآن مجید میں ) صفا پہاڑی کا ذکرپہلے کیا ہے اور مروہ کا بعد میں تذکر ہ کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ کے حکم کی وضاحت کرنے والے نبی مصطفیٰ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ (سعی کی ابتداء )صفاسے کی جائے جس کا اللہ تعالی ٰ نے قرآن مجید میں پہلے تذکر ہ کیا ہے

جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2756

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2757

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا جَعْفَرٌ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، قَالَ: ثُمَّ عَادَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ وَخَرَجَ إِلَى الصَّفَا، وَقَالَ: "أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ، وَقَرَأَ: (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ) [البقرة: 158] فَرَقِيَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ كَبَّرَ ثَلَاثًا يَعْنِي وَقَالَ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصْرَ عَبْدَهُ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ" ثُمَّ أَعَادَ هَذَا الْكَلَامَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ نَزَلَ حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي الْوَادِي سَعَى، حَتَّى إِذَا صَعِدَ مَشَى، حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَرَقِيَ عَلَيْهَا، حَتَّى إِذَا نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ قَالَ عَلَيْهِ كَمَا قَالَ عَلَى الصَّفَا.

جناب جعفر کےوالد گرامی جناب محمد سے روایت ہے ،وہ فرماتے ہیں :ہم حضرت جابر بن عبداللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے ان سے نبی اکرم ﷺ کے حج کی کیفیت دریافت کی ۔"پھر حدیث کا کچھ حصہ بیان کیاکہ "پھر رسول اللہ ﷺواپس حجر اسود کے پاس گئے اس کا استلا م کیا اور صفا پہاڑی کی طرف تشریف لے گئے ۔اور فرمایا :میں اسی پہاڑی سے (سعی کی ) ابتداء کرتا ہوں جس سے اللہ تعالیٰ نے ابتداء کی ہے ۔اور یہ آیت پڑھی :(اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مَنْ شَعَائَرَاللہِ)(البقرہ:158) "بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔"پھر آپ صفا پر اتنا بلند ہوئے کہ بیت اللہ شریف نظر آگیا ،آپ نے بیت اللہ کو دیکھ کر تین با ر اللہ اکبر پڑھا اور یہ دعا پڑھی :(لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہْ لَا شَرِیْکَ لَہْ ،لَہْ الْمُلْکُ وَلَہْ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شِیْءٍقَدِیْرٌ ،لَا اِلَہَ اَلا اللہُ أنْجَزَوَعْدَہْ وَنَصَرَ عَبْدَہْ وَغَلَبَ الْأَ حْزَا بَ وَحْدَہْ) "اللہ کے سواکوئی معبود برحق نہیں ہے ،اس کا کوئی شریک نہیں ،اسی کی بادشاہی ہے ،تمام تعریفیں اسی کےلیے ہیں ،اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔اللہ تعالیٰ کےسوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے ،اس نے اپنا وعدہ پوراکر دیا ،اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں پر اکیلا ہی غالب آگیا ۔"پھر آپ نے تین بار یہی دعاپڑھی (اور دیگر دعائیں مانگیں )پھر آپ نیچے اتر آئے ،حتی کہ جب آپ کے قد م مبارک وادی کے درمیان پہنچے تو آپ نےدوڑ لگائی ۔حتی کہ جب (مروہ کی ) چڑھائی چڑھنے لگے تو عام رفتار سے چلنے لگے ۔پھر آپ مروہ کےپاس پہنچے اور اس پر چڑھے حتی کہ جب بیت اللہ پر نظر پڑی تو اللہ اکبر کہہ کر وہی دعائیں مانگیں جو صفا پہاڑی پر مانگی تھیں۔

بَعْضَ الْحَدِيثِ، ← حَجَّةِ النَّبِيِّ ← أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ ← أَبِي ← جَعْفَرٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2757

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2758

ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثَنَا بَهْزُ -يَعْنِي ابْنَ أَسَدٍ-، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ قَالَ: وَفَدَتْ وُفُودٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَنَا فِيهِمْ وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَذَاكَ فِي رَمَضَانَ، فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا مِنْ فَتْحِ مَكَّةَ، وَقَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَلَا أُعْلِمُكُمْ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِكُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، فَذَكَرَ فَتْحَ مَكَّةَ، قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلَ مَكَّةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ، وَطَافَ بِالْبَيْتِ، وفِي يَدِهِ قَوْسٌ أَخَذَ بِسِيَةِ الْقَوْسِ، فَأَتَى فِي طَوَافِهِ صَنَمًا فِي جَنَبَةِ الْبَيْتِ يَعْبُدُونَهُ (1) فَجَعَلَ يَطْعَنُ بِهَا فِي عَيْنهِ، وَيَقُولُ: "جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ"، قال: ثُمَّ أَتَى الصَّفَا فَعَلَاهُ حَيْثُ يَنْظُرُ إِلَى الْبَيْتِ فَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يَذْكُرُ اللَّهَ بِمَا شَاءَ أَنْ يَذْكُرَهُ وَيَدْعُوهُ وَالْأَنْصَارُ تَحْتَهُ، ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ. ثَنَاهُ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا أَسَدٌ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ: بِنَحْوِهِ، وَقَالَ: فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَحْمَدُ اللَّهَ، وَيَدْعُوهُ بِمَا شَاءَ اللَّهُ.

جناب عبداللہ بن رباح بیان کرتے ہیں کہ رمضان المبارک میں کچھ وفد حضرت معاویہ ؓ کی خدمت میں حاضرہونے کےلیے روانہ ہوئے ،میں اور حضرت ابوہریرہ ؓ ان کے ساتھ تھے ۔حضرت ابو ہریرہ ؓ نے فتح مکہ کے بارے میں ایک طویل حدیث بیان کی ۔حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا:اے انصار کی جماعت !کیا میں تمہیں تمہاری ہی داستانوں میں سے ایک داستا ن نہ بتاؤں ؟ پھر انہوں نے فتح مکہ کا حال بیان کیا ۔اور فرمایا :رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تومکہ مکر مہ میں داخل ہو گئے ۔پھر مکمل حدیث بیان کی ۔اور بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ حجر اسود کی طرف آئے اور اس کا استلا م کیا اور بیت اللہ شریف کا طواف کیا ۔آپ کے ہاتھ میں ایک کمان تھی آپ نے اس کا جھکا ہوا کنارہ پکڑا ہوا تھا ۔آپ اپنے طواف کے دوران میں ہی ایک بت کے پاس آئے جس کی مشرکین پوجا کرتے تھے ۔وہ بیت اللہ کے پہلو میں تھا آپ نے کمان اس کی آنکھوں میں مارنی شروع کی اور فرمایا : "حق آگیا اور باطل مٹ گیا ۔"پھر آپ صفا پہاڑی کی طرف آئے اور اتنا اوپر چرھے کہ جہا ں سے بیت اللہ نظر آنے لگا تو آپ نے ہاتھ اٹھا ئے اور اللہ کا ذکر شروع کر دیا ،جو اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ نے ذکر کیا اور اس سے دعائیں مانگیں ۔جبکہ انصاری صحابہ کرام آپ سے نیچے تھے ۔"پھر بقیہ حدیث بیان کی ۔"جناب ربیع سلیمان کی سند سے یہ الفاظ مروی ہیں : "تو آپ نے اپنے ہاتھ بلند کیے اور اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی اور جو اللہ کومنظور تھا اس کے مطابق اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیں ۔"

عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← بَهْزٌ -يَعْنِي ابْنَ أَسَدٍ-، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2758

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2759

قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي خَبَرِ جَابِرٍ: حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي الْوَادِي سَعَى حَتَّى إِذَا صَعِدَ مَشَى.

۔۔امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں :حضرت جابر ؓ کی روایت میں ہے : "جب رسول اللہ ﷺ کے قدم وادی کے نشیب میں پڑھے توآپ نے دوڑلگا دی حتی کہ جب آپ چڑھائی چڑھنے لگے تو پھر عام رفتا ر سے چلنے لگ گئے ۔"

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2759

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2760

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو -وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ- قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ؛ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا: (وَلَقَدْ (1) كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ) [الأحزاب: 21].

جناب عمروبن دینار بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابن عمر ؓ سے سوال کیا توانہوں نے فرمایا:بےشک رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ نے بیت اللہ شریف کے طواف کےسات چکر لگائے اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعات اد ا کیں ۔اور صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر سعی کے لگائے ،(پھر ابن عمر نے فرمایا ) (لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَتہٌ)(الأ خزاب :21) "یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ( کی ذات ) میں بہترین نمونہ ہے ۔"

سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ؛ فَقَالَ: ← عَمْرٍو -وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ- ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2760

chevron_left Previous
1…202122…48
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals