Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الاِستِقَاءِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1417

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "اللَّهُمَّ اسْقِنَا". أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "اللَّهُمَّ اسْقِنَا".

" حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی: " اے اللہ ہمیں پانی سے سیراب فرما۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← وُهَيْبٌ، ← أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1417

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الاِستِقَاءِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1418

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ يُونُسَ وَمَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ؛ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ.

" امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: " جناب یونس اور معمر کی امام زہری سے بیان کردہ روایت میں یہ الفاظ ہیں: کہ آپ نے دو رکعت پڑھائی تھیں۔"

الزُّهْرِيِّ؛ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ. ← أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ يُونُسَ وَمَعْمَرٍ

Hadith 1418

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الاِستِقَاءِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1418

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ الثَّوْرِيِّ عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ، فَقَالَ: كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدَيْنِ.

امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: امام ثوری کی ہشام بن اسحاق کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: " جس طرح آپ عیدین کی نماز پڑھتے تھے۔ " (اسی طرح نماز استسقاء میں بھی تکبیرات پڑھی جائیں گی۔)"

هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ، فَقَالَ: كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدَيْنِ. ← أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ الثَّوْرِيِّ

Hadith 1418

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الاِستِقَاءِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1419

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ، من بني عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ [152 - ب] الْمَدِينِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ هِشَامَ بْنَ إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ أَمِيرَ الْمَدِينَةِ، أَرْسَلَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي سَلْهُ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ يَوْمَ اسْتَسْقَى بِالنَّاسِ؟ قَالَ إِسْحَاقُ: فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ يَوْمَ اسْتَسْقَى؟ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَخَشِّعًا، مُتَبَذِّلًا، فَصَنَعَ فِيهِ كَمَا يَصْنَعُ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى.

"جناب اسحاق بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ مدینہ منورہ کے گورنر جناب ولید بن عتبہ نے انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیجا اور انہیں کہا: اے میرے بھتیجے! ان سے پوچھ کر آؤ کہ جس دن رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو ساتھ لے کر بارش کی دعا کی تھی اس دن آپ نے (دعا اور نماز) استسقاء میں کیسے عمل کیا تھا؟ جناب اسحاق فرماتے ہیں: میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی: اے ابو العباس ! جس روز رسول اللہ ﷺ نے بارش کی دعا کی تھی۔ اس روز آپ نے دعا اور نماز استسقاء میں کیسے عمل کیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: " رسول اللہ ﷺ (اس روز) نہایت عاجزی اور سادگی کے ساتھ نکلے تو آپ نے نماز استسقاء میں اسی طرح کیا جیسے آپ نماز عید الفطر اور عیدالاضحیٰ میں کرتے تھے۔"

إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ، من بني عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ الْمَدِينِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ الْمِصْرِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1419

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الاِستِقَاءِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1419

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: "فِي خَبَرِ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ: جَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ.

امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: "معمر کی زہری سے روایت میں بلند آواز سے قراءت کرنے کے الفاظ آئے ہیں۔"

الزُّهْرِيِّ: جَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ. ← أَبُو بَكْرٍ: "فِي خَبَرِ مَعْمَرٍ

Hadith 1419

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الاِستِقَاءِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1420

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَسْتَسْقِي، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَوَلِيَ النَّاسُ ظَهْرَهُ، وَقَلَبَ رِدَاءَهُ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَرَأَ فِيهِمَا، وَجَهَرَ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ.

" جناب عباد بن تمیم اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز استسقاء کے لیے باہر نکلے تو آپ قبلہ رخ ہوئے اور لوگوں کی طرف اپنی پشت کرلی۔ اپنی چادر کو الٹایا، اور دورکعت پڑھائیں اور ان میں قراءت کی۔ اور آپ نے ان میں بلند آواز سے قراءت کی۔"

عَمِّہٖ ← عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1420

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الاِستِقَاءِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1421

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِذَا قَحَطُوا خَرَجَ يَسْتَسْقِي بِالْعَبَّاسِ، فَيَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا إِذَا قَحَطْنَا اسْتَسْقَيْنَا بِنَبِيِّكَ، فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَسْتَسْقِيكَ الْيَوْمَ بِعَمِّ نَبِيِّكَ أَوْ نَبِيِّنَا. فَاسْقِنَا، فَيُسْقَوْنَ. قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: كَذَا وَجَدْتُ فِي كِتَابِي بِخَطِّي: فَيُسْقَوْنَ.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ (کے زمانہ میں) جب لوگ قحط سالی کا شکار ہوئے تو آپ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذریعے سے بارش طلب کرتے۔ آپ دعا کرتے: اے اللہ! جب ہم قحط سالی میں مبتلا ہوئے تھے تو ہم تیرے نبی کے ذریعے سے بارش طلب کرتے تھے توتو ہمیں بارش عطا کر دیتا تھا۔ آج ہم تیرے نبی کے چچا یاہمارے نبی کے چچا کے ذریعے سے تجھ سے بارش طلب کرتے ہیں، (حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ) لوگوں کو بارش عطاکر دی گئی۔ جناب محمد بن عبداللہ انصاری کہتے ہیں کہ میں نے اپنی کتاب میں اپنی لکھائی سے "فَیُسْقَوْنَ" کے لفظ ہی لکھے ہوئے دیکھے ہیں۔"

الْأَنْصَارِيُّ: كَذَا وَجَدْتُ فِي كِتَابِي بِخَطِّي: فَيُسْقَوْنَ. ← نَسْتَسْقِيكَ الْيَوْمَ بِعَمِّ نَبِيِّكَ أَوْ نَبِيِّنَا. فَاسْقِنَا، فَيُسْقَوْنَ. ← كُنَّا إِذَا قَحَطْنَا اسْتَسْقَيْنَا بِنَبِيِّكَ، فَتَسْقِينَا، ← اللَّهُمَّ ← كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِذَا قَحَطُوا خَرَجَ يَسْتَسْقِي بِالْعَبَّاسِ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثُمَامَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1421

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الاِستِقَاءِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1422

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَا: ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، قَالَ: ثُمَّ خَطَبَنَا وَدَعَا اللَّهَ، وَحَوَّلَ وَجْهَهُ نَحْوَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ، ثُمَّ قَلَبَ رِدَاءَهُ، فَجَعَلَ الْأَيْمَنَ عَلَى الْأَيْسَرِ، وَالْأَيْسَرَ عَلَى الْأَيْمَنِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي الْقَلْبِ مِنَ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ تَخْلِيطٌ كَثِيرٌ. فَإِنْ ثَبَتَ هَذَا الْخَبَرُ فَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ وَدَعَا وَقَلَبَ رِدَاءَهُ مَرَّتَيْنِ، مَرَّةً قَبْلَ الصَّلَاةِ، وَمَرَّةً بَعْدَهَا.

"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک دن بارش طلب کرنے کے لئے نکلے تو آپ نے ہمیں بغیر اذان اور اقامت کے دورکعات پڑھائیں۔ پھر آپ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور آپ نے اپنا چہرہ مبارک قبلہ کی طرف کیا اور اپنے دونوں ہاتھ (دعا کے لیے) اٹھائے۔ پھر آپ نے اپنی چادر کو پلٹا، اور اس کے دائیں حصے کو بائیں طرف اور بائیں حصے کو دائیں جانب کر دیا۔" امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں۔ " نعمان بن ارشد کے بارے میں میرے دل میں عدم اطمینان ہے کیونکہ امام زہری سے مروی اس کی روایات بہت زیادہ غلط ملط ہوئی ہیں۔ لہٰذا اگر یہ حدیث صحیح ثابت ہوجائے تو پھر اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خطبہ، دعا اور اپنی چادر کی تبدیلی دو مرتبہ کی ہے۔ ایک مرتبہ نماز سے پہلے اور ایک بار نماز کے بعد۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1422

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الاِستِقَاءِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1423

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، نَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَامَ إِلَيْهِ النَّاسُ، فَصَاحُوا، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَحَطَ الْمَطَرُ، وَاحْمَرَّ الشَّجَرُ، وَهَلَكَ الْبَهَائِمُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا. فَقَالَ: "اللَّهُمَّ اسْقِنَا، اللَّهُمَّ اسْقِنَا". قَالَ: وَايْمُ اللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً مِنْ سَحَابٍ فَنَشَأَتْ سَحَابَةٌ فَانْتَشَرَتْ، ثُمَّ إِنَّهَا أَمْطَرَتْ، فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى وَانْصَرَفَ فَلَمْ يَزَلْ يُمْطَرُ إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، صَاحُوا قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ، وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَحْبِسَهَا عَنَّا، قَالَ: فَتَبَسَّمَ، وَقَالَ: "اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا". قَالَ: فَتَقَشَّعَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ، فَجَعَلَتْ تُمْطِرُ حَوْلَهَا وَمَا تُمْطِرُ [153 - أ] بِالْمَدِينَةِ قَطْرَةً. قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ وَإِنَّهَا لَفِي مِثْلِ الْإِكْلِيلِ.

"حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ جمعہ والے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ لوگ آپ کی طرف کھڑے ہو گئے اور بلند آواز سے عرض کرنے لگے: اے اللہ کے نبی! (سوکھے گئے ہیں)، اور جانور ہلاک ہو رہے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں بارش عطا فرمائے، آپ نے دعا کی:"اے اللہ! ہمیں بارش سے سیراب فرما، اے اللہ ہمیں پانی پلا، حضرت انس فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! آسمان پر بادل کا کوئی ٹکڑا بھی ہمیں دکھائی نہیں دے رہا تھا کہ اچانک ایک چھوٹا سا بادل آیا اور پورے آسمان پر پھیل گیا۔ پھر اس نے بارش برسادی، نبی کریم ﷺ منبر سے نیچے اترے اور نماز پڑھائی اور (گھر) تشریف لے گئے۔ اگلے جمعہ تک مسلسل بارش ہوتی رہی۔ پھر جب آپ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو لوگ بلند آواز سے عرض کرنے لگے: اے اللہ کے نبی! گھر منہدم ہوگئے ہیں، اور راستے بند ہوگئے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہم سے بارش روک لے۔ نبی کریم مسکرا دیے اور دعا کی: " اے اللہ! ہمارے اردگرد بارش برسا، ہم پر (مزید) بارش نہ برسا۔" حضرت انسا کہتے ہیں: مدینہ منورہ سے بادل چھٹ گئے، مدینہ منورہ کے اردگرد بارش ہوتی رہی جبکہ مدینہ منورہ میں ایک قطرہ بھی بارش نہیں ہوئی۔ میں نے مدینہ منورہ کی طرف دیکھا تو وہ تاج کی طرح چمک دمک رہا تھا (اور اس کے اردگرد موتیوں کی طرح بارش کے قطرے گر رہے تھے)۔

کَانَ النَّبِيُّ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَامَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَاحُوا ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← الْمُعْتَمِرُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1423

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الاِستِقَاءِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1424

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، أَنَّ عَمَّهُ -وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ بِالنَّاسِ إِلَى الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي لَهُمْ، فَقَامَ فَدَعَا قَائِمًا، ثُمَّ تَوَجَّهَ قِبَلَ الْقِبْلَةِ، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ فَسْقُوا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْأَخْبَارِ أَعْلَمُهُ، "فَأُسْقُوا" إِلَّا فِي خَبَرِ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ. جُمَّاعُ أَبْوَابِ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ، الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى، وَمَا يُحْتَاجُ فِيهِمَا مِنَ السُّنَنِ

حضرت عباد بن تمیم اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں: جو صحابی ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ لوگوں کو لے کر عید گاہ کی طرف بارش کی دعا کرنے کے لیے گئے، آپ نے کھڑے ہوکر دعا کی پھر قبلہ رخ ہوئے اور اپنی چادر کو الٹایا تو لوگوں کو بارش عطا کر دی گئی۔" امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: " شعیب بن ابی حمزہ کی روایت کے سوا میرے علم کے مطابق کسی اور روایت میں "فاسقوا" (انہیں بارش دے دی گئی) کے الفاظ نہیں ہیں۔"

عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، أَنَّ عَمَّهُ -وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1424

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals