Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1617

ففي خبر هشام عن أبيه عن عائشة و خبر الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة رضي الله عنها : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان الإمام و قد روي بمثل هذا الإسناد عن عائشة أنها قالت : من الناس من يقول : كان أبو بكر المقدم بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم و منهم من يقول : كان النبي صلى الله عليه و سلم المقدم بين يدي أبي بكر

"جناب عروہ اور اسود کی حضرت عائشہ ؓ سے مروی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ ہی امام تھے اور اسی قسم کی سند سے حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے۔وہ فرماتی ہیں کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کے سامنے (بطور امام) کھڑے تھے اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ حضرت ابوبکر ؓ کے آگے کھڑے تھے۔"

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← عائشة و خبر الأعمش ← أَبِيهِ ← ففي خبر هشام

Hadith 1617

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1618

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ثنا محمد بن بشار ثنا أبو داود نا شعبة عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة : ـ

امام صاحب نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت کی سند بیان کی ہے۔

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1618

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1619

و روى عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة و مسروق بن الأجدع عن عائشة : أن أبا بكر صلى بالناس و رسول الله صلى الله عليه و سلم في الصف

"جناب مسروق بن اجدع، حضر ت عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اوررسول اللہ ﷺ صف میں شامل تھے۔"

عبيد الله بن عبد الله بن عتبة و مسروق بن الأجدع ← و روي

Hadith 1619

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1620

أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا بندار نا بكر بن عيسى صاحب البصري ثنا شعبة عن نعيم بن أبي هند عن أبي وائل عن مسروق عن عائشة : أن أبا بكر صلى بالناس و رسول الله صلى الله عليه و سلم في الصف خلفه

"حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے صف میں تھے۔"

مَسْرُوقٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← نُعَیْمِ بْنِ اَبِیْ ھِنْدَ، ← شُعْبَةُ، ← بَكْرُ بْنُ عِيسَى صَاحِبُ الْبُصْرَى ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1620

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1621

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا بندار ثنا بدل بن المحبر ثنا شعبة عن موسى بن أبي عائشة عن عبيد الله بن عبد الله عن عائشة : أن أبا بكر صلى بالناس و رسول الله صلى الله عليه و سلم في الصف خلفه قال أبو بكر : فلم يصح الخبر أن النبي صلى الله عليه و سلم كان هو الإمام في المرض الذي توفي فيه في الصلاة التي كان هو فيها قاعدا و و أبو بكر و القوم قيام لأن في خبر مسروق و عبيد الله بن عبد الله عن عائشة أن أبا بكر كان الإمام و النبي صلى الله عليه و سلم مأموم و هذا ضد خبر هشام عن أبيه عن عائشة و خبر إبراهيم بن الأسود عن عائشة على أن شعبة بن الحجاج قد بين في روايته عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة أن من الناس من يقول : كان أبو بكر المقدم بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم و منهم من قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم المقدم بين يدي أبي بكر و إذا كان الحديث الذي به احتج من زعم أن فعله الذي كان في سقطته من الفرس و أمره صلى الله عليه و سلم بالاقتداء بالأئمة و قعودهم في الصلاة إذا صلى إمامهم قاعدا منسوخ غير صحيح من جهة النقل فغير جائز لعالم أن يدعي نسخ ما قد صح عن النبي صلى اله عليه و سلم بالأخبار المتواترة بالأسانيد الصحاح من فعله و أمره بخبر مختلف فيه على أن النبي صلى الله عليه و سلم قد زجر عن هذا الفعل الذي ادعته هذه الفرقة في خبر عائشة الذي ذكرنا أنه مختلف فيه عنها و أعلم أنه فعل فارس و الروم بعظمائها يقومون و ملوكهم قعود و قد ذكرنا هذا الخبر في موضعه فكيف يجوز أن يؤمر بما قد صح عن النبي صلى الله عليه و سلم من الزجر عنها استنانا بفارس والروم من غير أن يصح عنه صلى الله عليه و سلم الأمر به و إباحته بعد الزجر عنه و لا خلاف بين أهل المعرفة بالأخبار أن النبي قد صلى قاعدا و أمر القوم بالقعود و هم قادرون على القيام لو ساعدهم القضاء و قد أمر النبي صلى الله عليه و سلم المأموين بالاقتداء بالإمام والقعود إذا صلى الإمام قاعدا و زجر عن القيام في الصلاة إذا صلى الإمام قاعدا و اختلفوا في نسخ ذلك و لم يثبت خبر من جهة النقل بنسخ ما قد صح عنه صلى الله عليه و سلم مما ذكرنا من فعله و أمره فما صح عن النبي صلى الله عليه و سلم واتفق أهل العلم على صحته يقين و ما اختلفوا فيه و لم يصح فيه خبر عن النبي صلىالله عليه و سلم شك و غير جائز ترك اليقين بالشك و إنما يجوز ترك اليقين باليقين فإن قال قائل غير منعم الروية : كيف يجوز أن يصلي قاعدا من يقدر على القيام ؟ قيل له : إن شاء الله يجوز ذلك أن يصلي بأولى الأشياء أن يجوز به و هي سنة النبي صلى الله عليه و سلم أمر باتباعها ووعد الهدى على اتباعها فأخبر أن طاعته صلى الله عليه و سلم طاعته عز و جل و قوله : كيف يجوز لما قد صح عن النبي صلى الله عليه و سلم الأمر به و ثبت فعله له بنقل العدل عن العدل موصولا إليه بالأخبار المتواترة جهل من قائله و قد صح عن النبي صلى الله عليه و سلم عند جميع أهل العلم بالأخبار الأمر بالصلاة قاعدا إذا صلى الإمام قاعدا و ثبت عندهم أيضا أنه صلى الله عليه و سلم صلى قاعدا بقعود أصحابه لا مرض بهم و لا بأحد منهم و ادعى قوم نسخ ذلك فلم تثبت دعواهم بخبر صحيح لا معارض له فلا يجوز ترك ما قد صح من أمره صلى الله عليه و سلم و فعله في وقت من الأوقات إلا بخبر صحيح عنه ينسخ أمره ذلك و فعله و وجود نسخ ذلك بخبر صحيح معدوم و في عدم وجود ذلك بطلان ما ادعت فجازت الصلاة قاعدا إذا صلى الإمام قاعدا اقتداء به على أمر النبي صلى الله عليه و سلم و فعله و الله الموفق للصواب

"جناب عبید اللہ بن عبداللہ ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓ نے صحابہ کرام ؓ کو نماز پڑھائی جبکہ رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے صف میں موجود تھے۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں:چنانچہ یہ روایت درست نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی آخری بیمار ی میں ادا کی گئی نماز میں امام تھے، اور آپ بیٹھے ہوۓ تھے جبکہ ابوبکر ؓ اور صحابہ کرام ؓ کھڑے تھے۔کیونکہ جناب مسروق اور عبید اللہ کی حضرت عائشہ سے روایت کردہ احادیث میں مذکور ہے کہ امام حضرت ابوبکر ؓ تھے اور نبی کریم ﷺ مقتدی تھے اور یہ روایت جناب عروہ اور اسود کی حضرت عائشہ سے مروی روایات کے خلاف ہے۔ اس بنا پر کی امام شعبہ بن حجاج نے اپنی سند سے حضرت عائشہ ؓ سے مروی روایت میں بیان کر دیا ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں:ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کے امام تھے۔جبکہ کچھ لوگوں کو کہنا ہے کہ نبی کریم ﷺ حضرتا ابوبکر ؓ کے امام تھے جب وہ حدیث جس سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے جس کا خیال ہے کہ آپ ﷺ کا یہ فعل اس و قت کا ہے جب آپ گھوڑے سے گر گئے تھے، اور آپ ﷺ کا یہ حکم کی ائمہ کی اقتداء کی جاۓ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھائیں تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھیں، یہ منسوخ ہے۔جبکہ یہ پات نقل کے اعتبار سے صحیح ثانت نہیں ہے۔لہٰذا کسی عالم دین کے لیے ایک مختلف فیہ حدیث کے ساتھ آپ کے کسی ایسے فعل اور حکم کو منسوخ قرارد دینا درست نہیں، جو آپ سے صحیح اور متواتر اسانید کے ساتھ ثانت ہو۔کیونکہ محدثین کے اس گروہ نے جو دعویٰ کیا ہے اس فعل سے نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کی حدیث میں منع کیا ہے اور ہم نے بیان کیا ہے کہ وہ روایت مختلف فیہ ہے اور آپ نے بیان کیا ہے کہ یہ کام ایرانی اور رومی اپنے بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں کہ جب ان کے بادشاہ بیٹھے ہوتے ہیں تو یہ(ان کے تعظیم کے لیے) کھڑے رہتے ہیں۔ ہم اس حدیث کو اس کے مقام پر بیان کر چکے ہیں۔لہٰذا جس کام سے رسول اللہ ﷺ منع کر چکے ہون۔ایرانیوں اور رومیوں کی اتباع کرتے ہوۓ اس کام کا حکم دیان کسی طرح درست ہوسکتا ہے جبکہ نبی کریمﷺ کے منع کرنے کے بعد یہ بات بھی صحیح ثابت نہ ہو کہ آپ نے اس کام کا حکم دیا ہو اور اسے جائز قراردیا ہو۔احادیث کی مورفت رکھنے والے علاۓ کرام کا اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بیٹھ کر نماز ادا کی ہے، اور لوگوں کو بھی بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے، جبکہ وہ قیام کی قدرت رکھتے ہوں اور ان کے لیے بیٹھ کر نماز کی ادائیگی ممکن ہو۔یقیناً نبی اکرم ﷺ نے مقتدیوں کو امام کی اقتداء میں بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے ، جبکہ امام بھی بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہو اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھا ریا ہو تو مقتدیوں کو نماز میں کھڑے ہونے سے منع کیا ہے۔اس حکم کے منسوخ ہونے میں علماء نے اختلاف کیا ہے لیکن نقل کے اعتبار سے نبی کریم سے ایسی کوئی روایت ثابت نہیں ہے جو نبی کریم ﷺ سے ثابت آپ کے فعل اور حکم کو منسوخ کرے۔جسے ہم نے بیان کیا ہے۔لہٰذا جو چیز آپ سے صحیح ثابت ہے اور اہل علم کا اس کی صحت پر اتفاق ہے وہ چیز یقینی ہے، اور جس چیز میں علماۓ کرام کا اختلاف ہے اور اس کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے بھی کوئی چیز ثابت نہیں تو وہ چیز مشکوک ہے اور مشکوک چیز کے ساتھ یقینی اور پختہ چیز کو ترک کرنا جائز نہیں ہے بلکہ یقنی چیز کو یقینی چیز کے ساتھ یہ ترک کیا جاتا ہے۔اگر (احکام دین میں) گہراغورفکر کرنے والا شخص یہ کہے کہ قیام کی قدرت رکھنے والے شخص کےلیے بیٹھ کر نماز پڑھنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟ اسے جواب دیا جاۓ گا کہ اگر اللہ چاہے تو اس کے لیے یہ جائز ہو گا کہ وہ بہترین چیز کے ساتھ نماز پڑھ لے جبکہ یہ تو نبی ﷺ کی سنت ہے جس کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے اور اس کی اتباع پر ہدایت نصیت کرنے کا وعدہ کیا ہے۔چجانچہ بتایا ہے کہ آپ ﷺ کی اطاعت در حقیت اللہ عزوجل ہی کی اطاعت ہے اور سائل کا یہ کہنا:(بیٹھ کر مقتدی کا نماز پڑھنا) کیسے جائز ہو سکتا ہے جبکہ نبی کریم ﷺ سے عادل راویوں کی متواتر سانید سے صحیح ثابت ہے آ پ نے (کھڑے ہو کر، بیٹھے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا)حکم دیا ہے اور آپ کے فعل سے بھی ثابت ہے۔یہ قائل کی لا علمی ہے، کیونکہ تما ماہرین علم حدیث کے نزدیک نبی کریم ﷺ سے صحیح ثابت ہے کہ آُ ﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے جبکہ امام بیٹھ کر نماز پڑھاۓ اور ان کے نزدیک یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ سمیت بیٹھ کر نماز ادا کی ہے ، جبکہ صحابہ کرام یا ان میں سے کوئی ایک بھی بیمار نہیں تھا۔(سب بیٹھ کر نماز پڑھنے پر قادر تھے) ایک گروہ نے اس کے منسوخ ہونے کا دعوٰی کیا ہے۔لیکن ان کا یہ دعویٰ کسی ایسی صحیح روایت سے ثابت نہیں جس روایت کی کوئی معارض ومخالف روایت موجود نہ ہو۔لہٰذا جو چیز رسول اللہ ﷺ کے حکم اور آپ کے فعل سے صحیح ثانت ہو اس کی مخالفت کرنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک آپ کے حکم اور فعل کو منسوخ کرنے والی کوئی صحیح روایت موجود نہ ہو اور اس حکم کو منسوخ کرنے والی کوئی صحیح روایت موجود نہ ہو اور اس حکم کو منسوخ کرنے والی صحیح روایت معدوم ہے۔ایسی روایت کا دستیاب نہ ہونا، اہل محدثین کے اس گروہ کے دعویٰ کو باطل کرتا ہے۔لہٰذا جب امام بیٹھ کر نماز پڑھاے ٔ تو مقتدیوں کے لیے رسول اللہ ﷺ کے حکم اور فعل کے مطابق امام کی اقتداء میں بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے۔ واللہ الموفق للصواب (اللہ تعالٰی ہی درست راہ کی توفیق بخشتا ہے۔) "

عَائِشَةَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ← شُعْبَةُ، ← بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1621

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1622

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الله بن عبد الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ثَنَا ابْنُ مَرْيمَ، وَثَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي الْعِتَابِ وَابْنُ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا جِئْتُمْ وَنَحْنُ سُجُودٌ فَاسْجُدُوا، وَلَا تَعُدُّوهَا شَيْئًا، وَمَنْ أَدْرَكَ الرَّكْعَةَ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي الْقَلْبِ مِنْ هَذَا الْإِسْنَادِ، فَإِنِّي كُنْتُ لَا أَعْرِفُ يَحْيَى بْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ بِعَدَالَةٍ وَلَا جَرْحٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: نَظَرْتُ فَإِذَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَدْ رَوَى عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ هَذَا أَخْبَارًا ذَوَاتَ عَدَدٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ: "فَلَا تَعُدُّوهَا شَيْئًا" مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي بَيَّنْتُ فِي مَوَاضِعَ مِنْ كُتُبِنَا أَنَّ الْعَرَبَ تَنْفِي الِاسْمَ عَنِ الشَّيْءِ لِنَقْصِهِ عَنِ الْكَمَالِ وَالتَّمَامِ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ صَحَّ عَنْهُ الْخَبَرُ - أَرَادَ بِقَوْلِهِ: "فَلَا تَعُدُّوهَا شَيْئًا" أَيْ: لَا تَعُدُّوهَا سَجْدَةً تُجْزِئُ مِنْ فَرْضِ الصَّلَاةِ، لَمْ يُرِد لَا تَعُدُّوهَا شَيْئًا لَا فَرْضًا وَلَا تَطَوُّعًا.

"حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جب تم (نماز کے لیے) آؤ اور ہم سجدے کی حالت میں ہوں تو تم بھی سجدے میں شامل ہو جاؤ اور اسے کچھ بھی شمار نہ کرو اور جس شخص نے رکعت(رکوع و سجدے سمیت) پالی تو اس نے نماز پالی۔امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں:"اس سند کے بارے میں میرے دل میں عدم اطمینان ہے کیونکہ مجھے یحییٰ بن ابی سلمان کے بارے میں جرع و تعدیل کا علم نہیں(کہ یہ راوی ضعیف ہے یا ثقہ؟) امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں:"میں نے غورفکر کیا تو مجھے معلوم ہو کہ بنی ہاشم کے مولٰی ابو سعید، انہی یحییٰ بن ابی سلیمان سے متعدد روایت بیان کرتا ہے۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں:"یہ الفاظ کے اسے کچھ بھی شمار نہ کرو"یہ اسی جنس سے تعلق رکھتے ہیں جسے میں اپنی کتب میں کئی جگہ بیان کر چکا ہوں کہ عرب کسی چیز کے نام کی نفسی اس کے نامکمل اور ناقص ہونے کی بنا پر بھی کردیتے ہیں۔ اس لیے نبی کریم ﷺ (اگر حدیث آپ سے صحیح ثابت ہو) کا ارادہ الفاظ سے یہ ہے کہ تم اسے ایسا سجدہ شمار نہ کرو جو فرض (رکعت سے کفایت کر جاۓ۔آپ کی مراد یہ نہیں کہ تم اسے فرض یا نفل کچھ بھی شمار نہ کرو(بلکہ یہ سجدہ نفل شمارہوگا)۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي الْعِتَابِ وَابْنُ الْمَقْبُرِيِّ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← ابْنُ مَرْيمَ، وَثَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1622

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1623

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا أحمد بن عبدة نا حماد بن زيد أخبرنا أبو حازم و ثنا يعقوب بن إبراهيم الدورقي ثنا عبد العزيز بن أبي حازم عن أبيه و ثنا عبد الجبار بن العلاء ثنا سفيان قال : سمعت أبا حازم عن سهل بن سعد و ثنا يونس بن عبد الأعلى الصدفي أخبرنا عبد الله بن وهب أن مالكا حدثه عن أبي حازم بن دينار عن سهل بن سعد : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج إلى بني عمرو بن عوف ليصلح بينهم فحانت الصلاة و جاء المؤذن إلى أبي بكر فقال : أتصلي بالناس فأقيم ؟ فقال : نعم فصلى أبو بكر فجاء رسول الله صلى الله عليه و سلم و الناس في الصلاة فتخلص حتى وقف في الصف فصفق الناس و كان أبو بكر لا يلتفت في صلاته فلما أكثر الناس التصفيق التفت فرأى رسول الله صلى الله عليه و سلم و أشار إليه رسول الله صلى الله عليه و سلم أن أمكث مكانك فرفع أبو بكر يديه فحمد الله على ما أمره به رسول الله صلى الله عليه و سلم من ذلك ثم استأخر أبو بكر حتى استوى في الصف و تقدم رسول الله صلى الله عليه و سلم فصلى فلما انصرف قال : يا أبو بكر ما منعك أن تثبت إذ أمرتك ؟ فقال أبو بكر : ما كان لابن أبي قحافة أن يصلي بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مالي رأيتكم أكثرتم التصفيق من نابه شيء في الصلاته فليسبح فإنه إذا سبح التفت إليه و إنما التصفيق للنساء هذا حديث يونس بن عبد الأعلى قال أبو بكر : في هذا الخبر دلالة على أن المصلي إذا سبح به فجائز له أن يلتفت إلى المسبح ليعلم المصلي الذي ناب المسبح فيفعل ما يجب عليه

حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بنی عمروبن عوف کے پاس ان کی صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے۔(آپ ﷺ کو وہاں دیر ہو گئی )اور نماز کا وقت ہوگیا۔مؤذن حضرت ابوبکر ؓ کی خدمت میں حاضر ہو ا اور عرض کی: کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے تو میں اقامت کہہ دوں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔لہٰذا حضرت ابوبکر ؓ نے لوگوں کو نماز پڑھانا شروع کر دی۔اسی دوران میں کہ لوگ نماز پڑھ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی تشریف لے آۓ آپ صفوں کو چیرتے ہوۓ (آگے بڑھے) حتٰی کہ پہلی صف میں کھڑھے ہو گئے۔ اس پر لوگوں نے (حضرت ابوبکر ؓ کو متوجہ کرنے کے لیے )تالیاں بجائیں مگر حضرت ابوبکر ؓ اپنی نماز میں ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتے تھے۔پھر جب لوگوں نے اور زیادہ تالیاں بجائیں تو وہ متوجہ ہوۓ اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھ لیا۔ اور رسو ل اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا ، اپنی جگہ کھڑارہے(اور نماز جاری رکھو ) مگر حضرت ابوبکہر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے اس حکم پر(کہ آپ کی موجودگی میں لوگوں کی امامت کراتے رہیں) اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اس کی حمد بیان کی۔پھر حضرت ابوبکر ؓ پیچھے ہٹ کر صف میں برابر ہو کر کھڑے ہو گئے اور رسول اللہﷺ نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔پھر جب نماز سے فارغ ہوۓ تو فرمایا:اے اابوبکر! جب میں نے تمہیں حکم دے دیا تھا تو تم اپنی جگہ کھڑے کیوں نہ رہے؟ تو حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کی:ان ابی (ابوبکر) کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے امامت کراۓ۔لہٰذا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا وجہ ہے میں نے تمہیں بکثرت تالیں بجاتے دیکھا ہے جس شخص کو نماز میں کوئی چیزمحسوس ہو(کی امام سے غلطی ہو گئی ہے) تو اسےسبحان اللہ کہنا چاہیے۔کیونکہ جب وہ سبحان اللہ کہتے گا تو امام اس کی طرف متوجہ ہو جاے ٔ گا اور بلاشبہ تالی بجانا (اور امام کو غلطی پر متنبہ کرنا) عورتو ں کے لیے خا ہے۔یہ حدیث یونس بن عبدالاعلی کی روایت ہے۔امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں: اس حدیث میں اس مسئلے کی دلیل ہے کہ جب امام کو سبحان اللہ کہہ کرو متوجہ کیا جاۓ تو امام کے لیے سبحان اللہ کہنے ولاے کی طرف متوجہ ہونا جائز ہے تا کہ وہ جان سکے کہ سبحان اللہ کہنے والے نے کیا غلطی پائی ہے، چنانچہ اس کے مطابق اپنا فریضہ ادا کر سکے۔"

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ← عبد الله بن وهب أن مالكا ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ← سهل بن سعد و ← أَبَا حَازِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبِيهِ، [وَ] ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أبو حازم و ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1623

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1624

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، وَأَبُو طَالِبٍ زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ، قَالُوا: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، نَا سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: "أَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟ " قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: "مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ". ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: "أَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟، قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: "مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ". ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبِي رَجُلٌ أَسِيفٌ، فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَهُ. ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: "أَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ"؟ قُلْنَا: نَعَمْ. فَقَالَ: "مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ". قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبِي رَجُلٌ أَسِيفٌ، فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَهُ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: "أَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟ " قُلْنَا: نَعَمْ. فَقَالَ: "مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّي بِالنَّاسِ". قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبِي رَجُلٌ أَسِيفٌ، فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَهُ، فَقَالَ: "إِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ، مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَأَمَرُوا بِلَالًا، فَأَذَّنَ، وَأَقَامَ، وَأَمَرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: "أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "جِيئُونِي بِإِنْسَانٍ أَعْتَمِدُ عَلَيْهِ"، فَجَاءُوا بِبَرِيرَةَ، وَرَجُلٍ آخَرَ، فَاعْتَمَدَ عَلَيْهِمَا ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَأُجْلِسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَنَحَّى فَأَمْسَكَهُ، حَتَّى فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ. هَذَا حَدِيثُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ.

"حضرت سالم بن عبید ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیمار ہوۓ تو آپ بے ہوش ہو گئے۔پھر آپ کو ہوش آیا تو پوچھا:کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔آپ نے فرمایا:بلال ؓ سے کہو کہ وہ اذان کہیں اور ابوبکر ؓ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔پھر آپ ﷺدوبارہ بے ہوش ہو گئے۔پھر آپ کو ہوش آیا تودریافت کیا:کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ہم نے جواب دیا:جی ہاں ۔آپ ﷺ نے فرمایا:بلال ؓ کا حکم دہ کہ وہ اذان کہے اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔پھر آپ ﷺ بے ہوش ہو گئے پھر آپ کو ہوش آیا تو حضرت عائشہؓ نے عرض کی: بے شک میرے ابا جان بڑنے نرم دل انسان ہیں(وہ آپ کی عدم موجودگی برداشت نہیں کر سکیں گے) اس لیے اگر آپ ﷺ ان کے علاوہ کسی کو حکم د ے دیں تو بہتر ہے۔پھر آپﷺ کو ہوش آیا تو آپ نے پوچھا:کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ ہم نے بتایا کہ جی ہاں وقت ہو گیا ہے۔آپ نے فرمایا:بلال سے کہو کہ وہ اذان دے اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔حضرت عائشہ ؓ نے عرض کی:بلاشبہ میرے والد گرامی نرم دل ہیں(وہ آپ کی جدائی میں رونے لگیں گے) اس لیے اگر آپ ان کے علاوہ کسی آدمی کو حکم دیں تو بہتر ہو گا۔تو آپ ﷺ نے فرمایا:بے شک تم یوسف ؑ کے قصہ والی عورتوں جیسی ہو۔بلال سے کہو کہ وہ اذان دے اور ابوبکر ؓ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔پھر آپ بے ہوش ہو گئے۔لوگوں نے حضرت بلا ل اذان کہنے کی التجا کی تو انہوں نے اذان کہی اور اقامت پڑھی اور انہوں نے حضرت ابوبکر ؓ سے لوگوں کونماز پڑھانے کی درخواست کی (تو انہوں نے نماز شروع کر دی ) پھر آپ ﷺ کو ہوش آیا تو پوچھا:کیا نماز کھڑی ہوگئی ہے؟ میں نے جواب دیا:جی ہاں۔آپ ﷺ نے فرمایا:میرے پاس ایک آدمی لاؤ جس کا سہارا لے سکوں۔تووہ حضرت بریرہؓ اور ایک اور آدمی کو بلا بلاۓ چنانچہ آپ ان دوںو کا سہار ا لے کر نامز کے لیے تشریف لاۓ توآپ کو حضرت ابوبکر ؓ کے پہلو میں بٹھا دیا گیا۔اس پر حضرت ابوبکر ؓ پیچھے ہٹنے لگے تو آپ نے انہیں روک لیا حتٰی کہ نماز سے فارغ ہو گئے۔یہ قاسم بن محمد کی حدیث ہے۔"

سالم بن عبيد ← نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ ← نُعَیْمِ بْنِ اَبِیْ ھِنْدَ، ← سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْاَزْدِیُّ ← أَبُو طَالِبٍ زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، ← الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1624

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1625

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَخُرُوجِهِ إِلَى بَنِي عَمْرٍو لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، قَالَ لِبِلَالٍ: "إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَمْ آتِ؛ فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ".

امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں :حضرت سہل بن سعد ؓ کی حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے بنی عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے کے لیے تشریف لے جانے کا ذکر ہے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے بلال ؓ سے فرمایا:"جب نماز کا وقت ہو جاۓ اور میں واپس نہ آسکوں تو حضرت ابوبکر ؓ سے کہنا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھادیں۔"

لِبِلَالٍ: "إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَمْ آتِ؛ فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ

Hadith 1625

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1626

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ -وَهُوَ الْمَقْبُرِيُّ-، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ لَنَا حَصِيرٌ نَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ وَيَتَحَجَّرُهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِاللَّيْلِ فَيُصَلِّي فِيهِ، فَتَتَبَّعَ لَهُ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ فَعَلِمَ بِهِمْ، فَقَالَ: " [اكْلَفُوا] (1) مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا". وَكَانَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَيْهِ مَا دِيمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَثْبَتَهَا. هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ. وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: فَسَمِعَ بِهِ نَاسٌ [171 - ب]، فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ، وَزَادَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: "إِنِّي خَشِيتُ أَنْ أُؤْمَرَ فِيكُمْ بِأَمْرٍ لَا تُطِيقُونَهُ".

"حضرت عایشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ہماری ایک بڑی چٹائی تھی جسے ہم دن کے وقت بچھالیتے تھے اور را ت کے وقت رسول اللہ ﷺ اسے سمیٹ کر اس پر نماز ادا فرماتے۔پھر کچھ مسلمانوں نے آپ ﷺ کی اس نماز کا پتہ لگایا اور ہ آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔آپ کو بھی اس کا علم ہو گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:اتنے عمل کی ذمہ داری اٹھاؤ جتنی تم طاقت رکھتے ہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ (ثواب دیتے ہوۓ) نہیں تھکے گا حتٰی کہ تم ہی (عمل کرتے کرتے )تھک جاؤ گے اور آپ ﷺ نے نزدیک پسندیدہ عمل وہ تھا جو دائمی ہو اگرچہ تھوڑا یہ ہو اور آپ جب کو ئی(نفل) نماز ادا فرماتے تو اس پر ہمیشگی اختیار کرے۔"یہ جناب عبدالجبار کی روایت ہے اور جناب سعید بن عبدالرحمان کی روایت میں ہے:"کچھ لوگوں نے آپ ﷺ کی اس نماز کی خبر سنی تو وہ بھی آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔"اور یہ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک میں ڈرتا ہوں کہ مجھے تمہارے بارے میں کوئی ایسا حکم نہ دے دیا جاۓ جس کی تم طاقت نہ رکھو۔

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← سَعِيدٍ وَهُوَ الْمَقْبُرِيُّ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1626

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1627

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، نَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا، ثَنَا أَنَسٌ؛ ح وَثَنَا الصَّنْعَانِيُّ أَيْضًا، ثَنَا بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- ثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، نَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، نَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ -وَهَذَا حَدِيثُ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ- قَالَ:

"حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے کسی حجرے میں(نفل )نماز ادا فرمائی تو کچھ مسلمانوں کو (آپ ﷺ کی نماز کا علم ہو گیا) تو وہ آۓ اور آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔جب نبی ؑ کو ان کی موجودگی کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے اپنی نماز مختصر کر دی، پھر آپ گھر تشریف لے گئے۔ تو آپ ﷺ نے نماز ادا کی جتنی اللہ تعالٰی کو منظور تھی۔پھر آپ ﷺ باہر تشریف لاۓ(تو لوگ ابھی موجود تھے)۔لہٰذا آپ ﷺ نے یہ عمل کئی بار کیا۔جب صبح ہوئی تو انہوں نے عرض کی:اے اللہ کے رسول ! گزشتہ رات ہم نے آپ کے ساتھ نماز ادا کی ہے، اور ہم اسے وسیع پیمانے پرادا کرنا چاہتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے یہ کام عمداً کیا ہے(تا کہ تم پر یہ نماز فرض نہ کردی جاۓ)۔"

أَنَسٍ -وَهَذَا حَدِيثُ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ- ← حُمَيْدٍ ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- ← وَثَنَا الصَّنْعَانِيُّ أَيْضًا، ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدًا، ← الْمُعْتَمِرُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1627

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1628

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، نَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، وَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ قِيَامًا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَلَمَّا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ، ذَكَرَ أَنَّهُ جُنُبٌ، فَأَوْمَأَ إِلَيْنَا، وَقَالَ: "مَكَانَكُمْ". ثُمَّ دَخَلَ، فَاغْتَسَلَ، فَخَرَجَ فَصَلَّى بِنَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيْهِمْ أَنْ مَكَانَكُمْ، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَصَلَّى بِهِمْ.

"حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نماز کھڑی ہو گئی اور صفیں برابر ہو گئیں تو رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لاۓ،پھر جب آپ اپنی جاۓ نماز میں کھڑے ہوۓ تو آپ کو یاد آیا کی آپ جنبی ہیں۔لہٰذا آپ ﷺ نے ہمیں اشارہ کیا کہ تم اپنی اپنی جگہ پر کھڑے رہو۔پھر آپ گھر تشریف لے گئے، غسل کیا،پھر تشریف لاۓ اور ہمیں نماز پڑھائی۔امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں:"حماد بن سلمہ اپنی سند سے حضرت ابوبکر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز شروع کر دی تھی،پھر (یاد آنے پر) انہیں اشارہ کیا کہ اپنی اپنی جگہ پر کھڑے رہو،پھر آپ گھر چلے گئے۔پھر آپ واپس تشریف لاۓ تو آپﷺ کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے پھر آپ نے انہیں نماز پڑھائی۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1628

chevron_left Previous
1…789…12
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals