صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1515
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْمُغِيرَةِ بْنَ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَزْوَةَ تَبُوكَ، قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَأَقْبَلْتُ مَعَهُ حَتَّى نَجِدَ النَّاسَ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَصَلَّى لَهُمْ، فَأَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ، فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ الرَّكْعَةَ الْأَخِيرَةَ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَامَ (1) رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُتِمُّ صَلَاتَهُ، فَأَفْزَعَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِينَ، فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاتَهُ، أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: "أَحْسَنْتُمْ"، أَوْ قَالَ: "أَصَبْتُمْ". يَغْبِطُهُمْ أَنْ صَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي الْخَبَرِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الصَّلَاةَ إِذَا حَضَرَتْ وَكَانَ الْإِمَامُ الْأَعْظَمُ غَائِبًا عَنِ النَّاسِ، أَوْ مُتَخَلِّفًا عَنْهُمْ فِي سَفَرٍ، فَجَائِزٌ لِلرَّعِيَّةِ أَنْ يُقَدِّمُوا رَجُلًا مِنْهُمْ يَؤُمُّهُمْ، إِذِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ حَسَّنَ فِعْلَ الْقَوْمِ أَوْ صَوَّبَهُ، إِذْ صَلَّوُا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا بِتَقْدِيمِهِمْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ لِيَؤُمَّهُمْ، وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ بِانْتِظَارِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَأَمَّا إِذَا كَانَ الْإِمَامُ الْأَعْظَمُ حَاضِرًا، فَغَيْرُ جَائِزٍ أَنْ يَؤُمَّهُمْ أَحَدٌ بِغَيْرِ إِذْنِهِ، لِأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[161 - ب] قَدْ زَجَرَ عَنْ أَنْ يُؤَمَّ السُّلْطَانُ بِغَيْرِ أَمْرِهِ.
"حضرت مغیرہ بن شعیہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کہ معیت میں غزوہ تبوک میں شرکت کی۔حضرت مغیرہ ؓ فرماتے ہیں: میں آپ کے ساتھ آیا حتٰی کہ ہم نے دیکھا کہ لوگوں نے حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ کو آ گے بڑھایا ہوا ہے اور وہ انہیں نماز پڑھ رہے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے ایک رکعت پالی اور آخری رکعت پالی اور آخری رکعت لوگوں کے ساتھ ادا کی۔پھر جب حضرت عبدالرحمان ؓ نے اسلام پھیرا، تو رسول اللہ ﷺ اپنی نماز مکمل کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔اس سے مسلمان پریشان ہو گئے اور انہوں نے بکثرت سبحان اللہ پڑھنا شروع کر دیا۔جب نبی اکرم ﷺ نے اپنی نماز مکمل کی تو ان کی طرف متوجہ ہوۓ،پھرفرمایا: تم نے بہت اچھا کام کیا ہے،یا فرمایا: تم نے درست کام کیا ہے۔آپ ان پر رشک کررہے تھے کہ انہوں نے نماز کو اس کے وقت پر ادا کیاہے" امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں:"اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ نماز کا وقت ہو جاۓ اور امام اعظم لوگوں میں موجود نہ ہو یا وہ سفر میں ان کے پیچھے رہ گیا ہو تو رعایا کے لیے جائز ہے کہ وہ کسی آدمی کو اپنا امام بنا لیں جو انہیں نماز پڑھاۓ"کیونکہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام (ؓ) کے فعل کی تحسین فرمائ ہے یا اسے درست قراردیاہے۔جبکہ انہوں نے حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ کو امامت کے لیے آگے بڑھا لیا تھا اور نماز کو اس کے وقت پر ادا کیاتھا۔آپ نے انہیں اپنا انتظار کرنے کا حکم نہیں دیا۔مگر جب امام اعظم موجود ہو تو پھر اس کی اجازت کے بغیر کسی شخص کے لیے امامت کرانا جائز نہیں ہے۔کیونکہ نبی کریم ﷺ نے حکمران و امیر کی اجازت کے بغیر اس کی امامت کرانے سے منع کیاہے"
حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1515
