Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1382

أخبرنا أبو طاهر حدثنا أبو بكر قال وقد حدثنا بندار حدثنا معاذ بن هشام نا أبي و ابن أبي عدي عن هشام عن قتادة عن عطاء عن عبيد بن عمير عن عائشة : أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى في كسوف ست ركعات وأربع سجدات

"سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کا بیان ہے کہ بے شک رسول اکرم ﷺ نے نمازکسوف میں چھ رکوع اور چار سجدے کئے تھے"

عَائِشَةَ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَطَاءٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أبي و ابن أبي عدي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← بُنْدَارٌ ← وقد ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1382

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1383

أخبرنا أبو طاهر حدثنا أبو بكر حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا ابن علية حدثنا ابن جريج عن عطاء ح وحدثنا محمد بن هشام حدثنا إسماعيل - يعني ابن علية - أخبرنا ابن جريج عن عطاء قال سمعت عبيد بن عمير يحدث قال أخبرني من أصدق قال فظننت أنه يريد عائشة رضي الله عنها أنها قالت : كسفت الشمس على في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام بالناس قياما شديدا يقوم بالناس ثم يركع ثم يقوم ثم يركع فركع ركعتين في كل ركعة ثلاث ركعات فركع الثالثة ثم سجد حتى أن رجالا يومئذ ليغشى عليهم حتى سجال الماء ليصب عليهم مما قام بهم يقول إذا كبر : الله أكبر فإذا رفع رأسه قال : سمع الله لمن حمده فلم ينصرف حتى تجلت الشمس فقام فحمد الله وأثنى عليه وقال : إن الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته ولكنهما آيتان من آيات الله يخوفكم بهما فإذا كسفا فافزعوا إلى الله حتى ينجليا

"حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں سورج گرہن لگا تو آپ نے نماز (کسوف پڑھائی)اور صحابہ کرام کو بڑا طویل قیام کرایا۔آپ نے صحابہ کو قیام کرایا،پھر رکوع کیا ،پھر قیام کرایا،پھر رکوع کیا،اس طرح آپ نے دورکعات ادا کیں،ہر رکعت میں تین رکوع کئے،آپ نے تیسرا رکوع کیا ،پھر سجدہ کیا حتی کہ اس دن آپ کے طویل قیام کی وجہ سے کچھ صحابہ بے ہوش ہوگئے اور ان پر پانی کے ڈول ڈالے گئے۔آپ جب تکبیر کہتے تو اللہ اکبر کہتے،پھر جب رکوع سے سراٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے لہذا آپ نے سورج روشن ہونے تک نماز ختم نہ کی۔پھر آپ نے کھڑے ہوکر اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کی۔اور فرمایا: "بلاشبہ سورج اور چاند کو کسی شخص کی موت یا حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا،لیکن یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ تمہیں ڈراتا ہے،جب انہیں گرہن لگے تو تم اللہ (کے ذکر) کی طرف جلدی کرو حتی کہ یہ دونوں روشن اور صاف ہو جائیں۔"

مَنْ أُصَدِّقُ، ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ- ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1383

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1384

وَفِي خَبَرِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ: سِتُّ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ.

"حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں سورج گرہن لگا تو آپ نے نماز (کسوف پڑھائی)اور صحابہ کرام کو بڑا طویل قیام کرایا۔آپ نے صحابہ کو قیام کرایا،پھر رکوع کیا ،پھر قیام کرایا،پھر رکوع کیا،اس طرح آپ نے دورکعات ادا کیں،ہر رکعت میں تین رکوع کئے،آپ نے تیسرا رکوع کیا ،پھر سجدہ کیا حتی کہ اس دن آپ کے طویل قیام کی وجہ سے کچھ صحابہ بے ہوش ہوگئے اور ان پر پانی کے ڈول ڈالے گئے۔آپ جب تکبیر کہتے تو اللہ اکبر کہتے،پھر جب رکوع سے سراٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے لہذا آپ نے سورج روشن ہونے تک نماز ختم نہ کی۔پھر آپ نے کھڑے ہوکر اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کی۔اور فرمایا: "بلاشبہ سورج اور چاند کو کسی شخص کی موت یا حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا،لیکن یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ تمہیں ڈراتا ہے،جب انہیں گرہن لگے تو تم اللہ (کے ذکر) کی طرف جلدی کرو حتی کہ یہ دونوں روشن اور صاف ہو جائیں۔"

جَابِرٍ: سِتُّ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ. ← عَطَاءٍ، ← وَفِي خَبَرِ عَبْدِ الْمَلِكِ،

Hadith 1384

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1385

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى فِي كُسُوفٍ، قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ وَالْأُخْرَى مِثْلُهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ خَرَّجْتُ طُرُقَ هَذِهِ الْأَخْبَارِ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ"، فَجَائِزٌ لِلْمَرْءِ أَنْ يُصَلِّيَ فِي الْكُسُوفِ كَيْفَ أَحَبَّ وَشَاءَ مِمَّا فَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَدَدِ الرُّكُوعِ، إِنْ أَحَبَّ رَكَعَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رُكُوعَيْنِ، وَإِنْ أَحَبَّ رَكَعَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، وَإِنْ أَحَبَّ رَكَعَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، لِأَنَّ جَمِيعَ هَذِهِ الْأَخْبَارِ صِحَاحٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذِهِ الْأَخْبَارُ دَالَّةٌ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ مَرَّاتٍ لَا مَرَّةً وَاحِدَةً.

"حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے نماز کسوف پڑھائی،آپ نے قراءت کی پھر رکوع کیا،پھر آپ نے تلاوت کی پھر رکوع کیا ،پھر آپ نے قراءت کی پھر رکوع کیا،پھر قرآن پڑھا،پھر رکوع کیا،پھر آپ نے سجدے کئے،دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کی۔"امام ابوبکررحمہ اللہ فرماتے ہیں:میں نے ان روایات کی اسانید کتاب الکبیر میں بیان کردی ہیں۔لہذا آدمی کے لئے جائز ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے طریقے کے مطابق نماز کسوف میں جتنے رکوع پسند کرے اور چاہے ادا کرلے۔اگر وہ ہر رکعت میں دو رکوع کرنا پسند کرے تو دو رکوع کر لے۔اوراگر چاہے تو ہر رکعت میں تین رکوع کرے۔اور اگر پسند کرے تو ہر رکعت میں چار رکوع کرے۔کیونکہ یہ تمام روایات نبی کریم ﷺ سے صحیح ثابت ہیں۔اور یہ روایات اس بات کی دلیل ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سورج گرہن میں ایک مرتبہ نہیں بلکہ کئی مرتبہ نماز کسوف پڑھی ہے۔"

الْأُخْرَى مِثْلُهَا. ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← حَبِيبٍ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى ← أَبُو مُوسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1385

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1386

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَلِكَ يَوْمَ مَاتَ فِيهِ ابْنُهُ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّمَا انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ. فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، كَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَرَأَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الثَّانِيَةِ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَرَأَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ انْحَدَرَ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، لَيْسَ فِيهَا رَكْعَةٌ إِلَّا الَّتِي قَبْلَهَا أَطْوَلُ مِنَ الَّتِي بَعْدَهَا إِلَّا أَنَّ رُكُوعَهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ تَأَخَّرَ فِي صَلَاتِهِ، فَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوفُ مَعَهُ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَتَقَدَّمَتِ الصُّفُوفُ مَعَهُ، فَقَضَى الصَّلَاةَ وَقَدْ أَضَاءَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ قَالَ: "أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ بَشَرٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكِ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ".

"حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں جس دن رسول اللہ ﷺ کا لخت جگر ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوا،اس دن سورج کو گرہن لگا۔تو آپ نے لوگوں کو چھ رکوع چار سجدوں کے ساتھ اداکرائے،آپ نے تکبیر کہی پھر طویل قراءت کی کی،پھر اپنی قراءت کے برابر طویل رکوع کیا،پھر آپ نے رکوع سے اپنا سرمبارک اٹھایا توپہلی قراءت سے کچھ کم قراءت کی پھر آپ نے اپنی قراءت کی مقدار کے برابر طویل رکوع کیا،پھر آپ نے رکوع سے سرمبارک اٹھایا تو اپنی دوسری قراءت سے کچھ کم قراء ت کی،پھر اس قراءت کے برابر رکوع کیا،پھر اپناسرمبارک اٹھایا پھر آپ نے نیچے جھک کر دوسجدے کئے،پھر آپ (دوری رکعت کے لئے)کھڑے ہوگئے اور سجدے کرنے سے پہلے تین رکوع کیے،ان میں سے ہر رکوع اپنے بعد والے سے طویل ہوتا تھا مگر آپ کا رکوع آپ کے قیام کے برابر ہوتا تھا۔پھر آپ اپنی نماز میں پیچھے ہٹے تو لوگوں کی صفیں بھی آپ کے ساتھ پیچھے ہٹ گئیں۔پھر آپ آگے بڑھے تو صفیں بھی آگے بڑھ گئیں پھر آپ نے نماز مکمل کی تو سورج روشن ہو چکا تھا۔پھر آپ نے فرمایا :لوگو!بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں اور ان دونوں کو کسی انسان کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا ،لہذا جب تم گرہن لگا دیکھو تو نماز پڑھا کروحتی کہ سورج روشن ہوجائے۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1386

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1387

وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ الكنانِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَامَ وَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ"، ثُمَّ قَامَ فَاقَترَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ"، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ: "إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ".

حضرت عائشہ رضی اللہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارک میں سورج گرہن لگا تو مسجد میں تشریف لے گئے،آپ (نماز کے لئے)کھڑے ہوگئے اور"اَللہُ اَکْبَرُ"کہا۔اور لوگوں نے بھی آپ کے پیچھے صفیں بنا لیں۔رسول اللہ ﷺ نے بڑی طویل قراءت فرمائی۔پھر "اَللہُ اَکْبَرُ"کہا اور طویل رکوع کیا۔پھر رکوع سے سرمبارک اٹھایا۔توسَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہَ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُکہا پھرآپ نے کھڑے ہو کر طویل قراءت کی،مگر یہ پہلی قراءت سے کم تھی،پھر آپ نے اللہ اکبر کہہ کر طویل رکوع کیا،اور یہ رکوع پہلے رکوع سے چھوٹا تھا۔پھر آپ نے سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہَ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہا۔پھر آپ نے دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کی،اس طرح آپ نے چار رکوع اور چار سجدے مکمل کر لئے۔آپ کے سلام پھیرنے سے پہلے ہی سورج روشن ہوچکا تھا۔پھر آپ نے کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرمایا:اور اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق اس کی حمدوثناء بیان کی۔پھر فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں اور ان دونوں کو کسی انسان کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا ،لہذا جب تم ان دونوں(میں سے کسی ایک)کو گرہن لگادیکھو تو نماز پڑھنے میں جلدی کرو۔"

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الصَّابُونِيُّ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ الكنانِيُّ، ← الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ،

Hadith 1387

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1388

أخبرنا أبو طاهر، حدثنا أبو بكر، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا زُهَيْرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ رَجُلٍ يُدْعَى الْحَنَشَ، عَنْ عَلِيٍّ؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ رَجُلٍ يُدْعَى حَنَشًا، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى -وَهَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ- قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى عَلِيٌّ بِالنَّاسِ، بَدَأَ فَقَرَأَ بِـ (يس) أَوْ نَحْوِهَا، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قَدْرِ السُّورَةِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَامَ قَدْرَ السُّورَةِ يَدْعُو وَيُكَبِّرُ، ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ قِرَاءَتِهِ أَيْضًا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: ثُمَّ قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَفَعَلَ كَفِعْلِهِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، ثُمَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ كَذَلِكَ يَفْعَلُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي هَذَا الْخَبَرِ: إِنَّهُ رَكَعَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ (1)، مِثْلُ خَبَرِ طَاوُوسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سورج گرہن لگا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز کسوف پڑھائی۔انہوں نے نماز شروع کی تو سورہ یٰسنٓیا اس جیسی کوئی سورت پڑھی،پھر انہوں نے سورت کی مقدار کے برابر لمبا رکوع کیا،پھر رکوع سے سراٹھایا تو سَمِعَ اللہُلِمَنْ حَمِدَہْکہا پھر سورج کی مقدار برابر کھڑے ہو کر دعاکرتے رہے اور تکبیر کہتے رہے۔پھر اپنی قراءت کے برابر لمبا رکوع کیا۔پھر بقیہ حدیث بیان کی اور فرمایا:پھر وہ دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے تو پہلی رکعت کی طرح تمام کام کئے۔پھر حاضرین کو بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ بھی اسی طرح کرتے تھے۔ "امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:اس روایت میں مذکورہے کہ حضرت علی رضی اللہ نے ہر رکعت میں چاررکوع کئے تھے۔جیسا کہ طاعوس کی حضرت ابن عباس سے روایت میں ذکر ہواہے۔

عَلِيٍّ، ← رجل يدعى حنشا ← الْحَكَمِ ← الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ← عَلِيٍّ، ← رَجُلٍ يُدْعَى الْحَنَشَ، ← الْحَكَمِ ← الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، ← زُهَيْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1388

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1389

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، [150 - أ] ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ، فَقَامَ حَتَّى لَمْ يَكَدْ يَرْكَعُ، ثُمَّ رَكَعَ حَتَّى لَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَلَمْ يَكَدْ يَسْجُدُ، ثُمَّ سَجَدَ وَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَلَمْ يَكَدْ يَسْجُدُ، ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ.

”حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ایک دن سورج گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے،آپ نے(اتنا طویل)قیام کیا کہ گویا آپ رکوع نہیں کرنا چاہتے تھے پھر آپ نے رکوع کیا حتی کہ آپ رکوع سے سراٹھانا نہیں چاہتے تھے۔پھر آپ نے اپنا سرمبارک اٹھایا تو (آپ اتنی دیر کھڑے رہے گویا)آپ سجدہ نہیں کرنا چاہتے ۔پھر آپ نے سجدہ کیا تو آپ گویا سر اٹھانا ہی نہیں چاہتے تھے۔پھر آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا تو آپ (دیر تک بیٹھے رہے)سجدہ کرنا ہی نہ چاہتے تھے پھر آپ نے سجدہ کیا تو گویا آپ سرمبارک اٹھانا ہی نہیں چاہتے تھے۔“

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، أ] ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1389

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1390

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكُسُوفِ، وَقَالَ فِي الْخَبَرِ: ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ سُجُودًا دُونَ السُّجُودِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.

”حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے نبی کریم ﷺ کی نماز کسوف کے بارے میں طویل حدیث مروی ہے،اور اس حدیث میں ہے :”آپ نے سجدہ کیا تو طویل سجدہ کیا۔پھر آپ نے اپنا سرمبارک اٹھایا۔پھر دوسرا سجدہ کیا جو پہلے سجدے سے مختصر تھا۔“پھر باقی حدیث بیان کی۔“

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1390

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1391

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ، نَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: مِثْلَهُ.

امام صاحب حضرت سعید بن عبدالرحمان کی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی روایت بیان کرتے ہیں۔جو پچھلی روایت کے ہم معنی ہے۔

عَائِشَۃَ مِثْلَہُ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1391

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1392

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ، فَقَامَ حَتَّى لَمْ يَكَدْ أَنْ يَرْكَعَ، ثُمَّ رَكَعَ حَتَّى لَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَلَمْ يَكَدْ أَنْ يَسْجُدَ، ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ يَكَدْ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، فَجَعَلَ يَنْفُخُ وَيَبْكِي وَيَقُولُ: "رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ؟ رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ؟ وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُكَ"، فَلَمَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ انْجَلَتِ الشَّمْسُ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: "إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا انْكَسَفَا فَافْزَعُوا إِلَى ذَكَرِ اللَّهِ"، ثُمَّ قَالَ: "لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ شِئْتُ تَعَاطَيْتُ قِطْفًا مِنْ قُطُوفُهَا، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَجَعَلْتُ أَنْفُخُهَا، فَخِفْتُ أَنْ تَغْشَاكُمْ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ: رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ؟ رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَلَّا تُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ؟ قَالَ: فَرَأَيْتُ فِيهَا الْحِمْيَرِيَّةَ السَّوْدَاءَ الطَّوِيلَةَ صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ كَانَتْ تَحْبِسُهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا، وَلَمْ تَسْقِهَا وَلَا تَتْرُكُهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، فَرَأَيْتُهَا كُلَّمَا أَدْبَرَتْ نَهَشَتْهَا، وَكُلَّمَا أَقْبَلَتْ نَهَشَتْهَا فِي النَّارِ، وَرَأَيْتُ صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ (1) أَخَا بَنِي دُعْدُعٍ يُدْفَعُ فِي النَّارِ بِعَصًا ذِي شُعْبَتَيْنِ، وَرَأَيْتُ صَاحِبَ الْمِحْجَنِ فِي النَّارِ الَّذِي كَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهِ، وَيَقُولُ: إِنِّي لَا أَسْرِقُ، إِنَّمَا يَسْرِقُ الْمِحْجَنُ، فَرَأَيْتُهُ فِي النَّارِ مُتَّكِئًا عَلَى مِحْجَنِهِ".

" حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ایک روز سورج گرہن لگا رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے تو آپ نے اتنا طویل قیام کیا گویا آپ رکوع نہیں کرنا چاہتے۔پھر آپ نے(اس قدر طویل)رکوع کیا کہ جیسے آپ اپنا سرمبارک اٹھانا ہی نہیں چاہتے۔پھر آپ نے سرمبارک اٹھایا(تودیر تک کھڑے رہے)جیسے آپ سجدہ کرنا نہیں چاہتے،پھر آپ نے سجدہ کیا تو جیسے آپ اپنا سراٹھانا ہی نہیں چاہتے۔آپ پھونکیں ماررہے تھے اور رورو کر یہ دعا مانگ رہے تھے: ”اے میرے پروردگار!کیا تو نے میرے ساتھ وعدہ نہیں کیا تھا کہ جب تک میں ان میں موجود ہوں تو انہیں عذاب نہیں دے گا؟اے میرے رب !کیا تو نے میرے ساتھ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو انکو عذاب نہیں دے گا اس حال میں کہ ہم تجھ سے بخشش کا سوال کرتے ہوں۔ “پھر جب آپ نے دورکعات پڑھائیں تو سورج روشن ہوچکا تھا۔آپ نے کھڑے ہوکر اللہ تعالٰی کی تعریفات اور اس کی ثناء بیان کی اور فرمایا :بے شک سورج اور چانداللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔لہذا ان دونوں(میں سے کسی ایک)کو گرہن لگے توتم جلدی جلدی اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہوجاؤ،پھر فرمایا:مجھے جنت دکھائی گئی حتی کہ اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر اس کے خوشوں میں سے ایک خوشہ لیتا۔اور مجھے جہنم بھی دکھائی گئی تو میں نے پھونکیں مارنا شروع کردیں۔میں ڈرا کہ کہیں یہ تمہیں اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔اور میں نے یہ دعاکرنی شروع کردی۔اے میرے پروردگار! کیا تو نے میرے ساتھ وعدہ نہیں کیا تھا کہ جب تک میں ان میں موجود ہوں تو انہیں عذاب نہیں دے گا؟اے میرے رب !کیا تو نے میرے ساتھ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو انکو اس حال میں عذاب نہیں دے گاجبکہ وہ اپنی گناہوں کی معافی مانگتے ہوں۔آپ نے فرمایا:میں نے جہنم میں بلی والی سیاہ فام لمبی حمیری عورت کو دیکھا ،جس نے بلی کوباندھے رکھا،اسے نہ خود کچھ کھلایا پلایا،نہ اسے آزادکیا کہ وہ زمینی کیڑے مکوڑے کھا لیتی(لہذا وہ بھوکی پیاسی مرگئی)تو میں نے اس عورت کودیکھا کہ جب بھی وہ پیچھے ہٹتی،بلی اس کا گوشت نوچتی،اور جب بھی آگے آتی توبھی بلی اپنی دانتوں سے اس کا گوشت نوچتی۔اور میں نے بنی وعدہ قبیلے کے ایک فرد دوسبتی جوتوں والے کو بھی دیکھا اسے دوشاخوں والی لاٹھی کے ساتھ جہنم میں دھکیلا جارہا تھا۔اور میں نے جہنم میں اس خمدا رلاٹھی والے کو بھی دیکھا جو اپنی خمدار لاٹھی کے ساتھ حاجیوں کی چیزیں چرایا کرتا تھا۔اور کہتا تھا:بے شک میں تو چوری نہیں کرتا،چوری تو میری خمدار لاٹھی کرتی ہے۔لہذا میں نے اسے جہنم میں خمدارلاٹھی پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا۔ “

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1392

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1393

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا مُؤَمَّلٌ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو؛ وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى قِيلَ لَا يَرْكَعُ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ حَتَّى قِيلَ لَا يَرْفَعُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، حَتَّى قِيلَ لَا يَسْجُدُ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ حَتَّى قِيلَ لَا يَرْفَعُ، ثُمَّ رَفَعَ فَجَلَسَ حَتَّى قِيلَ لَا يَسْجُدُ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فَفَعَلَ فِي الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَمْحَصَتِ الشَّمْسُ.

” حضرت عبداللہ بن عمر ورضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں سورج کو گرہن لگا تو آپ رسول اللہ ﷺ (نماز پڑھنے کے لئے) کھڑے ہوئے،چنانچہ آپ نے بڑا طویل قیام کیا حتی کہ کہا گیا کہ آپ رکوع نہیں کریں گے۔پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا حتی کہ کہا گیا کہ آپ سر نہیں اٹھائیں گے۔پھر آپ نے سر اٹھایا تو بڑی دیر تک قیام کیا حتی کہ سمجھا جانے لگا کہ آپ سجدہ نہیں کریں گے۔پھر آپ نے سجدہ کیا تو بڑا طویل سجدہ کیا حتی کہ خیال کیا جانے لگا کہ آپ سر نہیں اٹھائیں گے ۔پھر آپ نے سر اٹھایا تو بڑی دیر تک بیٹھے رہے حتی کہ سمجھا جانے لگا کہ آپ (دوسرا)سجدہ نہیں کریں گے۔پھر آپ نے سجدہ کیا۔پھر آپ کھڑے ہوئے تو دوسری رکعت میں بھی اس طرح کیا،پھر سورج کا گرہن ختم ہوگیا۔(اور وہ روشن ہوگیا۔)“

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1393

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals