صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1653
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الْأَيْلِيُّ، أَنَّ سَلَامَةَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُقَيْلٍ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ: أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ -وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ- أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي، وَإِنِّي أُصَلِّي بِقَوْمِي (1)، فَإِذَا كَانَتِ الْأَمْطَارُ، سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ، فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ فَأُصَلِّيَ بِهِمْ، فَوَدِدْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّكَ تَأْتِي، فَتُصَلِّي فِي بَيْتِي (2) أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ". قَالَ عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ: فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَأَذِنْتُ لَهُ. فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، ثُمَّ قَالَ: "أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ؟ " قَالَ: فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى نَاحِيَةِ الْبَيْتِ. فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَكَبَّرَ، فَقُمْنَا فَصَفَفْنَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَأَجْلَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرٍ صَنَعْنَاهُ لَهُ. قَالَ: فَثَابَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ حَوْلَنَا حَتَّى اجْتَمَعَ فِي الْبَيْتِ رِجَالٌ ذَوُو عَدَدٍ. فَقَالَ: "أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخَيْشِنِ؟ ". فَقَالَ بَعْضُهُمْ: ذَلِكَ مُنَافِقٌ لَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ. قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَا تَقُلْ لَهُ ذَلِكَ، أَلَا تَرَاهُ قَدْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ". قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، إِنَّا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ إِلَى الْمُنَافِقِينَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ". قَالَ مُحَمَّدٌ -يَعْنِي الزُّهْرِيَّ-: فَسَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيَّ -وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ مِنْ سَرَاتِهِمْ- عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ فَصَدَّقَهُ.
’’جناب محمود بن ربیع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عتبان بن مالک جو رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں اور جنگ بدر میں شرکت کا شرف حاصل کرنے والے انصار میں سے ایک ہیں ، وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقداس میں حاضر ہوئے تو عرض کی:اے اللہ کے رسول! میری نظر کمزور ہو گئی ہے اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتاہوں ۔پس جب بارشوں کاموسم آتا ہے تو میرے اور ان کے درمیان واقع وادی بہنے لگتی ہے ، تو میں ان کی مسجد میں جاکر انہیں نماز نہیں پڑھاسکتا ۔اس لیے میری خواہش ہے کہ اے اللہ کے رسول ! آپ تشریف لائیں اور میرے گھرمیں نماز ادا کریں تاکہ میں اس جگہ کو میں اپنی نماز گاہ بنا لوں ۔تو رسول اللہ ﷺ نےفرمایا :میں عنقریب (تمہاری یہ خواہش پوری )کروں گا ۔ان شاء اللہ ۔حضرت عتبان بن مالک ؓ فرماتے ہیں :’’تو دوسرے دن سورج چڑھنے کے بعدرسول اللہﷺاور حضرت ابوبکر صدیق ؓ تشریف لائے ۔رسول اللہ ﷺ نے اجازت چاہی تو میں نے آپ ﷺ کو اجازت دے دی (آپ کو خوش آمدید کہا ) تو آپ ﷺتشریف فرما ہوئے بغیر گھر میں داخل ہوئے پھر پوچھا :تم اپنے گھر میں کس جگہ چاہتے ہو کہ میں نمازپڑھوں ؟ کہتے ہیں : میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا ۔لہذا رسول اللہ ﷺ (اس جگہ )کھڑے ہوئے اور تکبیرکہی ۔ہم نے بھی آ پ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو کر صف بنالی تو آپ ﷺ نےدو رکعت اداکرکے سلام پھیرا ۔ پھر ہم نے آپ ﷺ کو آپ کےلیے خزیر (گوشت اورآٹے سے تیار کردہ خاص قسم کاکھانا) کے لیے آپ کو بٹھا لیا ،فرماتے ہیں :(اس دوران )محلے کےلوگ مسلسل آتےرہے حتی ٰ کہ ہمارے گھر میں لوگوں کی کافی تعداد جمع ہو گئی ۔آپ ﷺ نے پو چھا :مالک بن دخیش کہاں ہے ؟ایک شخص نے جواب دیا :’’وہ تو منافق آدمی ہے ،وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں کرتا (اس لیے آپ ﷺ کی آمد پرحاضر نہیں ہوا ) اس پررسول اللہ نےفرمایا :اس کے بارے میں ایسا مت کہو ،کیاتمہیں معلو نہیں کہ وہ اللہ کی رضاکےلیے ’’لا الہ الا اللہ ‘‘کا اقرار کرتاہے؟تو اس شخص نےکہا :اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ۔ ہم تو اس کی تعلق داری اورسچی دوستی ومحبت منافقو ں ہی کےساتھ دیکھتے ہیں ۔تو رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: بےشک اللہ تعالیٰ نے آگ پر اس شخص کو حرام کردیا جوخالص اللہ کی رضا کے لیے لا’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کا اقرار کرتا ہے ۔امام محمد زہری ؒ فرماتے ہیں :میں نے حصین بن محمد انصاری سے ، جو کہ بنی سالم کے ایک سردار ہیں ،حضرت محمود بن ربیع کی حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نےان کی تصدیق کی ۔‘‘
مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيَّ ← عَقِیلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْزٍ الْأَيْلِيُّ، أَنَّ سَلَامَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 1653
