صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2653
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ -قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهْمًا عِلْمِي هُوَ الصَّحِيحُ الِادِّهَانُ بِالزَّيْتِ فِي حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ إِنَّمَا هُوَ مِنْ فِعْلِ ابْنِ عُمَرَ لَا مِنْ فِعْلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَمَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ أَحْفَظُ وَأَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ وَأَتْقَنَ مِنْ عَدَدٍ مِثْلِ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، وَهَكَذَا رَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ (1) عَنْ حَمَّادٍ. ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ؛ رَوَاهُ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، فَقَالَ: عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛ ح ثَنَاه سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ؛ وَرَوَاهُ الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، عَنْ حَمَّادٍ؛ فَقَالَ: إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ. حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَاللَّفْظَةُ الَّتِي ذَكَرَهَا وَكِيعٌ وَالَّتِي ذَكَرَهَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ لَوْ كَانَ الدُّهْنُ مُقَتَّتًا بِأَطْيَبِ الطِّيبِ جَازَ الِادِّهَانُ بِهِ إِذَا أَرَادَ الْإِحْرَامَ، إِذِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ تَطَيَّبَ حِينَ أَرَادَ الْإِحْرَامَ، بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ، وَالْمِسْكُ أَطْيَبُ الطِّيبِ عَلَى مَا خَبَّرَ الْمُصْطَفَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَقُولُ: غَيْرَ مُقَتَّتٍ غَيْرَ مُطَيَّبٍ.
امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں: "میرے علم کے مطابق صحیح بات یہی ہے کہ حضرت سعید بن جبیر کی روایت میں تیل لگانے کا عمل حضرت ابن عمر کا ہے نہ کہ نبی کریم ﷺ کا ۔اور منصور راوی (جنہوں نے اسے حضرت ابن عمر کا عمل قرار دیا ہے ) وہ فرقد سخبی جیسے کئی راویوں سے بڑھ کر علم حدیث کے حافظ اور متقن عالم ہیں ۔اسے طرح حجاج بن منہال نے بھی امام حماد سے بیان کیا ہے ۔امام وکیع بن جراح نے بھی بیان کیا ہے کہ (ابن عمر ) احرام باندھتے وقت تیل لگاتے تھے ۔جناب ہیثم بن جمیل بھی امام حماد سے بیان کرتے ہیں کہ جب وہ احرام باندھنے کا ارادہ کرتے تو تیل لگاتے تھے ۔امام ابوبکر ؒفرماتے ہیں : "لہذا جو الفاظ امام وکیع اور ہیثم بن جمیل نے بیان کیے ہیں (کہ احرام باندھتے وقت یا احرام کا ارادہ کرتے وقت تیل لگاتے تھے )ان الفاظ کے مطابق تو بہترین خوشبودار تیل لگانا بھی جائز ہے جب کہ احرام کا ارادہ کرتے وقت لگایا جا ئے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے احرام کا ارادہ کرتے وقت کستوری کی ملا وٹ والی بہترین خوشبو لگائی تھی ۔جبکہ کستوری سب سے اعلیٰ اور عمدہ خوشبو ہے جیسا کہ نبی کریم نے بیان کیا ہے۔(لہذا احرام کے وقت تیل لگایا جا سکتا ہے جیسا کہ امام حماد کے کئی شاگردوں نے روایت کیا ہے ۔جبکہ فرقد سخبی کا حالت احرام میں تیل لگانے کی مرفوع روایت بیان کرنا ان کا وہم ہے ۔) جناب محمد بن یحییٰ کہتے ہیں : غیر مقتت کا معنی ہے :غیر خوشبودار۔
الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2653
