Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2689

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كُنَّا نَلْبَسُ مِنَ الثِّيَابِ إِذَا أَهْلَلْنَا مَا لَمْ نُهِلَّ فِيهِ، وَنَلْبَسُ الْمُمَشَّقَ إِنَّمَا هُوَ طِينٌ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: كُنَّا نَلْبَسُ إِذَا أَهْلَلْنَا مَا لَمْ يَمَسَّهُ طِيبٌ وَلَا زَعْفَرَانٌ، وَنَلْبَسُ الْمُمَشَّقَ إِنَّمَا هُوَ مُطَيَّنٌ.

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم جب احرام باندھتے تو پھر ایسے کپڑے (بدل بدل کر )پہنتے رہتے تھے جن میں ہم نے احرام نہیں باندھا ہوتا تھا(ابتدائے احرام میں وہ نہیں پہنے تھے )اور ہم گیرو سے رنگے ہوئے رنگین کپڑے بھی پہن لیتے تھے ۔امام صاحب اپنے استاد محمد بن معمر کی سند سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ۔جب احرام باندھتے تو ایسے کپڑے پہنتے جنہیں خوشبو اور زعفران نہیں لگا ہوتا تھا ۔اور ہم گیر و سے رنگے ہوئے کپڑے پہن لیتے تھے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2689

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2690

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ: كُنَّا نُغَطِّي وُجُوهَنَا مِنَ الرِّجَالِ وَكُنَّا نَمْتَشِطُ قَبْلَ ذَلِكَ.

۔۔حضرت اسماء ؓ بیان کرتی ہیں کہ ہم (حالت احرام میں اپنے چہرے اجنبی مردوں سے ڈھانپ لیتی تھیں اور اس سے پہلے کنگھی کر لیا کرتی تھیں

كُنَّا نُغَطِّي وُجُوهَنَا مِنَ الرِّجَالِ وَكُنَّا نَمْتَشِطُ قَبْلَ ذَلِكَ. ← أَسْمَاءَ ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2690

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2691

وَقَدْ رَوَى يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ -وَفِي الْقَلْبِ مِنْهُ- عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ (1)، فَإِذَا مَرَّ بِنَا الرَّكْبُ سَدَلْنَا الثَّوْبَ عَلَى وَجْهِنَا (2). حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي زِيَادٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ؛ ح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ. قَالَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ: فَإِذَا جَاوَزْنَا (3) .... ، وَفِي حَدِيثِ هُشَيْمٍ: فَإِذَا جَاوَزْنَا كَشَفْنَاهُ.

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ احرام کی حالت میں ہوتے تو جب ہمارے پاس سے کوئی قافلہ گزرتا تو ہم اپنی چادریں اپنے چہروں پر لٹکا لیتیں ۔جناب جریرؒ کی روایت میں ہے : "پھر جب وہ گزر جاتے ۔"اور ہشیم کی روایت میں ہے : "پھر جب وہ ہمارے پاس سے گزر جاتے تو ہم اپنے چہرے ننگے کر لیتیں ۔"

عَائِشَةَ ← مُجَاهِدٍ ← وَقَدْ رَوَى يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ -وَفِي الْقَلْبِ مِنْهُ-

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2691

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2692

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَّهُ بَاتَ بِذِي طُوًى حَتَّى أَصْبَحَ، فَدَخَلَ مَكَّةَ.

۔۔حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے (حج کے موقع پر ) ذی طویٰ مقام پر رات گزاری حتی کہ صبح ہوئی تو آپ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے ۔

النَّبِيِّ أَنَّهُ بَاتَ بِذِي طُوًى حَتَّى أَصْبَحَ، فَدَخَلَ مَكَّةَ. ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2692

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2693

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ [269 - أ] حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَدْخُلُ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا، وَيَخْرُجُ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى.

۔۔حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ ( مکہ مکرمہ میں ) بالائی گھاٹی کی جانب سے داخل ہوتے تھے اور نشیبی گھاٹی کی طرف سے باہر نکلتے تھے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ أ]

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2693

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2694

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي الْحَنَفِيَّ- حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَهَلَّ مَرَّةً مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ عِنْدِ الشَّجَرَةِ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا جَاءَ ذَا طُوًى بَاتَ حَتَّى يُصَلِّيَ الصُّبْحَ، فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ مكة مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ مِنْ كُدًى، وَخَرَجَ حِينَ خَرَجَ مِنْ كُدًى مِنْ أَسْفَلِ مَكَّةَ.

حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ نےذوالحلیفہ میں درخت کے پاس سے تلبیہ کہنا شروع کیا ۔اور رسول اللہ ﷺ جب ذی طوی ٰ کے مقام پر پہنچے تو رات وہیں گزاری حتی کہ آپ نے صبح کی نماز ادا کی ،پھر غسل کیا ،پھر آپ مکہ مکرمہ کی بالائی جانب کداء سے مکہ مکر مہ میں داخل ہوئے ۔اور جب مکہ مکرمہ سے نکلے تو مکہ مکرمہ کے زیریں حصے کداء کی جانب سے نکلے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي الْحَنَفِيَّ- ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2694

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2695

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ. حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَرُحِلَتْ، ثُمَّ صَلَّى الْغَدَاةَ، ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَأَهَلَّ ثُمَّ يُلَبِّي حَتَّى إِذَا بَلَغَ الْحَرَمَ أَمْسَكَ، حَتَّى إِذَا أَتَى ذَا طُوًى بَاتَ بِهِ، قَالَ: فَيُصَلِّي بِهِ الْغَدَاةَ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ، وَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَلَ ذَلِكَ.

جناب بافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ جب ذوالحلیفہ پہنچ جاتے تو اپنی سواری پر کجادہ رکھنے کا حکم دیتے ،تو کجادہ رکھ دیا گیا ،پھر انہوں نے صبح کی نماز ادا کی ،پھروہ سوار ہوئے ،جب سواری انہیں لےکر سیدھی ہوگئی تو انہوں نے قبلہ رخ ہو کر نیت کی اور تلبیہ پکارنا شروع کیا حتی کہ جب حرم کی حدود میں پہنچ گئے تو تلبیہ پڑھنا بند کر دیا ۔جب ذی طوی مقام پر پہنچے تو رات وہیں بسر کی ۔پھر صبح کی نماز ادا کی پھر غسل کیا ۔حضرت ابن عمر ؓ کا یہ اعتقاد تھا کہ نبی اکرم ﷺ نے بھی اسی طرح کیا تھا ۔

أَيُّوبَ، ← أَبِيهِ ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2695

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2696

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جريج قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بَيْنَ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ مَرَّةً قَالَ: فقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْكَ أَرْبَعَ خِصَالٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ: رَأَيْتُكَ إِذَا أَهْلَلْتَ فَدَخَلْتَ الْعَرْشَ قَطَعْتَ التَّلْبِيَةَ. قَالَ:

جناب عبید بن حنین بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب ؓ کے ساتھ تقریباً بارہ حج اور عمرے کیے ہیں ۔میں نے ان سے عرض کیا :اے ابو عبدالرحمان !میں نے آپ سے چا خصوصی باتیں نوٹ کی ہیں ۔پھر مکمل حدیث بیان کی :اور بیان کیا : "میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ جب آپ احرام باندھ کر تلبیہ پکارتے تو مکہ مکرمہ کی آبادی میں پہنچ کر تلبیہ کہنا بند کر دیتے،انہوں نے فرمایا :اے ابن حنین !تم نے سچ بات بیان کی ہے ج۔میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (حج کےلیے ) نکلا تو جب آپ مکہ مکرمہ کی آبادی میں داخل ہوئے تو آپ نے تلبیہ کہنا بند کر دیا ۔لہذا میں تا حیا ت اسی طریقہ پر تلب یہ کہتا رہوں گا ۔"امام ابوبکر ؒفرماتے ہیں : "میرا موقف یہ تھا کہ عمرہ کرنے والا شخص طواف شروع کرتے وقت حجراسودکو چھونے یا بوسہ دینے تک تلبیہ کہتا رہے گا ۔کیونکہ ابن ابی لیلیٰ کی عطاء کے واسطے سے حضرت ابن عباس کی روایت میں ہے : ""رسول اللہ ﷺ عمرے میں حجرا سود کو چھونے کے بعد تلبیہ کہنا بند کر دیتے تھے ۔"

الْحَدِيثَ. ← فقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْكَ أَرْبَعَ خِصَالٍ، ← حَجَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بَيْنَ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ مَرَّةً ← عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ← ابْنِ قُسَيْطٍ، ← أَبُو صَخْرٍ، ← عَمِّي، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2696

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2697

حدثنا يعقوب بن إبراهيم الدورقي و محمد بن هشام قالا حدثنا هشيم أخبرني ابن أبي ليلى قال محمد بن هشام : عن ابن أبي ليلى قال أبو بكر : فلما تدبرت خبر عبيد بن حنين كان فيه ما دل على أن النبي صلى الله عليه وسلم قد كان يقطع التلبية عند دخول عروش مكة و خبر عبيد بن حنين أثبت إسنادا من خبر عطاء لأن ابن أبي ليلى ليس بالحافظ و إن كان فقيها عالما فأرى للمحرم كان بحج أو عمرة أو بهما جميعا قطع التلبية عند دخول عروش مكة فإن كان معتمرا لم يعد إلى التلبية و إن كان مفردا أو قارنا عاد إلى التلبية عند فراغه من السعي بين الصفا و المروة لأن فعل ابن عمر كالدال على أنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم قطع التلبية في حجته إلى الفراغ من السعي بين الصفا و المروة حدثناه الربيع بن سليمان حدثنا بشر بن بكر عن الأوزاعي قال قال عطاء بن أبي رباح : كان ابن عمر يدع التلبية إذا دخل و يراجعها بعد ما يقضي طوافه بين الصفا و المروة

امام صاحب نے مذکورہ بالا روایت کی سند بیان کی ہے ۔امام ابوبکر ؒفرماتے ہیں : "پھر جب میں نے عبید بن حنین کی روایت میں غوروفکر کیا تو اس میں دلیل موجود تھے کہ نبی کریم ﷺمکہ مکرمہ کی آبادی میں پہنچتے ہی تلبیہ کہنا بند کر دیتے تھے۔جناب عبید بن حنین کی روایت سند کے لحاظ سے امام عطاء کی روایت سے زیادہ مضبوط ہے کیونکہ ابن ابی لیلیٰ حافظ حدیث نہیں ہیں اگرچہ وہ ایک جید فقیہ اور عالم دین ہیں ۔لہذااب میرا موقف یہ ہے کہ محرم حج کےلیے آئے یا عمرے کے لیے ،وہ مکہ مکرمہ کی آبادی میں داخل ہوتے ہی تلبیہ کہنا بند کر دے گا۔اور اگر وہ صرف عمرہ کرنے آیا ہو تو دوبارہ تلبیہ نہیں پڑھےگا ۔اور اگر وہ حج مفرد یا حج قران کر رہا ہو تو وہ صفا اور مروہ کی سعی کرنے کے بعد دوبارہ تلبیہ کہنا شروع کردے گا ۔کیونکہ حضرت ابن عمر ؓ کا فعل اس با ت کی دلیل ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی دیکھا تھا کہ آپ نے اپنے حج میں صفا اور مروہ کی سعی تک تلبیہ کہنا بند کردیا تھا ۔"امام عطاءبن ابی رباح ؒ بیا ن کرتے ہیں : "حضرت ابن عمر ؓ حدود حرم میں داخل ہونے کے بعد تلبیہ بند کردیتے تھے اور صفاء ومروہ کی سعی کرنے کے بعد دوبارہ تلبیہ کہنا شروع کردیتے تھے ۔"

ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← هُشَيْمٌ ← يعقوب بن إبراهيم الدورقي و محمد بن هشام

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2697

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2698

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو -يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ- حَدَّثَنِي ابْنُ زَبْرٍ -وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ- حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ إِذَا دَخَلَ الْحَرَمَ، وَيُعَاوِدُها إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ، وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الطَّوَافِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَأَخْبَارُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ دَالَّةٌ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَقْطَعِ التَّلْبِيَةَ عِنْدَ دُخُولِهِ الْحَرَمَ قَطْعًا، لَمْ يُعَاوِدْ لها. سَأَذْكُرُ تَلْبِيَتَهُ إِلَى أَنْ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فِي مَوْضِعِهَا مِنْ هَذَا الْكِتَابِ إِنْ وَفَّقَ اللَّهُ لِذَلِكَ وَشَاءَ.

جناب قاسم بن محمد بیا کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کو دیکھا کہ وہ حدود حرم میں داخل ہوتے ہی تلبیہ پکارنا بند کر دیتے تھے ۔جب وہ بیت اللہ کے طواف اور صفا مروہ کی سعی سے فارغ ہو جاتے تو دوبارہ تلبیہ کہنا شروع کر دیتے ۔امام ابوبکر ؒفرماتے ہیں : "نبی اکرم ﷺ کی وہ احادیث جن میں یہ ذکر ہے کہ آپ جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ کہتے رہتے تھے ۔وہ اس با ت کی دلیل ہیں کہ نبی اکرم ﷺ حدود حرم میں داخل ہونے پر بالکل تلبیہ کہنا بند نہیں کرتے تھے ( بلکہ صفا مروہ کی سعی کے بعد دوبارہ شروع کر دیتے تھے ) میں اللہ تعالیٰ کی توفیق اور مشیت سے اس کتا ب میں مناسب موقع پر نبی اکرم ﷺکے جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ کہنے کی احادیث ذکر کروں گا۔

الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← ابْنُ زَبْرٍ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ ← عَمْرٌو -يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ- ← مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْعَطَّارُ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2698

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2699

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي [269 - ب] أَخْبَرَنِي عمرو -هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ- عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ لَهُ: سَلْ لي عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ رَجُلٍ يُهِلُّ بِالْحَجِّ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: قَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّهُ أَوَّلُ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ فَذَكَرَ حَدِيثًا فِيهِ بَعْضُ الطَّوْلِ.

۔۔جناب محمد بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ایک عراقی شخص نے انہیں کہا :حضرت عروہ بن زبیر سے سوال کر و کہ حج کا احرام باندھنے والا شخص کیا کرے ۔تو میں نے ان سے یہ سوال کیا ۔ انہوںنے فرمایا :رسول اللہ ﷺ نے حج کیا ہے ،مجھے حضرت عائشہ ؓ نے بتایا کہ آپ نے مکہ مکرمہ پہنچنے پر سب سے پہلے وضو کیا پھر بیت اللہ کا طواف کیا ۔پھر کچھ طویل حدیث بیان کی

مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← عَمْرٌو هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، ← عَمِّي، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2699

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2700

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ -يَعْنِي ابن سُلَيْمَانَ- عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ وَسَأَلْتُهُ عَنِ الرَّمَلِ بِالْكَعْبَةِ الثَّلَاثة أَطْوَافٍ، فَزَعَمَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا قَدِمَ فِي عِقْدِ قُرَيْشٍ، فَلَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ دَخَلَ مِنْ هَذَا الْبَابِ الْأَعْظَمِ، وَقَدْ جَلَسَتْ قُرَيْشٌ مِمَّا يَلِي الْحَجَرُ أَوِ الْحِجْرُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ أُقَيِّدْ فِي التَّصْنِيفِ الْحَجَرَ أَوِ الْحِجْرَ.

جناب عبداللہ بن عثمان بیان ک تے ہیں کہ ہمیں ابو طفیل نے بتایا ،اور میں نے ان سے بیت اللہ کے طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کے بارے میں پوچھا ،تو انہوں نے کہا :حضرت ابن عباس ؓ نے انہیں بتا یا کہ رسول اللہ ﷺ جب قریش کے ساتھ معاہدے کے تحت مکہ مکرمہ آئے تو جب آ پ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو اس بڑے دروازے (باب بنی شیبہ ) سے داخل ہوئے اور قریش کے لوگ حطیم یا حجرا سود کے قریب بیٹھے ہوئے تھے ۔پھر مکمل حدیث بیان کی ۔امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : "اس حدیث میں واردلفظ حَجَرَ یا حِجْرَ ہے ، میں نے اس کی تعیین نہیں کی ۔

الرَّمَلِ بِالْكَعْبَةِ الثَّلَاثة أَطْوَافٍ، فَزَعَمَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ← أَبُو الطُّفَيْلِ وَسَأَلْتُهُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← عَبْدُ الرَّحِيمِ -يَعْنِي ابن سُلَيْمَانَ- ← ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2700

chevron_left Previous
1…151617…48
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals