صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2508
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ (1)، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّاسَ فَقَالَ: "إِنَّ اللَّهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ". فَقَالَ رَجُلٌ: أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ، حَتَّى أَعَادَهَا ثَلَاثًا. فَقَالَ: "لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ مَا قُمْتُمْ بِهَا". وَقَالَ: "ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ (1)، فَإِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قِبَلِكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَمَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ، فَأْتُوهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَانْتَهُوا عَنْهُ". قَالَ: فَأُنْزِلَتْ: (لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ) [المائدة: 101].
حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے لوگوں سے خطاب فرمایا تو کہا:"بے شک اللہ تعالی نے تم پر حج فرض کیا ہے ۔" تو ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول کیا ہر سال حج فرض ہے۔ تو آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا حتی کہ اس نے یہی سوال تین بار کیا ۔ پھر رسول اللہ نے فرمایا: "اگر میں کہ دیتا کہ ہاں ہر سال فرض ہے تو وہ فرض ہو جاتا۔اور اگر ہر سال فرض ہو جاتا تو تم اسے ادا نہ کر سکتے ۔" اور آپ نے فرمایا :" تم مجھے چھوڑ دو جب تک میں تمھیں چھوڑے رکھوں خواہ مخواہ سوال نہ کرو کیو نکہ تم سے پہلے لوگ اس لیے تباہ و برباد ہوئے کہ وہ اپنے انبیاء سے بہت زیادہ سوال کرتے تھے اور انبیائے کرام سے بہت باتوں میں اختلاف کرتے تھے ۔ لہذا میں تمھیں جس چیز کا حکم دوں تو تم حسب استطاعت اس پر عمل کرو اور جب کسی چیز سے تمھیں روک جا و ۔"راوی کہتے ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی :" اے ایمان والو ایسی باتوں کے بارے میں سوال نہ کرو کہ اگر وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں بری لگیں۔"
رجل أكل عام ← "إِنَّ اللَّهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ". ← خَطَبَ رَسُولَ اللَّهِ النَّاسُ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى
Hadith 2508
