Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1641

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، نَا أَبُو خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ الْمُكْتِبُ؛ ح وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، نَا عِيسَى، عَنْ حُسَيْنٍ؛ ح وَثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى الْبَلَاطِ، وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ، فَقُلْتُ: أَلَا تُصَلِّي؟ قَالَ: قَدْ صَلَّيْتُ، قُلْتُ: أَلَا تُصَلِّي مَعَهُمْ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "لَا تُصَلُّوا صَلَاةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ". هَذَا حَدِيثُ عِيسَى.

’’حضرت میمونہ ؓ کے آزاد کردہ غلام سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر ؓ کے پاس آیا جبکہ وہ بلاط مقام پر تشریف فرماتھے ،اور لوگ نماز پڑھ رہے تھے ۔میں نے عرض کی : کیا آپ نماز نہیں پڑھیں گے ؟ انہوں نےفرمایا :میں نماز پڑھ چکا ہوں ۔ میں نے پوچھا :کیا آپ ان لوگو ں کے ساتھ نماز (باجماعت ) ادا نہیں کریں گے ؟ انہوں نےفرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ایک دن میں ایک ہی نماز دو بار مت پڑھو ۔‘‘یہ جناب عیسیٰ کی روایت ہے ۔

إِنِّي ← قَدْ صَلَّيْتُ، قُلْتُ: أَلَا تُصَلِّي مَعَهُمْ؟ ← أَتَيْتُ عَلَى ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى الْبَلَاطِ، وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ، فَقُلْتُ: أَلَا تُصَلِّي؟ ← سليمان بن يسار مولى ميمونة ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← حُسَيْنٌ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ← حُسَيْنٌ ← عِيسَى؛ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← الْحُسَيْنُ الْمُكْتِبُ، ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1641

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1642

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، ثَنَا عَمِّي، أَخْبَر يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ: عَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا مَعَهُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَعَدَلْتُ مَعَهُ، فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَبَرَّزُ، فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ، فَغَسَلَ كَفَّهُ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ حَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ، فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ، فَغَسَلَهُمَا إِلَى الْمِرْفَقِ، فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ (1) عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ رَكِبَ، فَأَقْبَلْنَا نَسِيرُ حَتَّى نَجِدَ النَّاسَ فِي الصَّلَاةِ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَرَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَفَّ مَعَ الْمُسْلِمِينَ، فَصَلَّى وَرَاءَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُتِمُّ صَلَاتَهُ، فَفَزِعَ الْمُسْلِمُونَ، وَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ، لِأَنَّهُمْ سَبَقُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالصَّلَاةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، قَالَ لَهُمْ: "أَحْسَنْتُمْ"، أَوْ "أَصَبْتُمْ".

’’جناب ابو نصرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک نوجوان حضرت عمران بن حصین ؓ کے سامنے کھڑا ہوا ، اس نے ان کی سواری کی لگام پکڑ لی اور ان سے نماز خوف کے بارے میں سوال کیا تو وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا :اس نوجوان نے مجھ سے ایک مسئلہ پوچھا ہے ، اور میں پاہتا ہوں کہ میں تم سب کو بیان کردوں ۔میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کئی غزوات میں شرکت کی ہے تو آپ ﷺ مدینہ منورہ واپس آنے تک صرف دو دو رکعات ہی پڑھتے تھے ۔جناب زیاد بن ایوب کی روایت میں یہ اضافہ ہے :’’اورمیں نےآپ ﷺکےساتھ حج بھی کیا تو آپ دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے ،یہاں تک کہ آپ ﷺ مدینہ منو رہ واپس آگئے ۔‘‘جناب احمد بن عبدہ اور زیاد بن ایوب دونوں کی روایت میں ہے :’’فتح مکہ کے زمانہ میں آپ ﷺ مکہ مکرمہ میں اٹھا رہ راتیں قیام پذیر ہے ، آپ ﷺ دودو رکعات ہی پڑھتے رہے ، پھر آپ اہل مکہ سے فرماتے :’’تم چار رکعتیں (پوری )ادا کرلو کیونکہ ہم مسافر لوگ ہیں اور میں نے حضرت ابوبکر ؓ کے ساتھ بھی جنگ میں شرکت کی اور ان کے ساتھ حج بھی کیا ہے ، وہ بھی واپس آ نے تک دو دو رکعتیں ہی ادا کرتے تھے اور میں نے حضرت عمر ؓ کے ساتھ کئی حج کیے ہیں ، وہ بھی دو رکعات ہی ادا کرتے تھے حتیٰ کہ واپس آجاتے اور حضرت عثما ن ؓ بھی اپنی خلافت کے ابتدائی سات سالوں میں حج کے دوران دو رکعات ہی پڑھتے رہے حتی ٰ کہ واپس مدینہ آجاتے ۔پھر (ان سات سالو ں ) کے بعد انہو ں نے (مکمل نماز ) چار رکعات پڑھی شروع کردیں ۔ ‘‘جناب احمد کی روایت میں یہ اضافہ ہے :’’پھر پوچھا :کیا میں نے تمہیں مسئلہ بیان کر دیا ہے ؟ ہم نے عرض کی :جی ہاں ۔‘‘اس روایت کے الفاظ جناب احمد بن عبد ہ کی روایت کے ہیں ۔

عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَمِّي، أَخْبَر يُونُسُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1642

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1643

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ؛ ح وَثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، نَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَا: ثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: قَامَ شَابٌّ إِلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ، فَسَأَلَهُ عَنْ صَلَاةِ السَّفَرِ. فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْفَتَى يَسْأَلُنِي عَنْ أَمْرٍ، وَإِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ جَمِيعًا: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَزَوَاتٍ، فَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ الْمَدِينَةَ. زَادَ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ: وَحَجَجْتُ مَعَهُ، فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَقَالَا: أَقَامَ بِمَكَّةَ زَمَنَ الْفَتْحِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ لَيْلَةً يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَقُولُ لِأَهْلِ مَكَّةَ: "صَلُّوا أَرْبَعًا فَإِنَّا قَوْمٌ سَفَرٌ"، وَغَزَوْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ [173 - ب] وَحَجَجْتُ مَعَهُ، فَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ حَجَّاتٍ، فَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ، وَصَلَّاهَا عُثْمَانُ سَبْعَ سِنِينَ مِنْ إِمَارَتِهِ رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَجِّ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْمَدِينَةِ، ثُمَّ صَلَّاهَا بَعْدَهَا أَرْبَعًا. زَادَ أَحْمَدُ، ثُمَّ قَالَ: هَلْ بَيَّنْتُ لَكُمْ؟ قُلْنَا: نَعَمْ. وَلَفْظُ الْحَدِيثِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ.

’’جناب ابونضرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک نو جوان حضرت عمران بن حصین ؓ کے سامنے کھڑا ہوا، اس نے ان کی سواری کی لگام پکڑلی اور ان سے نماز خوف کے بارے میں سوال کیا تو ہماری طرف متوجہ ہوۓ اور فرمایا:اس نو جوان نے مجھ سے ایک مسئلہ پوچھا ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ میں تم سب کو بیان کردوں۔میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کئی غزوات میں شرکت کی ہے تو آپ ﷺ مدینہ منوراہ واپس آنے تک صرف دو رکعات ہی پڑھتے تھے۔جناب زیاد بن ایوب کی روایت میں یہ اضافہ ہے:’’اور میں نے آپ ﷺ کے ساتھ حج بھی کیا تو آپ صرف دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے،یہاں تک کہ آپ ﷺ مدینہ منورہ واپس آگئے۔‘‘جناب احمد بن عبدہ اور زیادہ بن ایوب دونوں کی روایت میں ہے:’’فتح مکہ کے زمانہ میں آپ ﷺ مکہ مکرمہ میں اٹھارہ راتیں قیام پزیر رہے، آپ ﷺ دو دو رکعات ہی پڑھتے رہے،پھر آپ ایلِ مکہ سے فرماتے:’’تم چار رکعتیں (پوری) ادا کر لو کیونکہ ہم مسافر لوگ ہیں اور میں نے حضرت ابوبکر ؓ کے ساتھ بھی جنگ میں شرکت کی اور ان کے ساتھ حج بھی کیا ہے، وہ بھی واپس آنے تک دودو رکعتیں ہی ادا کرتے تھے اور میں نے حضرت عمر ؓ کےساتھ کئی حج کیے ہیں، وہ بھی دو رکعات ہی ادا کرتے تھے حتٰی کی واپس آجاتے اور حضرت عثمان ؓ بھی اپنی خلافت کے ابتدائی سات سالوں میں حج کے دوران دو رکعات ہی پڑھتے رہے حتٰی کی واپس مدینہ آجاتے۔پھر(ان سات سالوں) کے بعد انہوں نے (مکمل نماز) چار رکعات پڑھنی شروع کر دیں۔‘‘جناب احمد کی روایت میں یہ اضافہ ہے:’’پھر پو چھا:کیا میں نے تمہیں مسئلہ بیان کردیا ہے؟ ہم نے عرض کی:جی ہاں۔‘‘ اس روایت کے الفاظ جناب احمد بن عبدہ کی روایت کے ہیں۔

صَلَاةِ السَّفَرِ. فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا، ← فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ، فَسَأَلَهُ ← قَامَ شَابٌّ إِلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1643

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1644

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، نَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، نَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ سَمِعَ جَلَبَةً، فَقَالَ: "مَا شَأْنُكُمْ"؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: "فَلَا تَفْعَلُوا، إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي، وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا".

’’حضرت ابو قتادہ ؓ بیان کرتےہیں کہ انہیں ان کے والد نے خبر دی کہ اس دوران کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ موجود تھے جب آپ ﷺ نےاچانک شو روغل سنا توپ نے پوچھا :تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول !ہم نے نماز کے لیے جلدی کی ہے آپ نے فرمایا: ایسا مت کیاکرو ۔جب نماز کھڑی ہو جائے تو تم مجھے دیکھ لینے سے پہلے کھڑے نہ ہوا کرو اور تم سکون واطمینان اختیار کیا کرو،پھر تمہیں جتنی نمازمل جائے وہ پڑھ لو اور جو تم سے چھوٹ جائے اسے مکمل کرلو۔‘‘

جَلَبَةً، فَقَالَ: "مَا شَأْنُكُمْ"؟ ← بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ إِذَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَاهُ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1644

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1645

أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا يعقوب بن إبراهيم الدورقي و أبو بشر الواسطي قالا : ثنا هشيم قال الدورقي أخبرنا يونس و قال أبو بشر عن يونس عن ابن سيرين أخبرني عمرو بن وهب قال : سمعت المغيرة بن شعبة قال : خصلتان لا أسأل عنهما أحد بعد ما قد شهدت من رسول الله صلى الله عليه و سلم إنا كنا معه في سفر فبرز لحاجته ثم جاء فتوضأ و مسح بناصيته و جانبي عمامته و مسح على خفيه قال : و صلاة الإمام خلف الرجل مع رعيته و شهدت من رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان في سفر فحضرت الصلاة فاحتبس عليهم النبي صلى الله عليه و سلم فأقاموا الصلاة و قدموا ابن عوف فصلى بهم بعض الصلاة و جاء النبي صلى الله عليه و سلم فصلى خلف ابن عوف ما بقي من الصلاة فلما سلم ابن عوف قام النبي صلى الله عليه و سلم فقضى ما سبق به هذا حديث الدورقي و قال أبو بشر عن عمرو بن وهب الثقفي عن المغيرة و قال : فبرز لحاجة فدعا بماء فأتيته بإداوة أو سطيحة و عليه جبة شامية ضيقة الكمين فأخرج يده من أسفل الجبة فتوصأ و مسح على خفيه و مسح بناصيته و جانبي العمامة ثم أبطأ على القوم فأقاموا الصلاة قال أبو بكر : إن صح هذا الخبر يعني قوله حدثني عمرو بن وهب فإن حماد بن زيد رواه عن أيوب عن ابن سيرين قال : حدثني رجل يكنى أبا عبد الله عن عمرو بن وهب

’’حضرت میغرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ سے دو چیزوں کو دیکھنے کے بعد ان کے بارے میں کسی سے سوال نہیں کروں گا ۔ہم ایک سفر میں آپ ﷺ کے ساتھ تھے تو آپ قضائے حاجت کےلیے تشریف لے گئے ۔ پھر آپ ﷺ واپس آئے تو وضو کیا ، اور اپنی پیشانی اور اپنے عمامہ کے دونوں اطراف کا مسح کیا اور اپنے دونوں موزوں کا بھی مسح کیا۔ (دوسری بات یہ ہے کہ ) امام کا اپنی رعایا کے ساتھ کسی آدمی کے پیچھے نماز ادا کرنا (جائز ہے ) ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ ایک سفر میں تھے تو نماز کا وقت ہو گیا اور نبی کریم ﷺ (قضائے حاجت اسے فار غ ہوکر ) ان تک نہ پہنچ سکے ۔صحابہ کرام ؓ نےنماز کھڑی کی اور حضرت عبد الرحمان بن عوف ؓ کو آگے بڑھا دیا ۔لہذا انہوں نے ابھی کچھ نماز ہی پڑھائی تھی کہ رسول اللہ ﷺ بھی تشریف لے آئے ۔آپ ﷺ نے حضرت عبد الرحمان بن عوف ؓ کے پیچھے بقیہ نماز ادا کی ،پھر جب حضرت ابن عو ف ؓ سلام پھیر لیا تو نبی کریم ﷺ نے کھڑے ہوکر فوت شدہ نماز ادا کرلی ۔‘‘یہ جناب الد ور قی کی روایت ہے ۔ جبکہ جناب ابو بشر کی روایت میں ہے :’’تو نبی کریم ﷺ قضائے حاجت کےلیے تشریف کے گئے اور آپﷺ نے پانی منگوایا تومیں ایک برتن یامشکیزے میں پانی لے کرحاضرہوا ۔آپ ﷺ نےتنگ آستینو ں والا ایک جبہ زیب تن کیا ہوا تھا ۔لہذا آپ ﷺ نے جبے کے نیچے سے اپنے ہاتھ نکال کر وضو کیا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا اور اپنی پیشانی اور عمامہ کے دونوں جانب مسح کیا ، پھر آپ ﷺ لوگوں کے پا س دیر سے تشریف لائے تو انہوں نے نماز کھڑی کر دی ۔‘‘امام ابو بکر فرماتے ہیں اگر یہ حدیث اس سند سے ثابت ہو یعنی ابو بشر کی سند میں ابن سیر ین کہتے ہیں :حدثنی عمرو بن وھب ( کہ مجھے عمروبن وہب نے بیان کیا ۔اس طرح انہوں نے اپنے سماع کی صر احت کر دی ہے )لیکن حماد بن زید کی سند میں ہے ،ابن سیر ین کہتے ہیں :حدثنی رجل یکنی اباعبداللہ عن عمر وبن وھب ۔(یعنی اس سند میں ابن سیر ین اور عمروبن وہب کے درمیان ابو عبداللہ نامی مہجول شخص کاواسطہ ہے ۔)‘‘

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← يُونُسَ ← أَبُو بِشْرِ: ← يونس و ← الدَّوْرَقِيُّ، ← هُشَيْمٌ ← يعقوب بن إبراهيم الدورقي و أبو بشر الواسطي ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1645

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1646

أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن سفيان الأيلي نا معاوية بن عبد الله بن معاوية بن عاصم بن المنذر بن الزبير لفظا قال : ثنا سلام أبو المنذر القاري نا يونس بن عبيد عن الحسن عن أبي رافع عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أقيمت الصلاة فأتوها و عليكم السكينة و الوقار فصلوا ما أدركتم و أتموا ما فاتكم

’’حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جب نماز کھڑی ہوجائے تو تم نماز کےلیے اس حالت میں آؤکہ تم پر سکون اور وقارہو ۔پھر جو نماز پالو وہ پڑھ لو اور جو تم سے فو ت ہوجائے اسے مکمل کولو ۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ الْقَارِئُ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَاصِمِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← محمد بن سفيان الأيلي ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1646

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1647

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ وَأَبُو مُوسَى، قَالَا: ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَتَرَكَ آيَةً، وَفِي الْقَوْمِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! نُسِّيتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا، أَوْ نُسِخَتْ؟ قَالَ: "نُسِّيتُهَا". هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ. وَقَالَ أَبُو مُوسَى: عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيّ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نُسِّيَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَفِي الْقَوْمِ أُبَيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! نُسِّيتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا، أَوْ نَسِيتَهَا؟ قَالَ: "لَا، بَلْ نُسِّيتُهَا".

’’حضرت ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نےنماز پڑھائی تو (دوران قراءت ) ایک آیت چھوڑ دی اور لوگو ں میں حضرت ابی بن کعب ؓ بھی موجود تھے ۔(نماز کےبعد ) انہوں نےعرض کی :اے اللہ کے رسول!آپ ﷺ فلاں آیت بھو ل گئے ہیں یا وہ منسوخ ہوگئی ہے ؟آپ ﷺ نے فرمایا:میں وہ بھول گیا تھا ۔‘‘یہ جناب بندار کی روایت ہے اور جناب ابوموسیٰ کی روایت میں ہے :’’نبی کریم ﷺ (نماز کے دوران قراءت کرتے ہوئے ) قرآن مجید کی ایک آیت بھو ل گئے ،جبکہ نمازیوں میں حضرت ابی ؓ بھی موجود تھے ۔انہوں نےعرض کی :اے اللہ کے رسول ! آپ فلاں فلاں آیت بھول گئے ہیں یا آپ کو بھلادی گئی ہے( منسوخ کردی گئی ہے )؟آپ ﷺ نےفرمایا :نہیں (منسوخ نہیں ہوئی )بلکہ میں اسے بھول گیا تھا۔‘‘

صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ فَتَرَكَ آيَةً، وَفِي الْقَوْمِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، فَقَالَ: ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِيهِ ← ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← ذَرٍّ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← بُنْدَارٌ وَأَبُو مُوسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1647

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1648

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا الْحُمَيْدِيُّ؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَّامٍ الْمِصْرِيُّ، نَا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، قَالَا: ثَنَا مَرْوَانُ بْن مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى: بْنِ كَثِيرٍ الْكَاهِلِيِّ، عَنْ مِسْوَرِ بْنِ يَزِيدَ الْأُسَيْدِيِّ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَسَدِيُّ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَرُبَّمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ، فَتَرَكَ شَيْئًا لَمْ يَقْرَأْهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَرَكْتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: "فَهَلَّا أَدْرَكْتُمُونِيهَا" (1). زَادَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، فَقَالَ: كُنْتُ أُرَاهَا نُسِخَتْ.

’’حضرت مسور بن یزید الا سیدی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز میں قراءت کرتے ہوئے سنا تو آپ نے کچھ آیات کی تلاوت چھوڑدی ۔تو ایک شخص نے آپ سے عرض کی :اے اللہ کےرسول ! آپ نے یہ آیات چھوڑدی ہیں آپ نے فرمایا :’’تو تم نےمجھے یاد کیوں نہ کرادیا؟ جناب محمد بن یحییٰ کی روایت میں یہ اضافہ ہے : ’’اس صحابی نے جواب دیا کہ میرے خیال میں وہ آیات منسوخ ہو گئی تھیں ۔ (اس لیےمیں نے آپ کو یاد نہ دلایا ۔)‘‘

شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ← مِسْوَرِ بْنِ يَزِيدَ الْأُسَيْدِيِّ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَسَدِيُّ، ← یَحْیَی بْنُ کثیر الکاھلی ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَّامٍ الْمِصْرِيُّ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1648

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1649

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْفَتْحِ، فَصَلَّى الصُّبْحَ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ، فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ. جِمَاعُ أَبْوَابِ الْعُذْرِ الَّذِي يَجُوزُ فِيهِ تَرْكُ إِتْيَانِ الْجَمَاعَةِ

’’حضرت عبداللہ بن سائب کہتے ہیں :میں فتح مکہ والے سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ،آپ نے صبح کی نماز ادا کی تو اپنے جوتے اتاردئیے اور انہیں اپنی بائیں جانب رکھ لیا ۔‘‘

يَسَارِهِ. جِمَاعُ أَبْوَابِ الْعُذْرِ الَّذِي يَجُوزُ فِيهِ تَرْكُ إِتْيَانِ الْجَمَاعَةِ ← حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَامَ الْفَتْحِ، فَصَلَّى الصُّبْحَ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ، فَوَضَعَهُمَا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1649

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1650

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَا: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الْأَيْلِيُّ، أَنَّ سَلَامَةَ بْنَ رَوْحٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُقَيْلٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ أَخْبَرَهُ: أَنَّ الْمُسْلِمِينَ بَيْنَمَا هُمْ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنْ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِهِمْ (2)، لَمْ يَفْجَأْهُمْ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ كَشَفَ سِتْرَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلَاةِ، ثُمَّ تَبَسَّمَ فَضَحِكَ، فَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ، وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ. وَقَالَ أَنَسٌ: وَهَمَّ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يَفْتَتِنُوا فِي صَلَاتِهِمْ فَرَحًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَتِمُّوا صَلَاتَكُمْ، ثُمَّ دَخَلَ الْحُجْرَةَ، وَأَرْخَى السِّتْرَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ. هَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ عَزِيزٍ، وَهُوَ أَحْسَنَهُمْ سِيَاقًا لِلْحَدِيثِ، وَأَتَمُهُّمْ حَدِيثًا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ: لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا، خَرَّجْتُهُ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ"، حَدَّثَنَاهُ عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ.

’’حضرت انس بن مالک انصاری ؓ سے روایت ہے کہ اس دوران میں کہ مسلمان سومواروالے دن نماز فجر اداکررہے تھےاور حضرت ابوبکر ؓ انہیں نماز پڑھارہے تھے ،تو اچانک رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کے حجرے کا پردہ اٹھا کر انہیں دیکھا ۔پھر آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پرایک دلکش مسکراہٹ پھیل گئی تو حضرت ابوبکر ؓ صف میں کھڑے ہونے کےلیے اپنی ایڑھیوں کے بل پیچھے ہٹے ،انہیں خیال ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نماز کےلیے تشریف لانا چاہتے ہیں اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں :’’اور مسلمانو ں نے رسول اللہ کی آمد پر خوشی کی وجہ سے اپنی نمازوں کو توڑنے کا قصدکر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیاکہ اپنی نماز مکمل کرو ۔پھرآپ ﷺ حجرہ میں واپس تشریف لے گئے اور اپنےاور اس کے درمیان پردہ لٹکا لیا۔پھر رسول اللہ اسی روزوفات پاگئے ۔ یہ روایت جناب محمد بن عزیز کی ہے اورانہوں نے باقی راویوں کی نسبت بہترین سیاق سے اور مکمل حدیث بیان کی ہے ۔امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں :’’جناب عبد الوارث بن سعید کی روایت میں ہے :’’رسول اللہ ﷺ تین روز تک ہمارے پاس (نماز کےلیے )تشریف نہیں لائے۔‘‘

أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ الْأَنْصَارِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَقِیلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الْأَيْلِيُّ، أَنَّ سَلَامَةَ بْنَ رَوْحٍ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1650

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1651

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالُوا: ثَنَا سُفْيَانُ، نَا الزُّهْرِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ: عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ". هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ؛ وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ وَأَحْمَدُ: عَنِ الزُّهْرِيِّ. وَقَالَ أَحْمَدُ: عَنْ أَنَسٍ.

’’حضرت انس بن مالک ؓنبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’جب کھانا حاضر ہو اور نماز کھڑی ہو جائے تو پہلے کھاناکھاؤ۔‘‘یہ روایت جناب عبدالجبار کی ہے ۔‘‘

أَنَسٍ، ← أَحْمَدُ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْمَخْزُومِيُّ وَأَحْمَدُ: ← "إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ". هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ؛ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزهري أنه ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1651

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1652

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْأَرْقَمِ كَانَ يُسَافِرُ، فَيَصْحَبُهُ قَوْمٌ يَقْتَدُونَ بِهِ. قَالَ: وَكَانَ يُؤَذِّنُ لِأَصْحَابِهِ، وَيَؤُمُّهُمْ. قَالَ: فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ يَوْمًا، ثُمَّ قَالَ: يَؤُمُّكُمْ أَحَدُكُمْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلْيَبْدَأْ بِالْخَلَاءِ".

’’حضرت عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن ارقم سفر کرتے تھے تو لوگ ان کے ساتھ ہوتے اور ان کی اقتداء کرتے ۔اور وہ اپنے ساتھیوں کےلیے اذان دیتے اوران کی امامت بھی کرتے ۔فرماتے ہیں :ایک دن نماز کے لیے اذان ہوگئی تو انہوں نے فرمایا :’’تم میں سے کوئی شخص جماعت کرادے کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتےہوئے سناہے :’’جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت کرنا چاہتا ہو اور نماز کھڑی ہو جائے تو اسے چاہیے کہ پہلے قضائے حاجت کرے ۔‘‘

"إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلْيَبْدَأْ بِالْخَلَاءِ". ← رَسُولِ اللَّهِ ← يَؤُمُّكُمْ أَحَدُكُمْ، فَإِنِّي ← فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ يَوْمًا، ثُمَّ ← وَكَانَ يُؤَذِّنُ لِأَصْحَابِهِ، وَيَؤُمُّهُمْ. ← أَبِيهِ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْأَرْقَمِ كَانَ يُسَافِرُ، فَيَصْحَبُهُ قَوْمٌ يَقْتَدُونَ بِهِ. ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1652

chevron_left Previous
1…9101112
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals