Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1665

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ؛ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الثُّومِ ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: "وَالْبَصَلِ، وَالْكُرَّاثِ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا؛ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسَانُ".

’’حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’جس شخص نے اس پودے لہسن سے کھایاہو۔‘‘پھربعد میں فرمایا:’’اور پیاز اور گندنا کھایا ہو تو وہ ہماری مسجد کے قریب بالکل نہ آئے کیونکہ فرشتے بھی اس چیز سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں۔۔‘‘

"مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الثُّومِ ثُمَّ ← النَّبِيِّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَى ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1665

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1666

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، [176 - أ] نَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّكُمْ تَأْكُلُونَ شَجَرَتَيْنِ مَا أَرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ، هَذَا الثُّومَ، وَهَذَا الْبَصَلَ، وَقَدْ كُنْتُ أَرَى الرَّجُلَ يُوجَدُ رِيحُهُ فَيُؤْخَذُ بِيَدِهِ، فَيُخْرَجُ بِهِ إِلَى الْبَقِيعِ، وَمَنْ كَانَ آكِلَهُمَا فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا.

"جناب معدان سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے جمعہ کے دن لوگوں سے خطاب فرمایا، پھر کہا: لوگو! بے شک تم ان دو پودوں سے کھاتے ہو اور میرے نزدیک یہ دونوں بدبو دار ہیں ، ایک لہسن ہے اور دوسرا پیاز۔ اور میں ایک آدمی کو دیکھا کرتا تھا کہ اس کے منہ سے (ان کی ) بدبو محسوس کی جاتی تو اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بقیع کی طرف نکال دیا جاتا تھا۔ (لہٰذا) جو شخص انہیں کھانا چاہے تو وہ ان کو پکا کر ان کی بو ختم کر لے۔"

مَعْدَانَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، أ] ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1666

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1667

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نَا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ؛ ح وَثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، نَا إِسْمَاعِيلُ، نَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: لَمْ نَعْدُ أَنْ فُتِحَتْ خَيْبَرُ، فَوَقَعْنَا (1) فِي تِلْكَ الْبَقْلَةِ الثُّومِ، فَأَكَلْنَا مِنْهَا أَكْلًا شَدِيدًا؛ قَالَ: وَنَاسٌ جِيَاعٌ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرِّيحَ، فَقَالَ: "مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّا فِي مَسْجِدِنَا". [فَقَالَ النَّاسُ: حُرِّمَتْ، حُرِّمَتْ، فَبَلَغَ ذَاكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -]؛ فَقَالَ: "أَيُّهَا النَّاسُ! أنَّه لَيْسَ لِي تَحْرِيمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ، وَلَكِنَّهَا شَجَرَةٌ أَكْرَهُ رِيحَهَا". هَذَا حَدِيثُ أَبِي هَاشِمٍ، وَزَادَ أَبُو مُوسَى فِي آخِرِ حَدِيثِهِ: "وَإِنَّهُ يَأْتِيننِي .. (2) مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَأَكْرَهُ أَنْ يَشُمُّوا رِيحَهَا".

"حضرت ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں کہ ابھی ہم آگے نہیں بڑھے تھے کہ خیبر فتح ہوگیا تو ہم لہسن کے کھیت میں پہنچے ، فرماتے ہیں : لوگ سخت بھوکے تھے۔ اس لیے ہم نے لہسن خوب جی بھر کر کھایا۔ پھر ہم مسجد میں آگئے ۔ رسو ل اللہﷺ نے بو محسوس کی تو فرمایا: جس شخص نے اس بدبو دار پودے سے کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب مت آئے ۔"اس پر لوگوں نے کہنا سروع کر دیا:لہسن حرام ہوگیا۔ لہسن حرام ہوگیا۔ یہ بات نبی کریمﷺ کو معلوم ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ا ےلوگو! جس چیز کو اللہ نے حلال قرار دیا ہو اسے حرام قرار دینے کا مجھے کوئی حق نہیں ہے ۔ لیکن یہ ایک پودہ ہے جس کی بو مجھے پسند نہیں ہے ۔"یہ ابوہاشم کی روایت ہے ۔ اور ابو موسیٰ نے اپنی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے :"اور صورتِ حال یہ ہے کہ میرے فرشتوں میں سے ایک شرگوشی کرنے والا آتا ہے ۔ لہٰذا میں ناپسند کرتا ہوں کہ انہیں اس کی بدبو محسوس ہو۔"

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1667

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1668

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، نَا يَزِيدُ -وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ- التُّسْتَرِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ أَكْلِ الْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ. قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ بِبَلَدِنَا يَوْمَئِذٍ الثُّومُ، فَقَالَ: "مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسَانُ".

’’حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پیاز اور گندنا کھانے سے منع کیا۔فرماتے ہیں:ان دنوں ہمارے علاقے میں لہسن نہیں ہوتا تھا۔تو آپ ﷺ نے فرمایا:’’جس شخص نے اس پودے سے کھایاہو وہ ہماری مسجد کے قریب ہر گزنہ آۓ۔کونکہ فرشتوں کو اس چیز سے تکلیف ہوتی ہے جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں۔‘

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← يَزِيدُ -وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ- التُّسْتَرِيُّ، ← بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1668

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1669

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، نَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، أَنَّ أَبَا النَّجِيبِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ. أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الثُّومُ وَالْبَصَلُ وَالْكُرَّاثُ، وَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: وَأَشَدُّ ذَلِكَ كُلِّهِ الثُّومُ، أَفَتُحَرِّمُهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "كُلُوهُ، وَمَنْ أَكَلَهُ مِنْكُمْ، فَلَا يَقْرَبْ هَذَا الْمَسْجِدَ حَتَّى يَذْهَبَ رِيحُهُ مِنْهُ".

’’حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے مجلس میں لہسن، پیاز اور گندنے کا تذکرہ ہوا اور عرض کی گئی:اے اللہ کے رسول ! ان سب میں لہسن سخت بو والا ہے، کیا آپ اسے حرام قرار دیتے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’تم اسے کھا لو، اور جس شخص نے اسے کھایا ہو وہ اس کی بو ختم ہونے تک ہماری اس مسجد میں نہ آۓ۔‘‘

عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ الثُّومُ وَالْبَصَلُ وَالْكُرَّاثُ، وَقِيلَ: ← أَنَّهُ ← اَنَّ اَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ ← بَکْرِ بْنِ سَوَادَۃَ، اَنَّ اَبَا النَّجِیْبِ مَوْلٰی عَبْدِ اللہِ بْنِ سَعْدٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1669

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1670

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ وَهْبٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْسَلَ إِلَيْهِ بِطَعَامٍ مِنْ خَضِرَةٍ فِيهِ بَصَلٌ أَوْ كُرَّاثٌ، فَلَمْ يَرَ فِيهِ أَثَرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْكُلَ؟ " فَقَالَ: لَمْ أَرَ أَثَرَكَ فِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَسْتَحِي مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ، وَلَيْسَ بِمُحَرَّمٍ".

’’حضرت ابوایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک سبزی کا سالن بھیجنا گیا جس میں پیاز یا گندنا ڈالا گیا تھا۔پس حضرت ابوایوب ؓ نے اس میں سے رسول اللہ ﷺ کے کھانے کے آثار نہ دیکھے تو(خود بھی) اسے کھانے سے انکار کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا:تمہیں یہ کھانا کھانے سے کس چیز نے روکا ہے؟ انہوں نے جواب دیا:اے اللہ کے رسول ! مجھے آپ کے کھانے کے آثار دھائی نہیں دیئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’(میں نے تو اس لیے نہیں کھایا کیونکہ ) میں نے اللہ کے فرشتوں سے حیا محسوس کرتا ہوں (کہ کہیں انہیں بو محسوس نہ ہو) اور یہ حرام نہیں ہے۔‘‘

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← بَکْرِ بْنِ سَوَادَۃَ، اَنَّ سُفْیَانَ بْنَ وَھْبٍ، ← عَمْرٍو، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1670

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1671

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو قُدَامَةَ وَزِيَادُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: ثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ أَبُو قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، وَقَالَ زِيَادٌ: عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ أَيُّوبَ قَالَتْ: نَزَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَتَكَلَّفْنَا لَهُ طَعَامًا فِيهِ بَعْضُ الْبُقُولِ، فَلَمَّا وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ لِأَصْحَابِهِ: "كُلُوا فَإِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي". وَقَالَ أَبُو قُدَامَةَ: عَنْ أُمِّ أَيُّوبَ: نَزَلْتُ عَلَيْهَا [176 - ب] فَحَدَّثَتْنِي، قَالَتْ: نَزَلَ عَلَيْنَا.

’’حضرت ام ایوب ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ ہمارے گھر مہمان ٹھہرے تو ہم نے آپ ﷺ کے لیے خصوصی کھانا تیار کیا جس میں کچھ سبزیاں بھی شامل تھیں، جب وہ کھانا آپ ﷺ کو پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا:تم کھالو کیونکہ میں تمہارے جیسا نہیں ہوں، بلاشبہ مجھے خدشہ ہے کہ میں اپنے ساتھی(جبرائیل) کو تکلیف دوں گا۔’’جناب ابوقدامہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ام ایوب ؓ کے ہاں مہمان ٹھہرا تو انہوں نے مجھے بیان کیا، وہ فرماتی ہیں:آپ (رسول اللہ ﷺ ) ہمارے مہمان بنے۔‘‘

سُفْيَانَ، ← أَبُو قُدَامَةَ وَزِيَادُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1671

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1672

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: أَكَلْتُ ثُومًا، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي بِرَكْعَةٍ، فَلَمَّا صَلَّى قُمْتُ أَقْضِي، فَوَجَدَ (1) رِيحَ الثُّومِ، فَقَالَ: "مَنْ أَكَلَ هَذِهِ الْبَقْلَةَ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا حَتَّى يَذْهَبَ رِيحُهَا". فَلَمَّا قَضَيْتُ الصَّلَاةَ، أَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -! إِنَّ لِي عُذْرًا، نَاوِلْنِي يَدَكَ، فَوَجَدْتُهُ سَهْلًا، فَنَاوَلَنِي يَدَهُ، فَأَدْخَلْتُهَا مِنْ كُمِّي إِلَى صَدْرِي فَوَجَدَهُ مَعْصُوبًا، فَقَالَ: "إِنَّ لَكَ عُذْرًا".

بوقت ضرورت اور حاجت ، لہسن اور پیاز کھانے کی رخصت ہے

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1672

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1673

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الْأَيْلِيُّ، أَنَّ سَلَامَةَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُقَيْلٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، قَالَ: قَالَ لِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ: فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ النبي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَأَذِنْتُ لَهُ، فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، ثُمَّ قَالَ: "أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِكَ؟ " قَالَ: فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَبَّرَ، فَقُمْنَا، فَصَفَفْنَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ.

"حضرت محمود بن ربیع انصاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت عتبان بن مالک ؓ نے بتایا کہ دوسرے دن سورج بلند ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ میرے گھر تشریف لاۓ تو رسو ل اللہ ﷺ نے اجازت چاہی تو میں نے آپ کو اجازت دی( اور خوش آمدید کہا) تو آپﷺ بیٹھے بغیر گھر تشریف لے گئے اور پوچھا:"تم اپنے گھر میں مجھ سے کس جگہ نماز پڑھوانا پسند کرتے ہو؟ کہتے ہیں:میں نے گھر کے کونے کی طرف آپ کو اشارہ کیا۔لہٰذا رسو ل اللہ ﷺ کھڑے ہوۓ اورتکبیر کہی اور ہم نے بھی آپﷺ کے پیچھے کھڑے ہو کر صف بندی کی تو آپ نے دو رکعات پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا۔‘‘

لِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ: فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيَّ ← عَقِیلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْزٍ الْأَيْلِيُّ، أَنَّ سَلَامَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1673

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1674

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدٍ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي هِلَالٍ- عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سَعِيدٍ (1)؛ أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَوَجَدْنَاهُ قَائِمًا يُصَلِّي، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالسُّقْيَا أَوْ بِالْقَاحَةِ (2) قَالَ: أَلَا رَجُلٌ يَنْطَلِقُ إِلَى حَوْضِ الْأَيَايَةِ فَيَمْدُرَهُ، وَيَنْزِعَ فِيهِ، وَيَنْزِعَ لَنَا فِي أَسْقِيَتِنَا حَتَّى نَأْتِيَهُ، فَقُلْتُ: أَنَا رَجُلٌ، وَقَالَ جَابِرُ بْنُ صَخْرٍ: أَنَا رَجُلٌ، فَخَرَجْنَا عَلَى أَرْجُلِنَا حَتَّى أَتَيْنَاهَا أَصِيلًا (3). فَمَدَرْنَا الْحَوْضَ وَنَزَعْنَا فِيهِ، ثُمَّ وَضَعْنَا رُءُوسَنَا حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ، أَقْبَلَ رَجُلٌ حَتَّى وَقَفَ عَلَى الْحَوْضِ، فَجَعَلَتْ نَاقَتُهُ تُنَازِعُهُ عَلَى الْحَوْضِ، وَجَعَلَ يُنَازِعُهَا زِمَامَهَا، ثُمَّ قَالَ: "أَتَأْذَنَانِ ثَمَّ أَشْرَعُ؟ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْنَا: نَعَمْ بِأَبِينَا أَنْتَ وَأُمِّنَا، فَأَرْخَى لَهَا، فَشَرِبَتْ حَتَّى ثَمِلَتْ، ثُمَّ قَالَ لَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: فَدَنَا حَتَّى أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِالْعَرْجِ، فَخَرَجَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، فَصَبَبْتُ لَهُ وَضُوءًا فَتَوَضَّأَ، فَالْتَحَفَ بِإِزَارِهِ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ أَتَاهُ آخَرُ، فَقَامَ عَنْ يَسَارِهِ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي، وَصَلَّيْنَا مَعَهُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِالْوِتْرِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِخْبَارُ ابْنِ عَبَّاسٍ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي بِاللَّيْلِ، مِنْ هَذَا الْبَابِ.

"حضرت عمرو بن ابی سعید بیان کرتے ہیں کہ میں اور ابو سلمہ بن عبدالرحمان ، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوۓ تو ہم نے انہیں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ہوۓ پایا۔"پھر مکمل حدیث بیان کی ۔ اور فرمایا:’’ہم رسول اللہ ﷺ کے معیت میں واپس آۓ حتٰی کی جب ہم سقیایا قاحہ مقام پر پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کون مرد ہے جو ایایہ حوص پر پہنچ کر پسیائی کر کے اس کے سوراخ بند کرے اور اس سے پانی کھینچے، اور ہمارے آنے سے پہلے ہمارے مشکیزوں میں پانی بھر دے۔تو میں نے عرض کی: یہ کام کرنے لے لیے میں حاضر ہوں اور حضرت جابر بن صخر ؓ نے کہا:میں ایسا آدمی ہوں(جو یہ خدمت بجالانے کے لیے تیار ہے)۔لہٰذا ہم پیدل چلتے ہوۓ شام کے وقت حوض پر پہنچ گئے۔ہم نے پسائی کر کے حوض کے رخنے بند کیے اور اس سے پانی نکالا۔پھر ہم لیٹ کر گئے حتیٰ کہ آدھی رات ہو گئی تو ایک شخص آیا اور حوض پر کھڑا ہو گیا، اس کی اونٹنی اسے کھینچ کر حوض کی طرف لے جانے کی کوشش کرتی جبکہ وہ اس کی لگام کھینچ کر اسے روکنے کی کوشش کرتا پھر اس نے کہا:کیا تم دونوں اجازت دیتے ہو کہ میں پانی پلالوں؟ ناگہاں وہ تو رسول اللہ ﷺ تھے۔تو ہم نے عرض کی:جی ہاں۔ہمارے ماں باپ آپ پر قربان! تو آپ ﷺ نے اونٹنی کی لگام ڈھیلی کر دی تو اس نے خوب سیرہو کر پانی پیا‘‘۔پھر آپ ﷺ (مدینہ منورہ) کے قریب ہو گئے حتٰی کہ آپ ﷺ نے عرج کے علاقے میں بطحاء مقام پر اونٹنی کو بٹھایا، پھر آپ ﷺ اپنی کسی ضرورت کے لیے تشریف لے گئے۔(واپس تشریف لاۓ) تو میں نے آپ کے لیے پانی انڈیلا اور آپ نے وضو کیا پھر آپ اپنی چادر میں لپٹ گئے( اور نماز شروع کر دی) میں آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو آپ ﷺ نے مجھے اپنی دائیں جانبت کھڑا کر لیا۔پھر ایک اور آدمی آپ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کی بائیں جانب اور آدمی آپ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔لہٰذا آپ ﷺ آگے بڑھ گئے اور نماز پڑھائی۔ہم نے آپ ﷺ کے ساتھ وتر سمیت تیرہ رکعات اداکیں‘‘۔امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں ’’حضرت ابن عباس ؓ کی یہ روایات :’’ میں نے اپنی خالی حضرت میمونہ ؓ کے گھر رات گزاری تو نبی کریم ﷺ رات کے وقت نماز کے لیے کھڑے ہو گئے ‘‘اسی مسئلے کے متعلق ہیں۔‘‘

عَمْرِو بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ← سَعِيدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي هِلَالٍ، ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1674

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1675

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ؛ ح وَثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ وَهِيَ خَالَتُهُ، فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادِ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ حَتَّى انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَو قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ [177 - أ] أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَلَسَ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي، وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى، فَفَتَلَهَا، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ. هَذَا حَدِيثُ الرَّبِيعِ. جِمَاعُ أَبْوَابِ صَلَاةِ النِّسَاءِ فِي الْجَمَاعَةِ

’’حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ ؓ کے گھر رات گزاری ، توم میں تکیے کی چوڑائی کے رخ لیٹ گیا جبکہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے گھر والے تکیے کی لمائی کے رخ لیٹ گئے۔لہٰذاہ آپﷺ سے گئے حتٰی کی آدی رات ہو گئی یا آدھی رات سے کچھ کم یا کچھ زیادہ وقت ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ بیدار ہو گئے۔ آپﷺ نے بیٹھ کر اپنے چہرہ مبارک کو ہاتھوں سے ملا پھر سورۂ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کی۔پھر آپ لٹکے ہوۓ مشکیز ے کی طرف گئے اور اس سے )اپنی لے کر) اپنا بہترین وضو کیا۔پھر آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر نماز پڑھتی شروع کردی۔حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں:’’تو میں بھی آپﷺ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا۔‘‘تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرے دائیں کان کو پکڑ کر مسلا۔اور آپ نے دورکعات ادا کیں۔پھر دو ہلی سی رکعات پڑھیں۔پھر آپ تشریف لے گئے اور صبح کی نماز ادا کی‘‘۔یہ ربیع کی حدیث ہے:

ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← مَالِكٍ، ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1675

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1676

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جَمِيعٍ، عَنْ لَيْلَى بِنْتِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهَا؛ وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "انْطَلِقُوا بِنَا نَزُورُ الشَّهِيدَةَ". وَأَذِنَ لَهَا أَنْ تُؤَذِّنَ لَهَا، وَأَنْ تَؤُمَّ أَهْلَ دَارِهَا فِي الْفَرِيضَةِ، وَكَانَتْ قَدْ جَمَعَتِ الْقُرْآنَ.

"حضرت ام ورقہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے:’’ہمارے ساتھ چلو ہم شہید خاتون کو زیارت کریں۔"اور آپ ﷺ نے انہیں اجازت دی تھی کہ ان کے لیے اذان کہی جاۓ اور و ہ اپنے گھروالوں(عورتوں ، بچوں) کی فرض نماز میں امامت کرائیں اور و قرآن مجید کی حافظہ تھیں۔‘‘

أُمِّ وَرَقَةَ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ كَانَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ، ← أَبِيهَا ← لَيْلَى بِنْتِ مَالِكٍ، ← الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1676

chevron_left Previous
1…9101112
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals