Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ العِیدَینِ الفِطرِ وَالاَضحَیِ وَمَا یُحتَاجُ فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1450

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، نَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِرًا يَدَيْهِ قَطُّ يَدْعُو عَلَى مِنْبَرِهِ وَلَا عَلَى غَيْرِهِ (1). وَلَكِنْ رَأَيْتُهُ يَقُولُ هَكَذَا: وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ يُحَرِّكُهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: "عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاوِيَةَ هَذَا، أَبُو الْحُوَيْرِثِ مَدَنِيٌّ.

خطبے میں دعا کرتے وقت منبر پر شہادت کی انگلی سے خطیب کے اشارہ کرنے اور اس کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے اسے حرکت دینے کا بیان

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ، ← عبد الرحمن بن معاوية ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them · Hadith 1450

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ العِیدَینِ الفِطرِ وَالاَضحَیِ وَمَا یُحتَاجُ فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1451

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ: أَنَّهُ رَأَى بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ، رَافِعًا يَدَيْهِ، فَقَالَ: قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ. رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يُشِيرَ بِأُصْبُعِهِ.

" حضرت عمارہ بن روبیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بشر بن مروان کو منبر پر دونوں ہاتھ بلند کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اللہ تعالیٰ ان دونوں ہاتھوں کا برا کرے (انہیں خیروبھلائی سے دور کرے) میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے، آپ اپنی انگلی سے زیادہ اشارہ نہیں کرتے تھے۔"

عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ: أَنَّهُ رَأَى بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ، رَافِعًا يَدَيْهِ، ← حُصَيْنٍ ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them · Hadith 1451

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ العِیدَینِ الفِطرِ وَالاَضحَیِ وَمَا یُحتَاجُ فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1452

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ الْحَوْشَبِيُّ، حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ الطَّائِفِيُّ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى -أَوْ مَعَ- رَجُلٍ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ: الْحَكَمُ بْنُ حَزَنٍ الْكُلَفِيُّ، فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا، قَالَ: وَفَدْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [155 - أ] سَابِعَ سَبْعَةٍ أَوْ تَاسِعَ تِسْعَةٍ، فَشَهِدْنَا الْجُمُعَةَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَكِّئًا عَلَى قَوْسٍ أَوْ عَصًا، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ كَلِمَاتٍ طَيِّبَاتٍ خَفِيفَاتٍ مُبَارَكَاتٍ.

"جناب شعیب بن رزیقی طائفی بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی جنہیں حکم بن حزن کلفی کہا جاتا ہے، ان کے ساتھ بیٹھا تو انہوں نے ہمیں بیان کرنا شروع کردیا، فرماتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک وفد کے ساتھ سات میں سے ساتواں یا تومیں نواں شخص حاضر ہوا۔ ہم جمعہ میں حاضر ہوئے، تو رسول اللہﷺ ایک کمان یا لاٹھی کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے، آپ نے اللہ تعالیٰ کی تعریفات بیان کیں اور پاکیزہ، ہلکے پھلکے اور مبارک کلمات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ثناء بیان کی۔"

شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقِ الطَّائِفِيُّ ← شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ الْحَوْشَبِيُّ، ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ← عبيد الله بن سعيد بن كثير بن عفير المصري ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them · Hadith 1452

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ العِیدَینِ الفِطرِ وَالاَضحَیِ وَمَا یُحتَاجُ فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1453

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ -يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ- عَنْ قَيْسٍ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ فَأَمَرَنِي، فَحَوَّلْتُ إِلَى الظِّلِّ. وَفِي خَبَرِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: -وَهُوَ يَخْطُبُ لِمَنْ أَخَّرَ الْمَجِيءَ- "اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ وَآنَيْتَ". وَفِي خَبَرِ أَبِي سَعِيدٍ: فَإِنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ بِبَعْثٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ، ذَكَرَهُ لِلنَّاسِ، وَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ أَمَرَهُمْ بِهَا، وَكَانَ يَقُولُ: تَصَدَّقُوا. وَفِي خَبَرِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ فِي الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلدَّاخِلِ: "هَلْ صَلَّيْتَ؟ " قَالَ: لَا. قَالَ: "قُمْ، فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: "تَصَدَّقُوا". وَفِي أَخْبَارِ جَابِرٍ فِي قِصَّةِ سُلَيْكٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَصَلَّيْتَ؟ " قَالَ: لَا. قَالَ: "قُمْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ". فَفِي هَذِهِ الْأَخْبَارِ كُلِّهَا دِلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْخُطْبَةَ لَيْسَتْ بِصَلَاةٍ. وَأَنَّ لِلْخَاطِبِ أَنْ يَتَكَلَّمَ فِي خُطْبَتِهِ بِالْأَمْرِ وَالنَّهْيِ وَمَا يَنُوبُ الْمُسْلِمِينَ، وَيُعَلِّمُهُمْ مِنْ أَمْرِ دِينِهِمْ.

"حضرت ابو حازم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے دیکھا جبکہ آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ نے مجھے حکم دیا، لہٰذا میں سایہ دار جگہ کی طرف چلا گیا اور جناب عبید اللہ بن بشر کی حدیث میں ہے۔ : "نبی کریم ﷺ نے خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے، دیر سے آنے والے کو فرمایا: (جہاں جگہ ملتی ہے) بیٹھ جاؤ، تم نے (لوگوں کو) تکلیف دی ہے اور دیرسے بھی آئے ہو۔" اور حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے پھر اگر آپ کو کوئی لشکر روانہ کرنے یا کوئی اور ضرورت ہوتی تو آپ لوگوں کو بتا دیتے۔ اور اگر کوئی (مالی) حاجت ہوتی تو انہیں حکم دیتے، آپ فرماتے تھے: صدقہ کرو۔" ابن عجلان کی عیاض ؒ کے واسطے سے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے، جمعہ والے دن خطبہ کے دوران نبی کریم ﷺ نے (مسجد میں) داخل ہونے والے سے فرمایا: کیا تم نے نماز (تحیتہ المسجد) پڑھ لی ہ۔ اسنے جواب دیا: نہیں، تو آپ نے فرمایا: اٹھو، دو رکعات پڑھ لو، پھر آپ نے لوگوں سے کہا: صدقہ کرو۔" اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایات میں مذکر حضرت سلیک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قصے میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا: کیا تم نے (تحیتہ المسجد) پڑھ لی ہے؟ انہوں نے عرض کی: نہیں، تو آپ نے فرمایا: اتھ کر دو رکعت پڑھو۔ پھر آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ والے دن اس حال میں (مسجد) آئے کہ امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے دو رکعت پڑھ کر بیٹھنا چاہیے ان تمام روایات میں اس بات کی دلیل ہے کہ خطبہ نماز کی طرح نہیں ہے۔ اور خطیب کے لیے جائز ہے کہ وہ خطبہ کے دوران میں نیکی کا حکم کرے، برائی سے روکے مسلمانوں کی ضروریات کے متعلق گفتگو کرے اور انہیں ان کے دینی معاملات سکھائے۔"

أَبِيهِ ← قَيْسٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ← إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي: ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ← وَكِيعٌ، ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them · Hadith 1453

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ العِیدَینِ الفِطرِ وَالاَضحَیِ وَمَا یُحتَاجُ فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1454

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، كَذَا يَقُولُ أَبُو الْأَحْوَصِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْهِ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ. فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ مِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ، حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ (1): (فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا) [النساء: 41]. فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ، وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ.

" حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کو تلاوت سناؤں جب کہ آپ منبر پر تشریف فرما تھے، تو میں نے آپ کو سورۂ نساء کی کچھ آیات پڑھ کر سنائیں، حتیٰ کہ جب میں اس آیت پر پہنچا: ( فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مَنْ کُلْ اءٗ مَّۃٍ بِشَھِیٌدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰؤُلَآ ءِ شَھِیٌدًا) (النساء: 41) "پھر ان کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو اس امت پر گواہ بنائیں گے۔" تو میں نے آپ کی طرف دیکھا، آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔"

عَبْدُ اللَّهِ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْهِ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ. ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← عَلْقَمَةَ، كَذَا ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them · Hadith 1454

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ العِیدَینِ الفِطرِ وَالاَضحَیِ وَمَا یُحتَاجُ فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1455

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَخْبَرَنَا أَبِي، وَشُعَيْبٌ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ؛ وَثَنَا خَالِدٌ -هُوَ ابْنُ يَزِيدٍ- عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، وَهُوَ سَعِيدٌ -عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَرَأَ (ص)، فَلَمَّا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدْنَا مَعَهُ، وَقَرَأَ بِهَا مَرَّةً أُخْرَى فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَيَسَّرْنَا لِلسُّجُودِ، فَلَمَّا رَآنَا قَالَ: "إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ، وَلَكِنِّي أَرَاكُمْ قَدِ اسْتَعْدَدْتُمْ لِلسُّجُودِ". فَنَزَلَ وَسَجَدَ، وَسَجَدْنَا.

"حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا: آپ نے (دوران خطبہ میں) سورہ ص کی تلاوت کی، پھر جب آپ نے سجدہ والی آیت تلاوت کی تو آپ نے (منبر سے) اتر کے سجدہ کیا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا۔ ایک مرتبہ پھر آپ نے اس کی تلاوت فرمائی تو جب آپ آیت سجدہ پر پہنچے تو ہم نے سجدہ کرنے کی تیاری کرلی۔ جب آپ نے ہمیں (تیار دیکھا) تو فرمایا: "بلاشبہ یہ تو ایک نبی (ساؤد علیہ السلام) کی توبہ کا مقام ہے۔ لیکن میں نے تمہیں سجدہ کرنے کے لیے تیار دیکھا ہے۔ لہٰذا آپ منبر سے نیچے تشریف لائے اور سجدہ کیا اور نے بھی سجدہ کیا۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ← ابْنِ أَبِي هِلَالٍ -وَهُوَ سَعِيدٌ- ← خَالِدٍ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ، ← اللَّيْثُ ← أَبِي وَشُعَيْبٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them · Hadith 1455

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ العِیدَینِ الفِطرِ وَالاَضحَیِ وَمَا یُحتَاجُ فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1456

أَخبرنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، ثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ إِذْ أَقْبَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ، عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ. قَالَ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمَلَهُمَا، ثُمَّ قَالَ: "صَدَقَ اللَّهُ، (أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ) [الأنفال: 28]، إِنِّي رَأَيْتُ [155 - ب] هَذَيْنِ الْغُلَامَيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى نَزَلْتُ وَحَمَلْتُهُمَا". أخبرنا أبو طاهر، نا أبو بكر، ثَنَاهُ عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ حُسَيْنٍ؛ وَقَالَ: "فَلَمْ أَصْبِرْ" ثُمَّ أَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ.

" حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس دوران میں کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف فرما ہو کر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ حضرت حسن اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ چلتے اور گرتے ہوئے (مسجد میں) آئے۔ ان دونوں نے سرخ رنگ کی قمیص پہن رکھی تھی، تو رسول اللہ ﷺ (منبر سے) اترے اور آپ نے ان دونوں کو اٹھا لیا، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے: (إِنَّمَآ أَمْوَالُکُمْ وَأَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ) (الانفال: 28) "بے شک تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش کا باعث ہے۔" بے شک میں نے ان دو بچوں کو چلتے ہوئے گرتے ہوئے دیکھا تو مجھ سے صبر نہ ہو سکا حتی کہ میں نے نیچے اتر کر انہیں اٹھالیا۔ زید بن حباب کے واسطے سے جناب حسین کی روایت میں ہے: "تو میں صبر نہ کر سکا۔" پھر آپ نے اپنا خطبہ دوبارہ شروع کر دیا۔"

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ← أَبُو تُمَيْلَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them · Hadith 1456

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ العِیدَینِ الفِطرِ وَالاَضحَیِ وَمَا یُحتَاجُ فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1457

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثَنَا سُلَيْمَانُ -يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ- عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي رِفَاعَةَ قَالَ: جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقُلْتُ: رَجُلٌ جاء يسأل عَنْ دِينٍ لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ. فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ، وَتَرَكَ الْخُطْبَةَ، ثُمَّ أُتِيَ بِكُرْسِيٍّ خَلَتْ قَوَائِمُهُ مِنْ حَدِيدٍ، فَقَعَدَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ، ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ قَائِمًا.

"حضرت ابو رفاعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نب ی کریم ﷺ کے پاس آیا جبکہ آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ تو میں نے عرض کی: (میں) ایک دین سے ناواقف شخص ہو، جسے معلوم نہیں کہ اس کا دین کیا ہے؟ نبی کریمﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے خطبہ روک دیا۔ پھر ایک کرسی لائی گئی۔ جس کے پائے لوہے سے خالی تھے۔ رسول اللہ ﷺ اس پر تشریف فرما ہوئے۔ پھر آپ نے اس علم سے مجھے سکھانا شروع کیا جو علم اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھایا تھا، پھر آپ نے کھڑے ہوکر (بقیہ) خطبہ ارشاد فرمایا۔"

جِئْتُ النَّبِيَّ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقُلْتُ: رَجُلٌ جاء يسأل ← أبي رفاعة ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ← هاشم بن القاسم ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them · Hadith 1457

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ العِیدَینِ الفِطرِ وَالاَضحَیِ وَمَا یُحتَاجُ فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1458

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: وَحَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ، بْنُ مَخْلَدٍ الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: شَهِدْتُ صَلَاةَ الْفِطْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ، فَكُلُّهُمْ يُصَلِّيهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ. فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يُجَلِّسُ الرِّجَالَ بِيَدِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ (2) حَتَّى جَاءَ النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَقَرَأَ (3): (يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ) [الممتحنة: 12] حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ، ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ: "أَنْتُنَّ عَلَى ذَلِكَ؟ " فَقَالَتِ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ لَمْ تُجِبْهُ غَيْرُهَا، لَا يَدْرِي الْحَسَنُ مَنْ هِيَ: نَعَمْ. قَالَ: "فَتَصَدَّقْنَ"، قَالَ: فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ، فَقَالَ: هَلُمَّ، فِدًى لَكُنَّ، فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ.

"حضرت ابو رفاعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نب ی کریم ﷺ کے پاس آیا جبکہ آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ تو میں نے عرض کی: (میں) ایک دین سے ناواقف شخص ہو، جسے معلوم نہیں کہ اس کا دین کیا ہے؟ نبی کریمﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے خطبہ روک دیا۔ پھر ایک کرسی لائی گئی۔ جس کے پائے لوہے سے خالی تھے۔ رسول اللہ ﷺ اس پر تشریف فرما ہوئے۔ پھر آپ نے اس علم سے مجھے سکھانا شروع کیا جو علم اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھایا تھا، پھر آپ نے کھڑے ہوکر (بقیہ) خطبہ ارشاد فرمایا۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوُوسٍ، ← الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← الضحاك بن مخلد الشيباني ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them · Hadith 1458

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ العِیدَینِ الفِطرِ وَالاَضحَیِ وَمَا یُحتَاجُ فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1459

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ، فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلَالٍ، وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِينَ النِّسَاءُ صَدَقَةً. قُلْتُ لِعَطَاءٍ: زَكَاةُ يَوْمِ الْفِطْرِ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ صَدَقَةٌ يَتَصَدَّقْنَ بِهَا حِينَئِذٍ، تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتْخَهَا، وَيُلْقِينَ وَيُلْقِينَ. قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَتَرَى حَقًّا عَلَى الْإِمَامِ الْآنَ أَنْ يَأْتِيَ النِّسَاءَ حِينَ يَفْرُغُ فَيُذَكِّرَهُنَّ؟ قَالَ: "أي لَعَمْرِي إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ، وَمَا لَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ؟

"حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ عید الفطر والے دن کھڑے ہوئے، تو خطے سےپہلے نماز سے ابتداء کی، پھر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا۔ جب اللہ کے نبی ﷺ فارغ ہوئے تو عورتوں کے پاس تشریف لائےتو آپ نے انہیں نصیحت فرمائی جبکہ آپ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلایا ہوا تھا۔ جس میں عورتیں صدقہ ڈال رہی تھیں۔ جناب ابن جریج کہتے ہیں: میں نے امام عطاء سے پوچھا : کیا یہ صدقہ فطر تھا؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، لیکن وہ ایک عام صدقہ تھا جو انہوں نے اسی وقت ادا کیا تھا۔ عورت اپنا کنگن یا چھلہ وغیرہ (حضرت بلال کی چادر میں) ڈال رہی تھیں اور وہ (زیورات وغیرہ ) صدقہ کی رہی تھیں۔ میں نے جناب عطاءسے پوچھا: کیا آپ کے نزدیک اب بھی امام کے لیے ضروری اور واجب ہے کہ وہ خطبے سے فارغ ہوکر عورتوں کے پاس آئے اور انہیں وعظ و نصیحت کرے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، میری عمر کی قسم! یہ ان پر واجب ہے۔ کیا وجہ ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے؟"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them · Hadith 1459

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ العِیدَینِ الفِطرِ وَالاَضحَیِ وَمَا یُحتَاجُ فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1460

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَفِي خَبَرِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ، وَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَحَثَّهُنَّ عَلَى طَاعَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: "تَصَدَّقْنَ فَإِنَّ أَكْثَرَكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ". فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ سِفلةِ النِّسَاءِ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "إِنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ الشَّكَاةَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ"، فَجَعَلْنَ يَتَبَرَّعْنَ بِقَلَائِدِهِنَّ وَحُلِيِّهِنَّ وَقُرُطِهِنَّ وَخَوَاتِمِهِنَّ يَقْذِفْنَهُ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ يَتَصَدَّقْنَ بِهِ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ؛ ح وَثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ.

"امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: جناب عبد المالک بن ابی سلیمان کی عطا کے واسطے سے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی روایت میں ہے: نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دیا۔ انہیں وعظ و نصیحت کی اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی، عورتوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ترغیب دلائی، پھر فرمایا: "تم صدقہ کرو کیونکہ تمہاری اکثریت جہنم کا ایندھن ہے۔ تو عورتوں کے درمیان سے پچکے رخساروں والی ایک عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کیوں ہے؟ آپ نے فرمایا: بے شک تم شکوے شکایات بہت زیادہ کرتی ہو اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو، چنانچہ انہوں نے صدقہ و خیرات کرتے ہوئے اپنےگلے کے ہار، زیورات، اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی چادر میں ڈال دیں۔"

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← أَبُو بَكْرٍ: وَفِي خَبَرِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them · Hadith 1460

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ العِیدَینِ الفِطرِ وَالاَضحَیِ وَمَا یُحتَاجُ فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1461

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ. فَأَتَاهُنَّ، يُذَكِّرُهُنَّ وَوَعَظَهُنَّ. الْخَبَرَانِ صَحِيحَانِ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [156 - أ] وَعَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ:

"امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے: پس نبی کریم ﷺ نے خیال کیا کہ آپ عورتوں کو وعظ نہیں سنا سکے، اس لیے آپ ان کے پاس تشریف لائے اور انہیں وعظ و نصیحت کی۔" یہ دونوں روایات جنھیں امام عطاء حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں، صحیح ہیں۔

جَابِرٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ أ] وَعَنْ عَطَاءٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ: فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ. فَأَتَاهُنَّ، يُذَكِّرُهُنَّ وَوَعَظَهُنَّ. الْخَبَرَانِ صَحِيحَانِ ← عَطَاءٍ، ← أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ أَيُّوبَ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them · Hadith 1461

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals