صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1593
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ؛ ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ؛ ح، وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، ثَنَا عَبْدَةُ، كِلَاهُمَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عُرْوَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، وَهَذَا حَدِيثُ عَبْدَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، فَلَمَّا جَلَسَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ، قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ. فَلَمَّا انْفَتَلَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، قَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟! أَمَا تَدْرُونَ مَا تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَنَا، فَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا [168 - أ] فَقَالَ: "إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، فَإِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ فكَبِّرُوا، وَإِذَا قَالَ: (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ)، فَقُولُوا: آمِينَ يُجبكُمُ اللَّهُ، وَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا؛ فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ، وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ، -فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: فَتِلْكَ بِتِلْكَ، فَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ، فَاسْجُدُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ". زَادَ بُنْدَارٌ، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ: "فَتِلْكَ بِتِلْكَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يُرِيدُ أَنَّ الْإِمَامَ يَسْبِقُكُمْ إِلَى الرُّكُوعِ، فَيَرْكَعُ قَبْلَكُمْ، فَتَرْفَعُونَ أَنْتُمْ رُءُوسَكُمْ مِنَ الرُّكُوعِ بَعْدَ رَفْعِهِ فَتَمْكُثُونَ فِي الرُّكُوعِ، فَهَذِهِ الْمَكْثَةُ فِي الرُّكُوعِ بَعْدَ رَفْعِ الْإِمَامِ الرَّأْسَ مِنَ الرُّكُوعِ بِتِلْكَ السَّبْقَةِ الَّتِي سَبَقَكُمْ بِهَا الْإِمَامُ إِلَى الرُّكُوعِ، وَكَذَلِكَ السُّجُودُ".
’’جناب حطان بن عبداللہ رقاستی بیان کرتے ہیں کہ ہمیں حضرت ابو موسی اشعری ﷺنے نماز پڑھائی ، جب وہ اپنی نماز کے آ خر میں بیٹھے تو ایک شخص نے کہا :’’نماز نیکی اور زکوۃ کے ساتھ ملائی گئی ہے ( قر آن مجید میں ان کا تذ کرہ ایک ساتھ ہوا ہے ) پھر جب حضرت ابو موسی اشعری ؓ نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا :یہ کلمار کس شخص نے کہے ہیں ؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہیں اپنی نماز میں کون سے کلما ت کہنے ہیں ؟ بے شک رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبی ارشاد فرمایا رو ہمیں سنتیں بیان کیں اور ہمیں ہماری نماز سکھائی ۔ آ پ نے فرمایا :’’جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفیں درست او ر سیدھی کیا کرو ، اور تم میں سے ایک شخص کو امامت کرانی چاہیے ، پھر جب امام تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو ،اور جب وہ (غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ)پڑھے تو تم آمین کہو ، اللہ تمہاری دعا قبول کرے گا اور جب امام تکبیر کہے اور رکوع کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور رکوع کرو ۔ کیونکہ امام تم سے پہلے رکوع کرتا ہے اور تم سے پہلے رکوع سے سر اٹھاتا ہے ۔ لہذا نبی کریم ﷺ نے فرمایا :یہ اس کے برابر ہے جائے گا( تمہارا دیر سے رکوع میں جانا اور بعد میں اٹھنا )۔ جب وہ تکبیر کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو ، بلاشبہ امام تم سے پہلے سجدہ کرتا ہے اور تم سے پہلے سجدے سے سر اٹھاتا ہے جناب بندار کی روایت میں اضافہ ہے : ’’ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا :یہ اس کے بدلے میں ہو جائے گا۔‘‘ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں :’’ آپ کی مراد یہ ہے کہ امام تم سے پہلے رکوع کرتا ہے ،تم پر سبقت لے جاتا ہے اور تم رکوع سے اپنے سر اس کے سر اٹھانے کے بعد اٹھاتے ہے ،اس طرح تم رکوع میں ( اس کے بعد بھی کچھ دیر ) ٹھہر تے ہو ۔ اس طرح امام کے رکوع سے سر اٹھانے لینے کے بعد رکوع میں ٹھہرنا یہ اس سبقت کے بدلے میں ہو جائے گا ، جو امام متقدیوں سے رکوع و سجود میں کرتا ہے ۔‘‘
أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟! أَمَا تَدْرُونَ مَا تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ؟ ← رَجُلٌ مِنْهُمْ: أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ. فَلَمَّا انْفَتَلَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، ← صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، فَلَمَّا جَلَسَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ، ← حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، وَهَذَا حَدِيثُ عَبْدَةَ، ← يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي عُرْوَةَ، ← عَبْدَةُ، كِلَاهُمَا ← وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، ← حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ؛ ← يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1593
