Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1653

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الْأَيْلِيُّ، أَنَّ سَلَامَةَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُقَيْلٍ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ: أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ -وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ- أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي، وَإِنِّي أُصَلِّي بِقَوْمِي (1)، فَإِذَا كَانَتِ الْأَمْطَارُ، سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ، فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ فَأُصَلِّيَ بِهِمْ، فَوَدِدْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّكَ تَأْتِي، فَتُصَلِّي فِي بَيْتِي (2) أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ". قَالَ عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ: فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَأَذِنْتُ لَهُ. فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، ثُمَّ قَالَ: "أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ؟ " قَالَ: فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى نَاحِيَةِ الْبَيْتِ. فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَكَبَّرَ، فَقُمْنَا فَصَفَفْنَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَأَجْلَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرٍ صَنَعْنَاهُ لَهُ. قَالَ: فَثَابَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ حَوْلَنَا حَتَّى اجْتَمَعَ فِي الْبَيْتِ رِجَالٌ ذَوُو عَدَدٍ. فَقَالَ: "أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخَيْشِنِ؟ ". فَقَالَ بَعْضُهُمْ: ذَلِكَ مُنَافِقٌ لَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ. قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَا تَقُلْ لَهُ ذَلِكَ، أَلَا تَرَاهُ قَدْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ". قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، إِنَّا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ إِلَى الْمُنَافِقِينَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ". قَالَ مُحَمَّدٌ -يَعْنِي الزُّهْرِيَّ-: فَسَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيَّ -وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ مِنْ سَرَاتِهِمْ- عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ فَصَدَّقَهُ.

’’جناب محمود بن ربیع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عتبان بن مالک جو رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں اور جنگ بدر میں شرکت کا شرف حاصل کرنے والے انصار میں سے ایک ہیں ، وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقداس میں حاضر ہوئے تو عرض کی:اے اللہ کے رسول! میری نظر کمزور ہو گئی ہے اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتاہوں ۔پس جب بارشوں کاموسم آتا ہے تو میرے اور ان کے درمیان واقع وادی بہنے لگتی ہے ، تو میں ان کی مسجد میں جاکر انہیں نماز نہیں پڑھاسکتا ۔اس لیے میری خواہش ہے کہ اے اللہ کے رسول ! آپ تشریف لائیں اور میرے گھرمیں نماز ادا کریں تاکہ میں اس جگہ کو میں اپنی نماز گاہ بنا لوں ۔تو رسول اللہ ﷺ نےفرمایا :میں عنقریب (تمہاری یہ خواہش پوری )کروں گا ۔ان شاء اللہ ۔حضرت عتبان بن مالک ؓ فرماتے ہیں :’’تو دوسرے دن سورج چڑھنے کے بعدرسول اللہﷺاور حضرت ابوبکر صدیق ؓ تشریف لائے ۔رسول اللہ ﷺ نے اجازت چاہی تو میں نے آپ ﷺ کو اجازت دے دی (آپ کو خوش آمدید کہا ) تو آپ ﷺتشریف فرما ہوئے بغیر گھر میں داخل ہوئے پھر پوچھا :تم اپنے گھر میں کس جگہ چاہتے ہو کہ میں نمازپڑھوں ؟ کہتے ہیں : میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا ۔لہذا رسول اللہ ﷺ (اس جگہ )کھڑے ہوئے اور تکبیرکہی ۔ہم نے بھی آ پ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو کر صف بنالی تو آپ ﷺ نےدو رکعت اداکرکے سلام پھیرا ۔ پھر ہم نے آپ ﷺ کو آپ کےلیے خزیر (گوشت اورآٹے سے تیار کردہ خاص قسم کاکھانا) کے لیے آپ کو بٹھا لیا ،فرماتے ہیں :(اس دوران )محلے کےلوگ مسلسل آتےرہے حتی ٰ کہ ہمارے گھر میں لوگوں کی کافی تعداد جمع ہو گئی ۔آپ ﷺ نے پو چھا :مالک بن دخیش کہاں ہے ؟ایک شخص نے جواب دیا :’’وہ تو منافق آدمی ہے ،وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں کرتا (اس لیے آپ ﷺ کی آمد پرحاضر نہیں ہوا ) اس پررسول اللہ نےفرمایا :اس کے بارے میں ایسا مت کہو ،کیاتمہیں معلو نہیں کہ وہ اللہ کی رضاکےلیے ’’لا الہ الا اللہ ‘‘کا اقرار کرتاہے؟تو اس شخص نےکہا :اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ۔ ہم تو اس کی تعلق داری اورسچی دوستی ومحبت منافقو ں ہی کےساتھ دیکھتے ہیں ۔تو رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: بےشک اللہ تعالیٰ نے آگ پر اس شخص کو حرام کردیا جوخالص اللہ کی رضا کے لیے لا’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کا اقرار کرتا ہے ۔امام محمد زہری ؒ فرماتے ہیں :میں نے حصین بن محمد انصاری سے ، جو کہ بنی سالم کے ایک سردار ہیں ،حضرت محمود بن ربیع کی حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نےان کی تصدیق کی ۔‘‘

مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيَّ ← عَقِیلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْزٍ الْأَيْلِيُّ، أَنَّ سَلَامَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1653

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1654

وَفِي خَبَرِ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ: إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي. وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ قَدْ تَقَعُ عَلَى مَنْ فِي بَصَرِهِ سَوْءٌ، وَإِنْ كَانَ يُبْصِرُ بَصَرَ سَوْءٍ، وَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ قَدْ صَارَ أَعْمَى لَا يُبْصِرُ. لَسْتُ أَشُكُّ إِلَّا أَنَّهُ قَدْ صَارَ بَعْدَ ذَلِكَ أَعْمَى لَمْ يَكُنْ يُبْصِرُ، فَأَمَّا وَقْتَ سُؤَالِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنَّمَا سَأَلَ (1)، إِلَى أَنْ أَيْقَنْتُ فِي لَفْظِ هَذَا الْخَبَرِ. حَدَّثَنَا بِخَبَرِ مَعْمَرٍ؛ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقُلْتُ: إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي، وَإِنَّ السُّيُولَ تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْجِدِ قَوْمِي، وَلَوَدِدْتُ أَنَّكَ جِئْتَ، وَصَلَّيْتَ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مَسْجِدًا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِتَمَامِهِ.

’’جناب محمود بن ربیع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عتبان بن مالک جو رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں اور جنگ بدر میں شرکت کا شرف حاصل کرنے والے انصار میں سے ایک ہیں ، وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقداس میں حاضر ہوئے تو عرض کی:اے اللہ کے رسول! میری نظر کمزور ہو گئی ہے اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتاہوں ۔پس جب بارشوں کاموسم آتا ہے تو میرے اور ان کے درمیان واقع وادی بہنے لگتی ہے ، تو میں ان کی مسجد میں جاکر انہیں نماز نہیں پڑھاسکتا ۔اس لیے میری خواہش ہے کہ اے اللہ کے رسول ! آپ تشریف لائیں اور میرے گھرمیں نماز ادا کریں تاکہ میں اس جگہ کو میں اپنی نماز گاہ بنا لوں ۔تو رسول اللہ ﷺ نےفرمایا :میں عنقریب (تمہاری یہ خواہش پوری )کروں گا ۔ان شاء اللہ ۔حضرت عتبان بن مالک ؓ فرماتے ہیں :’’تو دوسرے دن سورج چڑھنے کے بعدرسول اللہﷺاور حضرت ابوبکر صدیق ؓ تشریف لائے ۔رسول اللہ ﷺ نے اجازت چاہی تو میں نے آپ ﷺ کو اجازت دے دی (آپ کو خوش آمدید کہا ) تو آپ ﷺتشریف فرما ہوئے بغیر گھر میں داخل ہوئے پھر پوچھا :تم اپنے گھر میں کس جگہ چاہتے ہو کہ میں نمازپڑھوں ؟ کہتے ہیں : میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا ۔لہذا رسول اللہ ﷺ (اس جگہ )کھڑے ہوئے اور تکبیرکہی ۔ہم نے بھی آ پ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو کر صف بنالی تو آپ ﷺ نےدو رکعت اداکرکے سلام پھیرا ۔ پھر ہم نے آپ ﷺ کو آپ کےلیے خزیر (گوشت اورآٹے سے تیار کردہ خاص قسم کاکھانا) کے لیے آپ کو بٹھا لیا ،فرماتے ہیں :(اس دوران )محلے کےلوگ مسلسل آتےرہے حتی ٰ کہ ہمارے گھر میں لوگوں کی کافی تعداد جمع ہو گئی ۔آپ ﷺ نے پو چھا :مالک بن دخیش کہاں ہے ؟ایک شخص نے جواب دیا :’’وہ تو منافق آدمی ہے ،وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں کرتا (اس لیے آپ ﷺ کی آمد پرحاضر نہیں ہوا ) اس پررسول اللہ نےفرمایا :اس کے بارے میں ایسا مت کہو ،کیاتمہیں معلو نہیں کہ وہ اللہ کی رضاکےلیے ’’لا الہ الا اللہ ‘‘کا اقرار کرتاہے؟تو اس شخص نےکہا :اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ۔ ہم تو اس کی تعلق داری اورسچی دوستی ومحبت منافقو ں ہی کےساتھ دیکھتے ہیں ۔تو رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: بےشک اللہ تعالیٰ نے آگ پر اس شخص کو حرام کردیا جوخالص اللہ کی رضا کے لیے لا’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کا اقرار کرتا ہے ۔امام محمد زہری ؒ فرماتے ہیں :میں نے حصین بن محمد انصاری سے ، جو کہ بنی سالم کے ایک سردار ہیں ،حضرت محمود بن ربیع کی حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نےان کی تصدیق کی ۔‘‘

الزُّهْرِيِّ: إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي. ← وَفِي خَبَرِ مَعْمَرٍ،

Hadith 1654

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1655

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ أَحْمَدُ: قَالَ: نَا أَيُّوبُ، وَقَالَ زِيَادٌ: قَالَ: أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ؛ ح وَثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ، عَنْ نَافِعٍ؛ ح نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا يَحْيَى، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ؛ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، نَا حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ مَسْعَدَةَ- عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ؛ ح وَثَنَا يَحْيَى أَيْضًا، وَنَا أَبُو بحر -يَعْنِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عُثْمَانَ- نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ -وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ- قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ: عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ [نَادَى بِالصَّلَاةِ] (1) ثُمَّ قَالَ: صَلُّو فِي رِحَالِكُمْ. ثُمَّ حَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ وَالْبَارِدَةِ فِي السَّفَرِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ: (فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ وَالْبَارِدَةِ)، تَحْتَمِلُ (2) مَعْنَيَيْنِ، أَحَدُهُمَا: أَنْ تَكُونَ اللَّيْلَةُ مَطِيرَةً وَبَارِدَةً جَمِيعًا، وَتَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ اللَّيْلَةَ الْمَطِيرَةَ، وَاللَّيْلَةَ الْبَارِدَةَ أَيْضًا (3) وَإِنْ لَمْ تَجْتَمِعِ الْعِلَّتَانِ جَمِيعًا فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ. وَخَبَرُ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ دَالٌّ عَلَى أَنَّهُ أَرَادَ أَحَدَ الْمَعْنَيَيْنِ، كَانَتِ اللَّيْلَةُ مَطِيرَةً، أَوْ كَانَتْ بَارِدَةً.

سفر میں جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھنا جائز ہے اور بارش اور ٹھنڈ والی رات میں گھروں میں نماز پڑھنے کے حکم کا بیان

صَلُّو فِي رِحَالِكُمْ. ثُمَّ حَدَّثَ ← ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ [نَادَى بِالصَّلَاةِ] ثُمَّ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ -وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ- ← وَثَنَا يَحْيَى أَيْضًا، وَنَا أَبُو بحر -يَعْنِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عُثْمَانَ- ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ مَسْعَدَةَ- ← وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمِ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← نَافِعٍ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← وَثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← أَيُّوبُ، وَقَالَ زِيَادٌ: ← أَحْمَدُ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1655

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1656

وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ: أَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَ (4): أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مْحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مْحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَكَانَتْ لَيْلَةٌ ظَلْمَاءُ أَوْ لَيْلَةٌ مَطِيرَةٌ أَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ نَادَى مُنَادِيهِ: أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ.

’’حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں ہوتے اور رات اندھیری یابارش والی ہوتی تو رسول اللہ ﷺ کا موذن اذان دیتا یامناد ی پکارتا۔’’نماز اپنے اپنے ٹھکانوں اور خیموں میں پڑھ لو۔‘‘

ابْنِ عُمَرَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ، ← الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ،

Hadith 1656

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1657

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، وَقَالَ مُؤَمَّلٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ قَالَ: خَرَجْتُ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ إِلَى الْمَسْجِدِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ، فَلَمَّا رَجَعْتُ اسْتَفْتَحْتُ، فَقَالَ أَبِي: مَنْ هَذَا؟، قَالُوا: أَبُو مَلِيحٍ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَأَصَابَتْنَا سَمَاءٌ لَمْ تَبُلَّ أَسْفَلَ نِعَالِنَا، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ.

’’جناب ابو ملیح بیان کرتے ہیں کہ میں ایک اندھیری را ت میں عشاء کی نماز کےلیے گھر سے نکلا ۔پھر جب میں واپس آیا تو میں نے دروازہ کھلوانے کےلیے دستک دی تومیرے والد گرامی نے پوچھا:کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں ابو ملیح ہوں ۔( اس پر ان کے والد گرامی نے )فرمایا:میں نےحدیبیہ والے دن اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس حال میں دیکھا کہ ہم پر بارش ہوئی جس سے ہمارے جوتوں کے تلوے بھی نہ بھیگے تو رسول اللہ ﷺ کے مو ذن نے اعلان کر دیا کہ تم نماز اپنے ٹھکانوں اور خیموں میں ادا کرلو ۔‘‘

أَبُو مَلِيحٍ ← أَبِي: مَنْ هَذَا؟، ← خَرَجْتُ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ إِلَى الْمَسْجِدِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ، فَلَمَّا رَجَعْتُ اسْتَفْتَحْتُ، ← أَبِي الْمَلِيحِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← مُؤَمَّلٍ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← إِسْمَاعِيلُ ← مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1657

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1658

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نَا شُعْبَةُ؛ ح وَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ؛ ح وَثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، نَا أَبُو بَحْرٍ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عروبَةَ؛ ح وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ سَعِيدٍ؛ ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ- أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، كُلُّهُمْ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَصَابَتْنَا السَّمَاءُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ". هَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ. وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ مَرَّةً أُخْرَى: أَبُو الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ.

گزشتہ روایت جیسی روایت کے ساتھ دوران سفر بارش والے دن نماز یا جماعت ترک کرنے اور ٹھکانوں پر نماز پڑھنے کی رخصت واباحت کا بیان

أَبِيهِ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ مَرَّةً أُخْرَى: أَبُو الْمَلِيحِ، ← النَّبِيُّ "الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ". هَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ. ← أَصَابَتْنَا السَّمَاءُ مَعَ النَّبِيِّ يَوْمَ حُنَيْنٍ، ← أَبِيهِ ← أَبِي الْمَلِيحِ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ كُلُّهُمْ ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← بُنْدَارٌ ← سَعِيدٌ، ← عِيسَى؛ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← أَبُو بحر ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ← سَعِيدٌ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1658

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1659

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا أَبُو نُعَيْمٍ، نَا زُهَيْرٌ؛ وَثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، نَا سِنَانٌ -يَعْنِي ابْنَ مُطَاهِرٍ- عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ، فَمُطِرْنَا فَقَالَ: "لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فِي رَحْلِهِ".

’’حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو ہم پر بارش ہو گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا:’’تم میں سے جو شخص چاہے وہ اپنے خیمے میں نماز پڑھ لے۔‘‘

لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فِي رَحْلِهِ ← كنا مع رسول الله في سفر فَمطرنا ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← زُهَيْرٍ ← سِنَانٌ -يَعْنِي ابْنَ مُطَاهِرٍ- ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← زُهَيْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1659

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1660

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَ: نَا فُلَيْحٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو هُرَيْرَةَ، قُلْتُ: وَاللَّهِ لَوْ جِئْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَأَتَيْتُهُ، فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا فِي قِصَّةِ الْعَرَاجِينَ، قَالَ: ثُمَّ هَاجَتِ السَّمَاءُ مِنْ تِلْكِ اللَّيْلَةِ، فَلَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ بَرَقَتْ بَرْقَةٌ، فَرَأَى قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ، فَقَالَ: "مَا السُّرَى يَا قَتَادَةُ؟ "، فَقَالَ: عَلِمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَّ شَاهِدَ الصَّلَاةِ اللَّيْلَةَ قَلِيلٌ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَشْهَدَهَا. قَالَ: "فَإِذَا صَلَّيْتَ فَاثْبُتْ حَتَّى أَمُرَّ بِكَ"، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَعْطَاهُ الْعُرْجُونَ، فَقَالَ: "خُذْ هَذَا فَسَيُضِيءُ لَكَ أَمَامَكَ عَشْرًا وَخَلْفَكَ عَشْرًا، فَإِذَا دَخَلْتَ بَيْتَكَ فَرَأَيْتَ سَوَادًا فِي زَاوِيَةِ الْبَيْتِ، فَاضْرِبْهُ قَبْلَ أَنْ تَكَلَّمَ، فَإِنَّهُ الشَّيْطَانُ" قَالَ: فَفَعَلَ، فَنَحْنُ نُحِبُّ هَذِهِ الْعَرَاجِينَ لِذَلِكَ.

’’حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمان ؒ بیان کرتے ہیں :جب حضرت ابوہریرہؓ فوت ہوگئے تومیں نے (دل میں )کہ:اللہ کی قسم !اگر میں حضرت ابو سعید ؓ کی خدمت میں (حصو ل علم کےلیے )حاضر ہو جاؤں تو بہت بہتر ہوگا ۔لہذا میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا ۔‘‘پھر انہوں نے عراجین کھجو ر کی شاخوں کے قصے کے بارے میں ایک طویل حدیث بیان کی ۔انہوں نے فرمایا :’’پھر اس رات بادل خوب امنڈا کر آیا(اور خوب بارش برسی ) ۔پھر جب رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز کے لیے بار تشریف لائے تو بجلی چمکی ،جس سے آپ ﷺ نے حضرت قتادہ بن نعمان ؓ کو دیکھا۔تو پوچھا:’’اے قتادہ !ایسی رات میں کیسے چل کر آئے ؟ انہوں نےعرض کی : اے اللہ کے رسول ! مجھے معلوم تھاکہ آج رات نمازی کم ہوں گے اس لیے میں نے پسند کیا کہ میں نماز جماعت کے ساتھ ادا کروں ۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا :جب تم نماز پڑھ لوتو ٹھہرےرہناحتیٰ کہ میں تمہیں جانے کی اجازت دے دوں ۔پھر جب آپ ﷺ نے نماز مکمل کرلی تو حضرت قتادہ ﷺ کو کھجور کی ایک شاخ عنایت کی ۔ اور فرمایا :’’یہ شاخ لے لو ،تمہارے آگے اور پیچھے دس دس (ہاتھ ) روشن کردے گی ۔پھر جب تم اپنے گھر داخل ہوجاؤ اور گھر کے ایک کونے میں سایہ دیکھو تو گفتگو کرنے سے پہلے اسے مارنا کیونکہ وہ شیطان ہے ۔‘‘راوی کہتے ہیں کہ تو انہوں نے ایسے ہی کیا ۔ اس لیے ہم بھی ان شاخوں کو پسند کرتے ہیں ۔‘‘

أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← فُلَيْحٌ، ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1660

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1661

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، وَأَبُو مُوسَى، قَالَا: ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ: "مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ -يَعْنِي الثُّومَ- فَلَا يَأْتِيَنَّ الْمَسَاجِدَ". وَقَالَ بُنْدَارٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، وَقَالَ: عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، فَلَا يَقْرَبَنَّ الْمَسَاجِدَ".

’’حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے غز وہ خبیر کے موقع پر فرمایا :’’جس شخص نے اس پودے یعنی لہسن سے کھایا ہوتو وہ مسجد میں ہر گز نہ آئے ۔‘‘جناب عبیداللہ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :’’جس شخص نے اس پودے سے کھایاہو وہ مسجدوں کے قریب ہرگزنہ جائے ۔‘‘

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بُنْدَارٌ وَأَبُو مُوسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1661

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1662

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ الْخَزَّازُ، نَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ فَلَا يُؤْذِينَا بِهَا فِي مَسْجِدِنَا هَذَا".

’’حضرت عبادہ بن تمیم اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’جو شخص اس سبزی میں سے کھا لے تو وہ ہمیں ہماری اس مسجد میں اس (کی بو)کے ساتھ اذیت نہ دے ۔‘‘

عَمِّہٖ ← عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← مَعْن بن عيسی ← حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ الْخَزَّازُ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1662

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1663

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ تَفَلَ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَتَفْلَتُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَمَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْخَبِيثَةِ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ثَلَاثًا".

’’حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا :’’جس شخص نے قبلہ رخ تھو کا تو وہ قیامت کے دن اس حا ل میں آئے گا کہ اس کا تھوک اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لگا ہو گا اور جس شخص نے اس بد بو دار سبز ی میں سے کھایا ہوتو وہ تین دن تک ہماری مسجد کے قریب مت آئے۔۔‘‘

حُذَيْفَةَ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1663

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1664

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ، أَنَّ سَلَامَةَ بْنَ رَوْحٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ: وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ؛ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ زَعَمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا فَلْيَعْتَزِلْنَا، أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا، وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ".

’’حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے (کچا ) لہسن یا پیاز کھایاہو تو وہ ہم سے الگ رہے یا وہ ہماری مسجد سے دور رہے اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے ۔‘‘

عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ؛ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ زَعَمَ: ← عُقَيْلٌ: وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ، أَنَّ سَلَامَةَ بْنَ رَوْحٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1664

chevron_left Previous
1…9101112
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals