Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2641

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيَّ- وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، أَنَّ عَمْرًا مَوْلَى الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُمَا، عَنِ الْمُطَّلِبِ بن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "لَحْمُ صَيْدِ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَم تَصده أَوْ يُصَدُ (1) لَكُمْ". حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنَا أَسَدٌ -يَعْنِي ابْنَ مُوسَى- حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ -وَهُوَ ابْنُ سَالِمٍ- عَنْ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ: مِثْلَهُ سَوَاءً، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: صَيْدُ الْبَرِّ، وَلَمْ يَقُلْ: لَحْمٌ.

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :خشکی کے شکار کا گوشت تمہارے لیے حلا ل ہے جب کہ تم حالت احرام میں ہو ،بشرطیکہ تم نے خود شکار نہ کیا ہو اور نہ خاص طور پر تمہارے لیے شکار کیا گیا ہو ۔"امام صاحب اپنے استاد نصربن مرزووق کی سند سے یہی روایت لائے ہیں اس میں خشکی کے شکا ر کا ذکر ہے اور لحم (گوشت ) کا لفظ مذکو ر نہیں ۔

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2641

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2642

وَقَدْ رَوَى مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابِي، وَلَمْ أُحْرِمْ، فَرَأَيْتُ حِمَارًا فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ، فَاصْطَدْتُهُ، فَذَكَرْتُ شَأْنَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَذَكَرْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَحْرَمْتُ، وَأَنِّي إِنَّمَا اصْطَدْتُهُ لَكَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ حِينَ أَخْبَرْتُهُ أَنِّي اصْطَدْتُهُ لَهُ. حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ الزِّيَادَةُ: إِنَّمَا اصْطَدْتُهُ لَكَ، وَقَوْلُهُ: وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ حِينَ أَخْبَرْتُهُ: أَنِّي اصْطَدْتُهُ لَكَ، لَا أَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَهُ فِي خَبَرِ أَبِي قَتَادَةَ غَيْرَ مَعْمَرٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، فَإِنْ صَحَّتْ هَذِهِ اللَّفْظَةُ فَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكَلَ مِنْ لَحْمِ ذَلِكَ الْحِمَارِ قَبْلَ [أَنْ] يُعْلِمَهُ أَبُو قَتَادَةَ أَنَّهُ اصْطَادَهُ مِنْ أَجْلِهِ، فَلَمَّا أَعْلَمَهُ أَبُو قَتَادَةَ أَنَّهُ اصْطَادَهُ مِنْ أَجْلِهِ امْتَنَعَ مِنْ أَكْلِهِ بَعْدَ إِعْلَامِهِ إِيَّاهُ أَنَّهُ اصْطَادَهُ مِنْ أَجْلِهِ، لِأَنَّهُ قَدْ ثَبَتَ عَنْهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَدْ أَكَلَ مِنْ لَحْمِ ذَلِكَ الْحِمَارِ.

حضرت ابو قتادہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم صلح حدیبیہ کے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (عمرہ کےلیے ) نکلے تو میرے ساتھیوں نے احرام باندھا اور میں نے احرام نہ باندھا ۔میں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا تو اس پر حملہ کر دیا اور اسے شکار کر لیا ۔پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا اور میں نے آپ کویہ بھی بتایا کہ میں حالت احرام میں نہیں تھا اور میں نے یہ شکار آپ کےلیےکیا ہے لہذا نبی کریم ﷺ نے یہ معلو م ہونے پرکہ یہ شکار حضرت ابوقتادہ ؓ نے آپ کے لیے کیا ہے ،آپ نے خو داس میں سے نہ کھایا اور اپنے صحابہ سے کہا تم کھا لو ۔امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں :یہ الفاظ : "بلاشبہ یہ شکار میں نے آپ ہی کےلیے کیا ہے "اور یہ الفاظ جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو بتایا کہ میں نے یہ شکار آپ ہی کےلیے کیاہے تو آپ نے اس میں سے کچھ نہ کھایا۔میرے علم کے مطابق اس سند سے حضر ت ابو قتادہ ؓ کی روایت میں صرف معمر ہی نے ان الفاظ کا اضافہ بیان کیا ہے ۔اگر یہ الفاظ صحیح ثابت ہو جائیں تو پھر اس حدیث کا معنی یہ ہو گا کہ نبی کریم ﷺ نے اس جنگلی گدھے کا گوشت کھایاتھا جب کہ ابھی حضرت قتادہ نے آپ کو یہ نہیں بتایاتھاکہ انہوں نے خاص آ پ کےلیے اسے شکار کیاہے ۔پھر جب حضرت ابوقتادہ نے رسول اللہ ﷺ کو بتادیا کہ انہوں نے یہ گدھا آپ ہی کےلیے شکار کیا ہے تو پھر آپ نے گوشت کھانا ترک کر دیا اور اس سے رک گئے ۔کیوں کہ یہ بات آ پ کے بارے میں ثابت ہے کہ آپ نے اس گدھے کا گوشت کھایا تھا ۔(جیسا کہ اگلی روایت میں آرہا ہے ۔)

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى أَبِي كَثِيرٍ، ← وَقَدْ رَوَى مَعْمَرٌ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2642

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2643

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ؛ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَرَكِبَ فَرَسَهُ، وَسَأَلَهُمْ أَنْ يُنَاوِلُوهُ الرُّمْحَ أَوِ السَّوْطَ، فَأَبَوْا أَنْ يُنَاوِلُوهُ، فَتَنَاوَلَهُ، ثُمَّ شَدَّ عَلَيْهِ، فَعَقَرَهُ، ثُمَّ جَاءَ بِهِ فَلَحِقُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: "هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ؟ " قَالُوا: نَعَمْ. فَأَتَوْهُ بِرِجْلِهِ فَأَكَلَ مِنْهَا. قَدْ خَرَّجْتُ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ" طُرُقَ خَبَرِ أَبِي قَتَادَةَ، وذكر مَنْ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكَلَ مِنْ لَحْمِ ذَلِكَ الْحِمَارِ.

حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہےکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پر نکلے جب کہ صحابہ کرام محرم تھے اور حضرت ابو قتادہ ؓ غیر محرم تھے ۔انہوں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا تو (اسے شکار کرنے کےلیے ) اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ انہیں نیزہ یا کوڑا پکڑا دیں لیکن انہوں نے انہیں وہ پکڑانے سے انکار کر دیا ( کیونکہ وہ حالت احرام میں تھے ) لہذا انہوں نے خود ہی ( نیچے اتر کر ) وہ نیزہ پکڑ ا پھر اس گدھے کا پیچھا کیا اور اسے ( پکڑ کر ) ذبح کر لیا ۔پھر وہ گدھا لے کر حاضر ہو گئے ۔اور دوسرے صحابہ کرام بھی آپ کے پاس حاٖضر ہوئے اور سارا ماجرا سنایا ۔ آپ نے فرمایا : "کیا تمہارے پاس اس کا کچھ گوشت ہے ؟ صحابہ کرام نے عر ض کیا : جی ہاں اور آپ کو اس کی ران پیش کی گئی اور آپ نے اس میں سے کھایا ۔میں نے حضرت ابو قتادہ ؓ کی روایت کے تمام طرق کتاب الکبیر میں بیان کردیے ہیں اور یہ ان کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس گدھے کا گوشت کھایا تھا ۔

أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2643

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2644

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ أَنَّهُ قَالَ: يَا زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ! هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُهْدِيَ لَهُ بَيْضَاتُ نَعَامٍ وَهُوَ حَرَامٌ فَرَدَّهُنَّ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ جَابِرٍ: "لَحْمُ الصَّيْدِ حَلَالٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ (1) لَكُمْ" دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ بَيْضَ الصَّيْدِ مُبَاحٌ لِلْمُحْرِمِ إِذَا لَمْ يُؤْخَذْ مِنْ أَجْلِ (2) الْمُحْرِمِ لِأَنَّ حُكْمَ بَيْضِ الصَّيْدِ لَا يَكُونُ أَكْثَرَ مِنْ حُكْمِ لَحْمِهِ.

حضر ت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہو ں نے کہا : اے زید ارقم ؓ کیا آپ کو معلو م ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو شر مرغ کےانڈے ہدیہ کیے گئے تھے جب کہ آپ حالت احرام میں تھے تو آپ نے وہ انڈے واپس کر دیے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں، مجھے یہ بات معلوم ہے ۔امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : حضرت جابر ؓ کی روایت میں ہے جب تم حالت احرا م میں ہو تو تمہارے لیے شکار کا گوشت کھانا حلال ہے جب کہ تم نے اسے خود شکار نہ کیا ہو یا وہ تمہارے لیے ہی شکار نہ کیا گیا ہو ۔اس میں اس بات کی دلالت ہے کہ شکاری جانور کا انڈہ کھانا محرم کےلیے جائز ہے جب کہ وہ محرم کےلیے ہی حاصل نہ کیے گئے ہوں ۔کیونکہ شکاری جانور کے انڈے کا حکم اس کے گوشت سے زیادہ سخت نہیں ہے ۔

يَا زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ! هَلْ عَلِمْتَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← طَاوُوسٍ، ← قَيْسٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2644

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2645

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ؛ ح وَثَنَا أَبُو مُوسَى، وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ -يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ- أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ: لَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الضَّبُعِ أَنَأْكَلُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قُلْتُ أَصَيْدٌ هِيَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ.

جناب عبد الر حمن ٰ بن عبداللہ بن ابی عمار بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ کو ملا تو میں نے ان سے پوچھا : کیا ہم بجو کھا سکتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : ہا ں میں نے پوچھا : کیاوہ شکا ر کا جانو ر ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں ۔ میں نے پھر عرض کی :کیا آپ نےیہ بات رسو ل اللہ ﷺ سے سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں۔

نَعَمْ ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← نَعَمْ. قُلْتُ: ← نَعَمْ. قُلْتُ أَصَيْدٌ هِيَ؟ ← الضَّبُعِ أَنَأْكَلُهَا؟ ← لَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْتُهُ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← وَثَنَا أَبُو مُوسَى، وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ -يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ- ← ابْنِ أَبِی عَمَّارٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2645

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2646

حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ (1)، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الضَّبُعِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ كَبْشًا نَجْدِيًّا، وَجَعَلَهُ مِنَ الصَّيْدِ.

۔۔حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جس بجو کو محرم شخص قتل کر دے ،تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا کفارہ ایک نجدی مینڈھا مقرر فرمایا ہے ۔ اور آ پ نے بجو کو شکار کا جانور قر ار دیا ہے ۔

جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ فِي الضَّبُعِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ كَبْشًا نَجْدِيًّا، وَجَعَلَهُ مِنَ الصَّيْدِ. ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2646

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2647

ثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: ثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ -وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ- عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَضَى فِي الضَّبُعِ بِكَبْشٍ. قَالَ ابْنُ هِشَامٍ: عَنْ مَنْصُورٍ.

۔۔حضرت جابر بن عبد اللہ ؓبیان کرتے ہیں کہ آپ نے بجو کو مارے کا کفارہ ایک مینڈھا ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا ۔

مَنْصُورٌ، ← ابْنُ هِشَامٍ: ← قَضَى فِي الضَّبُعِ بِكَبْشٍ. ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← مَنْصُورٌ، وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ ← هُشَيْمٌ ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2647

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2648

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرْشِيُّ، ثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ الصَّائِغُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الضَّبُعُ صَيْدٌ؛ فَإِذَا أَصَابَهُ الْمُحْرِمُ فَفِيهِ جَزَاءُ كَبْشٍ مُسِنٍّ، وَتُوكَلُ".

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بجو شکار ہے ،جب محرم اسے شکار کربیٹھے تو اس کا کفارہ ایک دودانتا مینڈھا ہے : جو کھا یا جائے گا۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ ← حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرْشِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2648

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2649

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهٍ -وَهُوَ ابْنُ وَهْبٍ-، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ، وَلَا يُنْكَحْ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَرَّجْتُ هَذَا الْبَابَ بِتَمَامِهِ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ". جُمَّاعُ أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا

حضرت عثمان بن عفا ن ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : "محرم شخص نہ خود نکاح کرے اور نہ ( اپنی بیٹی ،بہن وغیرہ کا ) نکاح کرائے ۔"امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں :میں نے یہ مکمل باب کتاب الکبیر میں بیان کردیا ہے ۔

أَبُو بَكْرٍ: خَرَّجْتُ هَذَا الْبَابَ بِتَمَامِهِ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ". جُمَّاعُ أَبْوَابِ ← «لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يُنْكِحُ» ← النَّبِيِّ ← عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، ← نُبَيْهٍ -وَهُوَ ابْنُ وَهْبٍ-، ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2649

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2650

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ يَقُولُ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: امْتَرَى الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ وَابْنُ عَبَّاسٍ وَهُمَا بِالْعَرْجِ فِي غُسْلِ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ، وَقَالَ مَرَّةً فِي غَسْلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ، فَأَرْسَلُونِي إِلَى أَبِي أَيُّوبَ أَسْأَلُهُ، فَأَتَيْتُهُ بِالْعَرْجِ وَهُوَ يَغْتَسِلُ بَيْنَ قَرْنَيِ الْبِئْرِ، فَسَلَّمْتُ [264 - ب] عَلَيْهِ فَلَمَّا رَآنِي ضَمَّ الثَّوْبَ إِلَى صَدْرِهِ حَتَّى كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى صَدْرِهِ، فَقُلْتُ: إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ أَسْأَلُكَ كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ. فَأَمَرَ بِدَلْوٍ فَصَبَّ، فَأَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ وَأَدْبَرَ بِهِمَا فِي رَأْسِهِ، وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَفْعَلُ. قال: فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ لَهُ الْمِسْوَرُ: لَا أُمَارِيكَ فِي شَيْءٍ بَعْدَهَا أَبَدًا.

۔۔جناب عبداللہ بن حنین بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسور بن مخرمہ اور ابن عباس ؓ کا عرج مقام پر محرم کے اپنا سر دھونے کے بارے میں اختلاف ہو گیا ۔ایک مرتبہ راوی ن کہا : نبی اکرم ﷺ ( کے حالت احرام میں ) اپنا سر مبارک دھونے کے بارے میں اختلا ف ہو گیا ۔تو انہوں نے مجھے حضر ت ابو ایوب ؓ کی خدمت میں یہ مسئلہ پوچھنے کےلیے بھیجا ۔میں ان کےپا س عرج مقام پر حاضر ہوا تو وہ کنویں کی دو لکڑیوں کے درمیان غسل کر رہے تھے ۔میں نے انہیں سلا م کیا ۔ انہوں نے جب مجھے دیکھا تو کپڑا اپنے سینے پر لپیٹ لیا حتی کہ میں نے ان کے سینے کو دیکھا ۔میں نے عرض کیا ۔مجھے آپ کے بھتیجے ابن عباس نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے کہ میں آپ سے دریافت کروں کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کو حالت احرام میں اپن سر مبارک کیسے دھوتے ہوئے دیکھا تھا ۔لہذا انہو ں نےپانی کا ایک ڈول منگوایا ،اس میں سے پانی انڈیلا اور اپنے سر پر بہایا ۔پھر اپنے سر کے اگلے اور پچھلے حصے کو ہاتھو ں سے ملا ۔اور فرمایا :میں نے رسول اللہ ﷺ کو ااس طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا ۔جناب عبد اللہ بن حنین کہتے ہیں :میں نے حضرت ابن عباس ؓ کو آکر بتایا تو حضرت مسوار ؓ حضرت ابن عباس ؓ سے کہنے لگے :میں اس کے بعد کبھی بھی آپ سے کسی مسئلے میں بحث و تکرار نہیں کروں گا ۔

ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُمَا بِالْعَرْجِ فِي غُسْلِ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ، ← امْتَرَى الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2650

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2651

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَوًا -يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ- يَقُولُ: سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: احْتَجَمَ رَسُول اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُحْرِمٌ. ثُمَّ سَمِعْتُ عمروا بَعْدَ ذَلِكَ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي طَاوُوسٌ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ رَوَى عَنْهُمَا جَمِيعًا.

۔۔حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حالت احرام میں سینگی لگوائی ۔جناب سفیان کہتے ہیں : پھر میں نے جناب عمرو بن دینار کو فرماتے ہوئے سنا : "مجھے طاؤس نے خبر دی ،وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ کوفرماتے ہوئے سنا :رسول اللہ ﷺ نے حالت احرام میں سینگی لگوائی ۔امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں :میرےخیا ل میں امام عمرو بن دینا ر نے یہ روایت امام عطاء اور طاؤس دونوں سے بیان کی ہے ۔

احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ رَوَى عَنْهُمَا جَمِيعًا. ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوُوسٍ، ← عمروا بَعْدَ ذَلِكَ ← احْتَجَمَ رَسُول اللَّهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ. ثُمَّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← عَمْرَوًا -يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ- ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2651

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2652

ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ وَيَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا فَرْقَدٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ادَّهَنَ بِزَيْتٍ غَيْرِ مُقَتَّتٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا خَائِفٌ أَنْ يَكُونَ فَرْقَدٌ السَّبَخِيُّ وَاهِمًا فِي رَفْعِهِ هَذَا الْخَبَرَ، فَإِنَّ الثَّوْرِيَّ رَوَى عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَدْهِنُ بِالزَّيْتِ حِينَ يُرِيدُ أَنْ يُحْرِمَ.

۔۔حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حالت احرام میں غیر خو شبودار تیل لگایا تھا ۔امام ابو بکرؒ فرماتے ہیں : "مجھے ڈر ہے کہ اس روایت کو مرفوع بیان کرنے میں فرقد سخبی کو وہم ہوا ہے ۔کیونکہ امام سفیان ثوری ؒنے منصو کے واسطے سے حضرت سعید بن جبیر ؒسے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عمرؓجب احرام باندھبے کا ارادہ کرتے تو تیل لگاتے تھے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← فَرْقَدٌ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ وَيَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2652

chevron_left Previous
1…111213…48
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals