صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1545
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ، نَا مُسْلِمٌ -يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ- أنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، ثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "رُصُّوا صُفُوفَكُمْ، وَقَارِبُوا بَيْنَهَا، وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خِلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ". قَالَ مُسْلِمٌ: يَعْنِي النَّقَدَ الصِّغَارَ. النَّقَدُ الصِّغَارُ: أَوْلَادُ الْغَنَمِ.
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہےکہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:"تم اپنی صفوں کو خوب ملاؤ اور صفوں کو قریب قریب رکھو اور اپنی گردنوں کو برابر رکھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! بلاشبہ میں دیکھتا ہوں کہ شیطان صفوں میں خالی جگہ سے داخل ہو جاتا ہے گویا کہ وہ بکری کا بچہ ہو۔"جناب مسلم بن ابراہیم کہتے ہیں:"الحذف سے مراد بکری کا بچہ ہے۔"
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ← مُسْلِمٌ -يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ- ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 1545
