Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الخَوفِ · حديث 1355

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بِهِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثَنَا مَعْمَرٌ، بِنَحْوِهِ [146 - أ].

امام صاھب نے ایک اور سند ذکر کی ہے۔

مَعْمَرٌ، بِنَحْوِهِ أ]. ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← بِهِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the prayer of fear · Hadith 1355

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الخَوفِ · حديث 1356

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو مُوسَى، قَالَا: نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ: فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ قَالَ: يَقُومُ الْإِمَامُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، وَتَقُومُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ مَعَهُ، وَطَائِفَةٌ مِنْ قِبَلِ الْعَدُوِّ، وُجُوهُهُمْ إِلَى الْعَدُوِّ فَيَرْكَعُ بِهِمْ رَكْعَةً. قَالَ أَبُو مُوسَى: ثُمَّ يَقُومُونَ فَيَرْكَعُونَ. وَقَالَ بُنْدَارٌ: فَيَرْكَعُونَ لِأَنْفُسِهِمْ، وَيَسْجُدُونَ لِأَنْفُسِهِمْ سَجْدَتَيْنِ فِي مَكَانِهِمْ، وَيَذْهَبُونَ إِلَى مَقَامِ أُولَئِكَ، وَيَجِيءُ أُولَئِكَ فَيَرْكَعُ بِهِمْ ركعة وَيَسْجُدُ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، فَهِيَ لَهُ اثْنَتَانِ وَلَهُمْ وَاحِدَةٌ، ثُمَّ يَرْكَعُونَ. قَالَ أَبُو مُوسَى: لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، وَيَسْجُدُونَ سَجْدَتَيْنِ. هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ إِلَّا مَا ذَكَرْتُ مِمَّا خَالَفَهُ أَبُو مُوسَى فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ إِنَّمَا زَادَ أَبُو مُوسَى: "لِأَنْفُسِهِمْ" فِي الْمَوْضِعَيْنِ فَقَطْ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ بُنْدَارًا يَقُولُ: سَأَلْتُ يَحْيَى عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِي عَنْ شُعْبَةَ.

حضرت سہل بن ابی ثمہ ؓ نماز خوف کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : امام قبلہ رخ ہو کر کھڑا ہو گا اور مسلمانوں کا ایک گروہ اس کے ساتھ کھڑا ہو گا اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے ان کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو گا ۔ چنانچہ امام پہلے گروہ کو ایک رکعت پڑھائے گا ۔ جناب ابو موسیٰ کی روایت میں ہے: پھر وہ کھڑے ہو گے اور رکوع کرے گے ، اور جناب بندرا کی روایت میں الفاظ اس طرح ہیں ، تو وہ خود ہی رکوع کر لیں گے اور اپنی جگہ خود ہی اپنے لیے دو سجدے کر لیں گے ۔ پھر یہ گروہ دوسرے گروہ کی طرف چلا جائے گا ۔ وہ گروہ آے گا تو امام انہیں ایک رکوع اور دو سجدے کرائے گا۔ اس امام کی دو رکعت اور ان کی ایک رکعت ہو جائے گی ۔ پھر وہ دوسری رکعت پڑھ لیں گے۔ یہ جناب بندرا کی حدیث ہے سوائے ان الفاظ کے جن میں ابو موسیٰ نے ان سے اختلاف کیا ہے میں بے ان کو بیان کر دیا ہے ۔ جناب ابو موسیٰ نے صرف دو جگہوں پر لِاَ نْفُسِمْ (خود اپنے لیے پڑھ لیں گے) کے الفاظ بیان کئے ہیں امام ابو بکر کہتے ہیں : میں نے بندرا ؒ کو فرماتے سنا: میں نے امام یحیی ٰ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے مجھے حدیث جناب شعبہ ؒ سے بیان کی۔"

سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ ← صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو مُوسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the prayer of fear · Hadith 1356

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الخَوفِ · حديث 1358

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ وَأَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، وَهَذَا حَدِيثُ الْمُخَرِّمِيِّ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثَنَا شُعْبَةُ وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ: أَنَّهُ قَالَ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ: تَقُومُ طَائِفَةٌ وَرَاءَ الْإِمَامِ وَطَائِفَةٌ خَلْفَهُ، فَيُصَلِّي بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ يَقْعُدُ مَكَانَهُ حَتَّى يَقْضُوا رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُونَ إِلَى مَكَانِ أَصْحَابِهِمْ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُون أَصْحَابُهُمْ (1) إِلَى مَكَانِ هَؤُلَاءِ فَيُصَلِّي بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ يَقْعُدُ مَكَانَهُ حَتَّى يُصَلُّوا رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ يُسَلِّمُ.

حضرت سہل بن ابی حثمہ ؓ نماز خوف کے طریقے کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ ایک گروہ امام کے پیچھے کھرا ہو گا جبکہ دوسرا گروہ ان کے پیچھے (دشمن کے سامنے) کھڑا رہے گا ۔ امام اپنے پیچھے کھڑے ہونے والے گروہ کو ایک رکوع اور دو سجدے کرائے گا ۔ پھر وہ اپنی جگہ پر بیٹھا رہے گا حتی کہ دوسری رکعت دو سجدوں میں مکمل کریں گے ۔ پھر وہ اپنے ساتھیوں کی جگہ چلے جائیں گے اور وہ ان کی جگہ آ جائیں گے ، تو امام انہیں بھی ایک رکعت دو سجدوں کے ساتھ پڑھاے گا ، پھر وہ اپنی جگہ بیٹھا رہے گا حتی کے وہ دوسری رکعت اور دو سجدے ادا کر لیں گے ، پھر امام (اس گروہ کے ساتھ)سلام پھیر دے گا۔

سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّهُ ← صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، ← الْقَاسِمِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← شعبة ومالك بن أنس ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← هَذَا حَدِيثُ الْمُخَرِّمِيِّ، ← اَبُوْ یَحْیَی مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِیمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the prayer of fear · Hadith 1358

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الخَوفِ · حديث 1359

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا .... (1)، قَالَا، ثَنَا رَوْحٌ، ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِثْلَ هَذَا.

حضرت سہل بن ابی حثمہ ؓ نبی کریم ﷺ سے اسی کی مثل روایت بیان کرتے ہیں

النَّبِيِّ مِثْلَ هَذَا ← سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، ← الْقَاسِمِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← شُعْبَةُ، ← رَوْحٌ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the prayer of fear · Hadith 1359

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الخَوفِ · حديث 1360

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا الْمُخَرِّمِيُّ، أَيْضًا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ أَبِيهِ بِنَحْوِهِ: هَكَذَا حَدَّثَنَا بِهِ الْمُخَرِّمِيُّ فِي عَقِبِ حَدِيثِ شُعْبَةَ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ.

امام صاحب حضرت سہل کی حدیث کی اویک اور سند بیان کرتے ہیں۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← بِهِ الْمُخَرِّمِيُّ فِي عَقِبِ حَدِيثِ شُعْبَةَ: ← أَبِيهِ بِنَحْوِهِ: هَكَذَا ← صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، ← الْقَاسِمِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ← الْمُخَرِّمِيُّ، أَيْضًا ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the prayer of fear · Hadith 1360

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الخَوفِ · حديث 1361

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثَنَا حَيْوَةُ، ثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، [146 - ب] أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ: أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ، هَلْ صَلَّيْتَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: نَعَمْ، قَالَ: مَتَى؟ قَالَ: كَانَ عَامَ غَزْوَةِ نَجْدٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقَامَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ، وَطَائِفَةٌ أُخْرَى مُقَابِلَ الْعَدُوِّ ظُهُورُهُمْ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَبَّرُوا مَعَهُ جَمِيعًا الَّذِينَ مَعَهُ وَالَّذِينَ يُقَابِلُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ وَمَنْ مَعَهُ، ثُمَّ كَانَ السَّلَامُ، فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمُوا جَمِيعًا، فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ، وَلِكُلِّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ.

حضرت عروہ بن زبیر ؒ مروان بن حکم سے بیان کرتے ہیں کہ اس نے حضرت ابو ہریرہؓ سے سوال کیا : کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز خوف پڑھی ہے ؟حضرت ابو ہریرہ ؓ نے فرمایا : ہاں ! اس نے دریافت کیا :کب؟تو انہوں نے فرمایا :غزوہ نجد والے سال پڑھی تھی، رسول اللہﷺ نماز عصر کے لیے کھڑے ہوئے اور ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہو گیا ، جبکہ دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا تھا ، ان کی پشتیں قبلہ کی طرف تھیں ، رسول اللہ ﷺ نے اللہ اکبر کہا تو تمام لوگوں نے اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کر لی، جو آپ کے ساتھ کھڑے تھے انہوں نے بھی اور دشمن کے سامنے تھے انہوں نے بھی ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ایک رکعت پڑھی اور آپ کے ساتھ والے گروہ نے بھی ایک رکعت ادا کی: پھر آپ نے اور کے قریبی گروہ نے سجدے کیے ، جبکہ دوسرا گروہ دشمن کے سامنے صف آرا تھا تو پھر رسول اللہﷺ اور آپ کی قریبی صف کھڑی ہو گی ۔ تو وہ دشمن کے مقابلے میں چلے گے۔ اور وہ گروہ آ گیا جو دشمن کے سامنے صف آرا تھا تو انہوں نے رکوع کیا اور (دو) سجدے بھی کر لیے جبکہ اس دوران رسول اللہ ﷺ بدستور کھڑے تھے ، پھر وہ کھڑے ہو گے رسول اللہ ﷺ نے دوسری رکعت پڑھی تو انہوں نے بھی آپ کے ساتھ رکوع کیا اور سجدے کیے ، پھر وہ گروہ آ گیا جو دشمن کے سامنے کھڑا تھا ، تو انہوں نے (خود ہی) دوسرا رکوع اور سجدے کر لیے ، جبکہ اس دوران میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھی(پہلا گروہ) بیٹھے رہے، پھر سلام پھیرا ، رسول اللہ ﷺ اور تمام لوگوں نے اکھٹے سلام پھیرا ۔ اس طرح رسول اللہ ﷺ کی دو رکعات ہو گیئں اور دونوں گروہوں کے ہر شخص کی بھی دو دو کعات ہو گیئں ۔

أَبُو الْأَسْوَدِ، ← حَيْوَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the prayer of fear · Hadith 1361

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الخَوفِ · حديث 1362

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو الْأَزْهَرِ، وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ نَوْفَلٍ -وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَهُوَ أَحَدُ بَنِي أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ- عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ يَسْأَلُهُ عَنْ صَلَاةِ الْخَوْفِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ، قَالَ: فَصَدَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ صَدْعَيْنِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ، وَذَكَرَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ قَالَ: وَأَخَذَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي صَلَّتْ خَلْفَهُ أَسْلِحَتَهُمْ، ثُمَّ مَشَوْا الْقَهْقَرَى عَلَى أَدْبَارِهِمْ حَتَّى قَامُوا مِمَّا يَلِي الْعَدُوَّ، وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: فَقَامَ الْقَوْمُ وَقَدْ شَرَكُوهُ فِي الصَّلَاةِ.

حضرت عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہؓ کو سنا جبکہ مروان بن حکم ان سے نماز خوف کے بارے میں پوچھ رہا تھا ، حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا: میں اس غزہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ موجود تھا فرماتے ہیں : پس رسو ل اللہ ﷺ نے دو گروہوں میں تقسیم کیا پھر مذکورہ بالا حدیث کی مثل بیان کیا اور دوسری رکعت میں یہ بیان کیا کہ اس گروہ نے اسلحہ پکڑ لیا ، جس نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی تھی، پھر وہ الٹے پائوں چلتے ہوئے پیچھے گئے حتی کہ وہ دشمن کے قریب جا کر کھڑے ہو گئے ۔ اور حدیث کے آخر میں یہ الفاظ زیادہ کیے کہ لوگ اٹھ گئے اس حال میں کہ وہ سب آپ کے ساتھ نماز میں شرکت کر چکے تھے۔

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the prayer of fear · Hadith 1362

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الخَوفِ · حديث 1363

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحْرِزٍ وَأَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذَاتِ الرِّقَاعِ، قَالَتْ: فَصَدَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ صَدْعَيْنِ فَصَفَّتْ طَائِفَةٌ وَرَاءَهُ، وَقَامَتْ طَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ، قَالَتْ: فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرَتِ الطَّائِفَةُ الَّذِينَ صَفُّوا خَلْفَهُ، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعُوا، ثُمَّ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَسَجَدُوا لِأَنْفُسِهِمُ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامُوا فَنَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَمْشُونَ الْقَهْقَرَى حَتَّى قَامُوا مِنْ وَرَائِهِمْ، وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ، قَالَ أَحْمَدُ: الْأُخْرَى، وَقَالَا جَمِيعًا: فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَبَّرُوا، ثُمَّ رَكَعُوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَتَهُ الثَّانِيَةَ، فَسَجَدُوا. زَادَ أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ: فَسَجَدُوا مَعَهُ [147 - أ]. ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْعَتِهِ، وَسَجَدُوا لِأَنْفُسِهِمُ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامَتِ الطَّائِفَتَانِ جَمِيعًا -وَقَالَا- فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا جَمِيعًا. قَالَ أَبُو الْأَزْهَرِ: ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَرَفَعُوا مَعَهُ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ: وَرَفَعُوا مَكَانَهُ، وَلَمْ يَقُلْ: ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، وَقَالَا جَمِيعًا: كَانَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيعًا جِدًّا لَا يَأْلُو أَنْ يُخَفِّفَ مَا اسْتَطَاعَ، ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمُوا، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَرَكَهُ النَّاسُ فِي صَلَاتِهِمْ كُلِّهِ (1).

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزہ ذات الرقاع کے موقع پر نماز خوف پڑھائی تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیا ۔ ایک گروہ نے آپ کے ساتھ پیچھے صف بنائی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے صف آرا ہو گیا ۔ پھر آپ نے اللہ اکبر کہا تو آپ کے پیچھے صف بنانے والے گروہ نے بھی نماز اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کر دی۔ آپ نے رکوع کیا تو انہوں نے بھی رکوع کیا ۔ آپ نے سجدہ کیا تو انہوں نے بھی سجدہ کیا ، پھر ااپ نے اپنا سر مبارک (سجدے سے)اٹھایا تو انہوں نے بھی اپنے سر اٹھا ے ۔پھر رسول اللہ ﷺ اپنی جگہ پر تشریف فرما رہے اور انہوں نے دوسرا سجدہ خود کر لیا ۔ پھر وہ اٹھے اور اپنی ایڑیوں پر مڑ گے اور الٹے پائوں چلتے ہوئے ان کے پیچھے آ کر کھڑے ہو گے ، دوسرا گروہ آگے آ گیا ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے صف بنا لی ، انہوں نے تکبیر کہ کر نماز شروع کی ، پھر خود ہی رکوع کیا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا دوسرا سجدہ کیا تو انہوں نے بھی آپ کے ساتھ (پہلا) سجدہ کیا ۔ رسول اللہﷺ اپنی (دوسری) رکعت کے لیے کھڑے ہو گے اور انہوں نے اپنا دوسرا سجدہ خود ہی کر لیا۔ پھر دونوں گروہ کھڑے ہو گے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے صفیں بنائیں ۔ آپ نے ان کے ساتھ رکوع کیا تو انہوں نے بھی سجدہ کیا ۔پھر آپ نے (سجدے سے ) سر مبارک اٹھایا تو انہوں نے بھی اپنے سر اٹھا لیے ۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ کام بہت تیزی کے ساتھ کیا اور حسب طاقت پوری کوشش کے ساتھ تخفیف کی ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو انہوں نے بھی سلام پھیر دیا ۔ پھر رسول اللہ ﷺاٹھ گے جبکہ آپ کی ساری نماز میں لوگ شرکت کر چکے تھے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحْرِزٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the prayer of fear · Hadith 1363

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الخَوفِ · حديث 1364

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، نَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُسْأَلُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ أَقْصُرُهُمَا؟ قَالَ: لَا، إِنَّ الرَّكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ لَيْسَتَا بِقَصْرٍ، وَإِنَّمَا الْقَصْرُ وَاحِدَةٌ عِنْدَ الْقِتَالِ، ثُمَّ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَتْ خَلْفَهُ طَائِفَةٌ، وَطَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّذِي خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ إِنَّهُمُ انْطَلَقُوا، فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ الَّذِينَ كَانُوا فِي وُجُوهِ الْعَدُوِّ، وَجَاءَتْ تِلْكَ الطَّائِفَةُ، فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ، فَسَلَّمَ الَّذِينَ خَلْفَهُ، وَسَلَّمَ أُولَئِكَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُ جَابِرٍ: إِنَّ الرَّكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ لَيْسَتَا بِقَصْرٍ، أَرَادَ (1) لَيْسَتَا بِقَصْرٍ عَنْ صَلَاةِ الْمُسَافِرِ.

جناب یزید الفقیر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے سنا ہے ، جبکہ ان سے سوال کیا گیا کیا سفر میں دو رکعت نماز قصر ہے؟ انوں نے فرمایا : نہیں ۔ بے شک سفر میں دو رکعات نماز قصر نہیں ہے ، بلکہ قصر نماز تو جنگ کے وقت ایک رکعت ادا کرنا ہے پھر فرمایا : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے نماز کی اقامت کی گی ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ کے پیچھے ایک گروہ کھڑا ہو گیا ۔ اور ایک گروہ دشمن کے سامنے صف آرا تھا آپ نے اپنے پیچھے کھڑے گروہ کو ایک رکعت دو سجدوں کے ساتھ پڑھائی ۔ پھر وہ چلے گے۔ اور ان کی جگہ پر کھڑے ہو گے جو دشمن کے سامنے کھڑے تھے پھر وہ گروہ آ گیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں بھی ایک رکعت اور دو سجدے کرائے پھر رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو آپ کے پیچھے کھڑے ہونے والوں نے بھی سلام پھیر دیا اور (دشمن کے سامنےکھڑے) گروہ نے بھی سلام پھیر لیا ۔امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں حضرت جابر ؓ کا یہ فرمان : سفر میں دو رکعات مسافر کی نماز قصر نہیں ہے (بلکہ مسافر کی مکمل نماز ہے )۔

الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ أَقْصُرُهُمَا؟ ← جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُسْأَلُ ← يَزِيدُ الْفَقِيرُ أَنَّهُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the prayer of fear · Hadith 1364

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الخَوفِ · حديث 1365

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَبْدٍ السَّلُولِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ، وَكَانَ مَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ: أَيُّكُمْ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا. مُرْ أَصْحَابَكَ فَيَقُومُوا طَائِفَتَيْنِ، طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، وَطَائِفَةٌ مِنْهُمْ خَلْفَكَ، فَتُكَبِّرُ وَيُكَبِّرُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَرْكَعُ وَيَرْكَعُونَ، ثُمَّ تَرْفَعُ فَيَرْفَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَسْجُدُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيكَ، وَتَقُومُ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ قَامَ الَّذِينَ يَلُونَكَ، وَخَرَّ الْآخَرُونَ سُجَّدًا، ثُمَّ تَرْكَعُ فَيَرْكَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَسْجُدُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيكَ، وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى قَائِمَةٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ سَجَدَ الَّذِينَ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، ثُمَّ تُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ، وَتَأْمُرُ أَصْحَابَكَ إِنْ هَاجَمَهُمْ هَيْجٌ، فَقَدْ حَلَّ لَهُمُ الْقِتَالُ وَالْكَلَامُ.

جناب سیلم بن عبد السلوالی بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت سعید بن عاص ؓ کے ساتھ طبرستان میں تھے اور ان کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے چند صحابہ کرام بھیہ موجود تھے ۔انہوں نے دیگر صحابہ سے پوچھا : آپ میں سے کسی نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز خوف پڑھی ہے ؟حضرت حذیفہؓ نے فرمایا : میں نے پھر نماز خوف کا طریقہ بتاتے ہوئے کہا : اپنے ساتھیوں کو حکم دیں کہ وہ دو گروہوں میں کھڑے ہو جایئں ایک گروہ دشمن کے سامنے صف آرا ہو جایئں اور دوسرا گروہ آپ کے پیچھے صف بنا لے۔ پھر تم تکبیر کہو تو سب بھی تکبیر کہہ کر نماز شروع کر دے ۔ پھر تم رکوع کرو تو وہ بھی رکوع کریں پھر تم سر اٹھائو تو وہ سب بھی سر اٹھایئں ، پھر تم سجدہ کرو تو تیرے قریب والا گروہ سجدہ کر لے۔ اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہے ۔ پھر جب سجدے سے سر اٹھا لو تو تمہارے قریب والے لوگ کھڑے ہو جائیں اور دوسرا گروہ والے سجدہ کر لے ۔ پھر تم رکوع کرو تو وہ سب بھی رکوع کر لیں ۔ پھر تم سجدے کرو تو تمہارے قریب والا گروہ بھی سجدے کر لے جبکہ دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہے ۔پھر جب تم اپنا سر سجدوں سے اٹھا لو تو دشمن کے سامنے کھڑے ہونے والے لوگ سجدہ کر لیں۔ پھر تم ان کے ساتھ مل کر سلام پھیر دو ، اور تم اپنے ساتھیوں کو حکم دو کہ اگر ان پر زور دار حملہ ہو جائے تو ان کے لیے جنگ کرنا اور بات چیت کرنا حلال ہو جائے گا ۔

حُذَيْفَةَ ← لَهُمْ: أَيُّكُمْ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَاةَ الْخَوْفِ؟ ← كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ، وَكَانَ مَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← سُلَيْمِ بْنِ عَبْدٍ السَّلُولِيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the prayer of fear · Hadith 1365

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الخَوفِ · حديث 1366

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ [147 - ب] كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ الْخَوْفِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ: فَإِنْ كَانَ خَوْفٌ أَشَدُّ مِنْ ذَلِكَ، صَلَّوْا رِجَالًا قِيَامًا عَلَى أَقْدَامِهِمْ، أَوْ رُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةِ وَغَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا. قَالَ نَافِعٌ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَوَى ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

جناب سیلم بن عبد السلوالی بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت سعید بن عاص ؓ کے ساتھ طبرستان میں تھے اور ان کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے چند صحابہ کرام بھیہ موجود تھے ۔انہوں نے دیگر صحابہ سے پوچھا : آپ میں سے کسی نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز خوف پڑھی ہے ؟حضرت حذیفہؓ نے فرمایا : میں نے پھر نماز خوف کا طریقہ بتاتے ہوئے کہا : اپنے ساتھیوں کو حکم دیں کہ وہ دو گروہوں میں کھڑے ہو جایئں ایک گروہ دشمن کے سامنے صف آرا ہو جایئں اور دوسرا گروہ آپ کے پیچھے صف بنا لے۔ پھر تم تکبیر کہو تو سب بھی تکبیر کہہ کر نماز شروع کر دے ۔ پھر تم رکوع کرو تو وہ بھی رکوع کریں پھر تم سر اٹھائو تو وہ سب بھی سر اٹھایئں ، پھر تم سجدہ کرو تو تیرے قریب والا گروہ سجدہ کر لے۔ اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہے ۔ پھر جب سجدے سے سر اٹھا لو تو تمہارے قریب والے لوگ کھڑے ہو جائیں اور دوسرا گروہ والے سجدہ کر لے ۔ پھر تم رکوع کرو تو وہ سب بھی رکوع کر لیں ۔ پھر تم سجدے کرو تو تمہارے قریب والا گروہ بھی سجدے کر لے جبکہ دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہے ۔پھر جب تم اپنا سر سجدوں سے اٹھا لو تو دشمن کے سامنے کھڑے ہونے والے لوگ سجدہ کر لیں۔ پھر تم ان کے ساتھ مل کر سلام پھیر دو ، اور تم اپنے ساتھیوں کو حکم دو کہ اگر ان پر زور دار حملہ ہو جائے تو ان کے لیے جنگ کرنا اور بات چیت کرنا حلال ہو جائے گا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the prayer of fear · Hadith 1366

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الخَوفِ · حديث 1367

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: رَوَى أَصْحَابُ مَالِكٍ هَذَا الْخَبَرَ عَنْهُ، فَقَالُوا: قَالَ نَافِعٌ: لَا أَرَى ابْنَ عُمَرَ ذَكَرَهُ إِلَّا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَاهُ يُونُسُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ؛ ح وَثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا الشَّافِعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مَالِكٍ؛ ح وَثَنَا الرَّبِيعُ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، عَنْ مَالِكٍ.

امام صاحب نے اپنی سند کے ساتھ امام مالک سے امام شافعی ؒ کی روایت بیان کی ہے۔

مَالِكٍ، ← الشَّافِعِیُّ ← وَثَنَا الرَّبِيعُ، ← مَالِكٍ، ← الشَّافِعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ← وَثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا ← أَبُو بَكْرٍ، ثَنَاهُ يُونُسُ، ← أَبُو طَاهِرٍ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← نَافِعٌ: لَا أَرَى ابْنَ عُمَرَ ذَكَرَهُ إِلَّا ← أَبُو بَكْرٍ: رَوَى أَصْحَابُ مَالِكٍ هَذَا الْخَبَرَ عَنْهُ، فَقَالُوا:

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the prayer of fear · Hadith 1367

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals