Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1282

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، نَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَتْ عِنْدِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "مَنْ هَذِهِ؟ " فَقُلْتُ: فُلَانَةُ تَذْكُرُ مِنْ صَلَاتِهَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَهْ، عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ، فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا". قَالَتْ: وَكَانَ أَحَبُّ الدِّينِ إِلَيْهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ.

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس بنی اسد کی ایک عورت بیٹھی تھی کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ آپ نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کی : فلاں عورت ہے جو اپنی (نفل) نماز (کی کثرت ) کی وجہ سے مشہور ہے۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : رک جائو ، تم پر تمہاری طاقت کے مطابق عمل کرنا واجب ہے ۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالی ( اجر و ثواب عطا کرتے) نہیں تھکتے حتی کہ تم ہی (عمل کرتے) تھک جائو گے ۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: آپ ﷺ کے نزدیک محبوب ترین عمل وہ تھا جس پر عمل کرنے والا ہمیشگی اختیار کرتا۔

وَكَانَ أَحَبُّ الدِّينِ إِلَيْهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ. ← النَّبِيُّ "مَهْ، عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ، فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا". ← "مَنْ هَذِهِ؟ فَقُلْتُ: فُلَانَةُ تَذْكُرُ مِنْ صَلَاتِهَا. ← كَانَتْ عِنْدِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1282

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1283

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ (1): كَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَاوَمَ وَإِنْ قَلَّ، وَكَانَ النَّبِيُّ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا. وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: (الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ) [المعارج: 23].

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو وہ عمل سب سے زیادہ محبوب تھا جس پر ہمیشگی اور دوام اختیار فرماتے اگرچہ وہ تھوڑا ہوتا ۔ نیز نبی کریم ﷺ جب کوئی نماز پڑھتے تو اس پر ہمیشگی اختیار کرتے ۔ اور حضرت ابو سلمہ ؓ نے یہ آیت تلاوت کی (الَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَا تِھِمْ دَآئِمُوْنَ)(المعارج:23)(سچے مومن وہ ہیں )جو اپنی نمازوں پر ہمیشگی اختیار کرتے ہیں۔

أَبُو سَلَمَةَ: (الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ) ← كَانَ النَّبِيُّ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا. ← كَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى النَّبِيِّ مَا دَاوَمَ وَإِنْ قَلَّ، ← عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عِيسَى؛ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1283

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1284

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَمَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ، قَالَا: ثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالٍ -وَهُوَ ابْنُ يَسَافٍ- عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يُصَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ الشَّمْسُ بَيْضَاءَ مُرْتَفِعَةً".

حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عصر کے بعد نماز نہ پڑھی جائے الا یہ کہ سورج سفید (روشن) اور بلند ہو ۔

عَلِيٍّ، ← وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ ← هِلَالٍ -وَهُوَ ابْنُ يَسَافٍ- ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَمَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1284

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1285

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا أَنْ تُصَلُّوا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ.

حضرت علی ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : تم عصر کے بعد نماز نہ پڑھو ۔ الا یہ کہ تم نماز اس حال میں پڑھو کہ سورج ابھی بلند ہو۔

"لَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا أن تصلوا والشمس مرتفعۃ۔ ← النَّبِيِّ ← عَلِيٍّ، ← وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ ← هِلَالٍ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْیَانَ، وَشُعْبَۃَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1285

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1286

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمٍ -وَهُوَ ابْنُ ضَمْرَةَ- عَنْ عَلِيٍّ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلَ حَدِيثَ أَبِي مُوسَى سَوَاءً. قَالَ سُفْيَانُ: فَلَا أَدْرِي بِمَكَّةَ يَعْنِي أَمْ غَيْرِهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: "هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَقُولُ: وَهْبُ [140 - ب] بْنُ الْأَجْدَعِ (1) قَدِ ارْتَفَعَ عَنْهُ اسْمُ الْجَهَالَةِ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ الشَّعْبِيُّ أَيْضًا، وَهِلَالُ بْنُ يَسَافٍ.

جناب عاصم بن ضمرہ حضرت علیؓ کی نبی کریم ﷺ سے ابو موسیٰ کی طرح روایت بیان کرتے ہیں : امام سفیان فرماتے ہیں : مجھے معلوم نہیں کہ یہ حکم مکہ مکرمہ کے لیے ہیں یا دیگر شہروں کے لیے ، امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے میں نے محمد بن یحیی ٰ کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہب بن اجدع کے مجہول اور غیر معروف ہونے کی حالت ختم ہو چکی ہے کیو نکہ ان سے امام شعی ہلال بن یساف نے بھی روایت بیان کی ہے۔

مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَكْرٍ: "هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ← سُفْيَانُ: فَلَا أَدْرِي بِمَكَّةَ يَعْنِي أَمْ غَيْرِهَا. ← النَّبِيِّ بِمِثْلَ حَدِيثَ أَبِي مُوسَى سَوَاءً. ← عَلِيٍّ، ← عَاصِمٍ -وَهُوَ ابْنُ ضَمْرَةَ- ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1286

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1287

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، نَا ابْنُ مُبَارَكٍ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ؛ ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، نَا الْجُرَيْرِيُّ، وَكَهْمَسٌ؛ ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، نَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ، ثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ؛ ح وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ثَنَا سُلَيْمٌ -يَعْنِي ابْنَ أَخْضَرَ- ثَنَا كَهْمَسٌ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: لِمَنْ شَاءَ". هَذَا حَدِيثُ أَبِي كُرَيْبٍ، وَأَحْمَدَ بْنِ عَبْدَةَ. زَادَ أَبُو كُرَيْبٍ: فَكَانَ ابْنُ بُرَيْدَةَ يُصَلِّي قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ.

حضرت عبداللہ بن مغفل ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے ۔ ہر دو اذنوں ( اذان اور اقامت) کے درمیان (نفل) نماز ہے۔پھر تیسری مر تبہ فرمایا : جو پڑھنا چاہے ،(وہ پڑھ لے) یہ ابو کریب اور احمد بن عبدہ کی حدیث ہے ابو کریب نے یہ الفاظ زیادہ بیان کئے ہیں ،لہذا حضرت عبداللہ بن بریدہ نماز مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھا کرتے تھے۔

بين كل آذانين صلاة بين كل آذانين صلاة ثم ← النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← كَهْمَسٌ، جَمِيعًا ← سُلَيْمٌ -يَعْنِي ابْنَ أَخْضَرَ-، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ، ← بُنْدَارٌ ← الْجُرَيْرِيُّ وَكَهْمَسُ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← بُنْدَارٌ ← کهمس بن الحسن ← ابْنُ مُبَارَكٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1287

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1288

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنْ كَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا أَذَّنَ، قَامَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ يُصَلُّونَ حَتَّى يَخْرُجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ كَذَلِكَ يُصَلُّونَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ شَيْءٌ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يُرِيدُ شَيْئًا كَثِيرًا.

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب موذن اذان دے دیتا تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام جلدی جلدی ستونوں کو سترہ بنا کر نماز پڑھنی شروع کر دیتے حتی کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لاتے اور وہ اسی طرح مغرب سے پہلے دو رکعات پڑھ رہے ہوتے ۔ اور اذان اور اقامت کے درمیان کچھ ( زیادہ) وقفہ نہیں ہوتا تھا ۔ امام ابو بکر فرماتے ہیں : حضرت انس کا مطلب ہے کہ زیادہ طویل وقفہ نہیں ہوتا تھا ۔

أَنَسٍ، ← عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1288

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1289

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا أَبُو مَعْمَرٍ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ، نَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ: "صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ الثَّالِثَةِ: "لِمَنْ شَاءَ"، خَشِيَ أَنْ يَحْسَبَهَا النَّاسُ سُنَّةً. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا اللَّفْظُ مِنْ أَمْرِ الْمُبَاحِ، إِذْ لَوْ لَمْ يَكُنْ مِنْ أَمْرِ الْمُبَاحِ لَكَانَ أَقَلُّ الْأَمْرِ أَنْ يَكُونَ سُنَّةً إِنْ لَمْ يَكُنْ فَرْضًا، وَلَكِنَّهُ أَمْرُ إِبَاحَةٍ، وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا أَنَّ لِأَمْرِ الْإِبَاحَةِ عَلَامَةً، مَتَى زَجَرَ عَنْ فِعْلٍ ثُمَّ أَمَرَ بِفِعْلِ مَا قَدْ زَجَرَ عَنْهُ، كَانَ ذَلِكَ الْأَمْرُ أَمْرَ إِبَاحَةٍ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ زَاجِرًا عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تغْرِبِ الشَّمْسِ عَلَى الْمَعْنَى الَّذِي بَيَّنْتُ، فَلَمَّا أَمَرَ بِالصَّلَاةِ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ صَلَاةَ تَطَوُّعٍ كَانَ ذَلِكَ أَمْرَ إِبَاحَةٍ، وَأَمْرُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا بِالِاصْطِيَادِ عِنْدَ الْإِحْلَالِ مِنَ الْإِحْرَامِ أَمْرُ إِبَاحَةٍ، إِذْ كَانَ اصْطِيَادُ (1) صَيْدِ الْبَرِّ فِي الْإِحْرَامِ مَنْهِيًّا عَنْهُ، لِقَوْلِهِ جَلَّ وَعَلَا: (غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ) [المائدة: 1] وَبِقَوْلِهِ: (وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا) [المائدة: 96]، وَبِقَوْلِهِ: (لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ) [المائدة: 95] فَلَمَّا أَمَرَ بَعْدَ الْإِحْلَالِ بِاصْطِيَادِ صَيْدِ الْبَرِّ كَانَ ذَلِكَ الْأَمْرُ أَمْرَ إِبَاحَةٍ، قَدْ بَيَّنْتُ هَذَا الْجِنْسَ فِي كِتَابِ "مَعَانِي الْقُرْآنِ". جُمَّاعُ أَبْوَابِ فَضَائِلِ الْمَسَاجِدِ وَبِنَائِهَا وَتَعْظِيمِهَا

حضرت عبداللہ مزنی ؓ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مغرب سے پہلے دو رکعات پڑھو ۔پھر فرمایا:مغرب سے پہلے دو رکعات ادا کرو ، پھر تیسری مرتبہ فرمایا: جو پڑھنا چاہیے۔ آپ کو یہ خدشہ ہوا کہ کہیں لوگ اسے لازمی نہ سمجھ لیں ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : یہ الفاظ مباح امر کے ہیں ۔ کیونکہ اگر یہ مباح امر سے نہ ہوتے تو کم از کم سنت ہوتے ، اگرچہ فرض نہ بھی ہوتے ، لیکن یہ امر اباحت و جواز کے لیے ہے۔ اور میں اپنی کتابوں کے کئی مقامات پر بیان کر چکا ہوں کہ مباح امر کی علامت یہ ہوتی ہے کہ جب آپ کسی کام سے منع فرمایئں ۔ پھر اسی ممنوع کام کرنے کا ھکم دیں تو یہ کام مباح ہو گا ۔نبی کریم ﷺ نے عصر کے بعد غروب آفتاب تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا تھا، اس معنی اور مفہوم پر جسے میں یان کر چکا ہوں ، پھر جب آپ نے غروب آفتاب کے بعد نفل نماز پڑھنے کا حکم دیا تو یہ حکم اباحت اور جواز کے لیے ہو گا۔ اسی طرح اللہ تعالی کا (حاجی کو) احرام کی پانبدیوں سے فارغ ہونے کے بعد شکار کرنے کا حکم دینا ، مباح حکم ہے کیونکہ حالت احرام میں خشکی کا شکار کرنا ممنوع تھا ۔ اللہ تعالی کے اس فرمان کی وجہ سے(غَیْرَ مُحِلَی الصَّیْدِ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ)(المائدہ:۱)جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار کو حلال نہ جانو۔ اور اللہ تعالی کے اس فرمان کی وجہ سے :(وَحُرِّمَ عَلَیْکُمْ صَیْدُ الْبَرَ مَادُمْتُمْ حُرُمًا)(المائدۃ:96) اور جب تم احرام کی حالت میں ہو تمہارے لیے خشکی کا شکار حرام کیا گیا ہے ۔ اور اس ارشاد باری تعالی کی وجہ سے ۔ تم حالت احرام میں شکار کو قتل نہ کرو ۔ لہذا جب اللہ تعالی نے احرام کھولنے پر خشکی کا شکار کرنے کا حکم دیا تو یہ حکم اباحت و جواز کے لیے ہے۔(فرض یا واجب نہیں) میں نے یہ قسم کتاب معافی القرآن میں بیان کی ہے۔

عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1289

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals