Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1271

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-؛ ح وَثَنَا الصَّنْعَانِيُّ، نَا خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ- قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رُفَيْعًا أَبَا الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي رِجَالٌ، أَحْسَبُهُ قَالَ: مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَأَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ عُمَرُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ فِي سَاعَتَيْنِ، بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ. وَقَالَ الصَّنْعَانِيُّ: قَالَ: حَدَّثَنِي نَفَرٌ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ عُمَرُ.

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کرام ؓ میں چند افراد نے بیان کیا ، ان میں حضرت عمر ؓ بھی ہیں اور حضرت عمر ؓ مجھے ان سب سے زیادہ محبوب اور پسند یدہ ہیں، کہ نبی کریم ﷺ دو گھڑیوں میں نماز پڑھنے سے منع کیا ہے نماز عصر کے بعد حتی کہ سورج غروب ہو جائے اور صبح کی نماز کے بعد یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے ۔ جناب صنعانی کے الفاظ یہ ہیں: مجھے چند لوگوں نے حدیث بیان کی ، ان میں سے حضرت عمر ؓ مجھے سب سے زیادہ پسند یدہ ہیں۔

مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَأَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ عُمَرُ، ← رِجَالٌ، أَحْسَبُهُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← رُفَيْعًا أَبَا الْعَالِيَةِ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ-، ← وَثَنَا الصَّنْعَانِيُّ، ← مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1271

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1272

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ، وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ -عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ عُمَرُ -وَكَانَ مِنْ أَحَبِّهِمْ إِلَيَّ- أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ.

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے کئی صحابہ کرام ؓ سے سنا ہے ان میں حضرت عمر ؓ بھی شامل ہیں اور وہ مجھے ان سب سے زیادہ محبوب ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور نماز عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک (نفل) نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ مِنْهُمْ عُمَرُ -وَكَانَ مِنْ أَحَبِّهِمْ إِلَيَّ- ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو الْعَالِيَةِ، ← قَتَادَةَ ← مَنْصُورٌ، وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ ← هُشَيْمٌ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1272

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1272

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِخْبَارُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا" دَالَّةٌ وَإِجْمَاعُ الْمُسْلِمِينَ جَمِيعًا عَلَى أَنَّ النَّاسِيَ إِذَا نَسِيَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً فَذَكَرَهَا بَعْدَ الصُّبْحِ أَوْ بَعْدَ الْعَصْرِ، أَنَّ عَلَيْهِ أَنْ يُصَلِّيَهَا قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ إِنْ ذَكَرَهَا بَعْدَ الصُّبْحِ، وَقَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ إِنْ ذَكَرَهَا بَعْدَ الْعَصْرِ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا نَهَى عَنِ التَّطَوُّعِ بَعْدَ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، إِذْ لَوْ كَانَ نَهْيُهُ عَنْ جَمِيعِ الصَّلَاةِ فَرْضِهَا وَتَطَوُّعِهَا لَمْ يَجُزْ أَنْ تُصَلَّى فَرِيضَةٌ بَعْدَ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، وَإِنْ كَانَ نَاسِيًا لَهَا فَذَكَرَهَا فِي أَحَدِ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ. وَالدَّلِيلُ الثَّانِي: أَنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ بَعْضَ التَّطَوُّعِ لَا كُلَّهَا، سَأُبَيِّنُهُ فِي مَوْضِعِهِ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمانا:" کہ جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو وہ اسے جب یاد آئے پڑھ لے ۔"یہ فرمان اور تمام مسلمانوں کا اجماع اس بات کی دلیل ہے کہ بھول جانے والا جب فرض بھول جائے پھر اسے نماز صبح یا نماز عصر کے بعد یاد آئے تو اس کےلیے ضروری اور واجب ہے کہ وہ اس نماز کو سورج طلوع ہونے سے پہلے ادا کر لے اگر اسے وہ نماز فجر کے بعد یاد آئی ہو ۔ اور اگر نماز عصر کے بعد یاد آئی تو سورج غروب ہونے سے پہلے ادا کر لے ۔ کیونکہ نبی اکرمﷺ نے بلاشبہ صبح کی نماز کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور نماز عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک نفل نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۔ اگر آپ کی یہ ممانعت تمام فرض اور نفل نمازوں کو شامل ہوتی تو نماز صبح کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور نماز عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک فرض نماز پڑھنا جائز نہ ہوتا اگرچہ نمازی اس فرض نماز کو بھول جانے والا ہوتا ہے اور پھر اسے یہ نماز ان اوقات میں یاد آتی ہے ۔ اس بات کی دوسری دلیل کہ نبی اکرمﷺ کی مراد بعض نفل نماز ہے ، تمام نفل نہیں ہیں ، میں عنقریب اسے اسی کتاب میں اس کے مقام پر بیان کر دوں گا ۔ ان شاء اللہ۔

إِجْمَاعُ الْمُسْلِمِينَ جَمِيعًا عَلَى ← أَبُو بَكْرٍ: إِخْبَارُ النَّبِيِّ "مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا" دَالَّةٌ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1272

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1273

نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا يَحْيَى، نَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ، وَلَا غُرُوبَهَا، فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا بَرَزَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَمْسِكُوا عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى يَسْتَوِيَ، فَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَمْسِكُوا عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى يَغِيبَ". وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ. وَقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بِقَرْنَيْ شَيْطَانٍ.

حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنی نماز کی ادئیگی کے ساتھ طلوع شمس اور غروب شمس کا قصد وارادہ نہ کرو۔ کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے ۔ نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب سورج کا کنارہ نکل آئے تو اس کے برابر ہونے تک نماز سے رکے رہو۔ اور جب سورج کا کنارہ غروب ہو جائے تو اس کے مکمل غروب ہونے تک نماز سے رک جائو۔ یہ بندرا کی حدیث ہے اور جناب ابو کریب کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : بے شک وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے ۔

أَبُو كُرَيْبٍ: فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بِقَرْنَيْ شَيْطَانٍ. ← الصَّلَاةِ حَتَّى يَغِيبَ". وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ. ← الصَّلَاةِ حَتَّى يَسْتَوِيَ، فَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَمْسِكُوا ← ابْنِ عُمَرَ؛ "لَا تَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ، وَلَا غُرُوبَهَا، فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ". ← أَبِي ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1273

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1274

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْمُهَلَّبَ بْنَ أَبِي صُفْرَةَ يَقُولُ: قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تُصَلُّوا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ، وَلَا حِينَ تَغْرُبُ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، وَتَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ". وَفِي خَبَرِ الصُّنَابِحِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (1): "إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ وَمَعَهَا قَرْنُ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا"، دِلَالَةٌ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ قَدْ نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ حَتَّى تَرْتَفِعَ. وَكَذَاك خَبَرُ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ: "حَتَّى تَرْتَفِعَ" (2). خَرَّجْتُ هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ فِي غَيْرِ هَذَا الْبَابِ.

حضرت سمرہ بن جندب ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب سورج طلوع ہو رہا ہو اور غروب ہو رہا ہو تو تم نماز مت پڑھو ، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے ، اور جناب ضا سجی کی نبی کریم ﷺ سے روایت میں یہ الفاظ ہیں :بے شک سورج طلوع ہوتا ہے اور اس کے ساتھ شیطان کے سینگ ہوتے ہیں ۔ پھر جب سورج بلند ہوتا ہے تو وہ اس سے الگ ہو جاتا ہے ۔ اس میں یہ دلیل ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب اس گھڑی میں ( سورج کے طلوع کے وقت) نماز پڑھنے سے منع کیا تو سورج کے طلوع کے بعد بھی نماز پڑھنے سے منع کیا ہے حتی کہ وہ بلند ہو جائے ، اسی طر ح جناب عمرو بن عبسہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے ۔ میں نے یہ دو احادیث اس باب کے علاوہ ایک اور باب میں بھی بیان کی ہیں۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الْمُهَلَّبَ بْنَ أَبِي صُفْرَةَ ← سِمَاكٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1274

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1275

وَاعْتَرَضَ بَعْضُ مَنْ لَا يُحْسِنُ الْعِلْمَ وَالْفِقْهَ فَادَّعَى فِي هَذِهِ الْآيَةِ مَا أَنْسَانَا قَوْلَ مَنْ ذَكَرْنَا قَوْلَهُ، فَزَعَمَ أَنَّ النِّكَاحَ هَاهُنَا الْوَطْءُ، وَزَعَمَ أَنَّ النِّكَاحَ عَلَى مَعْنَيَيْنِ: عَقْدٌ، وَوَطْءٌ، وَزَعَمَ أَنَّ قَوْلَهُ عَزَّ وَجَلَّ: (حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ)، إِنَّمَا أَرَادَ الْوَطْءَ، وَهَذِهِ فَضِيحَةٌ لَمْ نَسْمَعْ عَرَبِيًّا قَطُّ منْ شَاهَدْنَاهُمْ وَلَا حُكِيَ لَنَا عَنْ أَحَدٍ تَقَدَّمَنَا مِمَّنْ يُحْسِنُ لُغَةَ الْعَرَبِ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ وَلَا مِمَّنْ قَبْلَهُمْ أَطْلَقَ هَذِهِ اللَّفْظَةَ. أَنْ يَقُولَ: جَامَعَتِ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا، وَلَا سَمِعْنَا أَحَدًا يُجِيزُ أَنْ يُقَالَ: وَطِئَتِ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا، وَإِنَّمَا أَضَافَ إِلَيْهَا النِّكَاحَ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ كَمَا تَقُولُ الْعَرَبُ: تَزَوَّجِتِ الْمَرْأَةُ زَوْجًا. وَلَمْ نَسْمَعْ عَرَبِيًّا يَقُولُ: وَطِئَتِ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا، وَلَا جَامَعَتِ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا، وَمَعْنَى الْآيَةِ عَلَى مَا أَعْلَمْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ يُحَرِّمُ الشَّيْءَ فِي كِتَابِهِ إِلَى وَقْتٍ وَغَايَةٍ، وَقَدْ يَكُونُ ذَلِكَ الشَّيْءُ حَرَامًا بَعْدَ ذَلِكَ الْوَقْتِ أَيْضًا (1).

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو اس نے عر ض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا رات اور دن کی گھڑیوں میں کوئی ایسی گھڑی بھی ہے جس میں آپ مجھے نماز نہ پڑھنے کا حکم دیں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :ہاں! جب تم صبح کی نماز پڑھ لو تو سورج طلوع ہونے تک نماز پڑھنے سے رک رہو۔ جناب ابن عبد الحکم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : حتی کہ سورج بلند ہو جائے کیو نکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔ پھر ( اس کے بعد) نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور شریک ہوتے ہیں اور وہ قبول ہوتی ہے حتی کہ دوپہر ہو جائے۔چنانچہ جب دوپہر ہو جائے تو تم سورج ڈھلنے تک نماز پڑھنے سے رک جائو کیو نکہ اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے اور شدید گرمی جہنم کی بھاپ کی وجہ سے ہوتی ہے اور سورج ڈھل جائے تو ( اس وقت کی ) نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور شریک ہوتے ہیں اور وہ قبول ہوتی ہے ۔ حتی کہ عصر کی نماز پڑھی جائے۔ پھر جب تم عصر کی نماز پڑھ لو تو پھر سورج غروب ہونے تک نماز سے رکے رہو۔ جناب یونس کی روایت میں یہ الفاظ ہیں ۔ نمازیں ( اس وقت قبول ہوتی ہیں ) اور ابن عبد الحکم کے الفاظ یہ ہیں : پھر نماز میں فرشتے شریک ہوتے ہیں، اس میں حاضر ہوتے ہیں اور وہ قبول ہوتی ہیں حتی کہ صبح کی نماز ادا کی جائے ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: اگر خاموشی سےنطق پر دلیل لینا جائز ہوتا جیسا کہ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ خاموشی منصوص پر دلیل ہے تو پھر نبی کریم ﷺ کی ان احادیث سے دلیل لینا جائز ہوتا کہ آپ نے نماز فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور نماز عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۔ لہذا سورج کا کنارہ نکل آنے پر اور اس کے بلند ہونے سے پہلے نماز پڑھنا جائز ہوتا۔ جب سورج آسمان کے وسط میں برابر ہو جائے تو اس کے ڈھلنے سے پہلے بھی نماز جائز ہوتی ۔ لیکن یہ اس شخص کے نزدیک جائز نہیں ہے جو دینی فہم و فراست رکھتا ہو ، نبی کریم ﷺ کی احادیث میں غور و فکر کرنے والا ہو اور خاموشی سے نطق کے خلاف دلیل لینے میں ہٹ دھرم ہو اور عناد پرست نہ ہو ۔ اور نہ وہ خاموشی کو منصوص کی دلیل قرار دینے پر مصر ہو جیسا کہ بعض اہل علم کا خیال ہے ۔ اس مسلہ میں ہمارے مخالفین کے مذہب کے مطا بق نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان مبارک: صبح کی نماز کے بعد سورج طلوع ہونے تک کوئی نماز نہیں ہے۔ ان کے نزدیک اس بات کی دلیل ہے کہ جب سورج طلوع ہو جائے تو نماز جائز ہو جاتی ہے ۔ اور ان کا خیال ہے کہ یہ ایسی دلیل ہے جس میں دوسرا کوئی احتمال نہیں ہے ۔ اور ہمارا مذہب اس اصل کے خلاف ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ بلاشبہ نص کی قوت اور حیثیت دلیل کے مقابلے میں زیادہ ہے اور یہ جائز ہے کہ ایک کام سے ایک وقت اور مدت تک روک دیا جائے اور اس مخصوص کام کی مخصوص مدت و وقت تک ممانعت میں اس بات کی دلیل نہیں ہے۔ کہ وہ وقت اور مدت گزر جانے پر وہ کام جائز ہو گا۔ جبکہ اس وقت کے گزر جانے کے بعد اس منع کی دلیل موجود ہو اس مسلہ میں مروی دونوں روایات باہم متضاد ،متناقض اور ایک دوسری کی نفی کرنے والی بھی نہ ہو ۔ جیسا کہ اسی مسلہ میں ہمارے بعض مخالفین کا خیال ہے ۔ اسی قسم سے یہ مسلہ بھی ہے جسے میں اپنی کتاب معافی القرآن مین بیان کیا ہے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : (فَإِنْ طَلَّقَھَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ)(البقرۃ:230)پھر اگر وہ (خادند) اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس بعد وہ (عورت ) اس کے لیے حلال نہیں ، یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے۔ لہذا قرآن مجید کی نص کے ساتھ اللہ تعالی نے تین طلاقوں والی بیوی کو اس کے خاوند پر حرام قرار دیا ہے حتی کہ وہ ایک دوسرے خاوند سے نکاح کر لے ، اور جب وہ عورت کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرے گی تو وہ اس شخص کے نکاح میں ہوتے ہوئے پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہو گی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے ہم بستری کرنے سے پہلے ہی وہ شخص فوت ہو جائے یا اسے طلاق دے دے یا نکاح کسی کسی ایسی وجہ سے فسخ ہو جائے جن کی بیناد پر نکاح فسخ ہو جاتا ہے ۔ تو ایسی صورت میں بھی وہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہو گی حتی کہ دوسرا خاوند اس سے ہم بستری کر لے۔ پھر خاوند کے فوت ہونے ، طلاق دینے یا نکاح فسخ ہونے کی صورت میں وہ عدت گزراے گی (پھر پہلے خاوند سے نکاح کرنا جائز ہو گا) چنانچہ اگر یہ حرمت ایک محدود وقت تک ہو ،اس دلیل کی طرح جس میں دوسرا کوئی احتمال نہیں تو حرام کی گئ چیز ایک مقرر وقت تک ہوتی اور وہ نماز پڑھتا (اس کے وقت ہی میں) وقت کے بعد نہیں اس میں دوسرا احتمال نہ ہوتا ۔ پس تین طلاقوں والی عورت جب دوسرے خاوند سے شادی کر لیتی تو وہ پہلے خاوند کے لیے دوسرے خاوند کی ہم بستری سے پہلے ہی حلال ہو جاتی ہے اور دوسرے خاوند کی وفات یا اس سے طلاق اور اس کی عدت گزرنے سے پہلے ہی پہلے خاوند کے لیے حلال ہو جاتی جو شخص اللہ تعالی کے احکام کو سمجھتا ہے وہ جانتا ہے کہ وہ عورت (پہلے خاوند کے لیے) حلال نہیں ہوتی حتی کہ وہ دوسرے خاوند سے شادی کر لے اور وہ اس عورت سے ہم بستری کر لے، پھر وہ خاوند فوت ہو جائے ، یا وہ طلاق دےدے یا ان کا نکاح فسخ ہو جائے ، پھر اس کی عدت پوری ہو جائے ۔ عنقریب میں طویل مسلہ کتاب العلم میں بیان کر دوں گا۔ ان شا اللہ ، علم وقفہ سے ناواقف بعض لوگوں نے اعتراض کیا ہے اور اس آیت میں ایسا دعوی کیا ہے ، جس نے ہمیں گذشتہ قول بھلا دیا ہے ۔ اس کا دعوی ہے کہ اس آیت میں نکاح سے مراد وطی ہے۔ نیز اس کا دعوی ہے کہ نکاح کے دو معنی ہے :۱۔عقد یعنی نکاح کرنا ۔۲۔وطی کرنا، اس کا دعوی ہے کہ اللہ تعالی کا فرمان (حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ)حتی کہ وہ دوسرے خاوند سے نکاح کر لے۔ سے مراد وطی ہے ( کہ وہ عورت کسی دوسرے خاوند سے وطی و ہم بستری کر لے) یہ ایسی شرم ناک اور رسوا کن بات ہے جو ہم نے کسی عربی شخص سے نہیں سنی ، جن کو ہم نے دیکھا ہے اور ان کا عہد پایا ہے اور نہ ہمیں یہ بیان کیا گیا ہے ہم سے پہلے کسی شخص نے ایسی معیوب بات کی ہو جو اہل اسلام میں سے لغت عرب کو جانتا ہو اور اس میں مہارت رکھتا ہو ۔ پرانے لوگوں نے بھی اس لفظ کا اطلاق اس طرح نہیں کیا کہجَامَعَتِ الْمَرأۃُ زَوْجَھَا (عورت نے اپنے خاوند سے ہم بستری کی ) ہم نے کسی کو نہیں سنا وہ یہ کہنا درست قرار دیتا ہو کہ (وَطِئَتِ الْمَرْأۃُ زَوْجَھَا)"عورت نے اپنے خاوند سے وطی کی ہو ، بلکہ اس موقع پر اس کی طرف نکاح کی نسبت کی جاتی ہے جیسا کہ عرب لوگ کہتے ہیں:تزوجت المراۃ زوجا(عورت نے خاوند سے شادی کی ) ہم نے کسی عربی کو یہ کہتے نہیں سنا کہ عورت نے اپنے خاوند سے وطی کی یا عورت نے اپنے خاوند کے ساتھ جماع و ہم بستری کی۔ اس آیت کریمہ کا معانی یہ ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ بے شک اللہ تعالی اپنی کتاب میں کسی چیز کو ایک وقت اور مدت تک حرام قرار دیتے ہیں ، اور کبھی وہ چیز اس وقت کے بعد بھی حرام ہوتی ہے۔

جَامَعَتِ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا، وَلَا

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1275

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1276

وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن أحمد الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ صَلَّى بَعْدَ الظُّهْرِ شَيْئًا.

حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عصر کے بعد دو رکعت اس لیے پڑھی تھیں کیونکہ آپ نماز ظہر کے بعد کوئی ( سنت یا نفل ) نماز نہیں پڑھ سکے تھے۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← عَائِشَةَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن أحمد الصَّابُونِيُّ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1276

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1277

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ثنا الصنعاني محمد بن عبد الأعلى حدثنا المعتمر قال سمعت محمدا عن أبي سلمة أن أم سلمة قالت : دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد العصر فصلى ركعتين فقلت : أي رسول الله أي صلاة هذه ؟ ما كنت تصليها قال : إنه قدم وفد من بني تميم فشغلوني عن ركعتين كنت أركعهما بعد الظهر خرجت طرق هذا الخبر في كتاب الكبير قال أبو بكر : فالنبي صلى الله عليه وسلم قد تطوع بركعتين بعد العصر قضاء الركعتين اللتين كان يصليهما بعد الظهر فلو كان نهيه عن الصلاة بعد العصر حتى تغرب الشمس عن جميع التطوع لما جاز أن يقضي ركعتين كان يصليهما بعد الظهر فيقضيهما بعد العصر وإنما صلاهما إستحبابا منه للدوام على عمل التطوع لأنه أخبر صلى الله عليه وسلم : أن أفضل الأعمال أدومها وكان صلى الله عليه وسلم إذا عمل عملا أحب أن يداوم عليه

حضرت ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عصر کے بعد میرے پاس تشریف لائے تو آپ دو رکعات ادا کیں ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! یہ کونسی نماز ہے؟ آپ یہ نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔ آ پ نے فرمایا : میرے پاس بنی تمیم کا ایک وفد آیا تھا تو انہوں نے مجھے ان دو رکعات کی ادائیگی سے مشغول کر دیا تھا جو میں نماز ظہر کے بعد ادا کرتا تھا ۔ میں نے اس روایت کے طرق کتاب الکبیر میں بیان کیے ہیں ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں :لہذا نبی کریم ﷺ عصر کی نماز کے بعد دو رکعت سنت ادا کی ہیں ۔ان دو رکعات ظہر کے بعد پڑھتے تھے ان کی قضا عصر کے بعد دیتے بلاشبہ آپ نے یہ دو رکعات نفلی عمل پر ہمیشگی اختیار کرتے ہوئے استحاب کے طور پر ادا کی تھیں۔ کیونکہ آپ نے فرمایا: بے شک افضل ترین عمل ہمیشگی والا ہے۔ اور آپ جب کوئی عمل کرتے تھے تو اس پر ہمیشگی اختیار کرنا پسند کرتے تھے۔

أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدًا ← الْمُعْتَمِرُ، ← الصَّنْعَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1277

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1278

والدليل على ما ذكرت أن علي بن حجر حدثنا قال ثنا إسماعيل بن جعفر ثنا محمد - وهو ابن أبي حرملة - عن أبي سلمة : أنه سأل عائشة عن السجدتين اللتين كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصليهما بعد العصر في بيتها قالت : كان يصليهما قبل العصر ثم إنه شغل عنهما أو نسيهما فصلاهما بعد العصر ثم أثبتهما وكان إذا صلى صلاة أثبتها

حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے ان دو رکعات کے بارے میں پوچھا : جو رسول اللہ ﷺ ان کے گھر میں عصر کے بعد ادا کیا کرتے تھے۔ انہوں نے فرمایا : آپ وہ دو رکعات عصر سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔ پھر ان دو رکعات کی کی ادائیگی سے مشغول ہو گئے یا آپ انہیں ادا کرنا بھول گئے تو آپ نے انہیں عصر کے بعد ادا کیا پھر آپ نے ان دو رکعات کو ہمیشہ ادا کیا، اور آپ جب کوئی (نفل) نماز ادا کرتے تو اس پر ہمیشگی اور دوام اختیار کرتے تھے۔

السجدتين اللتين كان رسول الله يصليهما بعد العصر في بيتها ← أَبِي سَلَمَةَ اَنَّہٗ سَاَلَ عَائِشَۃَ ← مُحَمَّدٌ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ- ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← والدليل على ما ذكرت أن علي بن حجر

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1278

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1279

وفي خبر جابر بن يزيد بن الأسود السوائي عن أبيه : أن النبي صلى الله عليه وسلم قال للرجلين بعد فراغه من صلاة الفجر : إذا صليتما في رحالكما ثم جئتما والإمام يصلي فصليا معه تكون لكما نافلة سأخرجه إن شاء الله بتمامه أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ناه يعقوب بن إبراهيم الدورقي و زياد بن أيوب قالا حدثنا هشيم أخبرنا يعلي بن عطاء عن جابر بن يزيد السوائي عن أبيه قال أبو بكر : والنبي صلى الله عليه وسلم في هذا الخبر قد أمر من صلى الفجر في رحله أن يصلي مع الإمام وأعلم أن صلاته تكون مع الإمام نافلة فلو كان النهي عن الصلاة بعد الفجر حتى تطلع الشمس نهيا عاما لا نهيا خاصا لم يجز لمن صلى الفجر في الرحل أن يصلي مع الإمام فيجعلها تطوعا وأخبار النبي صلى الله عليه وسلم : سيكون عليكم أمراء يؤخرون الصلاة عن وقتها فصلوا الصلاة لوقتها واجعلوا صلاتكم معهم سبحة فيها دلالة على إن الإمام إذا أخر العصر أو الفجر أو هما إن على المرء أن يصلي الصلاتين جميعا لوقتهما ثم يصلي مع الإمام ويجعل صلاته معه سبحة وهذا تطوع بعد الفجر وبعد العصر وقد أمليت قبل خبر قيس بن قهد وهو من هذا الجنس والنبي صلى الله عليه وسلم قد زجر بني عبد مناف وبني عبد المطلب أن يمنعوا أحدا يصلي عند البيت أي ساعة شاء من ليل أو نهار

جناب یزید بن اسود السوائی کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نماز فجر کی ادائیگی کے بعد دو آدمیوں سے فرمایا : جب تم اپنی رہائش گاہوں پر نماز پڑھ لو پھر تم (مسجد میں ) آئو جبکہ امام نماز پڑھا رہا ہو تو تم اس کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو ، وہ تمہارے لیے نفل بن جائے گی۔ میں عنقریب یہ روایت مکمل بیان کر دوں گا، ان شا اللہ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : نبی کریم ﷺ نے اس روایت میں اس شخص کو امام کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے جو نماز فجر اپنی رہا ش گاہ پر پڑھ چکا تھا ۔ آپ نے بیان فرمایا کہ امام کے ساتھ اس کی نماز نفل ہو جائے گی لہذا اگر نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک نماز پڑھنے کی ممانعت عام ہوتی، خاص نہ ہوتی تو جو شخص اپنی رہائش گا ہ میں فجر پڑھ چکا ہو اس کے لیے امام کے ساتھ (دوبارہ) نماز فجر کو نفل بناتے ہوئے ادا کرنا جائز نہ ہوتا ۔نیز نبی کریم ﷺ کی یہ احادیث کہ عنقریب تم پر ایسے حکمران اور امرا مقر ر ہو گے جو نمازوں کو ان کے اوقات سے موٗخر کریں گے ۔ تو تم نماز کو اس کے وقت پر ادا کر لو اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل شمار کر لو۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جب امام نماز عصر ، یا نماز فجر ، یا دونوں کو موخر کر کے ادا کرتا ہو تو آدمی پر واجب ہے کہ وہ دونوں نمازیں ان کے وقت پر ادا کر لے۔ پھر امام کے ساتھ بھی ادا کر لے۔ اور امام کے ساتھ پڑھنے والی نماز کو نفل بنا لے ۔ اور یہ فجر اور عصر کے بعد نفل نماز ہو گی اور میں اس سے پہلے حضرت قیس بن قہد کی حدیث بھی لکھوا چکا ہوں ۔ وہ بھی اسی قسم سے تعلق رکھتی ہے ۔اور نبی کریم ﷺ نے بنی عہد مناف اور بنی عبد المطلب کو منع کیا ہے کہ وہ بیت اللہ میں دن یا رات کی کسی بھی گھڑی میں نماز پڑھنے والے کو روکیں۔

أَبِيهِ ← وفي خبر جابر بن يزيد بن الأسود السوائي

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1279

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1280

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا عبد الجبار بن العلاء و أحمد بن منيع قالا ثنا سفيان عن أبي الزبير عن عبد الله بن باباه عن جبير بن مطعم ح وثنا محمد بن يحيى و محمد بن رافع قالا ثنا عبد الرزاق أخبرنا ابن جريج ح وثنا أحمد ابن المقدام ثنا محمد بن بكر أخبرنا ابن جريج أخبرني أبو الزبير أنه سمع عبد الله بن باباه يخبر عن جبير بن مطعم : عن النبي صلى الله عليه وسلم خبر عطاء هذا : يا بني عبد مناف يا بني عبد المطلب إن كان إليكم من الأمر شيء فلا أعرفن ما منعتم أحدا يصلي عند هذا البيت أي ساعة شاء من ليل أو نهار هذا لفظ حديث ابن جريج غير أن أحمد بن المقدام قال : إن كان لكم من الأمر شيء وقال : أي ساعة من ليل أو نهار

حضرت جبیر بن مطعم ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اے بنی عبد مناف ! اے نبی عبد المطلب ! اگر تمہیں ( بیت اللہ کے انتظام و انصرام میں سے) کچھ ذمہ داری اور اختیار ملا ہے تو مجھے ہرگز یہ اطلاع نہ ملنے کہ تم نے کسی شخص کو اس بیت اللہ میں دن یا رات کی کسی گھڑی میں بھی نماز پڑھنے سے منع کیا ہے۔ یہ ابن جریح کی روایت کے الفاظ ہیں۔ جبکہ احمد بن مقدام کے الفاظ یہ ہیں: اگر تمہیں اس انتظام و انصرام میں سے کچھ ذمہ داری ملی ہے۔ اور کہا رات یا دن کی جس گھڑی میں ( چاہے ، نماز پڑھ لے)۔

أي ساعة من ليل أو نهار ← إن كان لكم من الأمر شيء ← جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَابَاهُ، يُخْبِرُ ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← أحمد ابن المقدام ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← محمد بن يحيى و محمد بن رافع ← جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← عبد الجبار بن العلاء و أحمد بن منيع ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1280

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1281

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! كَيْفَ كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَلْ كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الْأَيَّامِ؟ قَالَتْ: لَا، كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً، وَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطِيعُ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَمَّارٍ. وَقَالَ يُوسُفُ: قَالَتْ: لَا، كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً. فَأَمَّا الدَّوْرَقِيُّ فَإِنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَقُلْ: هَلْ كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الْأَيَّامِ؟

حضرت علقمہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ ؓ سے پوچھا : اے ام المومنین ! رسول اللہ ﷺ کا عمل مبارک کیسا ہو تا تھا ، کیا آپ ( عبادت و عمل کے لیے) کچھ دن مخصوص کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں۔ آپ کا عمل مبارک ہمیشگی والا ہوتا تھا ۔ اور تم میں سے کون (عمل کرنے کی اتنی) استطاعت رکھتا ہے جتنی استطاعت رسول اللہ ﷺ کو نصیب تھی۔ یہ ابو عمار کی حدیث کے الفاظ ہیں ، جناب یوسف کے الفاظ یہ ہیں: انہوں نے فرمایا : نہیں آپ کا عمل مبارک ہمیشگی اور دوام والا ہوتا تھا ۔ جبکہ جناب الدروقی نے اپنی روایت میں یہ کہا : میں نے عائشہ ؓ سے پوچھا : رسول اللہ ﷺ کی نماز کیسے ہوتی تھی۔ اور یہ الفاظ بیان نہیں کئے : کیا آپ کچھ دنوں کو ( عمل و عبادت کے لیے) خاص کرتے تھے ؟

عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1281

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals