Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1505

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ -يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ- عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَالزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ، ائْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ، عَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا".

"حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب نماز کھڑی ہو جاتے تو تم نماز کے لیے دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ تم سکون اور وقار کے ساتھ چلتے ہوئے آؤ، جو نماز پالو وہ پڑھ لو اور جو حصہ تم سے فوت ہو جائے اسے مکمل کرلو۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← أَبِي سَلَمَةَ، وَالزُّهْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَی الْفَزَارِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1505

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1506

نَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ؛ ح ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، نَا يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- قَالَا: ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَذَّنَ [160 - أ] مُؤَذِّنٌ، فَقَامَ رَجُلٌ فَخَرَجَ، فَقَالَ: "أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَقَالَ بُنْدَارٌ: فَقَدْ خَالَفَ أَبَا الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

"جناب ابو شعثاء محاربی سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ہم حضرت ابوہریرۃؓ کے ساتھ مسجد میں تھے، مؤذن نے اذان کہی تو ایک شخص تو اس نے ابو القاسم ؑ کی نافرمانی کی ہے۔" جناب بندار کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: اس شخص نے ابو القاسم ؑ (کے حکم) کی مخالفت کی ہے۔

بُنْدَارٌ: فَقَدْ خَالَفَ أَبَا الْقَاسِمِ ← اَمَّا ھٰذَا فَقَدْ عَصَی اَبَا الْقَاسِمِ ← كُنَّا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَذَّنَ أ] مُؤَذِّنٌ، فَقَامَ رَجُلٌ فَخَرَجَ، ← أَبِي الشَّعْثَاءَ الْمُحَارِبِيِّ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1506

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1507

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثَنَا الْأَعْمَشُ؛ (ح) وَثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ؛ (ح) وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- ثَنَا شُعْبَةُ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ؛ (ح) وَثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، نَا شُعْبَةُ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ؛ (ح) وَثَنَا أَبُو عمار (1) وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، قَالَا: ثَنَا وَكِيعٌ. قَالَ أَبُو عمار: ثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، وَقَالَ سَلْمٌ: عَنْ فِطْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "يَؤُمُّ الْقَوْمَ (2) أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً، فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً، فَأَقْدَمُهُمْ فِي الْهِجْرَةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ سِنًّا". هَذَا حَدِيثُ أَبِي مُعَاوِيَةَ. وَفِي حَدِيثِ شُعْبَةَ: "أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ، وَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً". وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ: أَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ.

"حضرت ابو مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"لوگوں کو امامت وہ شخص کرائے گا جو اُن میں سے سب سے زیادہ قرآن مجید پڑھنے والا ہو۔اگر وہ قرآن مجید کے پڑھنے میں برابر ہوں تو سنت نبوی کو زیادہ جاننے والا امامت کراۓ گا۔اگر وہ سنت کے علم میں برابر ہوں، تو ان میں سے پہلے ہجرات کرنے والا امات کراۓگا اور اگر وہ ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو ان میں سے عمر میں بڑا شخص امامت کراۓ گا۔"یہ حدیث جناب ابومعاویہ کی ہے۔جناب شعبہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں:"ان کی امامت اللہ کی کتاب کو زیادہ پڑھنے والا اور عالم کراۓ گا اور قراءت میں مقدم شخص کراۓ گا۔ان کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں:"سنت کو زیادہ جاننے والا امامت کراۓگا۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← اَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← فِطْرٍ ← فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، وَقَالَ سَلْمٌ: ← أَبُو عَمَّارٍ، ← وَكِيعٌ، ← وَثَنَا أَبُو عمار وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← وَثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- ← وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← الْاَعْمَشِ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← وَثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1507

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1508

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ؛ وَثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ وَهِشَامٍ؛ وَثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ وَهِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ". أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ثَنَا شُعْبَةُ: بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِنَحْوِهِ.

"حضرت ابو سعید خدری ؓ، نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:" جب تین افراد ہوں تو ان میں سے ایک انہیں امامت کراۓ اور ان میں سے امامت کا زیادہ حق دار وہ شخص ہے جو قرآن کو زیادہ پڑھنے اور جاننے والاہو۔

شُعْبَةُ: بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِنَحْوِهِ. ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ، ← "إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ". ← النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، وَهِشَامٌ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ وَهِشَامٍ؛ وَثَنَا بُنْدَارٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← قَتَادَةُ؛ وَثَنَا بُنْدَارٌ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1508

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1509

أنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَينُ بْنُ حُرَيْثٍ (1)، نَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْثًا وَهُمْ نَفَرٌ، فَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، قَالَ: "مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ"؟ فَاسْتَقْرَأَهُمْ، حَتَّى مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ وَهُوَ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا، قَالَ: "مَاذَا مَعَكَ يَا فُلَانُ؟ " قَالَ: مَعِي كَذَا وَكَذَا، وَسُورَةُ الْبَقَرَةِ. قَالَ: "مَعَكَ سُورَةُ الْبَقَرَةِ؟ " قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "اذْهَبْ فَأَنْتَ أَمِيرُهُمْ". فَقَالَ رَجُلٌ -هُوَ مِنْ أَشْرَفِهِمْ- وَالَّذِي كَذَا وَكَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مَنَعَنِي أَنْ أَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ إِلَّا خَشْيَةَ أَنْ لَا أَقُومَ بِهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "تَعَلَّمِ الْقُرْآنَ، فَاقْرَأْهُ وَارْقُدْ، فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَرَأَهُ، وَقَامَ (2) بِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا يَفُوحُ رِيحُهُ (3) عَلَى كُلِّ مَكَانٍ، وَمَنْ تَعَلَّمَهُ وَرَقَدَ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ أُوكِئَ عَلَى مِسْكٍ".

"حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ کرنا چاہا جبکہ وہ چند افراد پر مشتمل تھا۔رسول اللہﷺ نے انہیں بلایا اور پوچھا: تمہیں کتنا قرآن یاد ہے؟ پھر آپ نے ان سے قرآن سنا،حتی کہ جب آپ ان میں سے ایک کم سن شخص کے پاس پہنچے تو اس سے پوچھا:اے فلاں! تمہیں کون کون سی سورتیں یاد ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ مجھے فلاں فلاں سورت اور سورۂ بقرہ یادہے۔آپ نے پوچھا : تمہیں سورۂ بقرہ بھی یاد ہے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں! اس پر آپ نے فرمایا: جاؤ تم ان کے امیر ہو۔ایک شخص جو اُن میں شرف و منزلت والا تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم! جس کی صفات اس اس طرح ہیں، میں نے قرآن مجید صرف اس ڈر کی وجہ سے نہیں سیکھا کہ میں اس پر عمل نہیں کر سکوں گا (اسے نماز تہجد میں پڑھ نہیں سکوں گا)۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" قرآن مجید سیکھو، اسے پڑھو اور سو بھی جایاکرو۔بے شک قرآن مجید کی مثال اس شخص کے لیے جو اسے سیکھتا ہے،اسے پڑھتاہے اور نماز تہجد میں اس کی تلاوت کرتاہے، اس تھیلے جیسی ہے جس میں کستوری بھری ہواور اس کی خوشبو ہر جگہ مہک رہی ہو اور اسے اپنے سینے میں محفوظ کر کے سویا رہا (نمازتہجد میں اسے تلاوت نہ کیا) تو اس کی مثال اس تھیلے جیسی ہے جس کی کستوری کو تسمے سے بند کر دیا گیا ہو(لہذا س کی مہک بکھرتی نہیں)۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1509

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1510

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَا: ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَا: ثَنَا خَالِدٌ؛ ح وَثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ؛ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ -وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ،- قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَا وَصَاحِبٌ لِي فَلَمَّا أَرَدْنَا الْإِقْفَالَ [160 - ب]، قَالَ لَنَا: "إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَذِّنَا، ثُمَّ أَقِيمَا، ثُمَّ لْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا". زَادَ الدَّوْرَقِيُّ فِي حَدِيثِهِ قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: فَأَيْنَ الْقِرَاءَةُ؟ قَالَ: كَانَا مُتَقَارِبَيْنِ.

"حضرت مالک بن حویرث ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں (دینی مسائل سیکھنے کے لیے ) حاضر ہوۓ،پھر جب ہم نے واپس جانے کا ارادہ کیا تو آپ نے ہمیں فرمایا:"جب نماز کا وقت ہو جاۓ تو اذان کہنا،پھر اقامت کہنا پھر تم میں سے بڑا شخص تمہاری امامت کراۓ۔جناب الدورقی نے اپنی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے:"کہتے ہیں: میں نے حضرت ابو قلابہ سے پوچھا: قراءت قرآن میں مہارت کو معیار کیوں نہیں بنایا؟ انہوں نے فرمایا:" وہ دونوں صحابی قراءت کے لحاظ سے برابر تھے۔(اس لیے بڑی عمر والا امامت کا حق دار ٹھہرایاگیا)۔

مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ -وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ،- ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← خَالِدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1510

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1511

أنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَا: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ. أَنَّ الْمُهَاجِرِينَ لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ، نَزَلُوا إِلَى جَنْبِ قُبَاءٍ، حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، أَمَّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا، مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الْأَسْدِ. هَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ.

"حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ:"مہاجرین جب مدینہ منورہ تشریف لاۓ تو وہ قباء کی ایک جانب فروکش ہوۓ۔نماز کا وقت ہوا تو حضرت ابو حزیفہ ؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت سالم ؓ نے انہیں سب سے زیادہ قرآن یاد تھا۔ان مہاجرین میں حضرت عمر بن خطاب اور ابو سلمہ بن عبدالاسدؓ جیسے(جلیل القدر) صحابہ موجود تھے۔" یہ حدیث جناب احمد بن سنان کی ہے۔

نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1511

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1512

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: ثَنَا عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، نَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: كُنَّا عَلَى حَاضِرٍ فَكَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا رَاجِعِينَ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَأَدْنُو مِنْهُمْ، فَأَسْمَعُ، حَتَّى حَفِظْتُ قُرْآنًا. قَالَ: وَكَانَ النَّاسُ يَنْتَظِرُونَ بِإِسْلَامِهِمْ فَتْحَ مَكَّةَ، فَلَمَّا فُتِحَتْ، جَعَلَ الرَّجُلُ يَأْتِيهِ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَا وَافِدُ بَنِي فُلَانٍ، وَجِئْتُكَ بِإِسْلَامِهِمْ، فَانْطَلَقَ أَبِي بِإِسْلَامِ قَوْمِهِ. فَلَمَّا رَجَعَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "قَدِّمُوا أَكْثَرَكُمْ قُرْآنًا". قَالَ: فَنَظَرُوا وَأَنَا لَعَلَى حِوَاءٍ. قَالَ الدَّوْرَقِيُّ: حِوَاءٍ عَظِيمٍ. وَقَالَ أَبُو هَاشِمٍ: حِوَاءٍ، وَقَالَا: فَمَا وَجَدُوا فِيهِمْ أَحَدًا أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي، فَقَدَّمُونِي وَأَنَا غُلَامٌ، فَصَلَّيْتُ بِهِمْ، وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ لِي، فَكُنْتُ إِذَا رَكَعْتُ أَوْ سَجَدْتُ، فَتَبْدُو عَوْرَتِي، فَلَمَّا صَلَّيْنَا تَقُولُ لَنَا عَجُوزٌ دَهْرِيَّةٌ: غَطُّوا عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ. قَالَ: فَقَطَعُوا لِي قَمِيصًا. قَالَ: أَحْسَبُهُ قَالَ: مِنْ مَعْقِدِ الْبَحْرَيْنِ، فَذَكَرَ أَنَّهُ فَرِحَ بِهِ فَرَحًا شَدِيدًا. قَالَ الدَّوْرَقِيُّ: قَالَ: "لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا".

"حضرت عمروبن سلمہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ:"ہم ایک ایسی جگہ رہائش پذیر تھے جہاں لوک آتے جاتے رہتے تھے۔لہذا قافلے نبی کریم ﷺ کی خدمت سے واپسی پر ہمارے پاس سے گزرتے، تو میں ان کے قریب ہو کر ان سے(قرآن مجید) سنتا رہتا۔حتیٰ کہ میں نے کا کافی سارا قرآن مجید حفظ کرلیا۔وہ کہتے ہیں:لوگ اسلام قبول کرنے کے لیے فتح مکہ کے منتطرتھے۔جب مکہ فتح ہو گیا تو لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔ایک آدمی آکرکہتا: اے اللہ کے رسول! میں فلاں قبییلے کا قاصد ہوں اور آپ کی خدمت میں ان کے اسلام قبول کرنے کی خبر لے کر حاضرہوا ہوں۔لہٰذا میرے والد گرامی بھی اپنی قوم کے اسلام لانے کی خبر لے کر گۓ،پھر جب واپس آۓ تو کہا:رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہےکہ تم اس شخص کو اپنا امام بناؤ جسے قرآن مجید زیادہ یاد ہو۔کہتے ہیں:لوگوں نے اس بارے میں غوروفکر اور مشورہ کیا (کہ کسے امام بنایا جاۓ) جبکہ میں بستی میں تھا۔جناب دورقی کی روایت میں ہے:"میں ایک عظیم بستی میں تھا"تو لوگوں کو مجھ سے زیادہ قرآن مجید یاد کرنے والا کوئی شخص نہ ملا۔لہٰذا انہوں نے مجھے اپنا امام بنا لیا حالانکہ میں نا بالغ لڑکا تھا۔تو میں نے انہیں نماز پڑھائی۔میں نے اپنی ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی۔جب میں رکوع یا سجدہ کرتا تو میری شرم گاہ ننگی ہو جاتی۔جب ہم نے نماز مکمل کی تو ایک طویل العمربڑھیا نے کہا: اپنے قاری کی شرم گاہ کو ہم سے ڈھانپو۔وہ کہتے ہیں:"انہوں نے مجھے ایک قمیص بنا کردی۔" راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہون نےیہ کہا تھا کہ بحرین کے بنے ہوۓ ازار بند کی قمیص بنا کر دی۔"یہ بھی بیان کیا کہ وہ قمیص ملنے پر بے حدخوش ہوۓ تھے۔"جناب دورقی کی روایت میں ہے:"تم میں سے زیادہ قرآن جاننے والے کو تمہاری امامت کرانی چاہیے۔"

عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1512

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1512

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ".

امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں:"اس مسئلے کی دلیل نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث ہے کہ لوگوں کی امامت ان میں سے وہ شخص کراۓ جسے قرآن زیادہو(خواہ وہ بیٹا ہو یا آزاد کردہ غلام۔)"

أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ النَّبِيِّ "يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ".

Hadith 1512

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1512

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: ثَنَا عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، نَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: كُنَّا عَلَى حَاضِرٍ فَكَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا رَاجِعِينَ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَأَدْنُو مِنْهُمْ، فَأَسْمَعُ، حَتَّى حَفِظْتُ قُرْآنًا. قَالَ: وَكَانَ النَّاسُ يَنْتَظِرُونَ بِإِسْلَامِهِمْ فَتْحَ مَكَّةَ، فَلَمَّا فُتِحَتْ، جَعَلَ الرَّجُلُ يَأْتِيهِ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَا وَافِدُ بَنِي فُلَانٍ، وَجِئْتُكَ بِإِسْلَامِهِمْ، فَانْطَلَقَ أَبِي بِإِسْلَامِ قَوْمِهِ. فَلَمَّا رَجَعَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "قَدِّمُوا أَكْثَرَكُمْ قُرْآنًا". قَالَ: فَنَظَرُوا وَأَنَا لَعَلَى حِوَاءٍ. قَالَ الدَّوْرَقِيُّ: حِوَاءٍ عَظِيمٍ. وَقَالَ أَبُو هَاشِمٍ: حِوَاءٍ، وَقَالَا: فَمَا وَجَدُوا فِيهِمْ أَحَدًا أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي، فَقَدَّمُونِي وَأَنَا غُلَامٌ، فَصَلَّيْتُ بِهِمْ، وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ لِي، فَكُنْتُ إِذَا رَكَعْتُ أَوْ سَجَدْتُ، فَتَبْدُو عَوْرَتِي، فَلَمَّا صَلَّيْنَا تَقُولُ لَنَا عَجُوزٌ دَهْرِيَّةٌ: غَطُّوا عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ. قَالَ: فَقَطَعُوا لِي قَمِيصًا. قَالَ: أَحْسَبُهُ قَالَ: مِنْ مَعْقِدِ الْبَحْرَيْنِ، فَذَكَرَ أَنَّهُ فَرِحَ بِهِ فَرَحًا شَدِيدًا. قَالَ الدَّوْرَقِيُّ: قَالَ: "لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا".

اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ کبھی امام کی نمازناقص رہ جاتی ہے جبکہ مقتدیوں کی نماز مکمل ہوجاتی ہے ان لوگوں کے قول کے بر خلاف جن کا دعوی ہے کہ مقتدی کی نماز اپنے امام کی نماز کے ساتھ متصل ہوتی ہے۔اس لیے جب امام کی نماز فاسد ہوجاۓگی تو مقتدی کی فاسد ہوجاۓگی۔

عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1512

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1513

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ؛ ح وَثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، ثَنَا عَفَّانُ، نَا وُهَيْبٌ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ؛ ح وَثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ الْوَقْتَ، وَأَتَمَّ الصَّلَاةَ فَلَهُ وَلَهُمْ، وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكِ شَيْئًا، فَعَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهِمْ". هَذَا حَدِيثُ ابْنِ وَهْبٍ، وَمَعْنَى أَحَادِيثِهِمْ سَوَاءٌ.

حضرت عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوۓ سنا:"جس شخص نے لوگوں کو صحیح (اول) وقت پر امامت کرائی اور مکمل نماز پڑھائی، تو اسے اور مقتدیوں کو بھی اجروثواب ملے گا اور جس شخص نے اس میں کوئی کمی وکوتاہی کی تو اس کا گناہ امام ہی کو ہو گا، مقتدیوں کو نہیں۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1513

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1514

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، نَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا، قَالَ: حَدَّثَنِي بَكْرٌ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَخَلَّفَ، فَتَخَلَّفَ مَعَهُ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وقَالَ: قَالَ: فَانْتَهَيْنَا إِلَى النَّاسِ وَقَدْ صَلَّى عَبْدُ الرَّحْمَنِ [161 - أ] بْنُ عَوْفٍ رَكْعَةً، فَلَمَّا أَحَسَّ بِجِيئَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ صَلِّ، فَلَمَّا قَضَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ الصَّلَاةَ وَسَلَّمَ، قَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمُغِيرَةُ فَأَكْمَلَا مَا سَبَقَهُمَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ قَدْ يَغْلَطُ فِيهَا مَنْ لَا يَتَدَبَّرُ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ وَلَا يَفْهَمُ الْعِلْمَ وَالْفِقْهَ، زَعَمَ بَعْضُ مَنْ يَقُولُ بِمَذْهَبِ الْعِرَاقِيِّينَ أَنَّ مَا أَدْرَكَ مَعَ الْإِمَامِ آخِرَ صَلَاتِهِ، أَنَّ فِي هَذِهِ اللَّفْظَةِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمُغِيرَةَ إِنَّمَا قَضَيَا الرَّكْعَةَ الْأُولَى، لِأَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِنَّمَا سَبَقَهُمَا بِالْأُولَى لَا بِالثَّانِيَةِ، وَكَذَلِكَ ادَّعَوْا فِي قَوْلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا"، فَزَعَمُوا أَنَّ فِيهَ دَلَالَةً عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا يَقْضِي أَوَّلَ صَلَاتِهِ لَا آخِرَهَا. وَهَذَا التَّأْوِيلُ مَنْ تَدَبَّرَ الْفِقْهَ، عَلِمَ أَنَّ هَذَا التَّأْوِيلَ خِلَافُ قَوْلِ أَهْلِ الصَّلَاةِ جَمِيعًا، إِذْ لَوْ كَانَ الْمُصْطَفَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمُغِيرَةُ بَعْدَ سَلَامِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَضَيَا الرَّكْعَةَ الْأُولَى الَّتِي فَاتَتْهُمَا، لَكَانَا قَدْ قَضَيَا رَكْعَةً بِلَا جِلْسَةٍ وَلَا تَشَهُّدٍ، إِذِ الرَّكْعَةُ الَّتِي فَاتَتْهُمَا، وَكَانَتْ أَوَّلَ صَلَاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، كَانَتْ رَكْعَةً بِلَا جِلْسَةٍ وَلَا تَشَهُّدٍ. وَفِي اتِّفَاقِ أَهْلِ الصَّلَاةِ أَنَّ الْمُدْرِكَ مَعَ الْإِمَامِ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ يَقْضِي رَكْعَةً بِجِلْسَةٍ وَتَشَهُّدٍ وَسَلَامٍ، مَا بَانَ وَصَحَّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَقْضِ الرَّكْعَةَ الْأُولَى الَّتِي لَا جُلُوسَ فِيهَا، وَلَا تَشَهُّدَ، وَلَا سَلَامَ، وَأنَّهُ قَضَى الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ الَّتِي فِيهَا جُلُوسٌ وَتَشَهُّدٌ وَسَلَامٌ. وَلَوْ كَانَ مَعْنَى قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا" مَعْنَاهُ أَنِ اقْضُوا مَا فَاتَكُمْ، كَمَا ادَّعَاهُ مَنْ خَالَفَنَا فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ، كَانَ عَلَى مَنْ فَاتَتْهُ رَكْعَةٌ مِنَ الصَّلَاةِ مَعَ الْإِمَامِ أَنْ يَقْضِيَ رَكْعَةً بِقِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسَجْدَتَيْنِ بِغَيْرِ جُلُوسٍ وَلَا تَشَهُّدٍ وَلَا سَلَامٍ. وَفِي اتِّفَاقِهِمْ مَعَنَا أَنَّهُ يَقْضِي رَكْعَةً بِجُلُوسٍ وَتَشَهُّدٍ مَا بَانَ وَثَبَتَ أَنَّ الْجُلُوسَ وَالتَّشَهُّدَ وَالسَّلَامَ مِنْ حُكْمِ الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ، لَا مِنْ حُكْمِ الْأُولَى، فَمَنْ فَهِمَ الْعِلْمَ وَعَقَلَهُ وَلَمْ يُكَابِرْ، عَلِمَ أَنْ لَا تَشَهُّدَ وَلَا جُلُوسَ لِلتَّشَهُّدِ وَلَا سَلَامَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ.

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں کی:"نبی کریم (قافلے سے) پیچھے رہ گئے اور حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ بھی آپ کے ساتھ پیچھے ر ہ گئے۔"پھر انہوں نے مکمل حدیث بیان کی۔ وہ فرماتے ہیں:"پھر ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ انہیں ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹنا چاہا۔لہٰذا نبی کریم ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ تم ہی نماز پڑھاؤ، پھر جب حضرت عبدالرحمان ؓ نے نماز مکمل کی اور اسلام پھیرا، تو نبی کریم ﷺ اور حضرت مغیرہؓ کھڑے ہوگئے اور انہوں نے وہ رکعت مکمل کی جو حضرت عبد الرحمان ؓ (ان کے آنے سے) پہلے پڑھا چکے تھے۔" امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں:"اس مسٔلہ میں ان لوگوں نے غلطی کی ہے جو اس میں تدبرووتفکر نہیں کرسکے اور نہ وہ علم و دانش سے کام لیتے ہیں۔اہل عراق کا مذہب اختیار کرنے والے بعض افراد کا یہ دعویٰ ہے کہ نمازی جو حصہ امام کے ساتھ پاۓ گا وہ اس کی آخری نماز ہوگی اور (وہ یہ کہتے ہیں کہ) اس روایت میں اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کریم ﷺ اور حضرت مغیرۃ ؓ نے پہلی رکعت مکمل کی تھی۔کیونکہ حضرت عبدالرحمان ؓ ان کےآنے سے پہلے رکعت پڑھاچکے تھے، دوسری رکعت نہیں۔اسی طرح انہوں نے نبی کریم ﷺ کے اس فرمان "اور تمہاری جونماز امام کے ساتھ فوت ہوجاۓ اس کی قضادے لو۔" میں بھی دعویٰ کیاہے کہ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ نمازی ابتدائی نماز کی قضادے گا، اآخری حصے کی قضانہیں دے گا۔علمی سوجھ بوجھ رکھنے والا ہرشخص جان لےگا کہ یہ تاویل تمام مسلمانوں کے قول کے خلاف ہے۔کیونکہ اگر رسول اللہ ﷺ اور حضرت مغیرہؓ نے حضرت عبدالرحمان ؓ کے سلام پھیرنے کے بعد پہلی رکعت کی قضادی ہوتی جواُن سے فوت ہو گئ تھی،تو وہ یہ رکعت بغیر جلسہ اور تشہد کے پوری کرتے،کیونکہ ان کی جو رکعت رہ گئی تھی وہ حضرت عبدالرحمانؓ کی پہلی رکعت تھی وہ بغیر جلسہ اور تشیہد کے تھی۔تمام مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ جس شخص کو امام کے ساتھ نماز فجر کی ایک رکعت مل جاۓ وہ دوسری رکعت جلسہ،تشہد اور سلام کے ساتھ مکمل کرے گا۔ اس سے بات کی وضاحت اور تصحیح ہوگئ کہ نبی کریم ﷺ نے پہلی رکعت کہ قضا نہیں دی کہ جس میں جلسہ،تشہد اور اسلام نہیں ہوتا بلکہ آپ نے دوسری رکعت کی قضادی ہے،جس میں جلسہ،تشہد اور سلام پھیرنا ہوتا ہے۔اور اگر آپ کے اس فرمان "تمہاری جو نماز فوت ہو جاۓ اسے پورا کر لو" کا معنی یہ ہوتا کہ تم فوت شدہ نماز کی قضادے لو جیسا کہ اس مسئلہ میں ہمارے مخالفین کا موقف ہے تو پھر اس شخص کے لیے جس کی امام کے ساتھ ایک رکعت فوت ہوجاۓ،ضروری ہے کہ وا یک رکعت قیام،رکوع اور سجدوں کے ساتھ ادا کرے اور اس میں جلسہ ، تشہد اور سلام نہ پھیرے۔حالانکہ اہل عراق کا ہمارے ساتھ اتفاق ہے کہ وہ یہ رکعت جلسہ اورتشہد کے ساتھ ادار کرے گا۔اس سےیہ بات واضح ہوگئی کہ جلسہ،تشہد اور سلام پھیرنا یہ آخری رکعت کے احکام ہیں،پہلی رکعت کے نہیں۔لہٰذا جو شخص علمی فہم و فراست رکھتا ہو اور عنا دوہٹ دھری اس کا شیوہ نہ ہو وہ جانتا ہے کہ تشہد،تشہد کے لیے بیٹھنا اور اسلام پھیرنا نماز کی پہلی رکعت نہیں ہے(بلکہ یہ دوسری رکعت کے احکام ہیں)۔"

أَبِيهِ ← حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، ← بَكْرٌ، ← حُمَيْدًا، ← الْمُعْتَمِرُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1514

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals