Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1314

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ -وَهُوَ الشَّيْبَانِيُّ- عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ تَفَلَ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَتَفْلُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ".

حضرت حذیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے قبلہ کی جانب تھوکا تو وہ قیامت کے روز اس حال میں آئے گا کہ اس تھوک اس کی آنکھوں کے درمیان لگی ہو گی۔

حُذَيْفَةَ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ -وَهُوَ الشَّيْبَانِيُّ- ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1314

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1315

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، نَا أَبُو أُسَامَةَ؛ ح وَثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، نَا وَكِيعٌ كِلَاهُمَا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَكَّ بُزَاقًا فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ. وَقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: حَكَّ مِنَ الْقِبْلَةِ بُصَاقًا أَوْ نُخَامًا أَوْ مُخَاطًا.

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کے قبلہ میں لگے تھوک کو رگڑ کر صاف کر دیا ۔ جناب ابو کریب کی روایت میں ہے : آپ نے قبلہ کی جانب سے تھوک یا ناک کی ریزش یا بلغم کو کھرچ کا صاف کیا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← وَكِيعٌ، كِلَاهُمَا ← وَثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1315

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1316

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: ثَنَا سُفْيَانُ؛ وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرِو بْنَ دِينَارٍ: أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مَرَّ بِأَسْهُمٍ فِي الْمَسْجِدِ: "أَمْسِكْ بِنِصَالِهَا". قَالَ: نَعَمْ. هَذَا حَدِيثُ الْمَخْزُومِيِّ.

ابن عینیہ کہتے ہیں میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا کیا تم نے سید نا جابر بن عبداللہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی سے فرمایا: جو کہ مسجد سے تیر لے کر گزر رہا تھا ۔ ان کی پیکانوں کو پکڑ لو ۔ عمرو بن دینار نے کہا : ہاں( میں نے یہ حدیث حضرت جابر سے سنی ہے ) یہ حدیث مخرومی کی ہے۔

قُلْتُ لِعَمْرِو بْنَ دِينَارٍ: أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← سُفْيَانُ؛ وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1316

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1317

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، نَا شُعَيْبٌ، نَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ أَمَرَ رَجُلًا كَانَ يَتَصَدَّقُ بِالنَّبْلِ فِي الْمَسْجِدِ أَلَّا يَمُرَّ بِهَا إِلَّا وَهُوَ آخِذٌ بِنِصَالِهَا.

حجرت جابر بن عبداللہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو حکم دیا ، جو کہ مسجد میں تیر تقسیم کر رہا تھا ، کہ وہ تیروں کے پیکان پکڑ کر مسجد سے گزرے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبٌ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1317

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1318

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدِنَا أَوْ فِي سُوقِنَا وَمَعَهُ نَبْلٌ، فَلْيُمْسِكْ عَلَى نِصَالِهَا بِكَفِّهِ أَنْ يُصِيبَ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْهَا شَيْءٌ، أَوْ قَالَ: فَلْيَقْبِضْ عَلَى نُصُولِهَا".

حضرت ابو موسیٰ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص ہماری مسجد یا ہمارے بازار میں سے تیر لے کر گزرے تو اس کو چاہیے کہ وہ ان کے پھل اپنے ہاتھ میں پکڑ لے، تا کہ کسی مسلمان کو تکلیف نہ پہنچے، یا فرمایا ۔ ان کے پھلوں کو پکڑ لے۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدٌ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1318

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1319

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، ثَنَا يَحْيَى، وَأَبُو عَاصِمٍ قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ مَحْمُودٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ، وَافْتِرَاشِ السَّبْعِ، وَأَنْ يُوطِنَ الرَّجُلُ الْمَكَانَ أَوِ الْمَقَامَ كَمَا يُوطِنُهُ الْبَعِيرُ -يَعْنِي فِي الْمَسْجِدِ-.

حجرت عبدالرحمان بن شبل ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (نماز میں) کوے کی طرح ٹھونگیں مارنے، درندے کی طرح(بازو) پھیلانے اور مسجد میں کسی آدمی کو اس طرح اپنے لیے مخصوص جگہ یا مقام مقرر کرنے سے منع فرمایا ہے ، جس طرح اونٹ اپنے بیٹھنے کے لیے جگہ مخصوص کرتا ہے۔

«نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ ← تَمِيمِ بْنِ مَحْمُودٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← يَحْيَى، وَأَبُو عَاصِمٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1319

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1320

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، نَا زَيْدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ- حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ دِرْهَمٍ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُمْ يَبْنُونَ مَسْجِدًا، فَقَالَ لَهُمْ: "أَوْسِعُوهُ، تَمْلَؤوهُ".

حضرت ابو قتادہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ انصار کی ایک قوم کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ مسجد بنا رہے تھے۔ تو آپ نے حکم دیا : اسے کشادہ بنائو تم اسے( اپنی تعداد سے ) بھر دو گے۔

لَهُمْ: "أَوْسِعُوهُ، تَمْلَؤوهُ". ← أَتَى رَسُولُ اللَّهِ قَوْمًا مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُمْ يَبْنُونَ مَسْجِدًا، ← أَبِي قَتَادَةَ، ← أَبِيهِ ← كعب بن عبد الرحمن الأنصاري ← محمد بن درهم ← زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1320

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1321

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ بِبَغْدَادَ -وَأَصْلُهُ بَصْرِيٌّ- ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ، قَالَ، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ الْجَرْمِيُّ: انْطَلَقْنَا مَعَ أَنَسٍ نُرِيدُ الزَّاوِيَةَ، قَالَ: فَمَرَرْنَا بِمَسْجِدٍ فَحَضَرَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ، فَقَالَ أَنَسٌ: لَوْ صَلَّيْنَا فِي هَذَا الْمَسْجِدِ؛ فَإِنَّ بَعْضَ الْقَوْمِ يَأْتِي الْمَسْجِدَ الْآخَرَ! قَالُوا: أَيُّ مَسْجِدٍ؟ [143 - أ] فَذَكَرْنَا مَسْجِدًا، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَتَبَاهَوْنَ بِالْمَسَاجِدِ، لَا يَعْمُرُونَهَا إِلَّا قَلِيلًا، أَوْ قَالَ: يَعْمُرُونَهَا قَلِيلًا". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الزَّاوِيَةُ قَصْرٌ مِنَ الْبَصْرَةِ عَلَى شَبَهٍ مِنْ فَرْسَخَيْنِ.

حضرت ابو قلابہ جرمی بیان کرتے ہیں کہ ہم نے انس ؓ کے ساتھ زاویہ مقام کی طرف جا رہے تھے تو ہم اایک مسجد کے پاس سے گزرے جبکہ صبح کی نماز کا وقت ہو چکا تھا ۔ چنانچہ حضرت انس ؓ نے فرمایا: اگر ہم اس مسجد میں نماز پڑھ لیں (تو بہتر ہے) کیونکہ کچھ لوگ تو دوسری مسجد میں نماز پڑھتے ہیں ۔ انہوں نے پوچھا :کونسی مسجد؟ تو ہم نے ایک مسجد کا ذکر کیا ۔ حضرت انس ؓنے فرمایا: بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں پر ایک وقت آے گا کہ وہ مساجد پر فخر کا اظہار کریں گے ۔ وہ اسے آباد نہیں کریں گے مگر بہت تھوڑا ؛ یا فرمایا وہ اسے بہت کم آباد کریں گے۔ امام ابو بکرؒ فرماتے ہیں : زاویہ ، بصرہ سے دو فرسخ کے فاصلے پر ایک محل ہے (جہاں پر حضرت انس ؓ کی زمین اور گھر تھا)

أَيُّ مَسْجِدٍ؟ أ] فَذَكَرْنَا مَسْجِدًا، ← أَنَسٌ: لَوْ صَلَّيْنَا فِي هَذَا الْمَسْجِدِ؛ فَإِنَّ بَعْضَ الْقَوْمِ يَأْتِي الْمَسْجِدَ الْآخَرَ! ← فَمَرَرْنَا بِمَسْجِدٍ فَحَضَرَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ، ← أَبُو قِلَابَةَ الْجَرْمِيُّ: انْطَلَقْنَا مَعَ أَنَسٍ نُرِيدُ الزَّاوِيَةَ، ← أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ بِبَغْدَادَ -وَأَصْلُهُ بَصْرِيٌّ- ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1321

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1322

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نَا الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَتَبَاهَى النَّاسُ بِالْمَسَاجِدِ".

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کی نشاینوں میں سے یہ ہے کہ لوگ مساجد کے بارے میں فخر ومباہات کا اظہار کریں گے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1322

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1323

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، نَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ؛ وَأَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ".

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ لوگ مساجد کی (تعمیر و تزئین) میں فخر و مباہات کرنے لگیں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَنَسٍ، وَأَيُّوبَ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1323

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1324

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ؛ ح وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَوِيُّ، نَا يَعْقُوبُ -يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ- ثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَهُ: أَنَّ الْمَسْجِدَ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَبْنِيًّا بِاللَّبِنِ، وَسَقْفَهُ الْجَرِيدُ، وَعُمُدَهُ خَشَبُ النَّخْلِ، فَلَمْ يَزِدْ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ شَيْئًا، وَزَادَ فِيهِ عُمَرُ، وَبَنَاهُ عَلَى بُنْيَانِهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّبِنِ وَالْجَرِيدِ، وَأَعَادَ عُمُدَهُ خَشَبًا، ثُمَّ غَيَّرَهُ عُثْمَانُ، فَزَادَ فِيهِ زِيَادَةً كَثِيرَةً، وَبَنَى جِدَارَهُ بِالْحِجَارَةِ الْمَنْقُوشَةِ وَالْقِصَّةِ، وَجَعَلَ عُمُدَهُ حِجَارَةً مَنْقُوشَةً، وَسَقْفَهُ بِالسَّاجِ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: وَعُمُدَهُ خَشَبُ النَّخْلِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْقِصَّةَ.

حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ مسجد نبوی رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ایٹنوں سے بنی ہوئی تھی، اس چھت کھجور کی ٹہنیوں سے ڈالی گئ تھی اور اس کے ستون کھجور کی لکڑی کے تھے۔ حضرت ابو بکر ؓ نے (اپنے عہد میں) کچھ اضافہ نہیں کیا ۔ اور حضرت عمر ؓ نے اس میں اضافہ ( کر کے اسے کشادہ اور وسیع) کیا۔ اور اسے رسول اللہﷺ کے عہد مبارک کی بنیادوں پر اینٹوں اور کھجو ر کی شاخوں سے تعمیر کیا اور اس کے ستون لکڑی سے دوبارہ بنوائے۔پھر حضرت عثمان ؓ نے اس میں تبدیلی کی اور کافی اضافہ کیا۔ انہوں نے اس کی دیواریں منقش پتھروں اور چونے سے بنوائیں ، اور اس کے ستون بھی منقش پتھروں سے تعمیر کرائے، اور اس کی چھت ساگوان کی عمدہ لکڑی سے ڈالی۔ محمد بن یحیی ٰ کی روایت میں الفاظ اس طرح ہیں : اور اس کے ستون کھجور کی لکڑی کے بنوائے ۔ اور انہوں نے چونے کا ذکر نہیں کیا ۔

نَافِعٍ ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَوِيُّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1324

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1325

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي فُدَيْكٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى يَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا بَابٌ طَوِيلٌ خَرَّجْتُهُ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهَذَا الْأَمْرُ أَمْرُ فَضِيلَةٍ لَا أَمْرُ فَرِيضَةٍ، وَالدَّلِيلُ عَلَى ذَلِكَ خَبَرُ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ذَكَرَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، قَالَ الرَّجُلُ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: "لَا. إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ"، فَأَعْلَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَا سِوَى الْخَمْسِ مِنَ الصَّلَوَاتِ فَتَطَوُّعٌ لَا فَرْضٌ.

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھے: امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : یہ ایک طویل باب ہے میں نے اسے کتاب الکبیر میں بیان کیا ہے ۔ امام ابو بکرؒ فرماتے ہیں ۔ یہ حکم اور فضلیت ثواب کے لیے ہیں ، فرض و جواب کے لیے ۔ اس کی دلیل حضرت طلحہ بن عبداللہؓ کی وہ حدیث ہے جو وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ جب آپ نے پانچ نمازوں کی فرضیت بیان کی تو ایک شخص نے سوال کیا : کیا مجھ پر ان کے علاوہ بھی کوئی نماز فرض ہے؟ آپ نے فرمایا : نہیں ، مگر یہ کہ تم نفل نماز پڑھو ، اسی طرح آپ نے بیان فرما دیا کہ نماز پنچگانہ کے علاوہ نفل نمازیں ہیں ، فرض نہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطِبٍ ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي فُدَيْكٍ الْمَدَنِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1325

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals