صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1470
أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن بشار نا يحيى بن سعيد و محمد بن جعفر قالا حدثنا شعبة عن قتادة و عقبة بن وساج عن أبي الأحوص عن عبد الله بن مسعود : عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : صلاة الرجل في الجميع تفضل على صلاته وحده بخمس وعشرين
" حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "آدمی کی جماعت کے ساتھ نماز کی ادائیگی، اس کے تنہا نماز سے پچیس گنا فضیلت والی ہے۔" امام ابو بکرؒ فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ اس جنس سے تعلق رکھتے ہیں جس کے متعلق میں کتاب الایمان میں بیان کر چکا ہوں کہ عرب جب کسی اجزاء اور شاخوں والی چیز کا عدد بیان کرتے ہیں تو اس سے ان کی مراد اس عدد سے زائد کی نفی کرنا نہیں ہوتا۔ لہٰذا نبی کریم ﷺ کے اس فرمان "پچیس گنا" سے آپ کی مراد یہ نہیں کہ باجماعت نماز کا ثواب اس سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ ہماری اس تاویل و تفسیر کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔"
صلاة الرجل في الجميع تفضل على صلاته وحده بخمس وعشرين ← النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← قتادة و عقبة بن وساج ← شُعْبَةُ، ← يحيى بن سعيد و محمد بن جعفر ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 1470
