صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ العِیدَینِ الفِطرِ وَالاَضحَیِ وَمَا یُحتَاجُ فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1462
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَّامٍ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ، صَلَّى وَقَالَ: "قَدْ قَضَيْنَا الصَّلَاةَ، فَمَنْ شَاءَ جَلَسَ لِلْخُطْبَةِ، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يَذْهَبَ ذَهَبَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا حَدِيثٌ خُرَاسَانِيٌّ غَرِيبٌ غَرِيبٌ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ غَيْرَ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى الشَّيْبَانِيِّ، كَانَ هَذَا الْخَبَرُ أَيْضًا عِنْدَ أَبِي عَمَّارٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى، لَمْ يُحَدِّثْنَا بِهِ بِنَيْسَابُورَ، حَدَّثَ بِهِ أَهْلَ بَغْدَادَ عَلَى مَا خَبَّرَنِي بَعْضُ الْعِرَاقِيِّينَ.
حضرت عبد اللہ بن سائب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں عید والے دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے نماز پڑھائی اور فرمایا: ہم نے نماز ادا کر لی ہے، تو جو شخص چاہے وہ خطبہ سننے کے لیے بیٹھا رہے ، اور جو شخص جانا چاہے وہ چلا جائے۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: یہ خراسانی روایت نہایت غریب ہے۔ ہمارے علم کے مطابق اسے صرف فضل بن موسی شیبانی نے روایت کیا ہے۔ یہ روایت ابو عمار کے پاس بھی موجود تھی، انہوں نے نیسابور میں ہمیں یہ حدیث بیان نہیں کی، اہل بغداد کو یہ حدیث بیان کی تھی جیسا کہ بعض عراقی علماء نے مجھے بتایا ہے۔"
عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَّامٍ الْمِصْرِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 1462
