Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1581

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ الْيَشْكُرِيُّ، نَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ- عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ؛ ح وَثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، نَا مُحَمَّدٌ؛ ح وَثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، نَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ؛ وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَا: ثَنَا يَزِيدُ -وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ-، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ -وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاقَ- حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ -وَكَانَ يَسْكُنُ إِيلِيَاءَ- عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الصُّبْحِ، فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: "إِنِّي لَأَرَاكُمْ تَقْرَؤُونَ وَرَاءَ إِمَامِكُمْ؟ " قَالَ: قُلْنَا: أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَذًّا. قَالَ: [166 - ب] "فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ، فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا". هَذَا حَدِيثُ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَعَبْدِ الْأَعْلَى.

"حضرت عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی تو آپ کے لیے قراء کرنا بھاری اور مشکل ہو گیا۔پھر جب آپ نماز فارغ ہوۓ تو پوچھا:یقیناً میرا خیال ہے کہ تم اپنے امام کے پیچھے قراءت کرتے ہو؟ کہتے ہیں:ہم نے جواب دیا:جی ہاں، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول(ہم تیزی سے قراءت نہ کیا کرو کیونکہ جو شخص سورۂ فاتحہ کی قراءت نہیں کرتا اس کی کوئی نماز نہیں ہوتی۔"یہ حدیط ابن علیہ اور عبدالاعلیٰ کی ہے۔

قُلْنَا: أَجَلْ وَاللَّهِ ← "إني لأراكم تقرؤون وَرَاءَ إِمَامِكُمْ". ← صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا انْصَرَفَ ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ -وَكَانَ يَسْكُنُ إِيلِيَاءَ- ← مَكْحُولٌ ← مُحَمَّدٌ -وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاقَ- ← يَزِيدُ -وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ-، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ؛ وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ← أَبِي ← وَثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← وَثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ- ← مؤمل بن هشام اليشكري ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1581

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1582

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُنَا، يَقُولُ: "إِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ)، فَقُولُوا: آمِينَ".

"حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ہمیں (نماز کی)تعلیم دیتے ہوۓ فرماتے تھے: جب امام تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ (غَیْرِالْمَغُصُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّالَیْنَ) پڑھے تو تم آمین کہو۔"

کَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُعَلِّمُنَا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1582

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1583

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، نَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".

جب اما م آمین کہے تو مقتدی کے آمین کہنے کی فضیلت کا بیان

رَسُولِ اللَّهِ ← سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1583

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1584

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ قَتَادَةَ؛ ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ (1)؛ ح، وَثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، ثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، فَلَمَّا انْفَتَلَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَنَا، فَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا، وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا، فَقَالَ: "وَإِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَالَ: (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ)، فَقُولُوا: آمِينَ، يُجبكُمُ اللَّهُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ مِنْ بَابِ تَأْمِينِ الْمَأْمُومِ عِنْدَ فَرَاغِ الْإِمَامِ مِنْ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَإِنْ لَمْ يُؤَمِّنْ إِمَامُهُ جَهْلًا أَوْ نِسْيَانًا.

"جناب حطان بن عباللہ الرقاشی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو موسٰی اشعری ؓ نے ہمیں نماز پڑھائی۔پھر جب نماز سے فارغ ہوۓ تو فرمایا:"بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا تو ہمیں ہماری سنتیں بیان کیں اور ہمیں ہماری نماز سکھائی۔ آپ نے فرمایا: جب مام تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب و(غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلاَ الضَّالِّیْنَ) پڑھے تو تم آمین کہو۔اللہ تعالیٰ تمہاری دعا قبول فرماۓ گا ۔امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں اس حدیث کا تعلق مقتدی کے امام کے سورۂ فاتحہ کی کی قراءت سے فارغ ہونے کے بعد آمین کہنے سے ہے۔اگر چہ امام جہالت یا بھول جانے کی وجہ سے آمین نہ کہے۔

صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، فَلَمَّا انْفَتَلَ، ← حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدَةُ ← وَثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← وَثَنَا بُنْدَارٌ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1584

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1585

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، نَا خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ-، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ يَهُودِيٌّ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "وَعَلَيْكَ". قَالَتْ عَائِشَةُ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَعَرَفْتُ كَرَاهِيَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِذَلِكَ، فَسَكَتُّ ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ، فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ. فَقَالَ: "وَعَلَيْكَ". فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَعَرَفْتُ كَرَاهِيَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِذَلِكَ. ثُمَّ دَخَلَ الثَّالِثُ فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ. فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قُلْتُ: وَعَلَيْكَ السَّامُ، وَغَضَبُ اللَّهِ وَلَعْنَتُهُ، إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، أَتُحَيُّونَ رَسُولَ اللَّهِ بِمَا لَمْ يُحَيِّهِ اللَّهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ، قَالُوا قَوْلًا، فَرَدَدْنَا عَلَيْهِمْ، إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ حُسَّدٌ، وَإِنَّهُمْ لَا يَحْسُدُونَا عَلَى شَيْءٍ كَمَا يَحْسُدُونَا عَلَى السَّلَامِ، وَعَلَى آمِينَ".

"حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک یہودی نبی کریم ﷺ کے پا س آیا تو اس نے کہا:"السَّامُ عَلَیُکَ (آپ کو موت آجاۓ)نبی کریم ﷺ نے اسے جواب دیا:وَعَلَیْکَ (اور تمہیں بھی موت آ جاۓ) حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: میں نے بولنے کا ارادہ کیا پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کی ناپسندگی کو بھانپتے ہوۓ خاموشی اختیار کی۔پھر ایک اور یہودی آیا اور اس نے بھی آکر کہا: آپ پر موت طاری ہو آپ نے جواباً کہا اور تم پر بھی میں نے پھر کلام کرنے کار ا راد کیا مگر میں نے رسول اللہ ﷺ کی باپسندیدگی جان لی(اس لیے خاموش رہی) پھر تیسرا آیا تو اس نے بھی کہا:آپ پر موت واقع ہو مجھ سے (اس بار) صبر نہ ہو سکا تو میں نے جواب دیا:اور تم پر موت واقع ہو۔خنازیر اور بندریوں کے بھائیوں پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہو۔کیا تم اللہ کے رسو ل کو اس طریقے سے سلام کرتے ہو جس طریقے سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام کرنا نہیں سکھایا؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:یقینًا اللہ تعالیٰ بد کلامی اور عملاً فحش گوئی کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ ان یہودیوں نے ایک بات کی تھی تو ہم نے بھی انہیں جواب دے دیا تھا۔بلاشبہ یہودی بہت حاسد قوم ہے اور وہ جس قدر ہمارے (آپس میں) سلام کرنے اور آمین کہنے پر حسد کرتے ہیں، اس قدر ہماری کسی اور چیز پر حسد نہیں کرتے۔

عَائِشَةُ: فَهَمَمْتُ ← السام عليك))، ← دَخَلَ يَهُودِيٌّ عَلَى النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ-، ← أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1585

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1586

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، [167 - أ] نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، نَا أَبُو عَامِرٍ؛ وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ أَيْضًا، ثَنَاه حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ زَرْبِيٍّ (1) مَوْلًى لِآلِ الْمُهَلَّبِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُلُوسًا، فَقَالَ: "إِنَّ اللَّهَ أَعْطَانِي خِصَالًا ثَلَاثَةً". فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: وَمَا هَذِهِ الْخِصَالُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "أَعْطَانِي صَلَاةً فِي الصُّفُوفِ، وَأَعْطَانِي التَّحِيَّةَ، إِنَّهَا لَتَحِيَّةُ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَعْطَانِي التَّأْمِينَ، وَلَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا مِنَ النَّبِيِّينَ قَبْلِي، إِلَّا أَنْ يَكُونَ اللَّهُ أَعْطَى هَارُونَ، يَدْعُو مُوسَى، وَيُؤَمِّنُ هَارُونُ".

"حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے خدمت میں حاضر تھے تو آپ نے فرمایا: "بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے تین خصوصی چیزیں عطافرمائی ہیں۔حاضرین مجلس میں سے ایک شخص نے عرض کی:اے اللہ کے رسول ! وہ کون سی چیزیں ہیں؟ آپ نے فرمایا:اللہ تعالٰی نے مجھے صفیں بنا کر نماز پڑھنی عطا کی ہے اور مجھے سلام سے نواز ہے اور بلاشبہ وہ اہل جنت کا تحفہ اور سلام ہو گا اور مجھے آمین عطا کی ہے مجھ سے پہلے کسی بنی کو یہ عطا نہیں ہوئی۔سواۓ حضرت ہاروں ؑ کے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں آمین عطا کی تھی۔حضرت موسٰی ؑ دعا کرتے اور حضرت ہارون ؑ آمین کہتے تھے۔

رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: وَمَا هَذِهِ الْخِصَالُ ← "إِنَّ اللَّهَ أَعْطَانِي خِصَالًا ثَلَاثَةً". ← كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ جُلُوسًا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← زَرْبِيٍّ مَوْلًى لِآلِ الْمُهَلَّبِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ أَيْضًا، ثَنَاه حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ← أَبُو عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ، أ]، ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1586

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1587

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: (وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا) [الإسراء: 110]. قَالَ: نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُخْتَفٍ بِمَكَّةَ، فَكَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ جَهَرَ بِالْقُرْآنِ، وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ: رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ، وَقَالَا: فَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا سَمِعُوا، سَبُّوا الْقُرْآنَ، وَمَنْ أَنْزَلَهُ، وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَقَالَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ) أَيْ بِقِرَاءَتِكَ، فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ، فَيَسُبُّونَ الْقُرْآنَ، (وَلَا تُخَافِتْ بِهَا) عَنْ أَصْحَابِكَ فَلَا يَسْمَعُونَ، (وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا). قَالَ الدَّوْرَقِيُّ: عَنْ أَصْحَابِكَ فَلَا تُسْمِعُهُمْ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ فِي "كِتَابِ الْإِيمَانِ" أَنَّ الِاسْمَ قَدْ يَقَعُ عَلَى بَعْضِ أَجْزَاءِ الشَّيْءِ ذِي الْأَجْزَاءِ وَالشُّعَبِ. قَدْ أَوْقَعَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - اسْمَ الصَّلَاةِ عَلَى الْقِرَاءَةِ فِيهَا فَقَطْ (وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ) أَرَادَ الْقِرَاءَةَ فِيهَا، وَلَيْسَ الصَّلَاةَ كُلَّهَا، الْقِرَاءَةُ فِيهَا فَقَطْ.

"حضرت ابن عباس ؓ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تفسیر میں فرماتے ہیں (وَلَا تَجْھَرْ بَصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِھَا) اپنی نماز نہ زیادہ بلند آواز سے پڑھیں، نہ بالکل پست آواز سے ۔یہ آیت مبارکہ اس وقت نازل ہوئی جبکہ رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں چھپے ہوۓ تھے ۔ آپ ﷺ جب اپنے صحابہ کرام ؓ کو نماز پڑھاتے تو بلند آواز سے قرآن مجید پڑھتے۔ جناب الدورقی روایت میں ہے آپ ﷺ تلاوت کرتے وقت اپنی آواز بلند کرتے ۔لہٰذا جب مشرکین قرآن کی تلاوت سنتے تو قرآن مجید کو گالیاں دیتے ، اس کے نازل کرنے والے اور اسے لاے والے کو سب وسشتم کرتے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا (وَلَا تَجْہَرْ بِصَلَا تِکَ) اپنی قراءت کو بلند آواز سے نہ کریں۔ کہ مشرکیں اسے سن کر قرآن مجید کو گالیاں دیں۔(تُخَافِتْ بِہَا) اور نہ اتنی پست آ واز میں قراءت کریں کہ آپ کے صحابہ کرام سن نہ سکیں۔(وَابْتَغْ بَیْنَ ذَالِکَ سَبِیْلًا) اور ان دونوں کے درمیانی راہ اختیار کریں، جناب الدورقی کی رویتے ہے آپ نے اپنے صحابہ سے اتنہ پست آواز نہ رکھو کہ آپ انہیں قراءت سنا نہ سکیں۔امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں:یہ روایت اس جنس کے متعلق ہے جس کے بارے میں میں کتاب الایمان میں بیان کر چکا ہوں کہ کبھی اسم کا اطلاق مختلف اجزاء اور شاخوں والی چیز کے کسی ایک جزء یا شاخ پر ھی ہو جاتا ہے اللہ تعالٰی نے اس روایت میں، ماز کا اطلاق صرف قر ا ءت پر کیا ہے (وَلَا تَجْیَرْبِصَلَاتِکَ) اپنی قراءت کو بلند نہ کریں اس میں صلاۃ سے مراد صرف قراءت ہے پوری نماز مراد نہیں۔"

ابن عباس في قوله ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها ← سَعِيدٌ، ← أَبُو بِشْرِ: ← هُشَيْمٌ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1587

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1588

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا يَحْيَى، نَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ، وَرُبَّمَا أَسْمَعَنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا، وَيُطِيلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ؛ كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ، وَفِي خَبَرِ خَبَّابٍ كُنَّا نَعْرِفُ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ، دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ كَانَ يُخَافِتُ بِالْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ. خَرَّجْتُ خَبَرَهُمَا فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ فِي أَبْوَابِ الْقِرَاءَةِ.

"حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز ظہر میں (سری ۔مخفی) قراءت کرتے تھے اور بعض ا وقات ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے تھے ۔آپ پہلی رکعت کو طویک ادا کرتے ھتے امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں:حضرت زید بن ثابت ؓ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنے ہونٹ مبارک ہلاتے تھے۔ اور حضرت خباب ؓ کی روایت میں ہے۔ہم رسول اللہ ﷺ کی قراءت کو آپ کی ڈاڑھی کی حرکت سے جانتے تھے۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ظہر اور عصر کی نمازوں میں مخفی قراءت کرتے تھے میں نے دونوں صحابہ ؓ کی روایات کو کتاب الصلاۃ کے ابواب القراءۃ میں بیان کیاہے۔"

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1588

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1589

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ؛ ح وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، وَثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ (1)، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ.

"حضرت جبیر بن مطعم ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو نما ز مغرب میں ورۂ طور کی تلاوت کرتے ہوۓ سنا۔"

النَّبِیَّ یَقْرَاُ فِی المغرب بالطور۔(34:5) ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، وَثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ← وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1589

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1590

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَمِسْعَرٍ سَمِعَا عَدِيَّ بْنَ ثَابِتٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ بِـ (وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ) فِي عِشَاءِ الْآخِرَةِ، فَمَا سَمِعْتُ أَحْسَنَ قِرَاءَةً مِنْهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

"حضرت براء عازب ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو نماز عشاء میں سورۂ والتین والزیتون کی تلاوت کرتے ہوۓ سنا۔میں نے آپ ﷺ سے بہتر اور خوبصورت قراءت کسی کی نہیں سنی۔"

أَحْسَنَ قِرَاءَةً مِنْهُ ← النَّبِيَّ يَقْرَأُ بِـ (وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ) فِي عِشَاءِ الْآخِرَةِ، فَمَا ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَمِسْعَرٍ سَمِعَا عَدِيَّ بْنَ ثَابِتٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1590

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1591

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، فَسَمِعَ قُطْبَةَ يَقُولُ [167 - ب]: وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ عِلَاقَةَ؛ وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَمِّهِ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ: سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِسُورَةِ (ق) فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ: (وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ (1) لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ) وَقَالَ مَرَّةً: (بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ). وَقَالَ عَبْدُ الْجَبَّارِ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: (وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ).

"حضرت قطبہ بن مالک ؓ سے روایت ہے :انہوں نے نبی کریم ﷺ کو نماز صبح میں سورۂ ق کی قراءت کرتے ہوۓ سنا۔(وہ کہتے ہیں) میں نے آپ ﷺ کو سنا، آپ یہ آیت تلاوت کر رہے تھے(وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَّہَاطَلْعٌ نَصِیْدٌ) اور کھجور کے بلندوبالا درخت پید ا کیے جن کے شگوفے تہ بہ تہ ہیں ۔اور ایک مرتبہ یہ الفاظ روایت کیے:(بَاسِقَاتٍ لَھَا طَلْعٌ نَضِیْدٌ) جناب عبدالجبار کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی تو میں نے آپ کو یہ آیت پڑھتے ہوے سنا (والنَّخْلُ بَاسِقَاتٍ)۔"

(وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ). ← صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ ← عَبْدُ الْجَبَّارِ، ← مَرَّةً: (بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ). ← يقرأ والنخل باسقات لها طلع نضيد ← النَّبِيَّ يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِسُورَةِ (ق) ← عَمِّهِ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ: ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← ابْنِ عِلَاقَةَ؛ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← 1712/ب- ← قُطْبَةَ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1591

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1592

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ، نَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، نَا عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "بَيْنَا أَنَا بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، إِذْ سَمِعَتْهُ يَقُولُ أَحَدًا يُكَلِّمُهُ" (2)، فَذَكَرَ حَدِيثَ الْمِعْرَاجِ بِطُولِهِ، وَقَالَ: "ثُمَّ نُودِيَ إنَّ لَكَ بِكُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، قَالَ: فَهَبَطْتُ، فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ كَبِدِ السَّمَاءِ، نَزَلَ جِبْرِيلُ فِي صَفٍّ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَصَلَّى بِهِ، وَأَمَرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصْحَابَهُ، فَصَفُّوا خَلْفَهُ، فَائْتَمَّ بِجِبْرِيلَ، وَائْتَمَّ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَصَلَّى بِهِمْ أَرْبَعًا يُخَافِتُ الْقِرَاءَةِ، ثُمَّ تَرَكَهُمْ، حَتَّى تَصَوَّبَتِ الشَّمْسُ وَهِيَ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، نَزَلَ جِبْرِيلُ، فَصَلَّى بِهِمْ أَرْبَعًا يُخَافِتُ فِيهِنَّ الْقِرَاءَةَ، فَائْتَمَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِجِبْرِيلَ، وَائْتَمَّ أَصْحَابُ النَّبِيِّ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، ثُمَّ تَرَكَهُمْ حَتَّى إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ، نَزَلَ جِبْرِيلُ، فَصَلَّى بِهِمْ ثَلَاثًا يَجْهَرُ فِي رَكْعَتَيْنِ، وَيُخَافِتُ فِي وَاحِدَةٍ، ائْتَمَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِجِبْرِيلَ، وَائْتَمَّ أَصْحَابُ النَّبِيِّ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، ثُمَّ تَرَكَهُمْ حَتَّى إِذَا غَابَ الشَّفَقُ نَزَلَ جِبْرِيلُ فَصَلَّى بِهِمْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، يَجْهَرُ فِي رَكْعَتَيْنِ، وَيُخَافِتُ فِي اثْنَتيْنِ، ائْتَمَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِجِبْرِيلَ، وَائْتَمَّ أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالنَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَبَاتُوا حَتَّى أَصْبَحُوا، نَزَلَ جِبْرِيلُ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ يُطِيلُ فِيهِنَّ الْقِرَاءَةَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ رَوَاهُ الْبَصْرِيُّونَ عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، قِصَّةَ الْمِعْرَاجِ، وَقَالُوا فِي آخِرِهِ: قَالَ الْحَسَنُ: فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ، نَزَلَ جِبْرِيلُ إِلَى آخِرِهِ، فَجَعَلوا الْخَبَرَ مِنْ هَذَا الْمَوْضِعِ فِي إِمَامَةِ جِبْرِيلَ مُرْسَلًا عَنِ الْحَسَنِ، وَعِكْرِمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَدْرَجَ هَذِهِ الْقِصَّةَ فِي خَبَرِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ. وَهَذِهِ الْقِصَّةُ غَيْرُ مَحْفُوظَةٍ عَنْ أَنَسٍ، إِلَّا أَنَّ أَهْلَ الْقِبْلَةِ لَمْ يَخْتَلِفُوا أَنَّ كُلَّ مَا ذُكِرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ مِنَ الْجَهْرِ وَالْمُخَافَتَةِ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ فَكَمَا ذُكِرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ.

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اس اثناء میں کہ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان (سو رہا( تھا جب میں نے کسی کو بات کرتے ہوے ٔ سنا۔ پھر معراج والی مکمل حدیث بیان کی اور فرمایا: پھر اعلان کیا گیا:بے شک آپ کو ہر نماز کے بدلے دس گنا ثواب ملے گا فرمایا: پھر میں نیچے اتر آیا۔ پھر جب سور ج آسمان کے درمیان سے ڈھل گیا تو جبرائیل ؑ فرشتوں کی ایک صف کے ساتھ نازل ہوۓ اور آپ کو نماز پڑھائی۔نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام ؓ کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کے پیچھے صف بنا لی ۔چنانچہ آپ ﷺ نے جبرائیل کی اقتداء کی اور صحابہ کرام ؓ نے نبی ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ آپ نے انہیں چاررکعات نماز پڑھائی اور آہستہ آواز سے قراءت کی، پھر صحابہ کو چھوڑ دیا، یہاں تک کہ سورج جھک گیا مگر ابھی وہ روشن اور سفید تھا(زرد نہیں ہو تھا)۔جبرائیل ؑ نازل ہوۓ اور انہیں چاررکعات پڑھائیں جن میں پوشیدہ قراءت کی۔لہٰذا نبی کریم ﷺ نے جبرائیل ؑ کی اقتدا کی۔پھر انہیں سورج غروب ہونے تک چھوڑ دیا۔پھر حضرت جبرائیل ؑ نازل ہوۓ اور انہیں تین رکعات پڑھائین ، پہلی دو رکعتوں میں جہری قراءت کی اور تیسری رکعت میں پوشیدہ قراءت کی۔نبی کریم ﷺ نے جبرائیل ؑ اور صحابہ کرام نے آپ ﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھی۔پھر جب شفق غائب ہو گئی تو جبرائیل ؑ نازل ہوۓ اور انہیں چاررکعات پڑھائیں۔ دو رکعات میں جہری اور دو رکعات میں سری قراءت کی۔نبی کریم ﷺ نے جبرائیل ؑ کی اقتداء کی اور نبی کریم کے صحابہ کرام نے نبی ﷺ کی اقتداء کی۔پھر لوگ سو گئے حتٰی کہ صبح ہوئی تو جبرائیل ؑ نازل ہوۓ اور انہیں دو رکعات پڑھائیں اور ان میں طویل قراءت کی ۔امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں: بصری راویوں نے یہ حدیث سعید سے اور انہوں نے حضرت قتادہ واسطے سے حضرت انس کے استاد مالک بن صعصعہ ؓ سے واقعہ معراج میں بیان کی ہے، روایت کے آخر میں وہ کہتے ہیں:امام حسن بصری فرماتے ہیں:پھر جب سورج ڈھل گیا تو جبرائیل ؑ نازل ہوۓ آخر تک اس طرح انہوں نے اس مقام سے آگے کی روایت حضرت حسن بصری ؑ سے مرسل بیان کی ہے اور عکرمہ بن ابراہیم نے یہ قصہ حضرت انس بن مالک کی حدیث میں درج کر دیا ہے حالانکہ یہ واقعات حضرت انس ؓ کی حدیث کی صورت میں محٖفوظ اور ثابت نہیں ہے مگر تمام مسلمانوں کا اس بات پر ا تفاق ہے، کہ نماز میں جہری اور سری قراءت کا جو تذکرہ اس حدیث میں آیا ہے وہ اسی طرح درست ہے جیسے اس حدیث میں مذکور ہوا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1592

chevron_left Previous
1…456…12
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals