Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1394

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا زُهَيْرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، حدثني الحكم، عَنْ رَجُلٍ يُدْعَى حَنَشًا، عَنْ عَلِيٍّ؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، نَا زُهَيْرٌ، نَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ رَجُلٍ يُدْعَى حَنَشًا، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ [150 - ب] مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، -وَهَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ- قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى عَلِيٌّ بِالنَّاسِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَا: قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَفَعَلَ كَفِعْلِهِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، ثُمَّ جَلَسَ يَدْعُو وَيَرْغَبُ حَتَّى انْكَشَفَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ كَذَلِكَ يَفْعَلُهُ. قَالَ يُوسُفُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَذَلِكَ.

حنش نامی آدمی کا بیان ہے کہ ایک دفعہ سورج کو گرہن لگا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو گرہن کی نماز پڑھائی پھر آگے حدیث بیان کی:ان دونوں نے کہا کہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے تو جیسا پہلی رکعت میں کیا اسی طرح دوسری رکعت بھی پڑھی اور پھر آپ نے تشہد میں بیٹھ کر(اللہ تعالیٰ کی طرف) رغبت اور دعا شروع کردی یہاں تک کہ سورج روشن ہوگیا پھر لوگوں کو بتایا کہ رسول اکرم ﷺ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔جناب یوسف کے الفاظ ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بھی اسی طرح کیا تھا۔“

الْحَدِيثَ. ← كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى عَلِيٌّ بِالنَّاسِ، ← ب] مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، -وَهَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ- ← عَلِيٍّ، ← رجل يدعى حنشا ← الْحَكَمِ ← الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ← عَلِيٍّ، ← رجل يدعى حنشا ← الْحَكَمِ ← الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، ← زُهَيْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1394

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1395

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قِصَّةِ كُسُوفِ الشَّمْسِ، وَقَالَ: فَلَمَّا تَجَلَّتْ قَامَ -يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يُخْسَفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ! وَاللَّهِ إِنْ مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ أَمَتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ! وَاللَّهِ -أَوْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ- لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ ".

”جناب عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے سورج لگنے کا واقعہ روایت کرتے ہیں،اور کہتے ہیں ۔”جب سورج روشن ہوگیا تو نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ نے لوگوں سے خطاب فرمایا:آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کی پھر فرمایا:”بلاشبہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں جنہیں کسی شخص کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔اے امت محمدیہ :بے شک اللہ تعالیٰ کو اس وقت بڑی غیرت آتی ہے جب اس کا کوئی بندہ یا بندی زنا کرتے ہیں۔اے امت محمد :اللہ کی قسم یا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!اگر تم وہ سب کچھ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم بہت تھوڑا ہنسو اور بہت زیادہ رویا کرو۔خبردار !کیا میں نے (اللہ کا دین)پہنچادیاہے؟“

فَلَمَّا تَجَلَّتْ قَامَ -يَعْنِي النَّبِيَّ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ ← الْحَدِيثَ فِي قِصَّةِ كُسُوفِ الشَّمْسِ، ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1395

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1396

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَفِي خَبَرِ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَطَبَ أَيْضًا قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَيَنْبَغِي لِلْإِمَامِ فِي الْكُسُوفِ أَنْ يَخْطُبَ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَبَعْدَهَا.

"امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نماز سے پہلے بھی خطبہ ارشاد فرمایاتھا۔لہٰذا امام کو چاہئے کہ وہ نماز کسوف سے پہلے اور بعد میں خطبہ دے۔"

أَبُو بَكْرٍ: وَفِي خَبَرِ ابْنِ مَسْعُودٍ:

Hadith 1396

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1397

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، حَدَّثَنِي ثَعْلَبَةُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ. أَنَّهُ شَهِدَ خُطْبَةً يَوْمًا لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ، قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ: بَيْنَا أَنَا يَوْمًا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَرْمِي غَرَضًا لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ قَيْدَ رُمْحَيْنِ، أَوْ ثَلَاثَةٍ فِي غَيْرِ النَّاظِرِينَ مِنَ الْأُفُقِ، اسْوَدَّتْ حَتَّى كَأَنَّهَا تَنُّومَةٌ، فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَاللَّهِ لَيُحْدِثَنَّ شَأْنُ هَذِهِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُمَّتِهِ حَدَثًا، فَدَفَعْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا هُوَ بَارِزٌ، فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ، قَالَ: فَاسْتَقْدَمَ، فَصَلَّى بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ، لَا يُسْمَعُ لَهُ صَوْتٌ، ثُمَّ رَكَعَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا رَكَعَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ، وَلَا يُسْمَعُ لَهُ صَوْتٌ، ثُمَّ سَجَدَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا سَجَدَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ، لَا يُسْمَعُ لَهُ صَوْتٌ، قَالَ: ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: فَوَافَقَ تَجَلِّي الشَّمْسِ جُلُوسَهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، قَالَ: فَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَشَهِدَ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَشَهِدَ أَنَّهُ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ قَالَ: "أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَأُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَصَّرْتُ عَنْ شَيْءٍ مِنْ تَبْلِيغِ رِسَالَاتِ رَبِّي لَمَا أَجَبْتُمُونِي، حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَاتِ رَبِّي كَمَا يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُبَلَّغَ، وَإِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَدْ بَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّي لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي"، قَالَ: فَقَامَ النَّاسُ، فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالَاتِ رَبِّكَ، وَنَصَحْتَ لِأُمَّتِكَ، وَقَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ. قَالَ: ثُمَّ سَكَتُوا. قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ كُسُوفَ هَذِهِ الشَّمْسِ،

"جناب ثعلبہ بن عباد عبدی بصری بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک دن حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں حاضری دی۔تو انہوں نے اپنے خطبہ میں بتایا۔اس دوران میں کہ ایک دن میں اور ایک انصاری لڑکا رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں اپنی نشانہ بازی کی مشق کررہے تھے حتی کہ سورج افق میں دیکھنے والوں کی نظر میں دویاتین نیزوں کے بقدررہ گیا تو وہ سیاہ ہوگیا گویا کہ وہ کلونجی کا دانہ ہو۔ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا چلو مسجد میں چلتے ہیں،اللہ کی قسم!سورج کی اس حالت سے رسول اللہ ﷺ اپنی امت کو کوئی نیا حکم دیں گے۔لہٰذا ہم مسجد کی طرف چل پڑے اچانک ہم نے دیکھا کہ آپ باہر ہی تشریف فرما ہیں۔ہم اس وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے جب آپ لوگوں کے پاس باہر تشریف لائے تھے۔حضرت سمرہ کہتے ہیں:رسول اکرم ﷺ آگے بڑھے اور ہمیں اتنی طویل قیام والی نماز پڑھائی کہ اتنی طویل نماز ہم نے کبھی نہ پڑھی تھی۔آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔پھر آپ نے ہمیں ا س قدر طویل رکوع کرایا کہ اتنا طویل رکوع آپ نے ہمیں کبھی نہیں کرایا تھا۔آپ کی آوازسنائی نہیں دے رہی تھی۔پھر آپ نے ہمیں اتنا لمبا سجدہ کرایا کہ ہم نے آپ کے ساتھ اتنا طویل سجدہ کبھی نہیں کیا تھا۔آپ کی آواز نہیں آرہی تھی۔پھر آپ نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا،صحابی فرماتے ہیں:دوسری رکعت کے تشہد میں آپ بیٹھے تھے کہ سورج روشن ہوگیا۔پھر آپ نے سلام پھیرا اور اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کی اور گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معہود برحق نہیں ہے اور گواہی دی کہ آپ ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔پھر فرمایا:اے لوگو! یقینا میں ایک انسان اور الل کا رسول ہوں۔میں تمہیں اللہ کے نام کے ساتھ وعظ و نصیحت کرتاہوں۔اگر تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچانے میں کوئی کمی کی ہے تو تم مجھے جواب نہ دینا ،حتی کہ میں اپنے رب کے پیغامات اس طرح پہنچا دوں جس طرح پہنچانے کا حق ہے۔اور اگر تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادئے ہیں تو تم مجھے ضروربتادو۔کہتے ہیں کہ لوگ کھڑے ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادئے ہیں۔اور اپنی امت کی خوب خیروخواہی کی ہے اور اپنا فرض ادا کردیاہے۔پھر وہ خاموش ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اما بعد!بے شک کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سورج گرہن اور یہ چاند گرہن اور یہ ستاروں کا اپنے مطالع سے زائل ہونا،اہل زمین کے کسی عظیم شخص کی موت کی وجہ سے ہوتاہے۔بلاشبہ وہ جھوٹ بولتے ہیں،لیکن یہ تو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔تاکہ وہ دیکھے کہ ان میں سے کون توبہ کرتا ہے۔اللہ کی قسم!میں جب سے کھڑا نماز پڑھ رہاتھا میں نے ہر وہ چیز دیکھی ہے جو تمہاری دنیااور آخرت میں تمہیں ملے گی۔اور بے شک اللہ کی قسم!قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی حتی کہ تیس جھوٹے(نبی)نکلیں گے۔ان میں سے آخری کا نام دجال ہوگاجس کی بائیں آنکھ مٹی ہوگی گویا کہ وہ انصاری بوڑے ابویحیییٰ یا تحیا کی آنکھ ہے۔اور بے شک جب وہ نکلے گا تو دعویٰ کرے گا کہ وہی اللہ ہے۔تو جو شخص اس پر ایما ن لے آیا،اور اس کی تصدیق کی اور اس کی پیروی کی تواس کے گزشتہ نیک اعمال اسے کچھ نفع نہیں دیں گے۔اور جس شخص نے اس کا کفر کیا اور اسے جھٹلایا تو اس کے گزشتہ کسی عمل کا مؤاخذہ نہیں ہوگا۔اور وہ (حرمین مکہ مرکہ اور مدینہ منورہ)اور بیت المقدس کے علاوہ ساری زمین پر غالب آ جائے گا۔اوروہ مومنوں کو بیت المقدس میں محصور کردے گا تو ان پر بڑا شدیدزلزلہ آئےگا۔فرماتے ہیں:تواللہ تعالیٰ اسے او راس کے لشکروں کو شکست دے دیں گے۔حتی کہ(ٹوٹی ہوئی)دیوار کا باقی حصہ اور درخت کا تنا پکار کرکہے گا:اے مومن!یہ کافر میرے پیچھے چھپا ہواہے آؤاسے قتل کردو۔"اور فرمایا :اس طرح اس وقت تک نہیں ہوگا حتی کہ تم اپنی جانوں میں بڑے سنگین اور شدیدامور کو دیکھ لو گے۔تم آپس میں پوچھو گے کیا تمہارے نبی ﷺ نے تمہارے لئے اس کا کچھ تذکرہ کیا ہے۔حتی کہ اس گرفتاری کے بعد پہاڑ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے۔آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا جناب ثعلبہ کہتے ہیں: "(حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ)ایک اور خطبہ میں حاضر ہواتوانہوں نے یہ حدیث بیان کی۔انہوں نے کوئی بات بھی آگے پیچھے نہ کی۔"امام ابوبکررحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس حدیث میں یہ الفاظ کہ آپ کی آواز سنائی دے رہی تھی۔"یہ مسئلہ اسی جنس سے تعلق رکھتا ہے جسے ہم بیان کرچکے ہیں کہ جس خبر کو قبول کرنا واجب ہے وہ اس راوی کی خبر ہوتی ہے جو کسی چیز کے ہونے کی خبر دے نہ کہ اس شخص کی جو کسی چیز کے نہ ہونے کی خبر دیتاہے۔حضر ت عائشہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے(نماز کسوف میں)جہری قراءت کی ہے۔لہٰذا حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی خبر کو قبول کرنا واجب ہے کیونکہ انہوں نے جہری قراءت کو یاد رکھا ہے۔اگرچہ ان کے علاوہ راویوں نے اسے یاد نہیں رکھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی قراءت کے وقت آپ سے دور صف میں کھڑے ہوں لہذا ان کا یہ کہنا: "آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی"اس کا مطلب ہے کہ مجھے آوا زسنائی نہیں دے رہی تھی۔"جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کرچکا ہوں کہ عرب لوگ کہتے ہیں۔"یہ کام نہیں ہوا"یعنی اس کام کے ہونے کا علم نہیں ہوسکا۔"

ثَعْلَبَةُ بْنُ عِبَادٍ الْعَبْدِيُّ، مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1397

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1398

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَ فِي آخِرِهِ: ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: "إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا تَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ". وَهَذَا قَوْلُ الزُّهْرِيِّ. قَالَ: وَزَادَ فِيهِ هِشَامٌ: "إِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَتَصَدَّقُوا، وَصَلُّوا".

"حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں سورج گرہن لگا تو آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی پھر مکمل حدیث بیان کی۔آخر میں یہ الفاظ روایت کئے ہیں ۔پھر آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا :بے شک سورج اور چاند کو کسی شخص کی موت وحیات سے گرہن نہیں لگتا ،لیکن وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں۔لہٰذا جب تم گرہن لگا دیکھو تونما ز کی طرف دوڑو۔اما م زہری فرماتے ہیں:اس میں ہشام نے یہ اضافہ بیان کیا ہے:جب تم گرہن لگا دیکھو توصدقہ خیرات کرواور نماز پڑھو۔"

فِي آخِرِهِ: ثُمَّ انْصَرَفَ، ← الْحَدِيثَ. ← خَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ فَصَلَّی ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1398

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1399

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا أَبُو الْأَزْهَرِ -وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ- قَالَ: ثَنَا يُونُسُ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبَ- ثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ زَمَانَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ: "فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ، وَإِلَى ذِكْرِ اللَّهِ، وَالصَّدَقَةِ".

"حضر ت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں سورج گرہن لگا پھر طویل حدیث بیان کی اور فرمایا:لہٰذا جب تم گرہن لگا دیکھو تو نماز کی طرف لپکو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو اور صدقہ خیرات کرو۔"

اللَّهِ، وَالصَّدَقَةِ". ← "فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ، وَإِلَى ← الحديث بطوله ← خَسَفَتِ الشَّمْسُ زَمَانَ رَسُولِ اللَّهِ ← اَسْمَاءَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ اَنَّھَا ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← فُلَيْحٌ، ← يُونُسُ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبَ- ← أَبُو الْأَزْهَرِ، وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1399

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1400

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ الشَّمْسَ كَسَفَتْ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَظَنَّ النَّاسُ إِنَّمَا كَسَفَتْ لِمَوْتِهِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لَا يَكْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ، وَإِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَادْعُوا وَتَصَدَّقُوا".

"حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سورج کو جس دن گرہن لگ گیا جس دن رسول اللہ ﷺ کے لخت جگر ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی۔تو لوگوں نے سمجھا کہ سورج گرہن ان کی موت کی وجہ سے لگا ہے۔چنانچہ نبی کریم ﷺ (خطاب کے لئے)کھڑے ہوئے اورفرمایا: "لوگو!سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں ،انہیں کسی شخص کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا،لہذا جب تم گرہن لگا دیکھو تو نماز پڑھنے میں جلدی کرو،اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف لپکو،دعا کیا کرواور صدقہ خیرات کیا کرو۔ "

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1400

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1401

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ، نَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ أَبُو حُذَيْفَةَ، ثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَاقَةِ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ. أنا أبو طاهر، نا أبو بكر نَاه الدَّارِمِيُّ، ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عبد اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ -يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ- عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ؛ وَقَالَ: أَمَرَ بِعَتَاقَةٍ حِينَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ.

"حضرت اسماء رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم دیا۔امام صاحب جناب دراوردی کی سند سے بیان کرتے ہیں،اس میں الفاظ یہ ہیں: "آپ نے سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم دیا۔ "

هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ؛ وَقَالَ: أَمَرَ بِعَتَاقَةٍ حِينَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ. ← عَبْدُ الْعَزِيزِ -يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ- ← مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← أبو بكر نَاه الدَّارِمِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ، ← أَمَرَ النَّبِيُّ بِالْعَتَاقَةِ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ. ← أَسْمَاءَ ← فَاطِمَةَ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← زَائِدَۃَ، ← مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ أَبُو حُذَيْفَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1401

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1401

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ، نَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ أَبُو حُذَيْفَةَ، ثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَاقَةِ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ. أنا أبو طاهر، نا أبو بكر نَاه الدَّارِمِيُّ، ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عبد اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ -يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ- عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ؛ وَقَالَ: أَمَرَ بِعَتَاقَةٍ حِينَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ.

"بشرطیکہ اس سلسلے میں مروی حدیث صحیح ہو،کیونکہ میرا خیال نہیں کہ جناب ابو قلابہ نے نعمان بن بشر رضی اللہ عنہ سے سنا ہو اورمجھے یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ حضرت قبیصہ صحابی ہیں یا نہیں۔"

هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ؛ وَقَالَ: أَمَرَ بِعَتَاقَةٍ حِينَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ. ← عَبْدُ الْعَزِيزِ -يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ- ← مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← أبو بكر نَاه الدَّارِمِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ، ← أَمَرَ النَّبِيُّ بِالْعَتَاقَةِ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ. ← أَسْمَاءَ ← فَاطِمَةَ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← زَائِدَۃَ، ← مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ أَبُو حُذَيْفَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1401

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1402

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: ثَنَا بِخَبَرِ قَبِيصَةَ، مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ الْبَجَلِيِّ قَالَ: إِنَّ الشَّمْسَ انْخَسَفَتْ، فَصَلَّى نَّبِيُّ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى انْجَلَتْ، ثُمَّ قَالَ: "إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَكِنَّهُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِهِ، وَيُحْدِثُ اللَّهُ فِي خَلْقِهِ مَا شَاءَ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا تَجَلَّى لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ، فَأَيُّهُمَا انْخَسَفَ فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ أَوْ يُحْدِثَ لَهُ اللَّهُ أَمْرًا".

"حضرت قبیصہ بحلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سورج کو گرہن لگا تو نبی کریم ﷺ نے دورکعات ادا کیں حتی کہ سورج روشن ہو گیا،پھر فرمایا: "بلاشبہ سورج اور چاند کو کسی شخص کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے دو مخلوقات ہیں اور اللہ تعالٰی اپنی مخلوق میں جو تبدیلی چاہتا ہے کرلیتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ جب اپنی مخلوق میں سے تجلی فرماتے ہیں تو وہ عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتی ہے۔لہذا سورج اور چاند میں سے جسے بھی گرہن لگے تو ان کے روشن ہونے تک نما زپڑھو،یااللہ تعالیٰ اس کے لئے کوئی نیا حکم لے آئیں۔ "

قبيصة البجلي ← أَبِي قِلَابَةَ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← بِخَبَرِ قَبِيصَةَ، مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1402

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1403

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَأَمَّا خَبَرُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، وإِنَّ بُنْدَارًا حَدَّثَنَاهُ أَيْضًا، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: "فَإِذَا تَجَلَّى اللَّهُ لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ".

"حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں سورج گرہن لگاپھر راوی نے مکمل حدیث بیان کی اور یہ الفاظ بیان کئے پھر جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں کسی چیز کے لئے تجلی فرماتے ہیں تو وہ چیز اللہ تعالیٰ کے لئے عاجزی کا اظہار کرتی ہے۔"

"فَإِذَا تَجَلَّى اللَّهُ لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ". ← الْحَدِيثَ. ← انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← أيضا ← أَبُو بَكْرٍ: وَأَمَّا خَبَرُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، وإِنَّ بُنْدَارًا

Hadith 1403

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1404

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ. جُمَّاعُ أَبْوَابِ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ وَمَا فِيهَا مِنَ السُّنَنِ

"امام صاحب حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کی حدیث کی ایک اور سند بیان کرتے ہیں۔"

أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1404

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals