Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2629

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زيد بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَقَالَ لِي: أَشْعِرْ بِالتَّلْبِيَةِ فَإِنَّهَا شِعَارُ الْحَجِّ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ: فَإِنَّهَا شِعَارُ الْحَجِّ، مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي كُنْتُ أَعْلَمْتُ أَنَّ الْعَرَبَ قَدْ تَقُولُ: إِنَّ أَفْضَلَ الْعَمَلِ كَذَا وَإِنَّمَا تُرِيدُ: مِنْ أَفْضَلِ، وَخَيْرُ الْعَمَلِ كَذَا، وَإِنَّمَا تُرِيدُ مِنْ خَيْرِ الْعَمَلِ. وَالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، إِنَّمَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ: فَإِنَّهَا شِعَارُ الْحَجِّ أَيْ مِنْ شِعَارِ الْحَجِّ.

حضرت زید بن خالد جہنی ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :"میرے پاس جبرائیل ؑ آئے تو انہوں نے کہا :تلبیہ کو شعار بنائیں کیونکہ تلبیہ حج کا شعا ر ہے ۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں :یہ الفاظ " تلبیہ حج کا شعار ہے ۔"یہ اسی قسم سے تعلق رکھتا ہے جس کے بارے میں میں بیا ن کر چکا ہوں کہ عرب لوگ یہ کہتے ہیں : "یہ افضل ترین حج ہے ۔"اور ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ عمل افضل ترین اعمال میں سے ایک ہے ۔کبھی عرب کہتے ہیں : بہترین عمل اس طرح ہے "اور ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ عمل بہترین اعمال میں سے ایک بہترین عمل ہے ۔اسی طرح نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان :"تلبیہ شعار حج ہے " سے آپ کی مراد یہ ہےکہ تلبیہ شعار حج میں سے ایک شعار ہے

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ← الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْطَبِ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2629

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2630

ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ (1) وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي لَبِيدٍ أَخْبَرَاهُ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَمَرَنِي جِبْرِيلُ بِرَفْعِ الصَّوْتِ بِالْإِهْلَالِ فَإِنَّهُ مِنْ شِعَارِ الْحَجِّ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَرَّجْتُ طُرُقَ هَذَا الْخَبَرِ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ".

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "جبرائیل ؑ نے مجھے بلند آواز سے تلبیہ پکارنے کا حکم دیا کیونکہ یہ حج کے شعار میں سے ہے ۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں :میں نے اس حدیث کے طرق کتاب الکبیر میں بیان کردیے ہیں ۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي لَبِيدٍ أَخْبَرَاهُ، ← أُسَامَةُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2630

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2631

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "الْعَجُّ وَالثَّجُّ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الْعَجُّ رَفْعُ الصَّوْتِ بِالتَّلْبِيَةِ، وَالثَّجُّ نَحْرُ الْبُدْنِ لِيَثُجَّ الدَّمُ مِنَ الْمَنْحَرِ.

حضر ت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : "بلند آواز سے تلبیہ پکارنااور قربانی کرنا "امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : "العج " سے مراد بلند آوازسے تلبیہ پکارنا ہے اور الثج سے مراد اونٹ ذبح کرنا،اور اس کا خون بہانا ہے ۔

أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، ← ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2631

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2632

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْد، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: ثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ: انْطَلَقْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَلَمَّا أَتَيْنَا وَادِيَ الْأَزْرَقِ، قَالَ: "أَيُّ وَادٍ هَذَا؟ " قُلْنَا: وَادِي الْأَزْرَقِ. قَالَ: "كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى"، فَنَعَتَ مِنْ طُولِهِ وَشَعْرِهِ وَلَوْنِهِ، وَاضِعًا أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ لَهُ جواز إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي، ثُمَّ نَفَرْنَا حَتَّى أَتَيْنَا؛ قَالَ دَاوُدُ: أَظُنُّهُ ثَنِيَّةَ هَرْشَى. فَقَالَ: "أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ؟ " فَقُلْنَا: ثَنِيَّةُ هَرْشَى. قَالَ: "كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ خِطَامُ النَّاقَةِ خَلِيَّةٌ، عَلَيْهِ جُبَّةٌ لَهُ مِنْ صُوفٍ بِهَذِهِ الثَّنِيَّةِ مُلَبِّيًا".

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ مکر مہ سے مدینہ منورہ کی طرف چلے ۔پھر جب ہم وادی ازرق میں پہنچے تو آ پ نے فرمایا : "یہ کون سی وادی ہے ؟"ہم نے عر ض کی :یہ وادی ازرق ہے ۔آپ نے فرمایا: "گویاکہ میں موسیٰ ؑ کو دیکھ رہا ہوں "پھر آپ نے موسی ؑکے طویل قدوقامت ،ان کے بالوں اور رنگت کی صفت بیان کی ،موسیٰ ؑ اپنی انگلیاں کانوں میں ڈال کر بلند آواز سے تلبیہ پکارتے ہوئے اس وادی سے گزررہے ہیں ۔ پھر ہم چلتے رہے حتی کہ ہم ثنیہ ہرشی کے پاس آگئے توآپ نے دریافت کیا : "یہ کونسی گھاٹی ہے؟"ہم نے عرض کیا یہ ہرشی گھاٹی ہے ۔آپ نے فرمایا : "گویا کہ میں یونس ؑ کو دیکھ رہا ہوں ۔وہ سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں جس کی لگام کھجور کی چھال کی رسی ہے ۔حضرت یونس ؑ نے اونی جبہ پہنا ہوا ہے اور وہ تلبیہ پکارتے ہوئے اس گھاٹی سے گزررہے ہیں ۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2632

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2633

ثَنَا أَبُو مُوسَى، ثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَمَرَرْنَا بِوَادِي، فَقَالَ: "أَيُّ وَادٍ هَذَا؟ " فَقَالُوا: وَادِي الْأَزْرَقِ، قَالَ: "كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى" -فَذَكَرَ مِنْ لَوْنِهِ وَشَعَرِهِ شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ دَاوُدُ- "وَاضِعًا أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ لَهُ جواز إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ، مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي"، قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ثَنِيَّةٍ، قَالَ: "أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ؟ " فَقَالُوا: هَرْشَى أَوْ كَذَا (1). فَقَالَ: "كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ عَلَيْهِ جُبَّةٌ صُوفٌ خِطَامُ نَاقَتِهِ خَلِيَّةٌ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي مُلَبِّيًا".

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان سفر کیا۔ ہم ایک وادی سے گزرے تو آپ نے فرمایا : "یہ کونسی وادی ہے ؟ہم نے عرض کی :یہ وادی ارزق ہے ۔آپ نے فرمایا : "گویا کہ میں موسیٰ ؑکو دیکھ رہا ہوں "پھر آپ نےان کے بالوں اور رنگت کے بارے میں کچھ بتایا ، وادی راوی کو وہ یاد نہیں ہے ۔ حضرت موسی ٰ ؑ اپنی انگلیاں اپنے کانوںمیں ڈال کر بلند آواز سے تلبیہ پکارتے ہوئے اس وادی سے گزررہے ہیں ۔ "حضرت ابن عباس فرماتے ہیں : پھر ہم چلتے رہے حتی کہ ہم ایک گھاٹی پر آگئے ۔آپ نے دریافت کیا "یہ کونسی گھاٹی ہے؟"صحابہ کرام نے عرض کیا: "ھَرْشٰی یا لَفَتَ"گھاٹی ہے آپ نے فرمایا : "گویا کہ میں یونس ؑ کو دیکھ رہا ہوں ۔وہ سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں اور اونی جبہ پہنے ہوئے ہیں ۔ان کی اونٹنی کی مہار کھجور کی چھال کی رسی ہے،وہ تلبیہ پڑھتے ہوئے اس وادی سے گزررہے ہیں ۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← دَاوُدُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← أَبُو مُوسَى،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2633

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2634

أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ -يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ- حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَا مِنْ مُلَبِّي يُلَبِّي إِلَّا لَبَّى مَا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ مِنْ شَجَرٍ وَحَجَرٍ حَتَّى تَنْقَطِعَ الْأَرْضُ هَاهُنَا، وَهَاهُنَا" -يَعْنِي عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ-.

حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : " جب کوئی تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا ہے تو اس کے دائیں اور بائیں جانب زمین کے آخری کناروں تک موجود ہر درخت اور پتھر بھی تلبیہ کہتے ہیں ۔"

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← عُبَيْدَةُ -يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ- ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2634

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2635

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ؛ ح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُمْ كَانُوا فِي سَفَرٍ وَفِيهِمْ مَنْ قَدْ أَحْرَمَ. قَالَ: فَرَكِبَ أَبُو قَتَادَةَ فَرَسَهُ فَأَتَى حِمَارَ وَحْشٍ، فَأَصَابَهُ، فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهِ، ثُمَّ كَأَنَّهُمْ هَابُوا ذَلِكَ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: "اشْتَرَكْتُمْ أَوْ أَشَرْتُمْ؟ " قَالُوا: لَا. قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَكُلُوهُ". وَفِي خَبَرِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ قَالَ: "أَشَرْتُمْ أَوْ أَعَنْتُمْ". وَفِي خَبَرِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ بِمِثْلِهِ، وَقَالَ: "أَشَرْتُمْ، أَوْ صِدْتُمْ، أَوْ أَعَنْتُمْ". قَالُوا: لَا. قَالَ: "فَكُلُوهُ".

حضرت عبد اللہ بن ابی قتادہ اپنے والد گرامی حضرت ابو قتادہ ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک سفر میں تھے ،ان کے کچھ ساتھی محرم تھے ۔حضرت ابو قتادہ ؓ نےشکا ر دیکھا تو اپنے گھوڑے پر سوارہو کر جنگلی گدھے کا پیچھا کیا اور اسے شکار کر لیا پھر لوگوں نے اس کا گوشت کھایا ۔پھر وہ (حالت احرام میں شکارکا گوشت کھانے پر ) گویا کہ ڈرنے لگے ۔تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : "کیا تم نے شکار کرنے میں شرکت کی ہے ،یاتم انے اس شکا ر کی طرف اشارہ ( کر کے حضرت ابو قتادہ کو متوجہ ) کیا تھا ؟ انہوں نے عر ض کی : جی نہیں نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ "تم اسے کھا لو ۔"جناب ابن عدی کی روایت میں ہے : کیا تم نے اشار ہ یا مدد کی تھی ؟ ""کیا تم نے اشارہ کیا تھا یا شکا ر کیا تھا یا تم انے شکار کرنے میں مدد کی تھی ؟ صحابہ کرام نے عر ض کیا : جی نہیں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا :تم اسے کھا لو۔"

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2635

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2636

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ- أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُثْمَانَ [263 - أ] بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ أَصَابَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مَعَ قَوْمٍ وَهُمْ مُحْرِمُونَ، فَذَكَرُوهُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "أَصِدْتُمْ أَوْ أَعَنْتُمْ أَوْ أَشَرْتُمْ". قَالُوا: لَا: قَالَ: "فَكُلُوهُ".

حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک جنگلی گدھا شکار کیا جب کہ وہ ایسے لوگوں کے ہمراہ تھے جو حالت احرام میں تھے تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کو اس بارے میں اطلاع دی تو آ پ نے فرمایا : "کیا تم نے شکار کیاتھا ،یا تم نے شکار کرنے میں مدد کی تھی یا تم نے اس کی طرف اشارہ کیاتھا ؟"صحابہ نے عرض کی : جی نہیں ۔تو آپ نے فر مایا : "تو پھر اس کا گوشت کھا لو ۔"

فكلوه ← لَا۔ ← "أَصِدْتُمْ أَوْ أَعَنْتُمْ أَوْ أَشَرْتُمْ". ← أَبِيهِ: أَنَّهُ أَصَابَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مَعَ قَوْمٍ وَهُمْ مُحْرِمُونَ، فَذَكَرُوهُ لِلنَّبِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← عُثْمَانَ أ] بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ-، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2636

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2637

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا بِالْأَبْوَاءِ. قَالَ ابْنُ مَعْمَرٍ: أَوْ بِوَدَّانَ، فَأَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَرَدَّهُ إِلَيَّ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِي، قَالَ: "إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ، وَلَكِنَّا حُرُمٌ". وَفِي خَبَرِ ابْنِ جُرَيْجً: قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ: الْحِمَارُ عَقِيرٌ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي مَسْأَلَةِ ابْنِ جُرَيْجٍ الزُّهْرِيَّ وَإِجَابَتِهِ إِيَّاهُ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ مَنْ قَالَ فِي خَبَرِ الصَّعْبِ: أَهْدَيْتُ لَهُ لَحْمَ حِمَارٍ أَوْ رِجْلَ حِمَارٍ وَاهِمٌ فِيهِ، إِذِ الزُّهْرِيُّ قَدْ أَعْلَمَ أَنَّهُ لَا يَدْرِي الْحِمَارَ كَانَ عَقِيرًا أَمْ لَا حِينَ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ وَكَيْفَ يرْوي أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُهْدِيَ لَهُ لَحْمُ حِمَارٍ أَوْ رِجْلُ حِمَارٍ وَهُوَ لَا يَدْرِي كَانَ الْحِمَارُ الْمُهْدَى إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَقِيرًا أَمْ لَا؟ قَدْ خَرَّجْتُ أَلْفَاظَ هَذَا الْخَبَرِ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ" ومَنْ قَالَ فِي الْخَبَرِ: أَهْدَيْتُ لَهُ لَحْمَ حِمَارٍ أَوْ قَالَ: رِجْلَ حِمَارٍ أَوْ قَالَ: حِمَار.

حضرت مصعب بن جثامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے جب کہ میں ودان یا ابواءمقام پر تھا ۔ میں نے آپ کو ایک جنگلی گدھے کا شکا ر پیش کیا تو آپ نے وہ قبو ل نہ کیا پھر جب رسول اللہ ﷺ نے میرے چہرے پر رنج و افسوس کے آثا ر دیکھے تو (تسلی دینے کےلیے ) فرمایا: "ہم نے تمہارا ہدیہ کسی غصے کی وجہ سے واپس نہیں کیا بلکہ وجہ صرف یہ ہے کہ ہم حالت احرام میں ہیں ( اور یہ شکار ہمارے لیے جائز نہیں ) "جناب جریح کی روایت میں ہے :میں نے امام ابن شہاب زہری ؒ سے پوچھا :کیا گدھا ذبح کیا ہواتھا ؟ انہوں نے فرمایا : مجھے معلوم نہیں ۔امام ابو بکرؒ فرماتے ہیں :امام ابن جریح کا یہ سوال اور امام زہری ؒ کا یہ جواب اس بات کی دلیل ہے کہ جن راویوں نے حضرت مصعب ؓ کی روایت کےیہ الفاظ روایت کیے ہیں کہ : میں نے نبی کریم ﷺ کو جنگلی گدھے کا گوشت پیش کیا ۔ یاجنگلی گدھے کی ران پیش کی ۔تو یہ ان راویوں کاوہم ہے ۔کونکہ امام زہری ؒ نے بیان کر دیا ہے کہ انہیں معلو م نہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کو گدھا پیش کیاگیا تھا تو وہ ذبح تھا یا نہیں ۔لہذ ا یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ یہ روایت کریں کہ نبی کریم ﷺ کو جنگلی گدھے کا گوشت یا اس کی ران پیش کی گئی تھی حالا نکہ انہیں یہ بھی علم نہیں کہ نبی کریم ﷺ کو پیش کیا گیا جنگلی گدھا ذبح کیا ہوا تھا یا نہیں ؟ میں نے اس روایت کے مختلف طرق کتاب الکبیر میں بیان کر دیے ہیں جب راویوں نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں :میں نےنبی کریم ﷺ کو جنگلی گدھے کاگوشت پیش کیا ،یا جنہوں نے کہا:گدھے کی ران ہدیہ کی ۔یا جنہوں نے روایت کیا : جنگلی گدھا پیش کیا ۔ان سب روایات کو میں نے بیان کردیا ہے ۔

بِالْأَبْوَاءِ ← مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ ← الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2637

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2638

حَدَثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى؛ ح وَقَرَأْتُهُ عَلَى بُنْدَارٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ وَنَحْنُ حُرُمٌ فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ، فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ وَمِنَّا (1) مَنْ تَوَرَّعَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ وَافقَ مَنْ أَكَلَ وَقَالَ: أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الدَّوْرَقِيُّ. وَقَالَ بُنْدَارٌ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: "أَخْبَارُ أَبِي قَتَادَةَ وَتَصْوِيبُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِعْلَ مَنْ أَكَلَ من الصَّيْدِ الَّذِي اصْطَادَهُ أَبُو قَتَادَةَ، وَمَسْأَلَتُهُ إِيَّاهُمْ هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ، وَأَكْلُهُ مِنْ ذَلِكَ اللَّحْمِ مِنْ هَذَا الْبَابِ، وَخَبَرُ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضُّمَيْرِيِّ مِنْ هَذَا الْبَابِ أَيْضًا.

۔۔جناب عبدالرحمن التیمی بیان کرتے ہیں کہ ہم طلحہ ؓ کے ساتھ حالت احرام میں تھے تو انہیں ایک پرندہ ہدیہ دیا گیا جبکہ وہ سوئے ہوئے تھے ،لہذا کچھ لوگوں نے اس کا گوشت کھا لیا اور کچھ نے کھانے سے اجتناب کیا ۔پھر جب حضرت طلحہ بیدار ہوئے تو انہوں نے گوشت کھانے والوں کی موافقت کی اور فرمایا :ہم نے رسو ل اللہ کے ساتھ ( حالت احرام میں ) پرندے کا گوشت کھایا تھا ۔یہ الفاظ جناب دورقی کی روایت کےہیں ۔امام ابوبکر ؒفرماتے ہیں : حضرت ابو قتادہ ؓ کے شکار کرنے والی حدیث جس میں نبی کریم ﷺ نے اس شکار کا گوشت کھانے والے صحابہ کے عمل کودر ست قرار دیا تھا اور پوچھا تھا :کیا تمہارےپاس اس کا گوشت موجود ہے ۔پھر گوشت ملنے پر آ پ نے بھی کھایا تھا : وہ حدیث بھی اسی مسئلہ کے متعلق ہے ۔حضرت عمیر بن سلمہ الضمیر ی کی روایت بھی اسی مسئلہ کے متعلق ہے ۔

أَبِيهِ ← معاذ بن عبد الرحمن التيمي ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَى ← وَقَرَأْتُهُ عَلَى بُنْدَارٍ، ← يَحْيَى ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2638

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2639

قَرَأْتُ عَلَى بُنْدَارٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اسْتَذْكِرْهُ كَيْفَ حَدَّثْتَنَا عَنْ لَحْمٍ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟، فَاسْتَذْكَرْتُهُ، فَقَالَ: أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَحْمُ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ وَقَالَ: "إِنَّا حُرُمٌ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: رَوَاهُ زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَحْمَ صَيْدٍ فَقَالَ: "لَوْلَا أَنَّا حُرُمٌ قَبِلْنَاهُ". حَدَّثَنَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ زُهَيْرٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَخَبَرُ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ دَالٌ عَلَى أَنَّ مَنْ قَالَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِمَارُ وَحْشٍ أَرَادَ خَبَرَهُ عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ [263 - ب] رِوَايَةَ مَنْ قَالَ: أَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَلَعَلَّهُ شُبِّهَ عَلَى بَعْضِ الرُّوَاةِ، فَجَعَلَ خَبَرَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فِي ذِكْرِ لَحْمِ الصَّيْدِ فِي قِصَّةِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ. وَخَبَرَ عَائِشَةَ: أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَحْمُ ظَبْيٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَمْ يَأْكُلْهُ، كَخَبَرِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ وَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ.

حضر ت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : جب حضرت زید بن ارقم ؓ تشریف لائے تو حضرت ابن عباس ؓ نے انہیں یاد دلاتے ہوئے پوچھا :آپ نے ہمیں کیسے بیان کیاتھا کہ نبی کریم ﷺ کو (شکار کا ) گوشت پیش کیاگیا تھا ؟جب میں نے انہیں یا د دلایا تو انہوں نے فرمایا : نبی کریم ﷺ کو شکار کا گوشت پیش کیاگیا جب کہ آ پ حالت احرام میں تھے توآپ نے وہ گوشت واپس کر دیا اور فرمایا : "بے شک ہم حالت احرام میں ہیں ۔"اما مابوبکر ؒفرماتے ہیں : جناب زہیر نے اپنی سند سے حضرت براءبن عازب ؓ سے بیان کیا ہے ،وہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ کو شکار کا گوشت ہدیہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا : "اگر ہم حالت ا حرام میں نہ ہوتے تو اسے قبول کر لیتے ۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : جناب طاؤس کی حضرت ابن عباس ؓ سے مروی روایت اس بات کی دلیل ہے کہ میں نے جن راویوں نے حضر ت ابن عباس سے یہ روایت کی ہے نبی کریم ﷺ کو ایک جنگلی گدھا ہدیہ پیش کیا۔تو ان کی مراد حضرت صعب بن جثامہ ؓ کی روایت ہے ۔ اور جن راویوں نے یہ روایت کی : "کہ نبی کریم ﷺ کو ایک جنگلی گدھا ہدیہ پیش کیاگیا ۔تو ممکن ہے کہ کسی کو شبہ ہوگیا ہوتو اس نے حضرت ابن عباس کی حضرت زید بن ارقم کی روایت میں شکا ر کے گوشت کاذکر ہے ،اس کو حضرت صعب بن جثامہ کی روایت میں شامل کردیا ہو ۔حضر ت عائشہ ؓ کی روایت کہ نبی کریم ﷺ کو ایک ہون کا گوشت پیش کیاگیا جب کہ آ پ حالت احرام میں تھے ۔تو آ پ نے اسے نہ کھایا ، یہ روایت بھی حضرت زید بن ارقم اور براء بن عازب ؓ کی طرح ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ دَالٌ عَلَى ← أَبُو بَكْرٍ: فَخَبَرُ طَاوُوسٍ، ← زُهَيْرٍ ← الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ← حُرُمٌ قَبِلْنَاهُ". ← لَوْلَا ← أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ لَحْمَ صَيْدٍ ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوُوسٍ، ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَبُو بَكْرٍ: رَوَاهُ زُهَيْرٌ، ← حُرُمٌ ← أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ لَحْمُ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ ← لَحْمٍ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ فَاسْتَذْكَرْتُهُ، ← ابْنُ عَبَّاسٍ: اسْتَذْكِرْهُ كَيْفَ حَدَّثْتَنَا ← لَمَّا قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوُوسٍ، ← الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَى ← عَلَى بُنْدَارٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2639

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2640

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ -يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ- أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عطاء، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ مَكَّةَ، لَمْ يَقُلِ ابْنُ مَعْمَرٍ: مَكَّةَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْكِرُه كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ لَحْمٍ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَرَامًا؟ قَالَ: نَعَمْ أَهْدَى لَهُ رَجُلٌ عُضْوًا مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، وَقَالَ: "إِنَّا لَا نَأْكُلُهُ، إِنَّا حُرُمٌ".

۔۔ حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت زید بن ارقم ؓ مکہ مکرمہ تشریف لائے ۔( ابن معمر کی روایت میں مکہ مکرمہ کا ذکر نہیں ہے ) تو حضرت ابن عباس ؓ نے انہیں یاد دلاتے ہوئے پوچھا : آپ نے مجھے کیسے بیان کیا تھا کہ نبی کریم ﷺ کو حالت احرام میں گوشت پیش کیاگیا تھا؟انہوں نے فرمایا ،ایک شخص نے آپ کو شکار کیے ہوئے جانور کا ایک عضو پیش کیا تھا ۔تو آپ نے اسے وہ واپس کردیا اور فرمایا : "بے شک ہم اسے نہیں کھا سکتے ،بے شک ہم حالت احرام میں ہیں ۔"

حُرُمٌ ← لا نَأْكُلُهُ ← نَعَمْ أَهْدَى لَهُ رَجُلٌ عُضْوًا مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، ← لَحْمٍ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ حَرَامًا؟ ← ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْكِرُه كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي ← قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ مَكَّةَ، لَمْ يَقُلِ ابْنُ مَعْمَرٍ: مَكَّةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← محمد يعني ابن بكر ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2640

chevron_left Previous
1…101112…48
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals