Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ العِیدَینِ الفِطرِ وَالاَضحَیِ وَمَا یُحتَاجُ فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1462

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَّامٍ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ، صَلَّى وَقَالَ: "قَدْ قَضَيْنَا الصَّلَاةَ، فَمَنْ شَاءَ جَلَسَ لِلْخُطْبَةِ، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يَذْهَبَ ذَهَبَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا حَدِيثٌ خُرَاسَانِيٌّ غَرِيبٌ غَرِيبٌ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ غَيْرَ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى الشَّيْبَانِيِّ، كَانَ هَذَا الْخَبَرُ أَيْضًا عِنْدَ أَبِي عَمَّارٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى، لَمْ يُحَدِّثْنَا بِهِ بِنَيْسَابُورَ، حَدَّثَ بِهِ أَهْلَ بَغْدَادَ عَلَى مَا خَبَّرَنِي بَعْضُ الْعِرَاقِيِّينَ.

حضرت عبد اللہ بن سائب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں عید والے دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے نماز پڑھائی اور فرمایا: ہم نے نماز ادا کر لی ہے، تو جو شخص چاہے وہ خطبہ سننے کے لیے بیٹھا رہے ، اور جو شخص جانا چاہے وہ چلا جائے۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: یہ خراسانی روایت نہایت غریب ہے۔ ہمارے علم کے مطابق اسے صرف فضل بن موسی شیبانی نے روایت کیا ہے۔ یہ روایت ابو عمار کے پاس بھی موجود تھی، انہوں نے نیسابور میں ہمیں یہ حدیث بیان نہیں کی، اہل بغداد کو یہ حدیث بیان کی تھی جیسا کہ بعض عراقی علماء نے مجھے بتایا ہے۔"

عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَّامٍ الْمِصْرِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1462

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ العِیدَینِ الفِطرِ وَالاَضحَیِ وَمَا یُحتَاجُ فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1463

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ، وَقَالَ مَرَّةً: فِي الْعِيدِ، بِـ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى). وَ (هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ)، فَإِنْ وَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَرَأَ بِهِمَا (1).

"حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ عیدین کی نمازوں میں، ایک بار فرمایا: عید میں (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَ عْلیٰ) اور (ھَلْ اَتَاکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ) پڑھا کرتے تھے۔ اور اگر عید جمعہ کے دن آجاتی تو آپ دونوں نمازوں میں یہی سورتیں پڑھتے۔"

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1463

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ العِیدَینِ الفِطرِ وَالاَضحَیِ وَمَا یُحتَاجُ فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1464

أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا أبو موسى نا عبد الرحمن نا إسرائيل عن عثمان بن المغيرة عن إياس بن أبي رملة : أنه شهد معاوية وسأل زيد بن أرقم شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عيدين اجتمعا في يوم ؟ قال : نعم صلى العيد في أول النهار ثم رخص في الجمعة فقال : من شاء أن يجمع فليجمع

" جناب ایاس بن ابی رملہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت معاویہ کے پاس حاضر تھے تو انہوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ تم رسول ﷺ کے ساتھ ایک ہی دن میں دو عیدوں (عید اور جمعہ) میں شریک ہوئے ہو؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں! آپ نے دن کے شروع میں عید کی نماز پڑھائی پھر آپ نے نماز جمعہ کی رخصت دے دی اور فرمایا: جو پڑھنا چاہے وہ پڑھ لے۔"

سأل زيد بن أرقم شهدت مع رسول الله عيدين اجتمعا في يوم ← إياس بن أبي رملة أنه شهد معاوية ← عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو مُوسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1464

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ العِیدَینِ الفِطرِ وَالاَضحَیِ وَمَا یُحتَاجُ فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1465

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا بندار نا يحيى نا عبد الحميد بن جعفر ح وثنا يعقوب بن إبراهيم الدورقي نا يحيى عن عبد الحميد بن جعفر ح وثنا أحمد بن عبدة أخبرنا سليم يعني بن أخضر ثنا عبد الحميد بن جعفر الأنصاري من بني عوف بن ثعلبة قال حدثني وهب بن كيسان قال : شهدت بن الزبير بمكة وهو أمير فوافق يوم فطر - أو أضحى - يوم الجمعة فأخر الخروج حتى ارتفع النهار فخرج وصعد المنبر فخطب وأطال ثم صلى ركعتين ولم يصل الجمعة فعاب عليه ناس من بني أمية بن عبد شمس فبلغ ذلك ابن عباس فقال : أصحاب ابن الزبير السنة وبلغ ابن الزبير فقال : رأيت عمر بن الخطاب رضي الله عنه إذا اجتمع عيدان صنع مثل هذا هذا لفظ حديث أحمد بن عبدة قال أبو بكر : قول ابن عباس : أصحاب ابن الزبير السنة يحتمل أن يكون أراد سنة النبي صلى الله عليه وسلم وجائز أن يكون أراد سنة أبي بكر أو عمر أو عثمان أو علي ولا أخال أنه أراد به أصاب السنة في تقديمه الخطبة قبل صلاة العيد لأن هذا الفعل خلاف سنة النبي صلى الله عليه وسلم و أبي بكر و عمر وإنما أراد تركه أن يجمع بهم بعدما قد صلى بهم صلاة العيد فقط دون تقديم الخطبة قبل صلاة العيد

" حضرت وہب بن کیسان بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن زیبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مکہ مکرمہ میں حاضر تھا جب وہ امیر تھے تو عید الفطر یا عید الاضحیٰ جمعہ کے دن آگئی تو انہوں نے (عید کے لیے) نکلنے میں تاخیر کی حتی کہ دن چڑھ گیا، پھر وہ باہر نکلے اور منبر پر تشریف فرما ہوکر بڑا طویل خطبہ دیا۔ پھر انہوں نے دو رکعات پڑھائیں اور نماز جمعہ نہیں پڑھائی، پس بنی امیہ بن عبد شمس کے کچھ لوگوں نے اس بات پر اعتراض کیا اور ان پر عیب لگایا، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا: ابن زیبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سنت کو پالیا ہے۔ حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے فرمایا: "میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا ہے کہ جب دو عیدیں (عید اور جمعہ) جمع ہوجائیں تو وہ اسی طرح کرتے تھے۔ یہ جناب احمد بن عبدہ کی حدیث ہے۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: "حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ فرمان: "حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سنت کو پالیا ہے" ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ انہوں نے سنت نبوی ﷺ کو پا لیا ہے۔" اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کی مردایہ ہو کر حضرت ابو بکر، عمر، عثمان یا علی کے طریقے کو انہوں نے پالیا ہے۔ اور میرا خیال نہیں کہ نماز عید سے پہلے خطبہ دینے کو انہوں نے سنت کو پالیا" قرار دیا ہو کیونکہ یہ کام سنت نبویﷺ، ابو بکر، اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے طریقے کے خلاف ہے۔ بلکہ ان کی مراد صرف جمعہ نہ پڑھانا تھا۔ جبکہ انہوں نے لوگوں کو نماز عید پڑھادی تھی۔ ان کی مراد نماز عید سے پہلے خطبہ دینا نہ تھی۔"

وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ مِنْ بَنِي عَوْفِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ← سليم يعني بن أخضر ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← يَحْيَى ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← يَحْيَى ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1465

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ العِیدَینِ الفِطرِ وَالاَضحَیِ وَمَا یُحتَاجُ فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1466

أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا أبو هاشم زياد بن أيوب نا إسماعيل بن علية نا أيوب عن حفصة قالت : كنا نمنع عواتقنا أن يخرجن فقدمت امرأة فنزلت قصر بني خلف فحدثت أن أختها كانت تحت رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قد غزا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم اثنتي عشرة غزوة كانت أختي معه في ست غزوات قالت : كنا نداوي الكلمى ونقوم على المرضى فسألت أختي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت : هل على إحدانا بأس إن لم يكن لها جلباب أن لا تخرج ؟ قال : لتلبسها صاحبتها من جلبابها ولتشهد الخير ودعوة المؤمنين فلما قدمت أم عطية سألتها - أو سألناها - فقلنا سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول كذا وكذا ؟ وكانت لا تذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا قالت بأبا فقالت : نعم بأبا قال : لتخرج العواتق ذوات الخدور أو العواتق وذوات الخدور والحيض فيشهدن الخير ودعوة المؤمنين وتعتزل الحائض المصلى قلت لأم عطية : الحائض ؟ قالت : أليست تشهد عرفة وتشهد كذا وتشهد كذا ؟

"حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتی ہیں کہ ہم اپنی جوان لڑکیوں کو(عید کے لیے) نکلنے سے منع کرتی تھیں۔ ایک خاتون آئیں اور بنی خلف کے محل میں اتریں، اس نے بیان کیا کہ اس کی بہن رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی کی بیوی تھی، جس صحابی نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بارہ غزوات میں شرکت کی تھی، میری بہن چھ غزوات میں ان کے ساتھ تھی، وہ فرماتی ہیں: ہم زخمیوں کا علاج کرتی تھیں اور بیماروں کی تیمارداری کرتی تھیں۔ میری بہن نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: کیا ہم میں سے کسی عورت کو گناہ ہوگا اگر وہ چادر نہ ہونے کی وجہ سے نکل نہ سکے؟ آپ نے فرمایا: اس کی سہیلی کو چاہے کہ وہ اسے اپنی چادروں میں سے کوئی چادر اوڑھنے کے لیے دے دے اور وہ نیکی کے کام اور مومنوں کی دعا میں شریک ہوجائے پھر جب حضرت امام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائیں تو میں نے ان سے پاچھا یا ہم نے ان سے پوچھا، ہم نے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ایسے فرماتے ہوئے سنا ہے؟ حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب بھی رسول اللہ ﷺ کو یاد کرتیں تو کہتیں: میرا باپ آپ پر قربان، تو انہوں نے جواب دیا۔ ہاں، میرا والد آپ پر قربان ہو۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ہے: نوجوان، پردہ نشین عورتوں یا نوجوان اور پردہ نشین عورتوں اور حائضہ عورتوں کو (عید کے لیے ) نکلنا چاہئے۔ وہ خیر و بھلائی کے کاموں میں شریک ہوں اور مومنوں کی دعا میں حاضرہوں لیکن حائضہ نماز گاہ سے الگ رہے، میں نے ام عطیہ کو کہا کیا حائضہ بھی جائے گی؟ انہوں نے جواب دیا کیا حائضہ میدان عرفات میں (حج کے لیے) حاضری نہیں دیتی اور کیا وہ فلاں فلاں کام میں شریک نہیں ہوتی؟ کیا وہ فلاں فلاں مقام پر حاضر نہیں ہوتی؟"

كنا نمنع عواتقنا ← حَفْصَةَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1466

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ العِیدَینِ الفِطرِ وَالاَضحَیِ وَمَا یُحتَاجُ فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1467

- أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا علي بن مسلم نا هشيم أخبرنا منصور - وهو ابن زاذان - عن ابن سيرين عن أم عطية و هشام عن ابن سيرين و حفصة عن أم عطية : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخرج الأبكار العواتق ذوات الخدور والحيض يوم العيد فأما الحيض فيعتزلن المصلى ويشهدن الخير ودعوة المسلمين فقالت إحداهن : فإن لم يكن لإحدانا جلباب ؟ قال : فلتعرها أختها من جلابيبها

" حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کنواری نوجوان پردہ نشین لڑکیوں اور حائضہ عورتوں کو عیدوالے دن (عید گاہ کی طرف) نکالا کرتے تھے۔ البتہ حائضہ عورتیں عیدگاہ سے الگ رہتی تھیں اور خیرو بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوئی تھیں۔ ان میں سے کسی عورت نے پوچھا: اگر ہم میں سے کسی ایک کے پاس چادر نہ ہو تو (وہ کیا کرے)؟ آپ نے فرمایا: اس کی بہن اپنی چادروں میں سے ایک چادر اسے عاریتاً دے دے۔"

أُمِّ عَطِيَّةَ ← ابن سيرين و حفصة ← أم عطية و هشام ← ابْنِ سِيرِينَ، ← مَنْصُورٌ، وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ ← هُشَيْمٌ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ*، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1467

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ العِیدَینِ الفِطرِ وَالاَضحَیِ وَمَا یُحتَاجُ فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1468

أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا علي بن سعيد و أبو الأزهر - وكتبته من أصله قالا نا يونس بن محمد - وهو المؤدب - نا فليح - وهو ابن سليمان - عن سعيد بن الحارث عن أبي هريرة قال : كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا خرج إلى العيدين رجع في غير الطريق الذي خرج فيه

"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب عیدین کے لیے تشریف لے جاتے تو واپسی پر وہ راستہ بدل کر دوسرے راستے سے واپس تشریف لاتے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← فُلَيْحٌ -وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ- ← يونس بن محمد وهو المؤدب ← علي بن سعيد و أبو الأزهر وكتبته من أصله ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1468

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ العِیدَینِ الفِطرِ وَالاَضحَیِ وَمَا یُحتَاجُ فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1469

أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن معمر القيسي نا أبو مطرف بن أبي الوزير نا عبيد الله بن عمر و الرقي عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يخرج يوم العيد حتى يطعم فإذا خرج صلى للناس ركعتين فإذا رجع صلى في بيته ركعتين وكان لا يصلي قبل الصلاة شيئا

" حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر والے دن کچھ کھائے بغیر (عیدگاہ کی طرف) نہیں جاتے تھے۔ جب آپ جاتے تو لوگوں کو دو رکعات پڑھاتے، پھر جب آپ گھر واپس تشریف لاتے تو آپنے گھر میں دو رکعات ادا فرماتے۔ اور آپ نماز سے پہلے کوئی نماز (نفل) نہیں پڑھتے تھے۔"

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عبيد الله بن عمر و الرقي ← أَبُو مُطَرِّفِ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ. ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1469

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals