Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1629

أَنَا أَبُو طَاهُرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نَا يَحْيَى بْنُ عَبَّاد؛ ح وَثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَيْضًا، ثَنَا عَفَّانُ؛ (ح) وَثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالُوا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، زَادَ الدَّوْرَقِيُّ: فَلَمَّا سَلَّمَ أَوْ قَالَ: فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ: "إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنِّي كُنْتُ جُنُبًا".

"جناب الدورقی نے حضرت ابوبکر ؓ کی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ بیان کیا ہے۔"پھر جب آپ ﷺ نے سلام پھیرایا فرمایا: پھر جب آپ نے اپنی نماز مکمل کی تو فرمایا:’’یقیناً میں بھی ایک انسان ہی ہوں( اس لیے بھول گیا) اور میں جنابت کی حالت میں تھا (اس لیے یاد آنے پر غسل کیا اور پھر نماز پڑھائی)۔

بَشَرٌ، وَإِنِّي كُنْتُ جُنُبًا". ← "إِنَّمَا ← فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، زَادَ الدَّوْرَقِيُّ: فَلَمَّا سَلَّمَ أَوْ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← وَثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ← عَفَّانُ، ← وَثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَيْضًا، ← يَحْيَى بْنُ عَبَّاد؛ ← أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1629

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1630

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، وَجَمَاعَةٌ، قَالُوا: ثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النبي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! بِأَبِي وَأُمِّي مَا تَقُولُ فِي سُكُوتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ؟ قَالَ: "أَقُولُ: اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ".

"حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کی تکبیر کہتے تو کچھ خاموش رہتے۔میں نے عرض کی:اے اللہ کے رسو ل ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ تکبیر اور قراءت کے درمیان اپنی خاموشی میں کیا دعا پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:میں یہ پڑھتا ہوں:اللّٰھُمَّ بَاعِدْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ خَطَایَایَ۔۔۔۔ "اے میرے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اسی طرح دوری ڈال دے جس طرح تو نے مشرق ومغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے۔اے میرے پروردگار! مجھے میرے خطاؤں سے اسی طرح پاک صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔اے میرے اللہ! مجھے میری خطاؤں سے برف ، پانی اور اولوں کے ساتھ دھو دے۔‘

كَانَ النبي إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً. فَقُلْتُ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، وَجَمَاعَةٌ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1630

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1631

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فِي افْتِتَاحِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّلَاةَ مِنْ هَذَا الْبَابِ، وَهَذَا بَابٌ طَوِيلٌ قَدْ خَرَّجْتُهُ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ".

"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں:نبی کریم ﷺ کے نماز شروع کرنے کے بارے میں مروی حضرت علی بن ابی طالب ؓ کی حدیث اسی باب کے متعلق ہے اور یہ باب بڑا طویل ہے، میں نے اسے کتاب الکبیر میں بیان کیا ہے۔"

Hadith 1631

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1632

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، نَا عَبْدَةُ -يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ الْكَلَاعِيَّ-، عَنْ سَعِيدٍ؛ ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، نَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ، نَا سُلَيْمَانُ النَّاجِي، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[172 - أ]: "أَيُّكُمْ يَتَّجِرُ عَلَى هَذَا؟ " قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَصَلَّى مَعَهُ. هَذَا حَدِيثُ هَارُونَ بْنِ إِسْحَاقَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: عَنْ سُلَيْمَانَ النَّاجِي.

’’حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اس وقت (مسجد میں ) آیا جبکہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھا چکے تھے ،تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :تم میں سے کون اجروثواب کےلیے اس پر صدقہ کرے گا ؟فرماتےہیں :لوگوںمیں سےایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے اس شخص کے ساتھ نماز پڑھی ۔یہ ہارون بن اسحاق کی روایت ہے ۔‘‘

فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَصَلَّى مَعَهُ. هَذَا حَدِيثُ هَارُونَ بْنِ إِسْحَاقَ، غَيْرَ ← جاء رجل وقد صلى رسول الله ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ← سُلَيْمَانَ النَّاجِيِّ، ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← بُنْدَارٌ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدَةُ -يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ الْكَلَاعِيَّ-، ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1632

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1633

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى، نَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ يَرْجِعُ، فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ، فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلَاةَ.

’’حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاذ ؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز ادا کرتے تھے ،پھر واپس جا کر اپنی قوم کو امامت کراتے اور انہیں وہی نماز پڑھاتے ۔‘‘

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1633

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1634

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، نَا خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ- عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ، فَرَجَعَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَصَلَّى بِهِمْ وَصَلَّى خَلْفَهُ فَتًى مِنْ قَوْمِهِ، فَلَمَّا طَالَ عَلَى الْفَتَى، صَلَّى وَخَرَجَ، فَأَخَذَ بِخِطَامِ بَعِيرِهِ وَانْطَلَقُوا، فَلَمَّا صَلَّى مُعَاذٌ ذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا لَنِفَاقٌ لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَأَخْبَرَهُ مُعَاذٌ بِالَّذِي صَنَعَ الْفَتَى، فَقَالَ الْفَتَى: يَا رَسُولَ اللَّهِ! يُطِيلُ الْمُكْثَ عِنْدَكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُطَوِّلُ عَلَيْنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ؟ " وَقَالَ لِلْفَتَى: "كَيْفَ تَصْنَعُ يَا ابْنَ أَخِي إِذَا صَلَّيْتَ؟ " قَالَ: أَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَأَسْأَلُ اللَّهُ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي مَا دَنْدَنَتُكَ وَدَنْدَنَةُ مُعَاذٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنِّي [وَ] مُعَاذٌ حَوْلَ هَاتَيْنِ" أَوْ نَحْوَ ذِي قَالَ: قَالَ الْفَتَى: وَلَكِنْ سَيَعْلَمُ مُعَاذٌ إِذَا قَدِمَ الْقَوْمُ وَقَدْ خَبَرُوا أَن أبْعد وقَدْدَنا (1) قَالَ: فَقَدِمُوا، قَالَ: فَاسْتُشْهِدَ الْفَتَى، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ ذَلِكَ لِمُعَاذٍ: "مَا فَعَلَ خَصْمِي وَخَصْمُكَ؟ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! صَدَقَ اللَّهَ، وَكَذَبْتُ، اسْتُشْهِدَ.

’’حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاذ ؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھتے تھے پھر واپس جاکر اپنے ساتھیو ں کو نماز (عشاء ) پڑھاتے تھے ۔ایک دن جب وہ واپس آگئے تو انہیں نماز پڑھائی اور ان کے پیچھے ان کی قو م کے ایک نوجوان نے بھی نماز پڑھنی شروع کی ۔جب اس نوجوان پر (حضرت معاذ ؓ کی )قراء ت لمبی ہو گئی تو وہ (اکیلے )نماز پڑھ کرچلا گیا ۔اس نے اپنے اونٹ کی لگام پکڑی اور چل دیا ۔جب حضرت معاذ نے نماز مکمل کر لی تو انہیں یہ بات بتائی گئی ۔انہوں نے فرمایا :بلاشبہ یہ تو نفاق ہے ، میں ضرور رسول اللہ ﷺ کو بتاو ٔں گا ۔لہذا حضرت معاذ ؓنے رسول اللہ ﷺ کونوجوان کاقصہ بتایا تو اس نوجوان نے عرض کی : اے اللہ کے رسول !معاذ بڑی دیر تک آپ ﷺ کے پاس ٹھہرتے ہیں پھر واپس جا کر ہمیں طویل نماز پڑھاتے ہیں اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’اے معاذ !کیا تو فتنہ باز ہے ؟ اور اس نوجوان سے پوچھا :اے بھتیجے!تم نماز کیسے پڑھتے ہو ؟اس نے جواب دیا : میں فاتحہ الکتاب پڑھتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اس کی جنت مانگتا ہوں اور جہنم سے اس کی پناہ مانگتا ہوں لیکن میں آپ ﷺ کے اور حضرت معاذ کے گنگنا نے کو نہیں جانتا (کہ آ پ کون سی دعائیں مانگتے ہیں ) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :بےشک میں اور معاذ بھی انہی دو کے اردگرد گنگناتے ہیں (جنت کے حصول کی دعائیں اور جہنم سے پناہ مانگتے ہیں ) یا اسی قسم کا جواب دیا ۔ اس نو جوان نے کہا :اور لیکن معاذ عنقریب جان لے گا (کہ میں منافق ہوں یاسچا مومن ) جب قوم (میدان کا ر زار میں ) آئے گی اور وہ جان چکے ہیں کہ دشمن قریب آچکا ہے ۔ پھر جب قوم مید ان میں اتری تو نوجوان نے شہادت پائی ۔ نبی کریم ﷺ نے اس کے بعد حضرت معاذ سے پو چھا :میرے اور تمہارےمخالف کا کیا بنا ؟انہوں نے جواب دیا : اے اللہ کے رسول !اس نے اللہ تعالیٰ کو اپنی بات سچ کر دکھائی ، و ہ شہید ہو گیا ہے ،جبکہ میری بات غلط نکلی (جو میں نے اسے منافق کہا تھا)۔‘‘

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ-، ← يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1634

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1635

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرٍ، كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ أَمْلَيْتُ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ بِتَمَامِهَا، بَيَّنْتُ فِيهَا أَخْبَارَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ أَنَّهُ صَلَّى بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ تَطَوُّعًا وَصَلَّوْا خَلْفَهُ فَرِيضَةً لَهُمْ، فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَطَوُّعًا، وَلَهُمْ فَرِيضَةً.

’’حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت معاذ ؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھتے تھے ،پھر واپس جاکر اپنے سا تھیوں کو نماز پڑھاتے ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : میں یہ مسئلہ مکمل لکھوا چکا ہوں ۔میں اس مسئلہ میں نبی کریم ﷺ کی احادیث نماز خوف کے بارے میں بیان کر چکا ہوں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک گروہ کونفل نماز پڑھائی جبکہ انہوں نے آپ کے پیچھے فرض نماز ادا کی ۔ اس طرح وہ نماز نبی کریم ﷺ کےلیے نفل تھی اوران کےلیے فرض تھی ۔‘‘

جَابِرٍ، كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ. ← أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ،

Hadith 1635

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1636

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، أَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَلْقَمَةُ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: أَصَلَّى هَؤُلَاءِ خَلْفَكُمْ؟ قُلْنَا: لَا. قَالَ: فَقُومُوا، فَصَلُّوا، فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِأَيْدِينَا وَأَقَامَ (2) أَحَدَنَا عَنْ يَمِينِهِ، وَالْآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ، فَصَلَّى بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، فَجَعَلَ إِذَا رَكَعَ يُشَبِّكُ أَصَابِعَهُ، وَجَعَلَهَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: كَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَلَ، ثُمَّ قَالَ: "إِنَّهَا سَتَكُونُ أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ، يَخْنِقُونَهَا إِلَى شَرَقِ الْمَوْتَى، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ، فَلْيُصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَلْيَجْعَلْ صَلَاتَهُ مَعَهُمْ سُبْحَةً".

جناب اسود بیان کرتے ہیں کہ میں اور علقمہ ، حضرت ابن مسعود کی خدمت میں حاضر ہوئے ،تو انہوں نے پوچھا :کیا تمہارے پیچھے ان (امراء)لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے ؟ہم نے عرض کی : نہیں ۔ انہوں نے فرمایا : تم اٹھو اور نما ز پڑھ لو ( کیونکہ نماز کا وقت ہو چکا ہے ) تو ہم نے اٹھ کر ان کے پیچھے کھڑے ہونا چاہا تو انہوں نے ہمارے ہاتھ پکڑ کر ہم میں سے ایک کو اپنی دائیں جانب اور دوسرے کو بائیں جانب کھڑا کرلیا، پھر بغیر اذان اور اقامت کے نماز پڑھائی ۔جب انہوں نے رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھو ں کی انگلیوں کو ایک دوسری میں ڈال کر دونوں ٹانگوں کے درمیان رکھ لیا ۔پھر جب نماز ادا کرلی تو فرمایا :میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ پھر فرمایا :یقینا عنقریب ایسے حکمران ہوں گے جو نمازوں کو اس وقت تک موخر اور تنگ کریں گے ،جس قدر مرنے والا شخص گلے میں سانس اٹکنے کے بعد زندہ رہتا ہے ۔لہذا تم میں سےجو شخص ان حالات کو پائے تو وہ نماز کواس کے وقت پر اد کرے پھر ان حکمرانوں کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لے ۔

الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى؛ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1636

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1637

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَا: ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ؛ ح وَثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، ثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَا: نَا أَيُّوبُ؛ ح وَثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، نَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ- أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَاءِ قَالَ: أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلَاةَ، فَأَتَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا، فَجَلَسَ عَلَيْهِ، [فَذَكَرْتُ لَهُ صُنْعَ ابْنِ زِيَادٍ] فَعَضَّ عَلَى شَفَتَيْهِ، ثُمَّ ضَرَبَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِي، وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ [كَمَا سَأَلَتْنِي]، فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ، وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[كَمَا سَأَلَتْنِي، فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ، وَقَالَ: "صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا] فَإِنْ أَدْرَكَتْكَ مَعَهُمْ، فَصَلِّ وَلَا تَقُلْ: إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلَا أُصَلِّي". هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ؛ وَقَالَ يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ: فَعَضَّ عَلَى شَفَتَيْهِ.

’’جناب ابو العا لیہ ابراء ؒ بیان کرتے ہیں کہ ابن زیاد نے نماز موخر کر دی ،تو میرے پاس حضرت عبد اللہ بن صامت تشریف لائے ۔میں نے انہیں کرسی دی تو وہ اس پر بیٹھ گئے ۔پھر میں نے انہیں ابن زیا د کی کارستانی بیان کی ۔ انہوں نے اپنے ہونٹ چبائے پھر اپنا ہاتھ میری ران پر مارااور فرمایا ۔میں نے حضرت ابو ذر ؓ سے اسی طرح سوال کیاتھا جس طرح تم نے مجھ سے کیا ہے ۔تو انہوں نے میری ران پراسی طرح مارا تھا ۔جیسے میں نے تمہاری ران پر ہاتھ مارا ہے اور فرمایا تھا:بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح سوال کیا تھا ، جس طرح تم نےمجھ سےسوال کیا ہے ،تو آپ نے میر ی ران پر ایسےہی مارا تھا جیسے میں نے تمہاری ران پرمارا ہے ،اور آپ نے فرمایا تھا:’’نماز کواس کے وقت پر ادا کرنا ۔‘‘ پھر اگر ان حکمرانوں کے ساتھ تم نماز (باجماعت ) پالو تو پڑھ لو اور یہ نہ کہنا : بے شک میں تو نماز پڑھ چکا ہوں اس لیے اب میں نہیں پڑھتا ۔ یہ جناب بندار کی حدیث ہے اور جناب یحییٰ بن حکیم کی روایت میں ہے :’’انہوں نے اپنے دونوں ہونٹ چبائے ۔‘‘

أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ- ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1637

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1638

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَا: ثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ؛ ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، نَا مُحَمَّدٌ؛ ح وَحَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا خَالِدٌ، قَالَا: ثَنَا شُعْبَةُ؛ وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، وَشُعْبَةُ، وَشَرِيكٌ؛ ح وَثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، كُلُّهُمْ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ هُشَيْمٌ: وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالَ: ثَنَا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ الْعَامِرِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَجَّتَهُ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلَاةَ الْفَجْرِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ، يَعْنِي مَسْجِدَ مِنًى، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ إِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ فِي آخِرِ الْقَوْمِ وَلَمْ يُصَلِّيَا مَعَهُ، فَقَالَ: "عَلَيَّ بِهِمَا". فَأُتِيَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ: "مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟ " قَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا، قَالَ: "فَلَا تَفْعَلَا، إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا، ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ، فَصَلِّيَا مَعَهُمْ، فَإِنَّهَا لَكُمْ نَافِلَةٌ". وَقَالَ بُنْدَارٌ: فَأَتَيْتُمَا الْإِمَامَ وَلَمْ يُصَلِّ. وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ: ثُمَّ جِئْتُمْ وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ. وَزَادَ الصَّنْعَانِيُّ: وَالنَّاسُ يَأْخُذُونَ بِيَدِهِ، وَيَمْسَحُونَ بِهَا وُجُوهَهُمْ، فَإِذَا [هِيَ] أَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ، وَأَطْيَبُ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ.

’’حضرت یزید بن اسود عامری بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے حج میں آپ ﷺ کے ساتھ شریک تھا ۔تومیں نے آپ ﷺ کے ساتھ منیٰ کی مسجد خیف میں فجر کی نماز پڑھی ۔جب آپ نے نماز مکمل کرلی تو اچانک آپ ﷺ نےدیکھا کہ لوگوں کےپیچھے دوآدمی بیٹھے تھے جنہوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی تھی ۔آپ نے حکم دیا کہ ان دونوں کو میرے پاس لاو ٔ۔پس ان دونوں کو لایا گیا تو (خوف کی وجہ سے ) ان کے شانوں کا گوشت پھڑک رہا تھا ۔آپ نے پوچھا تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی ؟دونو ں نے جواب دیا :اے اللہ کے رسول !ہم اپنے محلے میں نمازپڑھ چکے تھے ۔آپ نے فرمایا :تو تم ایسے نہ کیا کرو ،جب تم اپنے محلے (کی مسجد )میں نماز پڑھ لو تو پھر تم جماعت والی مسجد میں آؤتو ان کے ساتھ مل کر نماز پڑھ لیاکرو بےشک وہ تمہارے لیے نفل بن جائے گی۔جناب بندار کی روایت میں ہے :’’پھر تم اس امام کے پاس آؤجس نےابھی نماز نہ پڑھی ہو ۔‘‘اور جناب وکیع کی روایت میں ہے :’’پھر تم اس حال میں آؤ کہ لوگ نماز پڑھ رہے ہوں ۔‘‘اور جناب صنعانی نے ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے : ’’اور لوگ آپ ﷺ کے دست مبارک کو پکڑکر اسے اپنے چہروں پر لگا رہے تھے تو وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور کستو ری سے زیادہ پاکیزہ خوشبو ومہک والا تھا ۔‘‘

أَبِيهِ ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ الْعَامِرِيِّ ← هُشَيْمٌ: وَهَذَا حَدِيثُهُ، ← أَبِيهِ ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← سُفْيَانَ كُلُّهُمْ ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ وَشُعْبَةُ وَشَرِيكٌ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← شُعْبَةُ، ← خَالِدٌ، ← الصَّنْعَانِيُّ، ← مُحَمَّدٍ ← بُنْدَارٌ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← هُشَيْمٌ ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1638

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1639

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بشار (1) وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، -وَهَذَا حَدِيثُ يَحْيَى- قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نَا شُعْبَةُ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيَتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا؟ " فَقَالَ لَهُ: "صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِذَا أَدْرَكْتَهُمْ لَمْ يُصَلُّوا، فَصَلِّ مَعَهُمْ، وَلَا تَقُلْ: إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ، فَلَا أُصَلِّي". لَمْ يَقُلْ بُنْدَارٌ: "صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا".

’’حضرت ابوذر ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نےفرمایا :’’تمہارا کیاحا ل ہوگا جب تم ایسے لوگوں کے درمیان ہوگے جو نماز کو اس کے وقت سے موخر کرکے ادا کریں گے ؟پھر آپ ﷺ نے انہیں فرمایا :تم نماز وقت پڑھ لینا ۔ پھر تم انہیں اس حال میں پاؤکہ انہو ں نے ابھی نماز نہ پڑھی ہوتو تم ان کےساتھ بھی نمازپڑھ لو اور یہ نہ کہو :میں تو نمازپڑھ چکا ہوں لہذا میں ( ان کے ساتھ نماز)نہیں پڑھتا ۔‘‘جناب بندار نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے :’’تم نماز کو اس وقت پر ادا کرنا۔‘‘

وَقْتِهَا» ← "كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ ← النَّبِيِّ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ← أَيُّوبَ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بشار وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، -وَهَذَا حَدِيثُ يَحْيَى- ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1639

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1640

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ثَنَا عَاصِمٌ؛ وَقَالَ مُحَمَّدٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَعَلَّكُمْ سَتُدْرِكُونَ أَقْوَامًا يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ وَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتُمُوهُمْ، فَصَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ لَلْوَقْتِ الَّذِي تَعْرِفُونَ، ثُمَّ صَلُّوا مَعَهُمْ، وَاجْعَلُوهَا سُبْحَةً".

’’حضرت عبد اللہ بن مسعو د ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نےفرمایا :’’شاید کہ عنقریب تم ایسے لوگوں کو پاؤگے جو نماز کو اس کے وقت کے بعد پڑھیں گے ۔لہذا اگر تم ان لوگو ں کوپالوتو تم اپنے گھروں میں معروف وقت پرنماز پڑھ لینا ،پھر ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لینا اور اسے نفل بنا لینا ۔‘‘

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمٍ، ← عَاصِمٌ؛ وَقَالَ مُحَمَّدٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1640

chevron_left Previous
1…89101112
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals